سائنس اور اسلام

(۲۲ ربیع الثانی بمقام چاہ بوہڑ والا)
٭ عزیزان گرامی! ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی ذات خالق کائنات ہے وہی مستعان حقیقی ہے وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہی قادر مطلق ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ئِ قَدِیْر
٭ وہی فیاض مطلق ہے۔ کائنات پر جو فیض ہوتا ہے اللہ تعالیٰ  سے ہوتا ہے۔ فیض کا مبداء اور منتہی اللہ تعالیٰ  کی ذات کے سوا کوئی نہیں۔ اسکا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ۔
فعل الحکیم لایخلوا عن الحکمۃ
٭ البتہ اس ذات نے اپنے فیض و تصرفات کو نافذ فرمانے کیلئے کچھ وسائل و ذرائع پیدا فرمائے ہیں۔ اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ خدا عاجز ہے(معاذ اللہ) بلکہ ہم فیض لینے میں بغیر وسیلہ کے عاجز ہیں۔ جیسے زمین پر پانی نہ آئے تو اناج نہ ہوگا۔ حالانکہ غلہ اگانا اللہ تعالیٰ  کاکام ہے مگر اس پر پانی بیج اور زمین کی تیاری کو سبب بنادیا۔ کیا اللہ تعالیٰ  ان اسباب کا محتاج ہے؟ ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ  اختیاج سے پاک ہے مگر حکمت کو پورا کرنے کیلئے پانی کو غلہ اگانے کا سبب بنادیا اسیطرح مارنیوالا وہی ہے مگر اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلَائِکَۃُ(النحل)
ترجمہ٭ ملائکہ مارتے ہیں۔
٭ کیا اللہ تعالیٰ  روح نکالنے میں محتاج ہے؟(معاذ اللہ) بلکہ حکیم ہوکر حکمت کو پورا کرتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم حکمت کو جان لیں۔ مگر جاننے والے جانتے ہیں۔
٭ لہذا خدا پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز سمجھ میں نہ آئے اسے اللہ تعالیٰ  کی طرف سپرد کردے یہ مطلب نہیں کہ جو سمجھ آئے اسے مان لیں اور جو بات سمجھ میں نہ آئے اسے چھوڑ دیں تو یہ نفس کی خواہش اور پیروی ہوگی اور
ان یتبع الاالظن میں داخل ہوگی۔ لہذا جو بات سمجھ آئے یا نہ آئے اسے تسلیم کرنا پڑے گا۔ خدا اوررسول ﷺ کی بات حکمت سے خالی نہ ہوگی۔ اگر حواس غلط ہوجائیں تو انسان غلطی کھا جائیگا مثلاً بھینگے کو ایک کی بجائے دو نظر آتے ہیں۔ اب مالک نے اسکو کہا کہ فلاں کمرہ میں میز کے اوپر ایک شیشہ رکھا ہے لے آ جب وہ کمرہ میں گیا تو اسے دو شیشے نظر آئے پھروہ تہی دست مالک کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کونسا شیشہ لائوں تو مالک نے کہاکہ شیشہ تو ایک رکھا ہے مگر غلام نہ مانا تو مالک نے کہا کہ ایک شیشہ کو توڑ دو اور دوسرا شیشہ میرے پاس لائو تو چنانچہ وہ گیا اور شیشے کو توڑ دیا تو دوسرا شیشہ غائب کیونکہ دراصل شیشہ تو وہی ایک تھا۔ مگر اس کے حواس غلط تھے۔ اسلئے غلطی کا مرتکب ہوگیا اسیطرح دیکھنے والا تو کہتا ہے کہ میں سچا ہوں مگر رکھنے والا جانتا ہے کہ ایک ہے یا دو۔ وہی اللہ ہر حکمت کو جانتاہے اور اس کے بتانے سے اس کے بندے بھی جانتے ہیں۔
٭ آج دنیا میں یہ شور مچا ہوا ہے کہ سائنس مذہب پر چھا گئی ہے مگر میں یہ کہوں گا کہ سائنس حواس کی دنیا ہے اور مذہب حواس سے بالاتر ہے۔ مثلاً کوئی شخص فوت ہوگیا تو اس کو کسی نے جلا دیا کسی نے کھڑا کردیا کسی نے قبر میں دفن کرکے لٹا دیا یہ سب تمہارے حواس کی دنیا تھی۔ اب بتائو کہ مردے کو جلایا کھڑا کیا یا لٹایا۔ اب اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ یہ مذہب کی دنیا ہے جہاں حواس ختم ہوگئے۔وہاں مذہب کی ابتدا ہے۔
٭ تو آقاﷺ  نے فرمایا
اَلْقَبْرُرُوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْحُْفَْرَۃِ مِّنْ حُفَر ِالنَّار(شرح الصدورص۶۷)
ترجمہ٭ یعنی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یادوزخ کی خندقوں میں سے ایک خندق ہے۔
٭ مطلب یہ ہوا کہ اگر خاتمہ ایمان پر ہوا تو جنت میں ہے ورنہ جہنم میں اگرچہ قبر کو بہترین بنایاگیا ہو۔ زیب و زینت کی گئی ہو پھول برسائے گئے ہوں مگر وہ دوزخ میں ہے۔سائنس کی سمت اور ہے اسلام کی اور۔ اسکی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک شخص مشرق کی جانب جارہا ہے تو دوسرا شخص مغرب کی جانب۔ جہت مخالف سے ملاپ نہیں ہوسکتا۔ اسیطرح اسلام کا عروج بلندی کیطرف ہے اور سائنس کا نزول پستی کیطرف ہے لہذا انکا ملاپ نہیں ہوسکتا۔ اور نہ سائنس اسلام کا مقابلہ کرسکتی ہے۔اور اسیطرح اگر ہمارے حالات خراب ہوجائیں تو حواس بھی خراب ہوجاتے ہیں۔ اگر آج کسی تندرست آدمی کو میٹھی چیز کھلائیں تو وہ مٹھا س محسوس کریگا اور اگر وہ میٹھی چیز کسی صفراوی مریض کو دیں تو وہ کڑواہٹ محسوس کرے گا کیونکہ اب اس کے حواس غلط ہوگئے ہیں۔ میٹھی چیز کا قصور نہیں ہے۔ اسیطرح جب عقل غلط ہوگئی تو ادراک میں ضرور غلطی پیدا ہو جائیگی۔ کسی کے نظریات کے اندر اختلاف کا ہونا دلیل ہے کہ اسکی عقل میں بھی اختلاف ہے جیسے میری آواز کا آپ تک نہ پہنچنا۔ لائوڈ سپیکر کے خرابی کی دلیل ہے کیونکہ اگر لائوڈ سپیکر میں نقص نہ ہوتا تو آواز کی رسائی میں نقص نہ آتا۔
٭ اگر صداقت چاہتے ہوتو زبان رسالت اکی بات مانو خدا کی قسم آپ اوہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے آپﷺ وہ سنتے ہیں جو ہم نہیں سن سکتے اسلئے فرمایا
اِنِّیْ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَ اَسْمَعُ مَالَا تَسْمَعُوْنَ
ترجمہ٭ جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے۔
٭ اے عقل کے پیچھے دوڑنے والو! تم سوچتے ہوکہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ایمان سے کہتا ہوں کہ ہم نے ہلاکت اور موت کی طرف قدم اٹھایا ہوا ہے۔ خدا ہمیں اس ترقی سے بچائے جس نے عین ہلاکت کے کنارہ پر کھڑا کردیا ہے اسلام ہمیں حیات دیتا ہے اب اگر ہمارا رخ آقا کی طرف ہوگیا تو کامیابی ہے ورنہ خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے۔
وَمَا اٰتَاکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَ مَانَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا(س الحشر آیت۷)
ترجمہ٭ اور رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں رک جائو۔
٭ اب جو کچھ ملے گا بارگاہ رسالت ﷺ سے ملے گا
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ( النساء آیت۵۹)
ترجمہ٭ اطاعت کرو اللہ تعالیٰ  کی اور اطاعت کرو رسول کی۔
٭ ہمیں کیا پتہ خدا کیسے راضی ہوتا ہے اور خدا کے راضی کرنیکا کیا ذریعہ ہے لہذا فرمایا میرے حبیب ﷺ کو خوش کرلو میں خوش ہوجائونگا آپ ہزار بار عبادتیں کرلیں۔ محبوب ناراض تو اللہ تعالیٰ  ناراض ہوگا۔
٭ خدا نے ہمارا رخ آقاﷺ  کیطرف کردیا ہے اور ہم آقاﷺ  کے محتاج ہیں ایسے ہی جسیے زمین میں غلہ اگانے کیلئے پانی وسیلہ ہے سننے کیلئے کان وسیلہ ہیں دیکھنے کیلئے آنکھیں وسیلہ ہیں اور سوچنے کیلئے دماغ وسیلہ ہے۔ ایسے ہی میں نے اپنی ساری رحمتوں کا وسیلہ اپنے محبوب اعظم ﷺ کو بنایا ہے ۔
وَمَا اَرْسَلْنَکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ(الانبیاء)
٭ فرمایا رحیم بالذات میں ہوں لہذا فرمایا اے محبوب! تم مجھ سے لو اور یہ تم سے لیں۔
وَاللّٰہُ یُعْطِیْ وَاَنَا قَاسِمٌ
٭ کے یہی معنی ہیں۔میں خدا وسیلے کا محتاج نہیں ہوں مگر جن کیلئے میں نے تمہیں وسیلہ بنایا ہے وہ وسیلہ کے محتاج ہیں۔راحم اسم فاعل کا صیغہ ہے اور آقاﷺ سار ے جہان کیلئے راحم ہیں اور یہ حقانیت اسلام کی تلوار ہے اور یہ کلام الہی کا اعجاز ہے۔ جسنے تمام قوموں کو اسلام لانے پر مجبور کردیا اور جو لوگ سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں انکا نظریہ آپ ﷺ کیساتھ صحیح نہیں ہوسکتا اور جن کا نظر یہ خدا کے رسول کیساتھ صحیح نہیں ہوسکتا تو اللہ تعالیٰ  کے ساتھ انکا نظریہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج