امر بالمعروف واجب ہے

٭ حضرات محترم! حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ واعظ کو پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے کیونکہ نصیحت کا اثر اس وقت ہوتا ہے جبکہ ناصح خود بھی عامل ہو ورنہ لوگ ہنستے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ نصیحت کرنیکا جواز یا وجوب عامل ہونے پر موقوف نہیں اگر کوئی عالم عامل نہ بھی ہو۔ تب بھی اسکو نصیحت اور وعظ کا چھوڑ دینا اور گناہوں کے ہوتے ہوئے دیکھ کر سکوت اختیار کرنا جائز نہ ہوگا۔ خوب سمجھ لو! کہ یہ خیال بھی ایک شیطانی وسوسہ ہے کہ جب تک پورے عامل نہ بن جائیں اس وقت تک دوسروں کو کیا نصیحت کریں اگر ایسا خیال معتبر سمجھا جائے تو وعظ و نصیحت کا سلسلہ مفقود اور دروازہ مسدود ہوجائے گا۔ یاد رکھو امر بالمعروف واجب اور ضروری ہے ۔عاصی اور گنہ گار شخص کو بھی وعظ کہنا جائز ہے۔ البتہ واعظین پر یہ دوسرا وجوب مستقل ہے کہ اپنے علم پر عمل کریں اور اچھے کاموں کی دوسروں کو نصیحت کریں خود بھی اس پر کاربند ہوں پس اگر ایک واجب کو ترک کیا کہ خود عامل نہ بنے تو دوسرا واجب ترک کرنا کیونکر جائز ہوگا کہ دوسروں کو نصیحت بھی نہ کریں۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج