اجتماع یوم رضا سے خطاب

٭ حضرات محترم! حضرات علمائے کرام و مشائخ عظام اور عزیز سامعین! یہ مبارک اجتماع مرکزی مجلس رضا کے زیر اہتمام حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی یاد میں منعقد ہوا ہے۔
٭ اعلیٰ حضرت کے مسلک کے بارے میں نہایت مختصر وقت میں چند گذارشات پیش کروں گا۔ اعلیٰ حضرت کی مقدس شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ آپ دنیائے علم کے آفتاب و ماہتا ب ہیں۔ آپ کے مخالفین نے بھی آپ کے علمی و تحقیقی مقام کو تسلیم کیا۔
٭ آپ پر یہ الزام لگایاجاتا ہے کہ کفر کا فتوی لگانے میں جلد باز تھے لیکن میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آپ نے کسی ایسی بات پر کفر کا فتوی نہیں دیا جس پر کہ ان کے مخالفین اور معترضین کفر کا فتوی نہ دے چکے ہوں۔
اشد العذاب مولوی مرتضی حسن صاحب دیوبندی در بھنگی کا ایک رسالہ ہے۔ انہوں نے اس میں اعتراف کیا ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے جن باتوں پر کفر کا فتوی دیا اگر وہ کفر کا فتوی نہ دیتے تو خود کافر ہوجاتے۔
٭ خدا کی قسم! اعلیٰ حضرت جیسا محقق اور محتاط عالم میری نظر سے نہیں گذرا۔ انکی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ امام الطائفہ کی کفریہ عبارات پر قطعاً یقیناً بوجوہ کفر لازم لکھ پر بھی اکفار سے کف لسان فرمایا۔
وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَھَدٰی کا مفہوم
٭ اعلیٰ حضرت نے
وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَھَدٰی کا ترجمہ اور پایا تمہیں خود رفتہ محبت میں تو اپنی طرف راہ دی کیا۔ اعلیٰ حضرت نے ضال کا ترجمہ خود رفتہ اور اپنی محبت میں گم پایافرمایا ۔ بعض دوسرے لوگوں نے اس کا ترجمہ آپ کو گمراہ پایا کیا۔ (استغفراللہ) آپ نے وہ الفاظ اختیار نہیں فرمائے کہ کہیں کوئی گمراہی اور بے راہ روی کا شکار نہ ہوجائے اسلئے اعلیٰ حضرت ! امت محمدیہ کے بڑے محسن ہیں۔
٭ مجھے کسی بھائی نے کہا کہ کسی نے محبت دیکھنی ہے تو بریلی چلا جائے اور کسی نے اتباع دیکھنی ہے تو دیوبند چلاجائے۔ میں نے کہا بھئی! تو نے محبت اور اتباع کو الگ الگ کردیا ہے۔ خدا کی قسم!؛ محبت اتباع سے اور اتباع محبت سے الگ نہیں ہوسکتی۔
٭ قرآن مجید میں رب تعالیٰ جل مجدہ نے ارشاد فرمایا
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمْ اللّٰہُ(س آل عمران آیت ۳۱)
٭ قرآن نے فرمایا! میرے محبوب! آپ ﷺ اہل کتاب سے کہہ دیجئے کہ
اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ اگر تم! اللہ سے محبت رکھتے ہو تو فَاتَّبِعُوْنِیْ میری اتباع کرو۔ اس کانتیجہ کیاہوگا؟ یُحْبِبْکُمْ اللّٰہُ اللہ تم کو اپنا محبوب بنالے گا اور پھر کیاکریگاوہ تمہارے گناہ بخش دیگا۔وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اور اللہ تو بہت ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ اللہ کے مخاطب تو حضور نبی کریم ﷺ ہیں اور حضور ﷺ کے مخاطب! کیا اہل ایمان ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ یہود نصاریٰ ہیں جن کا دعوی تھا۔
نَحْنُ اَبْنَائُ اللّٰہِ وَاَحِبَّا ؤُ ہٗ (المائدہ آیت ۱۸)
٭ جو خدا کی محبت کے دعوایدار تھے اور حضورﷺ کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے تھے اور حضور تاجدار مدنی ﷺ کی اتباع سے گریزاں تھے۔ یہ آیت کفارکیلئے نازل ہوئی ۔ اس کے مخاطب کفار ہیں اور آج اہل سنت پر چسپاں کی جارہی ہے۔ کیاتماشا ہے؟ اس کا فیصلہ حضرت عبداللہ بن عمر پہلے ہی فرماگئے ہیں۔ بخاری شریف جلد ثانی ص ۱۰۲۴ مطبوعہ اصح المطابع
کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرَاھُمْ شِرَارَ خَلْقِ اللّٰہِ لِاَنَّھُمْ اِنْطَلَقُوْا اِلٰی اٰیَاتِ نُزِلَتْ فِی الْکُفَّارِ فَجَعَلُوْ ھَا عَلَی الْمُؤُمِنِیْنَ
ترجمہ٭ حضرت ابن عمرخوارج کو بدترین مخلوق قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو آیات کفار کے حق میں نازل ہوئیں ان کو انہوں نے مومنوں پر چسپاں کردیا ہے۔(بخاری شریف ج ثانی ص ۱۰۲۴ مطبوعہ اصح المطابع)
٭ یہی حال
من دون اللہ کی تمام آیات کا ہے جو کفار کے حق میں نازل ہوئیں لیکن افسوس آج وہ تمام آیات اہل ایمان پر حضرت داتا صاحب خواجہ معین الدین اجمیری اور حضورغوث پاک کے ماننے والوں پر چسپاں کی جارہی ہیں۔من دون اللہ سے مراد تمام اصنام کے پوجاری تھے۔ کیاکوئی مسلمان لاۃ مناۃ ہبل یعوق و نسر اور نائلہ کا پوجاری تھا؟ہر گز نہیں نہ تھا اور نہ اب ہے۔۔۔۔۔اور پھر آپ سے پوچھتا ہوں کیا صرفمن دون اللہ کی آیات ہی ک کا حصہ ہیں باذن اللہ کی بات ک کا حصہ نہیں ہیں؟ من دون اللہ کا معنی ہے کہ جب تک اللہ کا اذن نہ ہو اللہ کا حکم اور ارادہ نہ ہو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ یہ ہمارا ایمان ہے جب اللہ کی مشیت حکم اذن اور ارادہ شامل حال ہوجائے تو وہ(داتا صاحب معین الدین اجمیری اور کوئی بھی اللہ کا نیک بندہ مقرب ولی غوث قطب ہمیں فائدہ دیتا ہے)۔اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہٗ اللہ تعالیٰ  کے اذن سے مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ ہمارا من دون اللہ کی آیات پر یقین ہے اور باذن اللہ کی آیات پر بھی یقین ہے۔ ہم ان میں سے نہیں ہیں کہ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضِ کہ بعض آیات پر ایمان لائیں اور بعض کیساتھ کفر کریں ۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم سارے قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔ سارا قرآن اللہ تعالیٰ  کا کلام ہے۔
شبہ اور اس کا ازالہ
٭ اب اگر کوئی کہے کہ یہود و نصاری تو حضورﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے۔ ہم تو حضورﷺ پر ایمان لائے ہیں اور آپﷺ کی ادائوں کو بھی اپنایا ہوا ہے۔ ہماری نمازیں روزے داڑھیاں جُبے تقاریروتصانیف واعظ و نصائح اور فتاوے دیکھیں کیا یہ اتباع رسول کے باہر ہیں؟
٭ اس سلسلہ میں میں آپ کو ایک چھوٹی سی بات بتا دوں۔ اللہ تعالیٰ  نے جو یہ فرمایا کہ
اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ
ترجمہ٭ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ  کی محبت ہے تو تم میری اتباع کرو۔
٭
اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہ یہ جملہ شرطیہ ہے فَاتَّبِعُوْنِی یہ جملہ جزائیہ ہے گویا اتباع شرط محبت کی جزا ہے۔ جب شرط نہ ہوتو جزا کہاں سے آئے گی تو پتہ چلا جب تک محبت نہ ہو اتباع ہو ہی نہیں سکتی۔
شبہ
٭ آپ کہیں گے یہاں تو اللہ تعالیٰ  کی محبت کی بات کی جارہی ہے رسول ﷺ کی محبت کی بات نہیں ہے۔
ازالہ
٭ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ  کی محبت کو رسول ﷺ کی محبت سے الگ کرکے دکھادو اور اللہ تعالیٰ  کے کلام کو رسول ﷺ کے کلام سے الگ کرکے دکھا دو۔ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قرآن سب اللہ تعالیٰ  کا کلام ہے لیکن یہ قول ہے رسول کریم کا
اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلِ کَرِیْمِ کلام میرا ہے ۔ مگر جب تک میرا رسول ﷺ نہ کہتا تو تمہیں کیا پتہ چلتا کہ میرا کلام ہے؟
٭ محبت کا مرکز حسن ہے اللہ تعالیٰ  نے اٹھارہ ہزار کائنات کو اپنے حسن کا آئینہ بنایا اور ہر ذرے میں اسی کا حسن چمک رہا ہے۔ اٰمنا وصدقنا لیکن وہ تمام حسن الوہیت کے پھیلے ہوئے جلوئوں کے اجزاء ہیں اور اللہ تعالیٰ  نے کائنات کے ہر ذرے کو اپنی ہستی کی نشانی قرار دیا اور فرمایا
سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاِق وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ
ترجمہ٭ عنقریب ہم انہیں(اپنی) قدرت کی نشانیاں(عالم کے) اطراف میں اور انکے نفسوں میں دکھائیں گے۔
٭ جب یہ دلیلیں موجود ہیں کہ

ہرگیاہے کہ از زمین روید
وحد ہ لا شریک لہ گوید

٭ گھاس کا ایک تنکا بھی اللہ تعالیٰ  کی ہستی کی دلیل ہے۔ مگر یہ سب دلیلیں خاموش ہیں۔ ان میں کوئی دلیل نہیں بولی کہ میں پیدا کرنیوالے معبود کی ہستی کی دلیل ہوں۔ آفتاب و مہتاب شجر وحجر سب خاموش رہے کسی نے معبود حقیقی کی خبر نہیں دی لیکن ایک دلیل ایسی تھی کہ جسکے دامن میں آکر خاموش دلیل بھی ناطق ہوگئی۔ مٹھی میں پتھر کلمہ پڑھ رہے ہیں۔ ڈوبا سورج واپس آرہا ہے ۔ اشارے پر چاند دو ٹکڑے ہورہا ہے۔ یہ وہ ذات مقدس ہے جس کیلئے تمام جہان انسانیت کے حسن کو سمیٹا اور اس ذات مقدس میں رکھ دیا اور دنیائے نبوت کے حسن کو سمیٹا تو رخسار مصطفی ﷺ میں رکھ دیا اور پھر کیاکہوں ؟

رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری چشم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں

٭ نتیجہ کیا ہوا؟زبان رسالت ﷺ نے فرمایا
اَنَا مِرْاَۃُ جَمَالِ الْحَقِّ
ترجمہ٭ میں حق کے جمال کا آئینہ ہوں۔
٭ اگر تم نے خدا کے حسن کو چمکتا ہوا دیکھنا ہے۔ تو جمال مصطفی دیکھ لو۔ محبت کا مرکز حسن ہوتا ہے اور حضورﷺ کی ذات مرکز حسن الوہیت ہے
اَنَا مِرْاَۃُ جَمَالِ الْحَقِّ میں تو جمال حق کا آئینہ ہوں۔ جب محبت کا مرکز حسن ہے اور خدا کے حسن کی جلوہ گاہ حضورﷺ کی ذات مقدسہ ہے تو محبت اسی مرکز حسن کیطرف جائیگی اور جب تک محبت وہاں نہ جائے۔ محبت پیدا ہوہی نہیں سکتی۔ اب بتائیے رسولﷺ کی محبت خدا کی محبت سے کیسے جدا ہوسکتی ہے؟ اسیطرح خدا کا علم خدا کی قدرت خدا کا اختیار خدا کی سمع خدا کی بصر خداکا کلام خدا کی حیات خدا کی رحمت یہ کیا ہیں؟ یہ خدا کی صفات کے حسن ہیں۔ جو حضورﷺ کے اندر چمک رہے ہیں۔ رحمت خدا کی ہے مگر اسکا ظہور حضورﷺ کی ذات مقدسہ میں ہورہا ہے۔ وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ئِ اور وَمَا اَرْسَلْنکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ معلوم ہوا کہ خدا کے حسن کی جلوہ گاہ محمد مصطفی ﷺ  کی بار گاہ ہے۔ لہذا جب تک حضورﷺ  کی محبت نہ ہو۔ خدا کی محبت ہوہی نہیں سکتی اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ  یوں فرماتا قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوا اللّٰہَ اتباع تو نقش قدم کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ نقش قدم سے پاک ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے سامنے میرا کھانا میرا پینا میرا سونا میرا بیٹھنا میرا چلنا میرا پھرنا ممکن نہیں کیوں؟ میں ان صفات سے پاک ہوں۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذَالِکَ عُلُوًّا کَبِیْرًا اب جیسے میرا محبوب کھائے پیئے سوئے اٹھے ویسے تم کھائو پیئو سوئو اور اٹھو۔ آپ ﷺ کی ادائوں کے سانچوں میں ڈھل جائو۔ میرا محبوب ﷺ جو کچھ کرے گا وہ میرے حکم کی تعمیل ہوگی۔ جس نے میرے محبوب ﷺ کی اتباع کرلی ۔ اس نے میری اطاعت کرلی۔مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ لہذا خدا کی محبت رسولﷺ کی محبت ہے اور رسولﷺ کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے تو بغیر محبت کے اتباع نہیں ہوتی۔ کیونکہ محبت شرط ہے اور اتباع جزا ہے۔ شرط کے بغیر جزا نہیں ہوسکتی۔ لہذا جب تک محبت نہ ہو اتباع ہوہی نہیں سکتی۔
شبہ
٭ ٹھیک ہے کہ محبت کے بغیر اتباع نہیں ہوسکتی لیکن وہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں محبت ہے اور آپ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں محبت ہے کس کی بات مانیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ محبت کا دعویٰ بے معنی چیز ہے جب تک اسکی نشانی نہ پائی جائے اور اسکی بیشمار نشانیاں ہیں اور جب تک اسکے وجود پر کوئی جامع نشانی اور ثبوت نہ ہو بات سمجھ نہیں آئیگی؟ اسکا جواب صرف ایک جامع حدیث مبارک سے پیش کرتا ہوں یہ حدیث مبارکہ صحاح ستہ کی کتاب سنن ابو دائود میں ہے
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حُبُّکَ الشَّیْ ئَ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ
ترجمہ٭ حضورﷺ  نے فرمایا تیری محبت تجھے تیرے محبوب کا عیب دیکھنے سے اندھا اور عیب سننے سے بہرا کردے گی۔
٭ یہ تو اس وقت ہے جب کہ واقعی محبوب میں کوئی عیب ہو اور جہاں عیب ہی نہ ہو۔
٭ اللہ تعالیٰ  نے اپنے محبوب ﷺ کو محمدﷺ  بنایا جیسا بنایا ویسا بتایا اور ویسا دکھایا۔ سرکار کانام احمد بھی ہے حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ نے چار سو سے زیادہ نام لکھے ہیں۔ حضورﷺ  کاہرنام ایک صفت پر دلالت کرتا ہے۔ ہرنام ایک کمال پر دلالت کرتا ہے اور جتنے کمالات زیادہ ہوتے ہیں اتنے ہی اسماء زیادہ ہوتے ہیں
وَلَہُ الْاَسْمَائُ الْحُسٰنٰی ناموں کے زیادہ ہونے سے نام والا زیادہ نہیں ہوجاتا ایک ہی رہتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے
٭ حضورﷺ  نے فرمایا
عن جبیر بن مطعم قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا لِیْ خَمْسَۃُ اَسْمَائٍ اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یَمْحُو اللّٰہِ بِیَ الْکُفْرَ وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُالنَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ وَاَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ بَنِیِّ وَ قَدْ سَمَّاہُ اللّٰہُ رَئُ وَفًا رَّحِیْمَا (جامع الاصول جلد ۱۱ ص ۲۱۵)
٭ علامہ قسطلانی رضی اللہ عنہ کی کتاب مواہب اللدنیہ میں ہے
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ اَنَا اَحْمَدُ فِی السَّمَائِ وَمُحَمَّدٌ فِی الْاَرِْضِ
ترجمہ٭ میں آسمانوں میں احمد ہوں اور زمینوں میں محمد ہوں۔
٭ کیا مطلب؟ آسمانوں میں زیادہ مشہور نام احمد اور زمینوں میں زیادہ مشہور نام محمد ہے اور قرآن میں حضورﷺ  کانام احمد آیا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں
وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلِ یًاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ
شبہ
٭ بشارت دینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آنیوالے کے حق میں تصدیق کی راہیں کھل جائیں اور لوگ آسانی سے تصدیق کرسکیں۔ اگر بشارت لفظ محمد کیساتھ ہوتی تو تصدیق کی راہیں بالکل کشادہ ہوجاتیں کیونکہ
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ مگر عیسیٰ علیہ السلام نے لفظ احمد کیساتھ بشارت دی ہے ۔ اسمیں ابہام پیدا ہوگیا۔ اسلیے کہ ایک شخص غلام احمد قادیان میں پیدا ہوا اس نے کہا میں احمد ہوں جسکی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دے گئے ہیں۔ لاحول ولاقوۃ الا بااللہ۔
شبہ کا ازالہ
٭ جواب حدیث میں آگیا مگر تھوڑا سا اور بھی واضح کردوں ۔ ایک قاعدہ ہے کہ ہر متکلم کا کلام متکلم کی خصوصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ خدا کی شان یہ ہے کہ
لیس کمثلہ شیء جب خدا کی شان بے مثل ہے تو اس کا کلام بھی بے مثل ہے۔
٭
فَاْتُوْا بِسُوْرَۃِ مِّنْ مِّثْلِہٖاللہ تعالیٰ  کاکلام اللہ تعالیٰ  کی بے مثلی کا آئینہ دار ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام متکلم ہیںوَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلِ یًاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ یہ آیت تو قرآن کی ہے مگر اللہ تعالیٰ  نے تو انکی بشارت کی حکایت فرمائی ہے۔ بشارت دینے والا اللہ تعالیٰ  نہیں ہے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسے لفظ سے بشارت دی اور بشارت میں وہ کلام کیا جو انکی خصوصیات کا آئینہ دار ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ انکی خصوصیات کیا ہیں؟ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ بواسطہ نفخ جبریل سے آسمانی الاصل ہیں کیونکہ نفخ جبریل سے آپ اپنی والدہ ماجدہ کے شکم مبارک میں آئے اور جو جہاں کا ہوتا ہے وہ وہاں کی بولی بولتا ہے۔ پنجاب کا رہنے والا پنجابی سندھ کا رہنے والا سندھی اور عرب کا رہائشی عربی اور آسمان کا رہائشی آسمانی بولتا ہے۔ اسلئے سرکارﷺ نے فرمایا
اَنَا اَحْمَدُ فِی السَّمَائِ وَمُحَمَّدٌ فِی الْاَرِْضِ
ترجمہ٭ یعنی آسمانوں میں احمد کے نام سے مشہور ہوں اور زمین میں میرا نام محمدہے۔
٭ احمد اور محمد دونوں حضورﷺ  کے ذاتی نام ہیں۔ ح م د حمد کا مادہ ہے۔ جب ا ل لگادیا تو الحمد مصدر ہوگیا اور جب اسکو مزید کیا تو التحمید ہوگیا تو معنی میں زیادتی ہوجاتی ہے جب مجرد مزید ہوجائے کیا مقصد؟ مقصد یہ ہے کہ زیادتی الفاظ معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے۔ تو جب معنی کو بڑھانا ہو تو لفظوں کو بڑھاتے ہیں لہذا احمد سے تحمید اور تحمید سے محمد بنا۔ الحمد سے محمود مشتق ہوا اور التحمید سے محمد مشتق ہوا۔
شبہ
٭ حضرت حسان بن ثابت کے کلام میں ایک مصرعہ بھی آیا ہے کہ
وَذُوالْعَرْشِ مَحْمُوْدٌ وَھٰذَا مُحَمَّدٌ
٭ عرش والا محمود ہے اور یہ محمدﷺ ہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ محمود کا معنی ہے حمد کیا ہوا اور محمد کا معنی ہے باربار اور بے شمار حمد کیا ہوا۔
٭
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کروڑوں انسان چوبیس گھنٹوں میں کتنی دفعہ الحمد پڑھتے ہیں اور خدا کی کتنی دفعہ حمد ہوتی ہے اور پھر انسان کیا؟
وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئِ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ
ترجمہ٭ تمام کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ  کی تعریف کرتا ہے۔
٭ گویا باربار اور بے شمار حمد تو اللہ تعالیٰ  کی ہوتی ہے مگر محمد اللہ تعالیٰ  کانام نہیں ہے کیوں؟ اصل بات کیا ہے؟ ہمارا اہل سنت کا مسلک اور جمہور محدثین کا مذہب یہ ہے کہ رسول اللہﷺؑ کا قول فعل تقریر حدیث ہے۔ صحابی کا قول فعل تقریر حدیث ہے اور تابعی کا قول فعل تقریر حدیث ہے اور حضورﷺ کی حدیث حدیث مرفوع ہے صحابی کی حدیث حدیث موقوف ہے اور تابعی کی حدیث حدیث مقطوع ہے۔ بخاری جلد ثانی میں امام بخاری نے
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ کی تفسیر میں ابو العالیہ کا قول نقل کیا ہے فرماتے ہیں
صَلٰوۃُ اللّٰہِ ثَنَائُہُ عَلَیْہٖ عِنْدَالْمَلٰئِکَۃِ
٭ اللہ تعالیٰ  کی صلوۃ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ  فرشتوں کے نزدیک اپنے محبوب ﷺ کی تعریف کرتا رہتا ہے
یصلون مضارع ہے اور مضارع میں استمرار ہے ۔ اللہ تعالیٰ  یہ صلوۃ کب سے فرمارہا ہے اور کب تک فرماتا رہے گا؟ خدا کی ثنا اپنے نبی پر مستمر ہے۔ دائم ہے۔ اللہ تعالیٰ  یہ ثناء کررہا ہے اور یہ ثنا کرتا رہے گا اور ثنا کے معنی ہیں کسی کی خوبی بیان کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کی خوبیاں ختم ہوں تو ان کا بیان بھی ختم ہو۔

نہ حنش غایتے دارد نہ سعدی راسخن پایان
بمیرد تشنہ مستسقی ودریاہم چناں باقی

٭ ہم لفظ محمد کے معنی اللہ تعالیٰ  کیلئے ثابت کرتے ہیں ۔ محمد کے معنی بہت ہی تعریف کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ  بہت ہی تعریف کیا ہوا ہے۔مانا با عتبار معنوی اللہ تعالیٰ  محمد ہے مگر محمد اللہ تعالیٰ  کانام نہیں ہے۔ یہ نام فقط حضور سید عالم ﷺ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا نام محمد کیوں رکھا؟وجہ یہ ہے کہ ساری کائنات خدا کی حمد کرتی ہے اور خدا خود اپنے مصطفی ﷺ کی حمد کرتا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ خدا کی حمد کرتاہے
وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئِ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ
٭ مگر وہ تمام ذرات محدود اور متناہی ہیں اور خدا کی تعریف لامتناہی ہے اور تعریف خوبی اور حسن کی ہوتی ہے ۔ اور جہاں عیب آئے گا وہاں تعریف رک جائیگی۔ معلوم ہوا عیب آتا ہی نہیں تو تعریف کیسے ختم ہو؟ اور جو بندہ ان میں عیب تلاش کرے تو محبت کی آنکھ کہاں سے آئیگی اور اتباع کا بنیادی نقطہ محبت ہے اور محبت کا بنیادی نقطہ
حُبُّکَ الشَّیُ ئَ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ محب کو محبوب کا عیب نظر نہیں آتا اور نہ وہ محبوب کا عیب سن سکتا ہے۔ یہ تو وہاں ہے جہاں عیب ہو اور جہاں عیب ہے ہی نہیں وہاں کسی کو عیب نظر آئے تو وہ محبت کی آنکھ کیسے ہوئی؟ کسی نے حضورﷺ کی پانچ غلطیاں نکالیں(نعوذ بااللہ) کسی نے قرآن سے بائیس غلطیاں نکالیں۔ کاش اتنا وقت ہوتا تو میں آیات پڑھ کر بتاتا کہ جن جن آیتوں کو تو نے رسولﷺ کی غلطی کی دلیل بتایا ہے اس ایک ایک آیت کو جمال مصطفی ﷺ  اور کمال محمدی ﷺ کی دلیل ثابت کرتا۔ ایک ایک آیت ایک ایک تقریر کا موضوع ہے۔
عَبَسَ وَتَوَلّٰی اَنْ جَائَ ُہ الْاَعْمٰی ۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی۔ یَااَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہ لَکَ عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ
٭ ان تمام آیات کے اندر خدانے اپنے محبوبﷺ کے حسن محبوبیت کا جلوہ ظاہر کیا ہے۔

آنکھ والا ترے جلوے کاتماشا دیکھے
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

٭ جو قوم رسولﷺ میں عیب نکالتی ہے اور کہتی ہے کہ انکو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ہے وہ مرکر مٹی میں مل گئے ہیں جنکانام محمد یاعلی ہے انکو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے اور بعض نے کہا کہساڑھے تیرہ سو سال نے یہ بات ثابت کردی کہ رسولﷺ کا دجال کے بارے میں اندیشہ صحیح نہیں تھا اور رسول اسمیں شک و شبہ میں رہے میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ وحی کے سمجھنے میں اللہ تعالیٰ  کی وحی کی مراد کو جاننے میں ساری عمر شبہ میں مبتلا رہے اور انکا اندیشہ ساری عمر بالکل صحیح نہ ہوا اور وہ شک و شبہ کا شکار رہے۔ کیا رسالت کیلئے یہ بات ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔۔۔ کیا یہ محبت کی آنکھ ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
٭ پس پتہ چلا اتباع کا بنیادی نقطہ محبت ہے اور محبت کی دلیل محبوب کو بے عیب دیکھنا ہے اور میرے آقاﷺ تو بے عیب ہیں اور جسکے محبوب میں عیب ہو اسکو عیب نظر نہیں آتا۔ کسی شخص کو ایک کبڑی عورت سے محبت ہوگئی لوگوں نے اسکو لعن طعن کی کہ تیرے ذوق سلیم پر افسوس ہے کہ تونے ایک کبڑی عورت کو اپنی محبت کا مرکز بنایا ہے اب وہ بیچارہ محبت میں تو مبتلا تھا کیاکرتا؟ اسنے موٹے موٹے پھولوں کے ہار لاکر اپنی محبوبہ کے گلے میں ڈال دیئے اور طعنہ زن لوگوں کو بلایا اور کہنے لگا دیکھو

نازک کمر لچک گئی پھولوں کے ہار سے
سینہ پسینہ ہوگیا گجروں کے بار سے

٭ یعنی میری محبوبہ اتنی نازک ہے کہ پھولوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی محبت والوں کو تو عیب میں بھی حسن نظر آتا ہے۔اور جنکی آنکھوں کو حسن میں بھی عیب نظر آئے وہ محبت کی آنکھ کیسی ہوئی؟ اور میں خدا کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ اتباع بغیر حب کے نہیں ہوسکتی اور حب پہلی نشانی ہے کہ اسے حضورﷺ کی ذات میں کوئی غلطی نظر نہ آئے اور حضورﷺ کے کسی کمال کا انکاری نہ ہو اورکسی غلطی کو حضورﷺ کیطرف منسوب کرنیوالا نہ ہو تو کیا وہ حضورﷺ کا محب ہوسکتا ہے کہ جس کی نگاہیں بہروقت حضورﷺ میں عیب تلاش کررہی ہوں کہ کسیطرح حضورﷺ کی لاعلمی ثابت ہوجائے اور کسی بات میں کوئی اجتہادی غلطی نکل آئے۔ تو ایسی عیب جونگاہیں صدیق کی نہیں ہوسکتیں ایسی نگاہ تو ابو جہل کی ہوسکتی ہے۔ بلبل کی نگاہیں تو پھول کی تلاش میں ہوتی ہیں اور کرگس مردار کی تلاش میں ہوتا ہے۔ حضورﷺ  کے دشمن عیب کا مردار تلاش کررہے ہیں اور حضورﷺ کے محبین چمنستان رسالت کی بلبلیں ہیں وہ حضورﷺ  کے حسن وجمال کے پھول تلاش کررہے ہیں۔ عام اصول ہے اور محبت کی کھلی نشانی بھی یہ ہے کہ جب محبوب ﷺ کانام آئے تواسکی عظمت و وقار کے آگے گردنیں جھک جائیں اور چہرے ہشاش بشاش نظر آئیں اور بے اختیار انکی زبان سے اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَارَسُوْْلَ اللّٰہِ کا نعرہ نکلے اور جب آپ ﷺ کانام آئے تو بے اختیار انگوٹھے آنکھوں تک اٹھ جائیں اور بے اختیار فرط محبت میں حضورﷺ کانام چوم لیں اور فرط محبت میں حضورﷺ کانام چومنا جھومنا اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَارَسُوْْلَ اللّٰہِ کانعرہ بلند کرنا اور تمہارے چہروں کا ہشاس بشاش ہوجانا یہ محبت کی علامت ہیں مگر وہ چہرے کہ حضورﷺ  کی عظمت کا ذکر سنتے ہی مرجھاجائیں اور چہروں پر سیاہی چھا جائے تو ایسے چہرے محبت والے نہیں ہوسکتے۔
٭ اللہ تعالیٰ  تمام حاضرین پر خاص رحمتیں نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ  پاکستان کو محفوظ رکھے اور ہمیں نظام مصطفی کے جلوے دکھائے۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج