قدجاء کم من اللہ نور کی تفسیر

٭ حضرات محترم! فقیر اسی مارہ ربیع الاول میں ایک دن سفر میں جارہا تھا کہ کسی نے پوچھا کہ تم اتفاقی چیزیں کیوں بیان نہیں کرتے۔ بلاوجہ لوگوں کو اختلافات میں ڈالا ہوا ہے اور ایسے مسائل بیان کرتے ہو جو موجب نزاع ہیں تو فقیر نے جواب دیا ہم جو مسائل بیان کرتے ہیں وہ سب اتفاقی ہیں اور ان پر اجماع ہوچکا ہے پھر اگر کوئی منکر سلف صالحین کے گروہ سے نکل کر کلام کرے تو یہ اس منکر کا قصور ہے۔ البتہ ہمارا کام ہے اسکو سمجھانا اگرچہ وہ نہ سمجھیں گے۔ لیکن عوام تو انکی گمراہی سے بچ جائیں گے۔
٭ حضرات محترم!
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ آیت مبارکہ میں جو میں نے آپکے سامنے تلاوت کی۔ اس آیت میں لفظ نور سے مراد بعض لوگوں نے اسلام لیا ہے۔بعض نے قرآن مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس نور سے مراد بالاتفاق و بالا جماع ذات پاک محبوب کبریا محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں اور نور آپﷺ کے اسماء میں سے بھی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ سے مراد حضرت محمدﷺ ہیں۔ اسی طرح حضرت امام مجاہد جو آپ کے شاگر د ہیں فرماتے ہیں کہ قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ سید بن جریج و قتادہ وزجاج اور جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ سے مراد ذات پاک محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
شبہ
٭ آپ فرماچکے ہیں کہ بعض کے نزدیک نور سے مراد اسلام و قرآن ہے۔ لہذا یہ اجماع امت تو نہ ہوا کہ حضورﷺ نور ہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ بعض لوگوں نے نور سے مراد اسلام اور قرآن لیا ہے یہ دراصل معتزلہ کا مسلک ہے۔ اہل سنت کا یہ مسلک ہرگز نہیں جیسا کہ ذیل کا حوالہ شاہدہے اور ہمارا اجماع امت کہنے کا مقصد بھی یہی اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے۔
وقال ابو علی الجبانی عنی بالنور القرآن لکشفہ و اظہارہ طرق الھدی و الیقین واقتصر علی ذالک الزمخشری(روح المعانی الجز السادس ص ۸۷)
٭ باقی رہا یہ کہ جب یہ قول معتزلہ کا ہے تو بعض علماء نے اس قول کو کیوں لیا ہے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ معتزلی اپنے آپکو حنفی کہلاتے تھے جیسا کہ روح المعانی میں ہے اسیطرح زمحشری کو بعض نے حنفی شمار کیا ہے کیونکہ حنفیت اعمال ہے اور اعتزال اعتقاد ہے فقط زبانی باتوں سے نہیں پہچانا جاتا کہ یہ معتزلی ہے جب تک اعتقاد کے بارے میں گفتگو نہ کی جائے جب یہ ثابت ہوگیا کہ نور سے اسلام اور قرآن مراد لینا معتزلہ کا مسلک ہے۔ اہلسنت و جماعت کا مسلک نہیں تو یقینا نور سے مراد ہمارے آقاﷺ  ہیں جیسا کہ صاحب روح المعانی اس آیت کے تحت فرمایا ہے
وَھُوَ نُوْرُ الْاَنْوَارِ النَّبِیُّ الْمُخْتَارُ(روح المعانی الجزء السادس ص ۸۷)
ترجمہ٭ یعنی ہمارے آقاﷺ  نوروں کے نور اور نبی المختار ہیں۔
٭ حضرات محترم! اگر بالفرض نور سے مراد قرآن و اسلام بھی لیاجائے تو پھر بھی ہمارے آقاﷺ  نور ہیں کیونکہ قرآن کی تعریف ہے کہ کلام اللہ غیر مخلوق ۔ کلام اللہ کیساتھ غیر مخلوق کی قید بڑھائی گئی ہے تو مشائخ متکلمین نے اسکی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یہ تعریف کلام نفسی کی ہے نہ کہ کلام لفظی کی اور کلام نفسی غیر مخلوق ہے کیونکہ یہ اللہ کی صفت قدیمہ اور غیر مخلوقہ ہے اور کلام لفظی مخلوق وحادث ہے اور نور کلام لفظی کی صفت ہے نہ کہ کلام نفسی کی ہمارے آقا ﷺ جمیع مخلوق سے افضل ہیں۔ لہذا کلام لفظی جو مخلوق و حادث ہے۔ اس سے بھی افضل ہوئے تو بتائو جب قرآن  (جوباعتبار کلام لفظی مخلوق و حادث ہے) نور ہے۔ تو ہمارے آقاﷺ  بھی ضرور نور ہونگے کیونکہ جو کچھ حضورﷺ نے فرمایا اور کرکے دکھایا وہ ادائیں نور ہیں تو ادائوں والا کیسے نور نہ ہوگا ؟علاوہ ازیں حضورﷺ جمیع اشیاء کی اصل ہیں اگر اصل بے نور ہوتو فرع کیسے نور ہوگی؟ علم و عمل ایمان و عرفان عقل و دانش نور ہیں آفتاب و ماہتاب اور ستارے نور ہیں جوکہ فرع ہیں اور پھر اصل کیسے بے نور ہوگا؟
شبہ
٭ جیسا نور تم حضور سید عالم ﷺ کیلئے ثابت کیا ہو ویسا نور تو نہیں ہے لہذا حضورﷺ نور ہوئے تو کیا ہوا؟ قرآن پڑھنے کیلئے بھی شمع کی ضرورت ہے اور حضور سید عالم ﷺ کے دولت کدہ پر بھی شمع جلانے کی ضرورت ہوتی تھی۔
شبہ کا ازالہ
٭ لفظ ایک ہوتا ہے لیکن منسوب ہونے کی وجہ سے معنی متفاوت ہوجاتے ہیں جیسا کہ اللہ نے اپنے آپﷺ کو شہید کہا ہے
وَھُوَ بِکْلِّ شَیْ ئِ شَہِیْدٌ
٭ اور اپنے رسول کو بھی شہید کہا ہے
وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا
٭ اور قرآن نے ہم کو بھی شہید کہا
وَکَذَالِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃٌ وَّسَطاً لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ
٭ تو بتائو کیسا ہر ایک کے شہید ہونے کا ایک معنی ہے ہرگز نہیں بلکہ ہر ایک کے لائق معنی ہوگا۔ اسیطرح
مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہ ُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ کیا یہاں بھی مکر کا ایک معنی ہوگا ہرگز نہیں بلکہ مکر کا معنی ہے دھوکہ میں ڈالنا اور مَکَرَ اللّٰہ کا مطلب دھوکہ سے نکالنا اسیطرح تورات بھی نور ہے اورقرآن بھی نور ہے تو بتائو قرآن اور تورات یکساں ہیں ہرگز نہیں بلکہ قرآن افضل ہے لہذا ثابت ہوا کہ فقط ایک لفظ کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ نسبت کوبھی دیکھایاجاتا ہے۔ نور قرآن کی طرف منسوب ہوگا تو معنی اور ہوگا اور نور حضور سید عالم نور مجسم محمد عربی ﷺ کیطرف منسوب ہوگا تو معنی اور ہوگا ۔علاوہ ازیں آپ نے اس واقعہ کو تو دیکھا کہ شمع آپﷺ کے دولت کدہ میں جلتی تھی مگروہ بات آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب آپﷺ تبسم فرماتے تھے تو پورا گھر روشن ہوجاتا تھا۔ آپ نے ایک آنکھ سے تو دیکھا کہ شمع روشن ہوتی تھی مگر دوسری آنکھ سے نہ دیکھا کہ حکمت کے تحت جلوئوں کا اظہار ہوتا تھا۔
٭ بعض چیزوں میں معنی اور بعض اعیان ہوتی ہیں جیسے قرآن کے الفاظ و اوراق اعیان ہیں اور مفہوم و مطلب معانی اور علم و عرفان اور ایمان معانی ہیں اور قرآن کا معنی نور ہے اور میرے آقاﷺ  جامع اعیان و معنی ہیں تو تعجب ہے کہ جس کا فقط معنی نور ہو اسکو تو نور مانتے ہیں اور جو جامع اعیان و معانی ہو اسکو نور نہیں مانتے ابن کثیر جو بڑا محتاط مفسر ہے متعدد سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب حضورﷺ پیدا ہوئے تو تمام گھر نور سے بھر گیا حتیٰ کہ بصری نظر آنے لگا اور وہاں اونٹ بھی نظر آئے۔ یہاں تک ایک اونٹ کی گردن مڑی ہوئی تھی وہ بھی نظر آنے لگا۔
شبہ
٭ اگر نور ہیں تو کھاتے پیتے کیوں تھے دندان مبارک سے خون جاری کیوں ہوا؟ آپﷺ کی اولاد کیوں ہوئی؟ ہجرت کیوں فرمائی غار میں پناہ کیوں لی؟ غسل کیوں دیاگیا کفن کیوں پہنایا گیا۔ مزار کیوں بنائی گئی؟ نور ان تمام مذکورہ بالا احکام سے مبرا ہے اور یہ جمیع احکام عدم نورانیت پر دال ہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ بے شک ہم جانتے ہیں کہ یہ احکام عدم نور پر دال ہیں۔ یہ اس نور کے منافی ہیں جو فقط نور مانیں اور ہم نے ہزار بارکہا کہ آپﷺ فقط نور نہیں ہیں بلکہ جمیع اشیاء کے حقائق کا منبع ہیں۔ آپﷺ کے اندر آگ پانی ہوا کی حقیقت موجود ہے۔ آپﷺ میں بشریت بھی ہے اور نورانیت بھی لیکن بے عیب بشریت ہے۔ غرضیکہ محبوب ﷺ کے اندر کوئی عیب نہیں۔لوگوں کا یہ الزام لگانا کہ بشریت کا انکار کرتے ہیں ہذا بہتان عظیم۔ ہم بے شک بشریت مانتے ہیں لیکن بے عیب بشریت مانتے ہیں اور تمام حقائق اور لطائف کا مجموعہ ہیں۔ جیسے آم کا درخت پچاس من کا وزن رکھتا ہے اور گٹھلی بہت کم وزن رکھتی ہے تو بتائو کہ یہ آم یہ پچاس من رکھنے والا آم اس گٹھلی کے اندر ہے۔ کیا یہ پچاس من کا وزن اس گٹھلی میں ہے؟ ہرگز نہیں مگر پچاس من کا وزن رکھنے والی شاخوں اور تنے کی حقیقت لطیفہ اس گٹھلی کے اندر موجود ہے۔اسی طرح جیسے اللہ تعالیٰ  قادر ہے کہ پچاس من کی حقیقت لطیفہ کو ایک گٹھلی کے اندر سمادے ۔ اسی طرح قادر ہے کہ اٹھارہ ہزار عالم کی حقیقت لطیفہ کو حضور سید عالم ﷺ کے اندر سما دے۔آپ بھی آئینہ دیکھتے ہیں تو آپ کی صورت اس آئینہ کے اندر نظر آئے گی۔ جو ذات قادر ہے کہ تمہاری صورتوں کو لطیف کردے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جمیع حقیقتوں کو لطیف کردے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کوبوقت نماز سورج گرہن ایک دیوار میں دکھادیا اب ثابت ہوا کہ حضورﷺ تمام حقائق کائنات کا مجموعہ ہیں اور آپﷺ بے عیب ہیں اس لئے کہ آپﷺ محمد ہیں اور محمد بے عیب ہوتا ہے۔
٭ اب پتہ چلا کہ بشریت ہے لیکن بے عیب۔ بشریت میں آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور نورانیت میں والد ہیں۔ آپ نے فقط نسل کو دیکھا اصل کو نہ دیکھا ہم نے دونوں کو دیکھاہے ذرا غور سے دونوں کو دیکھو۔ جسکی ایک آنکھ ہوتو وہ کہے کہ تمام انسانوں کی ایک آنکھ ہے کیوں کہ میری آنکھ جو ایک ہے تو یہ اسکا اپنا قصور ہے یا عیب ہے۔ذرا آپ ایک آنکھ سے نہ دیکھیں بلکہ دونوں آنکھوں سے دیکھیں۔ صوم وصال شاہد ہے نورانیت کا۔ حتی کہ اکیس دن تک بھی ثابت ہے کہ آپﷺ نے نہ کھایا ہے نہ پیا۔ یہ نہ کھانا نورانیت کی دلیل ہے اور کبھی کبھی کھانا بشریت کی دلیل ہے۔ جب سرکارﷺ نے صو م وصال رکھے تو صحابہ کرام نے بھی صوم وصال شروع کردیا تو تیسرے یوم تک یہ حالت تھی کہ مسجد کے دروازے پر گر پڑے چلنے کی طاقت نہ رہی توآپﷺ نے پوچھا کہ کیاوجہ ہے کہ اتنی بے طاقتی ہوگئی ہے تو صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ جب ہم نے آپﷺ کو صوم وصال رکھتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی شروع کردیے تو آپﷺ نے فرمایا
اَیُّکُمْ مِثْلِیْ اَبِیْتُ عِنْدَرَبِّیْ وَھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِیْ
ترجمہ٭ تم میں کون میری مثل ہے میں تو رب کے پاس رات گذارتا ہوں وہ مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔
شبہ
٭ یہ کیسا روزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کھاتے بھی ہیں اور پیتے بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ اللہ ہر ایک کو کھلاتا بھی ہے اور پلاتا ہے لہذا ہم بھی روزہ رکھ کر کھاناشروع کردیں اور کہیں کہ ہمیں اللہ کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے حالانکہ ایسا کرنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے تو یہ کیسا روزہ ہے کہ کھاتے پیتے بھی تھے اور صوم وصال بھی تھا۔
شبہ کا ازالہ
٭
وَھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِیْ کا یہ مطلب نہیں کہ جسمانی غذا روٹی پانی وغیرہ استعمال فرماتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ مزہ لیتے تھے جو جسمانی غذا سے متعلق نہ تھا۔ فساد روزہ جسمانی غذا سے ہوتا ہے ۔ اکل وشرب جسمانی غذا سے ہے اور آپﷺ ہم جیسے نہیں بلکہ آپﷺ کی بشریت نہایت لطیف بشریت ہے بلکہ مولوی رشید احمد گنگوہی نے بھی لکھا ہے کہ انبیاء کی بشریت روح کا حکم رکھتی ہے اسلئے حضورﷺ نے فرمایا
اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیٰ الْاَرْضِ اَنْ تَاکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائِ
٭ اسیطرح آپﷺ کا خون نکلنا بشریت کی دلیل ہے اور شق صدر کے موقع پر خون کا نہ نکلنا نورانیت کی دلیل ہے بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ آپﷺ کا خون مقدس اسلئے نکلا کہ شہداء کا خون اسکے دامن میں آجائے اسطرح واقعی بیمار ہوئے اور بیمار ہونا بشریت کی دلیل ہے لیکن ذرا مسلم شریف اٹھا کر دیکھئے کہ اسماء رضی اللہ عنہ کے پاس جبہ مبارک تھا جس رات سے مریض شفا یاب ہوجاتے تھے۔ اسیطرح آپﷺ کالعاب مبارک بھی ذریعہ شفا تھا اگر اسکے بارے میں تمام احادیث بیان کی جائیں تو عمر کم ہے بیان نہ ہو سکیں گی اسلئے خصائص کبری کا مطالعہ کافی ہے جسکے پڑھنے سے پوری تشفی ہوجاتی ہے بلکہ میں تو یوں عرض کروں گا کہ اگر سرکارﷺ بیمار نہ ہوتے تو ہماری بیماریاں ضائع ہوجاتیں حالانکہ ایک چھوٹی سی بیماری کے بدلہ میں دس گناہ معاف ہوتے ہیں۔
٭ حضرات محترم! آپﷺ جیسے دن میں دیکھتے تھے ویسے ہی رات کو بھی دیکھتے تھے اندھیرا اور اجالا آپﷺ کیلئے برابر تھا۔ اور آپﷺ آگے پیچھے برابر دیکھتے تھے۔ حضور دنیا میں رہ کر عالم برزخ فوق سما کو برابر دیکھتے تھے اور جنت اور دوزخ کا مشاہدہ بھی فرماتے تھے۔ اسلئے حضورﷺ نے فرمایا
وَاِنِّی لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِی الْاٰنَ (بخاری جلد ۲ ص ۵۸۵)
٭ اسی طرح آقا دوجہاںا دو قبروں سے گذرے اور فرمایا کہ ان دو قبر والوں پر عذاب ہورہا ہے اور ان سے عذاب کم کرنے کیلئے کھجور کی دو ٹہنیوں کو توڑ کر قبر پر رکھا اور اس عمل سے بتا دیا کہ قبر والوں کا حال میری نگاہ سے پوشیدہ نہیں اور ان سے عذاب دفع کرنے کی دوا بھی جانتا ہوں ۔ ان کا مددگار بھی ہوں دوا بھی ہوں اور مشکل کشا بھی ہوں۔
٭ حضرات محترم!ان امور سے ثابت ہوا کہ آپﷺ بشر بھی ہیں اور نور بھی۔ لیکن ایک آنکھ بند کرکے صرف بشریت کا اعلان کرنا اور نورانیت سے روکنا نہایت جہل نہیں تواور کیا ہے۔ ہم حضورﷺ کی بے عیب بشریت کو مانتے ہیں اور نو ربھی مانتے ہیں اور اس پر اجماع امت ہے کہ ہمارے آقاﷺ  واقعی نو ر ہیں۔

وما علینا الالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج