رحمۃالعالمین کی تشریح

٭ حضرات محترم! حضورسیدعالم نور مجسم تاجدارمدینہ ﷺ رحمتہ للعالمین ہیں اور رحمۃ کے معنی ہیں رقت قلب۔(بیضاوی)
٭ لیکن اگر رحمت کے یہ معنی لیے جائیں تو اللہ کیلئے رحمت ثابت نہیں ہوسکتی حالانکہ اللہ بھی رحمن اور رحیم ہے لہذا اللہ کے رحمن اور حیم ہونیکے کیامعنی ہوئے۔
اس شبہ کا ازالہ یہ ہے
٭ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے معنی انسان کی رحمت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اللہ کے اوصاف ہماری عقل کے ادراک سے بلند و بالا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے معنی فقط مفہوم کیلئے ہیں۔ رقت قلب مراد نہیں ہے۔ اب آیۃ کا معنی یہ ہوا کہ بندوں کے حال کے موافق جو احسان و سخا ہے باری تعالیٰ کی وہی رحمت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت اسکی شان کے لائق اور حال عبد کے موافق ہوتی مریض کوشفا دینا اور مخلوق کو رزق دینا گمراہ کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہوتی ہے اور حال عبد کے موافق ہوتی ہے۔ یہ تمام اسکی رحمت ہے مثلاً سانس کا لینا۔ اگرکوئی کہے کہ اتنی رقم لے لو اور سانس لینا بند کردو تو کیا کوئی ایسا کرنا پسند کرے گا ہرگز نہیں وہ موت کے خوف سے سانس لینا اسکو زیادہ محبوب ہوگا۔ جب ثابت ہوا ایمان کا عطا ہونا ہدایت پر آنا مخلوق کو رزق دینا یا مریض کو شفا دینا۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس لئے اس رحمت کی تقسیم کیئے فرمایا
وَمَا اَرْسَلْنَکَ اِلَّارَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ
ترجمہ٭ اے محبوب !اور نہیں بھیجا آپ کو مگر رحمت تمام عالموں کیلئے۔
٭ یعنی اے محبوب! میں نے تجھے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ یہ جمیع انعامات میری رحمت کا ظہور ہے۔ اگر حضور ﷺ مریض کو شفا نہ دے سکیں بھوکے کو رزق نہ دے سکیں گمراہ کو ہدایت نہ دے سکیں تو رحمت کا کوئی معنی بنے گا؟ ہرگز کوئی معنی نہ بنے گااور آپﷺ کے راحم ہونے کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یہ تو ایسے ہے جیسے کہ میں اپنے کسی غلام سے کہوں کہ فلاں کوکھانا کھلا دو فلاں کو مشروب پلا دو کپڑے پہنا دو مگر کھانے پلانے اور پہنانے کیلئے اسے کسی چیز کا مالک نہ کروں۔ تو آپ بتائیں وہ اوروں کو کیاکھلائے گا پلائے گا اور پہنائے گا؟ لہذا ثابت ہوا اللہ تعالیٰ نے جمیع اشیاء اپنے محبوب کے سپرد کردی ہیں۔آپ ﷺ راحم ہیں اور العالمین پر رحمت فرمارہے ہیں اسلئے ضروری ہوا کہ آپ ﷺ کو مالک مجازی اور مختار ماننا پڑے گا ورنہ رحمۃ کا کوئی معنی نہ بنے گا۔
شبہ
٭ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی خدائی سے تہی دست ہوکر اپنے محبوب کو مالک بناکر الگ ہوگیا ہے۔
شبہ کا ازالہ
٭ یہ سوال اس وقت ذہن میں ابھرتا ہے جب یہ مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و اختیار اور حیثیت سے منقطع ہوگیا ہے اور یہ شرک ہے بلکہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں اور اختیار کو محبوب سے صادر فرماتا ہے اور کمال عبدیت بھی یہی ہے کہ بندہ سے جمال خداوندی اور جلال خداوندی اور قدرۃ الہی ظاہر ہو اور سمع و بصر اور تصرف و قدرۃ اسی کا مظہر ہو۔ شرک تو تب ہوگا جب ہم اس کا کوئی مقابل ٹھہرائیں ذرا غور فرمائیں تمام موجودات کے اندر خدا کا کمال اور قدرت کا اظہار ہے اگر گل یا مشک و عطر سے قدرت خداوندی اور کمال خداوندی نمودار ہوتو شرک نہیں ہے اگرعبد مقدس سے ظاہر ہو تو کیسے شرک ہوسکتا ہے ذرا حدیث قرب نوافل والی ملاحظہ ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
لَا یَزَالْ عَبْدِیْ یَتَقَرًبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ فَکُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعْ بِہٖٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُبہٖ وَ یَدَہُ الَّتِیْ یُبْطِشُ بِھَا الحدیث(بخاری ۹۶۳)
٭ یہ توعام عباد کا حال ہے اور جو عبدہ ورسولہ ہو اس کا کیا حال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم وکمال اورسمع وبصر کیلئے حضورﷺ کی قدرت اور علم و کمال اور سمع و بصردلیل ہے۔ یہ تمام صفات آقا سے ظاہر ہیں ۔ اس لئے آپﷺ نے فرمایا
اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِیْ (بخاری ص ۱۶)
٭ اور بخاری ہی میں ہے
اَنَا قَاسِمٌ وَ خَازِنٌ (بخاری ص ۴۳۹)
٭ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اِنَّا اَعْطَیْنکَ الْکَوْثَرَ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج