نصائح غزالی زماں رازی دوراں

٭حضرات محترم! برادران طریقت! یہ میرے مرشد کریم استاد مکرم برادرِ معظم آقائے نعمت ولی دولت سیدی و سندی و مولائی حضرت علامہ مولانا الشاء محمد خلیل کاظمی محدث امروہوی رضی اللہ عنہ کاعرس مبارک ہے۔ آپ یقین فرمائیں کہ جس محبت و عقیدت سے آپ تشریف لائے ہیں۔ انشاء اللہ میرے مرشدکریم آپ کو خالی نہیں بھیجیں گے۔
٭ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ اس منبع و مرکز فیوض و برکات سے ہماری وابستگی برقرار رکھے۔ نسبت بڑی چیز ہے۔
٭ قرآن میں ہے اصحاب کہف کا کتا انکے پیچھے لگ گیا اور ان سے وابستہ ہوگیا۔ تو اب وہ جنتی ہے یہ کمال کتے کا نہیں تھا اس میں علم تھا نہ عمل تقوی تھا نہ زہد صرف ایک خوبی تھی کہ جس کا پیچھا پکڑا اسکو چھوڑا نہیں وہ آج تک اسی درپر ہے۔ خدا کرے ہمارا کچھ رہے نہ رہے مگر یہ نسبت قائم رہے اور میرے شیخ کریم کا درہم سے نہ چھوٹے۔
٭ الحمدللہ! ہم انسان ہیں اللہ نے ہمیں انسان بنایا ۔ انسان بناکر سید عالم رحمت مجسم تاجدار مدنی جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ فرمادیا۔یہ وابستگی ہمارے مرشدوں مشائخ سلاسل عالیہ کے ذریعے سے حضور اقدسﷺ سے منسلک ہے۔ اسی لئے ہم انشاء اللہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوسکتے۔
٭ اب ہمارے شکر ادا کرنے کی یہی صورت ہے کہ ہم وہ طریقے اور روش اختیار کریں کہ ہم ان بارگاہوں سے دھتکارے نہ جائیں۔ہم سب اس بات کا عہد کریں کہ ارکان اسلام کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہ کریں گے اور اللہ نے ہم پر جو فرائض عائد کئے ہیں وہ بجالائیں گے۔
٭ الحمدللہ! اس فقیر نے اب تک اپنے مرشد کریم شیخ کامل کی برکت سے ہر سال پورے قرآن کا درس دیا اور ارکان اسلام بجالایا اور میرے پیر بھائی ایسے بھی ہیں کہ جو پانچ وقت کے نمازی ہیں پورے مہینے کے روزے رکھتے ہیں اور تمام فرائض بجا لاتے ہیں ہاں اگر خدانخواستہ کسی شرعی عذر کی بناپر کوئی نماز چھوڑ دیں اور کوئی فرض چوک جائے تو اس کی قضا ادا کرلی جائے ورنہ تو مرشد کریم کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں ہونگے۔
٭ ہر پیر بھائی یہ بھی عہد کرے کہ میں اپنے ہر پیر بھائی ہر سنی بھائی بلکہ ہر انسان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئوں گا ہمارے اندر انسانی ہمدردی کا جذبہ ہونا چاہئے۔ ہمارے آقائے نامدار تاجدار مدنی ﷺ کی یہ تعلیم ہے کہ کوئی جاندار تکلیف میں ہے تو اس کی تکلیف دور کرو اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیف دور فرمائے گا۔
٭ ایک پیاسے کتے کو پانی پلادینا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہے۔ جن حضرات نے احادیث کی کتابیں پڑھی ہیں ۔ یہ مضامین انکے سامنے ہیں۔ جانداروں سے ہمدردی انسانی بنیادوں پر ہمدردی مذہبی بنیادوں پر ہمدردی اور طریقت کی بنیادوں پر ہمدردی ہمارے آقاﷺ کی تعلیمات میں سے ہیں لہذا ہم آپس میں ہمدرد رہیں اور آپس میں محبت پیار کے روابط پیدا کریں اور ہر دکھ درد میں دوسروں کے شریک ہوں۔
٭ جو پیر بھائی زانی ہو شراب پیتا ہو نماز نہ پڑھتا ہو وہ ہمارا مرید نہیں۔ وہ ہمارا مرید نہیں وہ ہمارا مرید نہیں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ سلسلہ عالیہ کے ساتھ وابستہ ہونے والے سب پیر بھائی اس بات کا عہد کریں کہ آئندہ مذکورہ کبائر سے بچیں گے کبھی زنا نہیں کریں گے کبھی شراب نہیں پیئں گے کبھی جوا نہیں کھیلیں گے اور کبھی نماز ترک نہیں کریں گے ورنہ اس سلسلہ عالیہ کے کسی گوشے میں ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے لہذا اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ قرآن مجھے توفیق دے ۔ میں اس دائرے سے باہر نہ نکلوں اور میرے ساتھ جتنے پیر بھائی وابستہ ہیں وہ اس دائرے سے باہر نہ نکلیں۔
٭ ان نصیحتوں میں سے یہ ایک بنیادی نصیحت ہے کہ اپنے مذہب پر قائم رہو۔ امام اہلسنت مجددین و ملت الشاہ احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا مسلک میرا مسلک ہے اور میرے ساتھ تمام وابستہ ہونے والے اسی مسلک پر قائم رہیں جو اعلیٰ حضرت کے مسلک سے ایک قدم باہر رکھے گا وہ میرا مرید نہیں وہ میرا مرید نہیں۔
٭ اپنے اندر عاجزی انکساری کا مادہ پیدا کرو۔ تکبر غرور کے قریب نہ جائو۔ آپس میں محبت پیدا کرو بلکہ ہر انسان کے ساتھ اپنے دل میں ہمدردری کا جذبہ پیدا کرو۔ انسانیت کے آگے ہر ذی حیات و ہر ذی روح کیلئے ہمدردی کا جذبہ پیدا کرو اور یہ وہ چیز ہے جو ہمارے لئے باعث مسرت ہے۔
٭ ہر شخص کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اسکے بندوں کے حقوق کا خیال رکھے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے حقوق ہمارے ذمے رہے تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے اگر بندوں کے حقوق ہمارے ذمہ رہے تو ہمارے لئے کوئی پناہ نہیں ہے۔
٭ عزیزان محترم! اگر میری طرف سے کسی شخص کے حق میں ناپسندید گی کے الفاظ نکلے ہوں تو میں ہاتھ جوڑ کر معافی چاہتا ہوں میری کوشش ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے بندوں کے حقوق میرے ذمہ نہ رہیں۔
٭ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ رازق اللہ ہے ظاہری اسباب اللہ نے پیدا کیئے ہیں۔ جو اسباب بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے پیدا کیے ہیں ہم ان میں کوتاہی نہ کریں ہم میں سے کوئی تجارت کرتا ہے یا زراعت کوئی دکانداری کرتا ہے یا مزدوری مزدور مزدوری پوری لے لے اور مالک کاکام پورا نہ کرے اور مالک کام پورا لے لے اور مزدوری پوری نہ دے یہ کوتاہی ہے۔ دکاندار یا تاجر مرچوں میں ملاوٹ کردے یا آٹے میں ملاوٹ کردے چینی میں ملاوٹ کردے تاکہ منافع زیادہ ہوتو یہ منافع کسی کام کا نہیں۔ سب پیر بھائی اس بات کو ذہن میں رکھیں کوئی اپنے مفاد حاصل کرنے کیلئے بے ایمانی نہ کرے اپنے کاروبار کو صاف رکھے۔ اس سے جو منافع ہوگا وہ دیکھنے میں تھوڑا ہوگا مگراس میں بے شمار برکتیں ہونگیسب پیر بھائی اس پر عمل پیرا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں انسان بنایا اور حضور سید عالم ﷺ کے دامن اقدس سے وابستہ فرمایا اور ان راہوں سے وابستہ فرمایا ۔ جو وہاں تک پہنچاتی ہیں اور وہ نسبتیں عطا فرمائیں جن کو ہم اختیار کرکے نجات پاسکتے ہیں اور منزل مقصود پاسکتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ان پیارو محبت کی باتوں اور پندو نصائح پر پابندی سے عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭ میں بعض پیر بھائیوں میں مناقشات دیکھ رہا ہوں اگر وہ مجھے کچھ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے تو مناقشات ختم کردیں اور آپس میں اخوت اور بھائی چارہ پیدا کریں۔
٭ میں آپ کو کیا بتائوں؟ پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے بعض لوگوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی لیکن جب ان پر حق واضح ہوگیا تو وہ سمجھ گئے اس لئے بنارس میں 1946ء میں بنارس سنی کانفرنس ہوئی اور سب سنی اس بات پر متفق ہوگئے کہ پاکستان ہر حال میں بننا چاہئے الحمد للہ! پاکستان بن گیا۔
٭ سنیو! پاکستان تمہاری جدوجہد تمہاری کوشش اور تمہاری جانفشانی سے بنا اور اب پاکستان کی حفاظت بھی تم ہی کرو گے۔ کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو نقصان پہچاننے کیلئے ہر طرح سے کام کررہے ہیں۔ باہر سے بھی اور اندر سے بھی۔تو تم ان لوگوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادو اور سینہ سپر ہوجائو پاکستان کے دفاع کیلئے اور نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کیلئے کوشاں رہو۔ جن لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت ہے وہ کبھی بھی اسلام نہیں لائیں گے وہ اسلام کا نام تو لیں گے مگر اسلام کاکام نہیں کریں گے۔1947ء سے حکومت ان لوگوں کے ہاتھ آئی مگر آج تک اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے کچھ کرپائے۔
٭ پاکستان میں رہنے والے سنیو! تم نے ہی پاکستان بنایا اور تم ہی اسکو صحیح معنوں میں مرکز دین بنائو گے اور تم اگر اسلام کی بنیادوں پر منظم ہوکر اور
کَاَنَّھُمْ بُنْیَانٌ مَّرَصُوْصٌ ( سورہ صف آیت ۴)کا مصداق بن جائو تو جتنے بھی لوگ پاکستان کے مخالف یا نظام مصطفی ﷺ نافذ ہونے کے مخالف ہیں۔ ان سب کی قوتیں ساقط ہوجائیں گی۔تم خلافت راشدہ کے نظام کو زندہ کرسکتے ہو تم امامت کبریٰ کے نظام کو لاسکتے ہو۔ اگر اہل سنت متفق اور متحد ہوجائیں تو خدا کی قسم! امامت کبریٰ قائم ہوسکتی ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ خلافت راشدہ کانظام آسکتا ہے جب بھی اسلام کے خلاف کوئی نظام آئے تو تم سینہ سپر ہوجائو اور ڈٹ جائو کہ اسلامی ملک میں اسلامی نظام آئیگا اور کوئی نظام نہیں آسکتا اور یہی نظام مصطفی ﷺ ہے۔
٭ حضور سیدی سندی مرشدی مولانا محمد خلیل شاہ کاظمی امروہوی رضی اللہ عنہ کی جدائی روح کو شاق گذرتی ہے روح ترستی ہے روح بیتاب ہے ۔ کاش وہ آج ظاہری طورپر ہمارے سامنے ہوتے تو ہماری روح کی تشنگی دور ہوتی لیکن تاہم جب بھی تشنگی دور ہوتی ہے تو انہیں کی روحانیت کافیض ہوتا ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ اس چشمۂ فیض کو ہمیشہ جاری رکھے اور پیاسے اس سے سیراب ہوتے رہیں آمین ثم آمین۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج