افضل الخلق ﷺ

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِکَۃِ اسْجُدُدْ الِآٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّا اِبْلِیْسَ ط اَبیٰ وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ (البقرہ آیت ۳۴)
ترجمہ٭ اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا! سجدہ کرو آدم کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا۔
٭ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم گنہگاروں کو حضورمدنی تاجداراحمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ کا امتی بنایا اور ہم پر احسان عظیم فرمایا۔ اس کا ہم عمر بھر شکریہ ادا نہیں کرسکتے۔
٭ حضرات محترم! اللہ تعالیٰ نے ابتداء خلق سے خیر کے ساتھ شرکو اسلام کے ساتھ کفر کو حق کے ساتھ باطل کو دن کے ساتھ رات کو رکھا۔ کیونکہ یہ مشہور ہے کہ
اَلَاشْیَائُ تُعْرَفُ بِاَضْدَادِھَاٗ شی کے پہچان ضد کے ساتھ ہوتی ہے۔ ظلمت کا وجود نور کے مقابلہ میں اور شرکا وجود خیر کے مقابلہ میں ایسے ہے کہ اس کا انکار کوئی اہل فہم نہیں کرسکتا۔ انکار وہ کرے گا جوکتاب و سنت سے نا آشنا ہے۔ آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو خلیفۃ اللہ فرمایا گویا آپ خلیفۃاللہ کا مصداق ہوئے قرآن بھی خود گواہی دیتا ہے۔
اِنِّی جَاعِلٔ فِی الَْارْضِ خَلِیْفَۃٔ
ترجمہ٭ بے شک میں بنانے والا ہوں زمین میں(اپنا)نائب۔(البقرۃ آیت ۳۰ )
٭ خلیفہ بنانے کی کوئی حکمت ضرور ہونی چاہیے اور حکمت کا تعلق نہیں ہوتا جب تک مظہر خیر نہ بنایا ہو۔ اسلئے آپ ﷺ کے اندر خیر اور وصف خیر علی وجہ کمال رکھے گئے اور خلافت کا تاج پہنایا گیا جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مظہر خیر بنایا تو آپ ﷺ کے مقابلے میں شیطان کا وجود ظاہر ہو اورحضرت آدم علیہ السلام تمام قوائے خیر کے مظہر اور مرکز ٹھہرے اور شیطان تمام شر کی قوت کا مرکز بنا۔ آدم علیہ السلام مرکز خیر مرکز نور اور مرکز ایمان ہیں اور شیطان مرکز شر مرکز ظلمت اور مرکز کفر بنا ۔ آدم علیہ السلام توحید کے علم بردار ہوئے۔شیطان شرک کا پرستار بنا۔ آپﷺ کے عقیدہ توحید کے مقابل شیطان کا کفر آپﷺ کے خیر کے مقابل شیطان کا شر اور آپﷺ کے نور کے مقابل شیطان کی ظلمت تھی اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرمادیا تھا۔
وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ
٭
اَلَاشْیَائُ تُعْرَفُ بِاَضْدَادِھَا کا ظہور ہوا۔ اب آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ آپ ﷺ قوت خیرکے حامل تھے اور شیطان قوت شر کا حامل تھا۔ اب ان کا تقابل ہوا تو ظاہر ہے کہ آدم علیہ السلام خلیفہ ہوئے اور شیطان مردود ہوا۔ آدم علیہ السلام خلیفۃ اللہ ہوئے اور شیطان عدو اللہ ہوا۔ اب اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا
ترجمہ٭ تو شیطان نے انہیں اس درخت کے ذریعے پھسلایا( البقر آیت ۳۶)
٭ یعنی شیطان نے آدم و حوا علیھم السلام کو پھسلا دیا۔ اب کیاکہاجائیگا کہ خیر کے مقابلہ میں شرکامیاب ہوگیا ہرگز نہیں! خیر کے مقابلے میں شر کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا آدم علیہ السلام مغلوب نہیں ہوسکتے رہا
فَاَزَلَّھُمَا کا جواب تو وہ یہ ہے کہ غلبہ کسی وقت میں کسی عارضی بات کیلئے صورۃ ً ظاہر ہوا تھا۔ لیکن خدا کی قسم شیطان مغلوب رہا اس کا غالب ہونا ناممکن ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور جہنمی تھا اور جہنمی جنتی پر کیسے غالب ہوسکتا ہے اس وقت تو شیطان دوکاجنت میں رہنا برداشت نہ کرسکا اور نہ دیکھ سکتا تھا لیکن جب حضرت آدم علیہ السلام یہاں تشریف لائے تو شیطان خوش تھا مگر فی الحقیقت واقعہ عجیب تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی سکونت جنت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
یَااٰدَمُ اسخکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ
ترجمہ٭ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔( البقر آیت ۳۵)
٭ جنکی سکونت جنت ہو پھر نکالنا کیسے؟ ممکن ہے مثلاً میری سکونت ملتا ن ہے اب میں کسی عارضی سبب کیلئے باہر چلاجائوں تو کوئی کہے کہ دیکھو میں نے اسکو ملتان سے باہر نکلوا دیا ہے۔ تو یہ کہنا اسکی بے وقوفی شمار کی جائیگی کیونکہ جہاں میری سکونت ہو وہاں سے کوئی کیسے جاسکتا ہے۔ دراصل حضرت آدم علیہ السلام کا زمین پر تشریف لانے کی حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم یہ جنت تمہارے لئے ہے اور وہ کفار جو آپ کی پشت میں ہیں۔ ان کیلئے تو یہ جگہ نہیں لہذا آپ دنیا میں جائیں اور ابوجہل ابولہب جیسوں کو پھینک کر پھر جنت میں چلے آئیں۔ جیسے کسی شخص کے لاکھوں روپے کے مکان ہوں اور وہ رفائے حاجت کیلئے مکان سے باہر نکلے کیونکہ مکان نجس کے لائق نہیں۔ تو دشمن تالی بجانا شروع کردے کہ میں نے فلاں کو مکان سے باہر نکلوادیا ہے تو یہ کہنا کیسی حماقت ہوگی؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام تمام نجاستوں کو پھینکنے کیلئے آئے کیونکہ نجاست آپ کے لائق نہ تھی۔ چنانچہ جب کفار پیدا ہوگئے اوراللہ تعالیٰ کی حکمت پوری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم اب آپ بمع دیگر تمام انبیاء صدیقین شہداء و صلحاء کے جنت میں جائیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ حقیقتاً غالب کون تھا؟ خیر تھی یا شر۔ جب جنت سے نکلے تو دو تھے اور جب واپس آئے تو کئی ارب کی تعداد ساتھ لیکر آئے۔ اب شیطان مردود ملعون مغلوب ہوا جب کچھ نہ بنا تو کہنے لگا کہ مجھے قیامت تک مہلت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ
ترجمہ٭تو مہلت پانیوالوں میں سے ہے۔(الاعراف ۱۵)
٭ یعنی تجھے مہلت ہے اب شیطان نے کوشش کی اور گمراہ کرنے کیلئے اپنی تمام قوتوں کو استعمال کرنے لگ گیا وہ قوت جو اسکے اندر پہلے بالقوۃ تھی اب بالفعل ہوگئی اور اصولی طورپر قوتیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ علمی اور عملی۔ اگرچہ ان دو کا غلبہ بہت قوتوں میں ہوا۔ لیکن اصولی طورپر یہی دو قوتیں ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ شیطان کی علمی اور عملی قوت کتنا تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا
یَاٰبَنِیْ اٰدَمَ لَایَفْتِنَتَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَا اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ (سورۃ الاعراف آیت ۲۷)
ترجمہ٭ اے اولاد آدم! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے۔ جسطرح تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا۔
٭ اے اولاد آدم! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے جیسا کہ تمہارے ابوین یعنی آدم اور حوا کو جنت سے نکال دیا۔ اخرج کی ضمیر شیطان کی طرف راجع ہے تو نکالنے والا شیطان ہوا اب اس پر تامل کریں کہ اللہ تعالیٰ بنی آدم کو بچے رہنے کا حکم فرمارہا ہے اور شیطان سے مراد وہی شیطان ہے جس نے آدم علیہ السلام  کو جنت سے نکالا تھا۔ کوئی جن یا ہمزاد وغیرہ مراد نہیں ہے جیسا کہ
لَایَفْتِنَتَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَا اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ سے معلوم ہورہا ہے۔
٭ اب اس کا یہ حال ہے کہ
اِنَّہُ یَرَاکُمْ ھُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ (آیت ۲۷ سورۃ الاعراف )
ترجمہ٭ بے شک تمہیں دیکھتا ہے وہ شیطان اور اس کا کنبہ جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔
٭ یعنی وہ تم سب کو دیکھ رہا ہے جہاں سے تم انکو نہیں دیکھ سکتے۔تم مشرق میں یا مغرب میں شمال میں ہو یا جنوب میں جہاں بھی ہو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ اکبر! اب اسکے دیکھنے کی عملی قوت کتنا ہوئی اور دشمن جب تک دیکھے نہ غلبہ کیسے کریگا۔ جیسے پہلوان جب کشتی کرتا ہے تو جب تک دوسرے کی سکون و حرکت کو نہ دیکھے غلبہ نہیں کرسکتا۔ اسیطرح شیطان انسان کی سکون و حرکت کو نہ دیکھے غلبہ کیسے کریگا؟ بلکہ اسکی نظر جب تمام اولاد آدم کو نہ دیکھے تو غلبہ کیسے کر یگا؟ بلکہ اسکی نظر اتنی وسیع ہے کہ قرب و بعد اور مشرق ومغرب میں اولاد آدم کو برابر دیکھتا ہے۔ بلکہ صحیحین کی حدیث ہے کہ
اِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ اْلِانْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ یعنی شیطان انسان کے اندراتنا گھسا ہوا ہے جیسے اسکا خون اسکے اندر گھسا ہوا ہے ہر رگ پر چلنا یہ قوت عملی کا تصرف ہے۔ دونوں قوتیں شیطان کے اندر ہیں کیونکہ مہلت کا مطلب ہی یہی ہے اسلئے شیطان نے کہا
وَلَاُ غْوِ یَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ(آیت نمبر۳۹ سورۃ الحجر)
ترجمہ٭ اور میں ان سب کو ضرور گمراہ کروں گا۔
٭ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٰ(سورۃ الحجر آیت۴۲)
ترجمہ٭ بے شک میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں۔
٭ یعنی میرے خاص بندوں پر تو کبھی غالب نہیں ہوسکتا بلکہ وہ تجھ پر غالب رہیں گے۔ اب غور کرو کہ شر اور اغوا واضلال کی قوۃ کا جوحامل ہے اسکی نظر سے کوئی غائب نہیں۔ اور جسکو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے منصب پر متعین فرماکر بھیجا ہے اسکو دیوار کے پیچھے کا علم نہ ہو تو ہادی کیسے ہوئے؟ شیطان کا تصرف علمی اور عملی اتنا ہو اور جو منصب ہدایت پر متعین ہوکر آئے اسکے اندر اتنی قوۃ بھی نہ ہو تو منصب ہدایت کا مطلب کیا ہوا؟
٭ شیطان ظالم ہے اور انبیا ظلم سے بچانے کے لئے آئے اور وہ ظلم سے بچا سکتے ہیں جسکے اندر قوۃ علمی و عملی زیادہ ہو لہذا ماننا پڑے گا کہ انبیاء کا تصرف ظالم سے زیادہ ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ انبیا کا علم کئی حصہ زیادہ ہے۔ شیطان فقط انسان کو دیکھتا ہے اور نبی زمین و آسمان کی سب چیزوں کو دیکھتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَکَذَالِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ( سورۃ الانعام آیت ۷۵)
ترجمہ٭ یعنی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو زمین و آسمان کی بادشاہی دکھائی(کل مخلوقات) آسمانوں اور زمینوں کی اور اس لیے کہ وہ (علم الیقین کے ساتھ) عین الیقین والوں میں سے (بھی) ہوجائیں۔
٭ یہ تو خلیل کی نگاہ ہے پھر حبیب کی نگاہ کا کیا عالم ہوگا؟ بلکہ حبیب کی نگاہ سے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا جمال بھی نہیں چھپایا اور آقاﷺ نے ان سراقدس کی آنکھوں سے باری تعالیٰ کا جمال دیکھا کیسے شیطان جمال رب کو دیکھے گا؟ ہرگز نہیں نبی وہ ہے کہ کسی کے سامنے اسکا کمال کم نہ جانے کیونکہ یہ تنقیص نبوت ہے بلکہ جو بھی سامنے آئے مغلوب ہوکے رہ جائے۔ تمام کائنات کے کمالات میرے آقاﷺ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہم ایمان لائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب تمام پر فضیلت رکھتا ہے اور میرے آقاﷺ کا قرب ایسے قریب ہیں کہ ہماری جانیں دور ہو جائیں تو ہوجائیں لیکن آقاﷺ کبھی دور نہیں ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اَلنَّبِیُّ اَٰوْلیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ(سورۃ الاحزاب آیت ۶)
ترجمہ٭ یہ نبی ایمان والوں کے ساتھ انکی جانوں سے قریب ہیں۔
٭ یعنی تمہاری جانیں اتنی قریب نہیں جتنے میرے آقا تمہارے قریب ہیں۔

شبہ
٭ اگر کوئی کہے کہ وہ تومدینہ میں ہیں؟
شبہ کا ازالہ
٭ تو میں کہوں گا کہ سورج بھی تو چوتھے آسمان پر ہے لیکن اسکی روشنی اور اسکی شعاعیں ہمارے قریب ہیں اس طرح آقاﷺ تو مدینہ میں ہیں لیکن آپﷺ کی شعاعیں اور نوری تجلیات ہمارے قریب ہیں مگر اندھے کو پتہ نہیں چلتا کیونکہ وہ بے نور ہے ۔ نور کے دیکھنے کیلئے نور کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی بے نوری کا اقرار نہیں کرتا اور آقا ﷺ کی بے نوری کا قول کرتاہے۔ بڑے تعجب کی بات ہے۔ اندھے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ کہ نہ خود دیکھے اور نہ دیکھنے والوں کی مانے اور دوسرا وہ ہے کہ دیکھتا تو نہیں مگر دیکھنے والوں کی بات مان لیتا ہے۔ ہم بھی دیکھنے کا دعوی نہیں کرتے مگر دیکھنے والوں کو جیسے امام شعرانی امام سیوطی امام سبکی حضور غوث پاک اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی جیسے اولیاء اللہ نے دیکھا اور بتایا اور ہم نے مان لیا۔ جو پہلے قسم کے لوگ ہیں وہ آنکھ اور دل کے اندھے ہیں اور جو دوسرے قسم کے لوگ ہیں وہ آنکھ کے اندھے تو ہیں مگر انکے دل بیدار ہیں میرا ایمان ہے کہ آپ اکی روحانیت اتنی لطیف ہے کہ قریب والا بھی قریب ہے اور دور والا بھی قریب ہے۔
شبہ
٭ مجھے آج کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(سورۃ ق آیت ۱۶)
ترجمہ٭ اور ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
٭ جب اللہ قریب ہے تو وسیلہ کی ضرورت نہ ہوئی کیونکہ وسیلہ دور کیلئے ہوتا ہے لہذا تم یارسول اللہ کیوں کہتے ہو؟ یہ تو بغیر اللہ  کے کوئی نہیں سنتا۔
شبہ کا ازالہ
٭ میں نے کہا تم یا اللہ کیوں کہتے ہو ؟ رب کو دور والی آواز کیوں پکارتے ہو؟جب آواز کی بات آئی تواللہ دور ہوگیا اور وسیلہ کے وقت قریب آگیا یہ کتنا غضب ہے ارے اللہ تو قریب ہے مگر ہر ایک کے قریب نہیں۔بلکہ قریب ہیں تو غو ث ہیں۔ قطب ہیں ہمیں تو ضروروسیلہ کی حاجت ہے۔
شبہ
٭ شاید کوئی کہے کہ جب اللہ نزدیک ہے تو ہم کیسے دور ہیں۔
شبہ کا ازالہ
٭ تو میں کہوں گا کہ جسکو معرفت نہیں وہ دور ہے جیسے ایک میرا دوست ہے اور وہ ملتان میں رہتا ہے لیکن مجھے معلوم نہیں تو میں اسے بیس سال ڈھونڈھتا رہا۔ اب پتہ چلا کہ وہ یہیں رہتا ہے تو بتائو! کہ میں ا س سے دور رہا یانہ رہا لیکن وہ میرے قریب ہے۔ لہذا جب تک معرفت نہ ہو وہ دور ہے۔ اسلئے میں کہتا ہوں مقرب ہیں تو عارفین ہیں سرکارﷺ تودوزخی اور جنتی کسی سے دور نہیں جب جنت اور دوزخ سے دور نہیں تو جنتی اور دوزخی سے کیسے دور ہوگئے کیونکہ جوظرف سے دور نہ ہو وہ مظروف سے کیسے دور ہوگا؟
٭ صحیحین کی حدیث ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نماز پڑھا رہے تھے اور نماز کے اندر آگے بڑھے تو بعد از فراغت نماز صحابہ نے عرض کیا کہ حضورﷺ خلاف عادت آپ نماز میں آگے کیوں بڑھے؟ تو آپﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ اس دیوار قبلہ کے اندر پیش کی گئی تو میں نے یہ قصد فرمایا کہ اس بہشت سے ایک خوشہ انگور کا توڑ لوں جسکو میری امت قیامت تک کھاتی رہے گی لیکن پھر پیچھے ہٹ گیا کہ اس عالم کی چیز اس عالم میں نہ لائی جائے اور حکمت ایزدی پوری ہو۔ اب یہ حدیث پاک دلیل ہے کہ دوزخ اور جنت سرکارﷺ کے قدموں کے نیچے ہے جب دوزخ اور جنت قدموں کے نیچے ہے تو جنتی اور دوزخی کیسے دور ہوگئے؟ دور ہونے والا دور ہوجائے لیکن آقا دور نہیں اور تمام عالم ﷺ کو ان کو فیض پہنچا رہے ہیں اور اسی عالم کے اندر اگر کسی کو جاگتے ہوئے اپنے جلوہ سے سرفراز فرمائیں تو یہ ممکن ہے۔
٭ شاید کوئی کہہ دے کہ جب آپﷺ کسی امتی کے پاس تشریف لاتے ہیں تو روضہ انور خالی ہوگیا۔
اس شبہ کا ازالہ یہ ہے
٭ کہ آپﷺ اگر لاکھ جگہ اجسام مثالیہ میں آئیں تو آسکتے ہیں اور ظہور ذی مظہر کا غیر نہیں ہوتا۔ لہذا ایک وقت میں کروڑوں جگہ غلاموں کو سرفراز فرمائیں تو کوئی بعید نہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ولیوں کی روحانیت سے دنیاکا کام چل رہا ہے۔
٭ شاہ عبدالرحیم عرصہ سے بیمار تھے۔ اس بیماری میں مبتلا ہیں کہ جاگتے ہوئے یہ معاملہ دیکھتے ہیں کہ ایک میرے اجداد میں سے کوئی بزرگ تشریف لائے اور فرمایا کہ اے عبدالرحیم! اپنی چارپائی کے پائوں کو پھیر لو کیونکہ اس جانب سے سید عالم ﷺ تیری طبع پرسی کیلئے تشریف لارہے ہیں۔ تو شاہ عبدالرحیم کو کلام کرنے کی طاقت نہ تھی۔ اسلئے اشارہ فرمایا کہ میری چارپائی کے پائوں پھیر لو۔ ابھی چارپائی کو پھیررہے تھے کہ اچانک سید عالم ﷺ تشریف لائے اور شاہ عبدالرحیم کو اپنے سینے سے لگایا اور شاہ صاحب ایسے روئے کہ آقاﷺ کا دامن تر ہوگیا۔ اور آپﷺ نے فرمایا
کیف حالک یا بنی اے میرے بیٹے تیرا کیا حال ہے؟ تو شاہ صاحب پھر زیادہ روئے اور شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ میرے دل میں مدت سے آرزو تھی کہ کسی طرح آقاﷺ کے دو بال مبارک مجھے عطا ہوجائیں کہ ابھی شاہ صاحب بولے نہیں کہ آقا ﷺ نے پہلے فرماد یا کہ اے عبدالرحیم! تیری مدت سے یہ آرزو تھی۔ لہذا دو بال میں تجھے دیتا ہوں۔یہ دوبال مبارک کے تیرے تکیے کے نیچے رکھے ہیں اٹھا لینا۔پھر جس وقت آپﷺ رخصت ہوئے تو شاہ صاحب متحیر ہوگئے کہ بال مبارک کہاں ہیں کیونکہ اس وقت تو شاہ صاحب رونے میں مصروف تھے ابھی انکو خیال آیا تو آقا ﷺ پھر تشریف لائے اور فرمایا کہ تیرے تکیہ کے نیچے رکھے ہیں۔ پر جس وقت شاہ عبدالرحیم صاحب نے ان دو بال مقدسہ کو اٹھایا تو دیکھا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں اب سوچنے لگے کہ کس طرح انکو علیحدہ کروں تو اچانک آپ کی زبان پر درود شریف جاری ہوگیا جس وقت درود شریف پڑھا تو بال مقدس خود بخود علیحدہ ہوگئے۔ اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ حرکت حیات کی دلیل ہے اور جن کے بالوں کے اندر اتنا حیات ہے کہ خود بخود علیحدہ ہونے لگے تو بال والوں کے اندر کیسے حیات ہوگی؟ اور ان مقدس بالوں کا اعجاز یہ تھا کہ دھوپ میں جب ان کو باہر نکالتے تو ایک دم ابر چھا جاتا۔ ایک مرتبہ تین آدمی آئے وہ اس معجزہ کے منکر تھے۔ سخت دھوپ کے وقت جب ان کو باہر نکالا تو ایک دم بادل آگیا۔ ایک آدمی مان گیا دوسرے بولے یہ اتفاقی بات ہے۔ دوبارہ پھر دھوپ میں جب انہیں باہر نکالا دوبارہ بادل آگیا۔ پھر دوسرا آدمی مان گیا۔ اسی طرح تیسری مرتبہ جب بادل کو دیکھا تو تیسرا منکر بھی قائل ہوگیا۔ یہ سب تفصیلات شاہ ولی اللہ دہلوی نے انفاس العارفین میں اپنے والد ماجد شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ کے حالات میں درج فرمائی ہیں اسی طرح ایک دفعہ ایک گروہ زیارت کیلئے حاضر ہوئے۔ مگر ان میں ایک آدمی ایسا تھا جسکو غسل کرنے کی ضرورت تھی تو جس وقت بال مبارک کو باہر نکالنے کیلئے تالا کھولاگیا تو تالہ نہ کھلا بہت کوشش کی گئی مگر کچھ نہ ہوا تو شاہ عبدالرحیم نے مراقبہ فرمایا کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ کو معلوم ہوا کہ ان میں ایک شخص پر غسل واجب ہے تو آپ نے اس کانام نہ بتایا اور پردہ پوشی کرتے ہوئے تمام کو غسل کرنے کا حکم دیا جب تمام نے غسل کرلیا تو تالا کھل گیا اور جمیع زیارت سے مشرف ہوئے ۔
٭ اب اس کے بعد میں اپنی بہنوں کو کہوں گا کہ وہ اپنی ظاہری و باطنی اصلاح کریں کیونکہ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ حضور اکرمﷺ عورتوں کی محفل میں تشریف فرما تھے اور واعظ فرما رہے تھے کہ میں نے زیادہ عورتوں کو دوزخ میں دیکھا کیونکہ یہ خدا اوررسول کی اوراپنے خاوندوں کی نافرمانی کرتی ہیں ناقص العقل ہیں جب چند عورتیں اکٹھی ہوجائیں تو غیبت شروع کردیتی ہیں کہ فلاں ایسا ہے فلاں ایسا ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ جوغیبت کرتا ہے وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔ دراصل اسلام نے عورت کو بڑا مقام دیا ہے مردوں کی تعلیم و تربیت کا گہوارہ بنایا کیونکہ بچے ان کی گو د میں پرورش پاتے ہیں اگر ماں پاکیزہ تو بچہ پاکیزہ ہوگا۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مدینہ کے مجاہدوں نے روم کی عیسائی عورتوں سے نکاح کرنا چاہا تو امیر المومنین نے فرمایا خدا کی قسم! میں خدا کے حلال کو حرام نہیں کرتا لیکن خطرہ ہے کہ کہیں مدینہ کی اصلاح نہ بدلی جائے کیونکہ جب انکے بچے پیدا ہونگے اور وہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی اور دودھ کا اثر ہوگا تو اصلاح معاشرہ میں فرق آجائیگا لہذا ضروری ہے کہ ہر عورت اپنے دامن کو صاف رکھے کیونکہ بچے انکی آغوش میں پرورش پاتے ہیں اور ان کا بچوں پر اثر ہوتا ہے لہذا اگر ماں پاک تو بچہ یقینا پاک ہوگا اگر ماں کے اندر فساد ہے تو بچہ بھی فساد میں پڑ جائیگا اس لئے میں اپنی بہنوں کو وصیت کرتا ہوں کہ آج وقت ہے اصلاح کرنے کا۔ اگر کرنا ہو تو کچھ کرلو کل کچھ نہ بنے گا بعض بے ادب لوگ کہتے ہیں کہ نبی کے اندر نفسانیت کی ہوا تھی معاذ اللہ معاذ اللہ نبی کے اندر نفسانیت کا تصور بھی قائم نہیں ہو سکتی اور اس پر دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ نے چالیس سالہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کی اور وہ بیوہ تھیں۔ سوائے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ اور زینب رضی اللہ عنہ کے سب بیوہ تھیں اگر کوئی نفسانی خواہش ہوتی تو آپ سب سے پہلے کسی کنواری عورت سے شادی کرتے کیونکہ شباب کی انتہا بھی اسی عمر میں ہوتی ہے۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا اور پھر امہات المومنین کا مقام کہ کروڑوں مولویوں کی تبلیغ اتنا نہیں ہوسکتی جتنا ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی تبلیغ ہے اس طرح میں نماز کے بارے میں بھی وصیت کروں گا کیونکہ نماز ارکان اسلام میں سے ایک عظیم رکن ہے اس لئے کہ تمام ارکان اسلام کی حقیقت اس نماز کے اندر پائی جاتی ہے ۔ کلمہ شہادت بھی اسکے اندر ہے روزہ بھی اسکے اندر ہے کیونکہ بعد از تکبیر تحریمہ کھانا پینا حرام ہے زکواۃ بھی اسکے اندر ہے کیونکہ جس وقت انسان نماز پڑھتا ہے تو اپنا لباس پہن کر پڑھتا ہے یہی زکواۃ ہے اس طرح حج بھی اسکے اندر ہے کیونکہ حج جیسے بغیر کعبہ کے نہیں ہوتا ایسے ہی نماز بغیر رخ کعبہ نہیں ہوتی اللہ جانتا تھا کہ پانچ وقت کعبہ تو جانہیں سکتے لہذا انکا پانچ وقت کعبہ کی طرف رخ کرکے کھڑا ہونا یہی کافی ہے اور کتاب اللہ کا فرمان آج بھی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا لوگوں کو سمجھنا کہ یہ حکم پہلے تھا اب نہیں ہے تو غلط ہے اس لئے امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ تارک الصلواۃ واجب القتل ہے امام اعظم اتنا سخت تو نہیں مگر اتنا ضرور فرماتے ہیں کہ اس پر توبہ پیش کی جائے اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اس پر تعزیر کی جائے اور میں یہ کہتاہوں کہ جو مومن ہے اسکو نماز کے بغیر کسی کام میں لذت نہیں آئیگی کیونکہ محبت کی نشانی بھی یہی ہے کہ محبوب کی ادائوں پر چلنا اور اس کے فرمان کو دل میں جگہ دینا یہ محبت کی نشانی ہے۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج