فیضان نبوت

لَقَدْمَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْبَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰٰیٰٰتِہِ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحَکْمَۃَ وَاِنْ کَاتُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(سورہ اٰل عمران آیت ۶۴)
ترجمہ٭بے شک اللہ تعالیٰ نے بڑااحسان کیا ایمان والوں پر جب اس نے ان میں عظمت والا رسول بھیجا۔ان ہی میں سے جو تلاوت کرتا ہے ان پر اسکی آیتیں اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
٭ حضرات محترم! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
لَقَدْمَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْبَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا
ترجمہ٭ بے شک اللہ تعالی نے بڑا احسان کیا ایمان والوں پر جب اس نے ان میں عظمت والا رسول بھیجا۔
٭ اس آیت میں آقاﷺ  کی آمد کا ذکر ہے اور آقاﷺ  کی آمد کی خوشی منانا ہر مومن کیلئے ضروری ہے۔ کیونکہ مومن کی نسبت حضورﷺ  سے روحی ہے اور روح کی نسبت قائم اور دائم ہے کیونکہ روح خود ختم نہیں ہوتی بلکہ روح ہمیشہ رہتی ہے اس لئے اسکی نسبت ہمیشہ رہتی ہے۔ اگر مرتے وقت روح کی نسبت اسلام سے ہوئی تو ہمیشہ اسلام سے ہی رہے گی اور کبھی اسلام سے خارج نہیں ہوگی اور اگر کفر سے نسبت ہوگئی تو ہمیشہ کفر سے نسبت ہوجائیگی اور کفر ہمیشہ ہی رہے گا کیونکہ روح ہمیشہ رہنے والی چیز ہے اور جو ہمیشہ رہنے والی چیز ہو اسکی نسبت ہمیشہ رہا کرتی ہے۔
٭ ذرا سوچنے کی بات ہے کہ جو شخص کفر میں سراپا غرق تھا اور جسکی مذمت قرآن نے خود بیان فرمائی ۔
تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ
ترجمہ٭ ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابو لہب کے اور وہ ہلاک ہوجائے۔
ؑ٭ مگر حضورﷺ  کی آمد کی خوشی میں اپنی باندی کو آزاد کردیا۔ بخاری شریف میں ہے کہ آقاﷺ  کی ولادت باسعادت ہوئی تو ابو لہب کی کنیز ثوبیہ خوشخبری لائی اور مبارک باد دی تو ابو لہب نے نہایت خوشی میں آکر سبابہ اور وسطیٰ کا اشارہ کرکے کہا
اعتقتک اس خوشی میں میں نے تجھے آزاد کیا۔
٭ تو ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا اور حال پوچھا تو کہتا ہے کہ نہایت خوار اور عذاب میں ہوں مگر جب سوموار کا دن آتا ہے تو مجھ سے عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے۔ اور انگل سبابہ اور وسطی سے دودھ کی ندیاں جاری ہوجاتی ہیں جسکو چوستا ہوں یہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺکی آمد پر خوشی منانے کی جزا دی ہے۔اور جب کافر سے یہ معاملہ ہوا اور سرکار کی آمد کی خوشی پر انعام ملا تو جس کا تعلق روحی ہے اور وہ مومن ہے تواللہ اس کا ثواب کب ضائع فرمائے گا بلکہ کئی گنا مقام میں بلندی عطا فرمائے گا۔ یہ حضورﷺ کی بعثت تھی اور حضورﷺ  کی خلقت کے بارے میں ترمذی شریف میں ہے کہ
کُنْتُ نَبِیًّاوَّ آدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ
ترجمہ٭ میں اس وقت نبی تھا جب آدم علیہ السلام جسم اور روح کے درمیان تھے۔
٭ تو معلوم ہوا کہ روحانیت کے اعتبار سے حضور سید عالم ﷺ حضرت آدم علیہ السلام سے مقدم ہیں اور
ونفخت فیہ من روحی کے مصداق ہیں اور حضورﷺ  روحانیت کے اعتبار سے آدم علیہ السلام کی اصل ہیں اور اعتبار ثانی سے آدم علیہ السلام کی نسل ہیں۔ آقاﷺ  نے فرمایا
اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیٰمَٰۃِ وَلَافَخْرَ
٭ اس اعتبار سے حضورﷺ  آدم علیہ السلام کی نسل ہیں ۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ
اَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِیْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَافَخْرَ
٭ تو مرسلین میں آدم علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ اس اعتبار سے حضورﷺ آدم علیہ السلام کی اصل ہیں۔
قولہ مِنْ اَنْفُسِھِمْ
٭ ایک قرات میں
مِنْ اَنْفُسِھِمْ آتا ہے فاء کے فتحہ کے ساتھ یعنی زیادہ لطیف کے معنی میں آتا ہے۔ نیز عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ میں تخصیص صحابہ کی نہیں ہے بلکہ تمام مسلمان ایماندار لوگ شامل ہیں۔ اگر صحابہ کی تخصیص کی جائے تو بغیر کسی قرینہ کے ہوگی۔ اگر ایسا کیاجائے تو اَقِیْمُوالصَّلٰوۃَ وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ وغیرہ ان تمام خطابات کے محض صحابہ کرام مخاطب ہوں گے تو تم پر نہ نماز فرض رہے گی نہ زکواۃ اور نہ روزہ تو یہ غلط ہے بلکہ مخاطب عام مسلمین ہیں۔ تو اسمیں بھی صحابہ کی تخصیص نہیں بلکہ عام مومنین شامل ہیں۔
شبہ
٭
وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ( البقر آیت ۶۱) میں جمیع نبی مراد نہیں حالانکہ الف لام اس میں داخل ہے۔ جس طرح المومنین میں الف لاماس کی تخصیص قرآن نے خود کردی ہے۔
شبہ کا ازالہ
٭
فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ اور یہاں المومنین میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی ہے جیسا کہ قرآن میں واضح ہے
مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدِ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلِکنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(سورۃ الاحزاب آیت ۴۰)
ترجمہ٭ نہیں ہیں محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر۔
٭ خدا وند کریم نے اپنی نعمت کے عطا کرنے پر احسان جتایا ہے اور یہ نعمت خدا ذات پاک سید لولاک ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
نعمۃ اللہ محمد رسول اللہ
٭ جمیع نعمتیں حضورﷺ  کے دامن اقدس سے وابستہ ہیں بلکہ جس زحمت کا تعلق حضورﷺ  سے ہوجائے تو وہ زحمت زحمت نہیں رہتی بلکہ رحمت بن جاتی ہے۔ دیکھو!جان نعمت ہے اسکو خوش رکھنا اور اسکا وجود ہونا بھی رحمت ہے مگر اس جان کا تعلق ختم کردینے اور زحمت برداشت کرنے کا تعلق آقاﷺ  سے ہوجائے یہ سب کچھ رحمت بن جاتی ہے اور اگر جان کو بچایا جائے ۔ تو یہ بھی رحمت ہے مگر جب اس کا تعلق حضورﷺ  سے نہ رہے تو یہ رحمت زحمت بن جاتی ہے۔ جیسا کہ کفار نابکار کی حالت ہے کہ اپنی جان آقاﷺ  کے نام پر قربان نہیں کرتے اور جان بچاتے ہیں پھرباوجود یکہ جان کا بچانا رحمت ہے مگر اب زحمت بن گئی۔ کیونکہ اس کا تعلق حضورﷺ  سے نہیں رہا اور جو لوگ شہید ہوئے اور آقاﷺ  سے جان کا تعلق جوڑنے کے بعد جان قربان کی تو زحمت رحمت بن گئی اور خداوند کریم اپنے محبوب ﷺ کو ہمارے لئے بھیج کر احسان جتا رہا ہے۔ احسان جب ہوتا ہے کہ جب نعمت منعم علیہ کے پاس رہے اگر منعم اپنی نعمت اس سے لے تو احسان باقی نہیں رہتا۔ مثلاً اگر کسی نے مجھے گھڑی دی تو احسان کیا کچھ عرصہ بعد گھڑی واپس لے لی تو اب گھڑی واپس لینے کے بعد وہ شخص احسان نہیں جتا سکتا۔ کیوں! اس لئے کہ وہ نعمت میرے پاس رہی ہی نہیں۔ دینے والے نے واپس لے لی تو اب وہ احسان کیسے جتا سکتا ہے۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ کا احسان قیامت تک مومنین پر ہے کیوں؟ اس لئے کہ وہ نعمت قیامت تک باقی رہے گی۔ وہ ہمیشہ کیلئے ہے تو معلوم ہوا کہ وہ نعمت ہم میں باقی ہے۔ نہ وہ نعمت ہم سے جائیگی اور نہ ہم سے (مومنین سے) احسان ختم ہوگا اور وہ نعمت کیا ہے؟ وہ نعمت ذات پاک محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔تو آپ ﷺ موجود ہیں۔ اگر آپﷺ موجودنہ ہوں تو احسان باقی نہیں رہتا مگر احسان باقی ہے لہذا حضورﷺ  بھی باقی ہیں۔
شبہ
٭ ۶۳ سال کے بعد حضورﷺ  اس دار فانی سے چلے گئے تو آپ ﷺ کے چلے جانے کے بعد نعمت بھی چلی گئی۔
شبہ کا ازالہ
٭ رسالت دو قسم کی ہے۔
۱۔ حقیقتاً ۲۔ حکماً
٭ حقیقتاً رسالت جسم مع روح کا نام ہے اور حکماً رسالت محض روح بغیر تعلق جسم کے جیسا کہ
کُنْتُ نَبِیًّاوَّ آدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ اگر روح کا تعلق جسم کے ساتھ مکمل ہے جسم اور روح جمع ہیں ان میں کوئی فرق نہیں تو رسالت حقیقی ہے۔ اگر محض روح جسم سے علیحدہ ہو تو رسالت حکمی ہے۔ مگر اب تک حضورﷺ  کی رسالت حقیقی باقی ہے کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا معنی یہ ہیں کہ محمد اللہ تعالیٰ کے حقیقتاً رسول ہیں۔ جب تک محمد رسول اللہ ﷺ کا حکم باقی ہے تو حضورﷺ  کی رسالت حقیقی بھی باقی ہے حکممحمد رسول اللہ ختم ہوگا نہیں تو رسالت حقیقی بھی ختم نہیں ہوگی۔ رسالت حقیقی دور رسالت ہے کہ جس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے اور جس پر ہم ایمان لائے اگر رسالت حقیقی کے منکر ہوجائیں تو ہمارا ایمان ابوبکر صدیق والا ہو ہی نہیں سکتا اور اگر ایمان ابوبکر صدیق والا نہ ہو تو کسی جھوٹے مدعی رسالت کو موقع مل جائیگا کہ حضورﷺ  کی رسالت باقی نہیں رہی۔ لہذا رسالت حقیقی میرے لئے ثابت ہے مگر حضورﷺ  خاتم النبین ہیں۔ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں لہذا آپﷺ کی رسالت حقیقی ختم ہوگی نہیں اور جب رسالت حقیقی باقی ہے تو معلوم ہوا کہ ہمارے آقا جسم مع الروح زندہ اورباقی ہیں۔
٭ اب اس آیت کا مطلب سنئیے
اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ ( الزمر آیت ۳۰)
٭ موت کا معنی قبض روح ہے تو یہ واقعی ہے کیونکہ
کُلُّ نَفْسِ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ(آل عمران آیت۱۸۵)
٭ یاد رکھیئے روح اگرچہ باہر چلی گئی لیکن آقاﷺ  میں روحانیت باقی ہے۔ روح اور روحانیت میں فرق ہے۔ روحانیت کیفیت روح مفاد روح اور حقیقت روح کانام ہے تو ہوسکتا ہے کہ روح نہ ہو اور آثار حیات باقی ہوںاور اس کے برعکس
واللہ قادر علی ان یکون الروح موجود ولم یکن اثار الحیاۃ جیسے سکتہ کی بیماری۔روح ابھی تک وجود میں ہوتی ہے مگرآثار حیاۃ نہیں ہوتے اور اسی طرح شگ قادر ہے کہ روح موجود نہ ہو لیکن آثار حیاۃ باقی رہیں۔ جیسے قصہ استن حنانہ جو کہ آقا کے ہجر میں آہ و زاری کررہا تھا۔ اسمیں روح موجود نہیں ہے مگر روح کے اثرات رونا پیٹنا یہ سب موجود ہیں۔ امام قطلانی و نودی و امام حجر عسقلانی عمدۃ القاری فتح الباری میں ہیں کہ واللہ قادر ان یکون الحیاۃ قائما ولم یکن الروح اسی طرح حضورﷺ  کی روح قبض کی گئی مگر حیاۃ باقی رہیاستن حنانہ تو لکڑی کی مثال ہے مگر علامہ نودی اور امام جلال الدین سیوطی دلائل النبوت و شرح الصدور میں فرماتے ہیں کہ ربعی بن حراش اور ان کے دو بھائی تابعی تھے۔
٭ ربعی بن حراش نے کہاکہ جب تک مجھے معلوم نہ ہوجائے کہ میں بہشتی ہوں یا دوزخی تو میں کلام نہیں کروں گا۔ باقی دو نے کہاکہ جب تک ہمیں اپنا جنتی ہونا معلوم نہیں ہوگا ہم ہنسیں گے نہیں ۔ قسم ہوگئی ہنسنا بولنا بند حتی کہ مرگئے۔ خبر نہ دئے گئے کہ ہم بہشتی ہیں یا دوزخی تو جب غسال غسل دینے لگا تو بولنا شروع کردیا کہ ہم بہشتی ہیں۔ اب روح موجود نہیں ہے مگر روحانیت اور آثار روح جاری ہیں۔ اسی طرح شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے نبقان المحدیثن میں بیان فرمایا ہے کہ ایک عورت جو بہت نیک تھی۔ اس کا انتقال ہوگیا فوت ہونے کے بعد غسالہ غسل دینے کیلئے آئی اور کہا کہ اے اللہ  یہ تو بدکارہ تھی تو غسالہ نے اس کو ہاتھ لگایا تو ہاتھ بالکل چپک گیا۔ ہرچند کوشش کی کچھ نہ ہوسکا ۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ تھا ان کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیاگیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی غسالہ نے میت پر تہمت اور افترا کیا ہے۔ لہذا میت حد قذف لینا چاہتی ہے وہ اپنا حق طلب کرتی ہے جاکر غسالہ کو اسی کوڑے حدقذف کے مارو چنانچہ ایسا کیا گیا تو ہاتھ جداہو گیا اب روح نہیں مگر حیاۃ موجود ہے اور اسی طرح شرح الصدور میں ہے کہ ایک شخص مردوں کے کفن چرانے میں بہت مشہور تھا۔ ایک نیک عورت کے انتقال کا وقت قریب ہوا تو اس نے اس کفن چور کو بلا کر کہا کہ تم میرا کفن نہ کھینچنا حتی کہ اس کو راضی کرکے اس سے وعدہ لے لیا کہ کفن نہیں چرائے گا جب اس کا انتقال ہوگیا تو کفن چور کو دوست کہنے لگے کہ فلاں عورت مرگئی ہے اس کا کفن بہترین ہے لہذا اسکو ضرور چرالائو تو اس نے کہا کہ میرا اس سے وعدہ ہے کہ میں تیرا کفن نہیں چرائونگا مگر دوستوں نے اسے مجبور کردیا تو اس نے کہاکہ اب کیا کروں تو انہوں نے کہا کہ جنازہ کے ساتھ چلے جائو وہاں قبر دیکھ کر شناخت کرکے شام کو چلے جانا۔ چنانچہ وہ جنازہ میں شریک ہوا قبر وغیرہ کا نشان دیکھ کر شام کووہاں پہنچ گیا۔ قبر کھود کر کفن کھینچنے لگا تو ہاتھ چمٹ گیا ہر چند کوشش کی مگر کچھ نہ ہوسکا تو آواز آئی کہ وعدہ کرکے خلاف کرتا ہے اور پھر جنتی ہوکر جنتی کا کفن اتارتا ہے تو اس نے کہامیں تو کفن چور بدمعاش فاسق وفاجر ہوں میں جنتی کس طرح ہوگیا تو وہ کہنے لگی کہ میں نے شگسے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ میرے جنازہ میں شریک ہونے والوں کو بہشتی کردے۔ تو میرے جنازے میں شامل تھا لہذا تو جنتی ہے۔ تو وہ شخص عبرت پذیر ہوا آنکھوں سے آنسوبہہ نکلے دل پر گہرا اثر ہوا۔ اسی وقت تو بہ کی اور سابقہ گناہوں کی معافی مانگی ۔ تو غور کرو کہ روح موجود نہیں ہے مگر روحانیت اور حیاۃ موجود ہے آپریشن کے آلات نہ ہوں ۔ آپریشن کرنے والا نہ ہو تو چیرنے کے بعد انسان ختم ہوجائیگا مگر حضور سید عالم ﷺ کا شق صدر کیاگیا تب بھی حیاۃ باقی ہے روح باہر تھی مگر بدن مبارک زندہ تھا ۔ حیاۃ برزخی و دنیاوی کی ماہیت کافرق نہیں ہے محض ظرفیت کافرق ہے وہ دنیا الگ ہے اور یہ دنیا الگ ہے۔
شبہ
٭ اگر حیاۃ دنیاوی اور برزخی میں کوئی فرق نہیں ہے تو اس دنیا میں کھانا کھایاجاتاہے ضروریات بشری سب پور ے کئے جاتے ہیں وہاں تو یہ نہیں۔ لہذا معلوم ہوا کہ وہاں اور یہاں کی زندگی میں فرق ہے۔
شبہ کا ازالہ
٭ کوئی فرق نہیں۔ محض اتنا ہے کہ ایک حیاۃ کے ظرف کے بدلنے سے لوازمات بدل جاتے ہیں جیسے حیاۃ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ حیاۃ ایک ہے آسمانوں پر بھی اسی ایک حیات کے ساتھ موجود ہیں مگر لوازمات مختلف ہوئے ہیں ضروریات بشری سے انہیں تعلق نہیں رہا ہے اسی طرح ماں کے پیٹ میں بچے زندہ ہوتے ہیں۔ حیاۃ ایک ہے اور روح موجود ہے زندہ ہے باوجود اسکے پھر بھی دنیاوی حیاۃ جیسے لوازمات سے مستثنیٰ ہیں اور وہ ان ضروریات کی محتاج نہیں۔
شبہ
٭ جب انبیاء میں حیاۃ باقی ہے تو حضرت سلیمان علیہ السلام کتنے عرصے تک عصا پر روح قبض ہونے کے بعد کھڑے رہے جب مسجد شریف کی بنا مکمل ہوگئی تو عصا کو دیمک اتنا کھاگیا کہ عصا مبارک ٹوٹ گیا۔ تو حضرت سلیمان علیہ السلام زمین پرتشریف لائے۔ یہ کیسی حیاۃ تھی؟ جس کی نہ حس تھی نہ حرکت؟
شبہ کا ازالہ
٭ حیاۃ مستور ہوجاتی ہے۔ حس دیکھنا پینا چلنا پھرنا ہم سے مستورہو ہمارے ادارک سے دور ہے۔ اسکی مثال جیسے کوئی شخص سو رہا ہے اور خواب دیکھ رہا ہے۔ اب میں جہاز پر سوار ہوا ہوں۔ اب میں مدینہ شریف گیا ہوں اب کعبہ شریف کا طواف کررہا ہوں صفا و مروہ کی سعی کررہا ہوں اور اب آب زم زم پی رہا ہوں یہ سب کچھ ہورہا ہے دیکھنے والا خواب والے کو دیکھ رہا ہے کہ وہ چارپائی پر سو رہا ہے اسمیں حرکت ہے نہ حس حالانکہ وہ خواب میں چل پھر رہا ہے۔ مگر ہمارے ادراک سے مستور ہے ہمارے سامنے اسکی حس و حرکت ظاہر نہیں ہے انبیاء اسی جہاں میں بطور خرق عادت نظر آتے ہیں عادتاً مستور ہیں۔
٭ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الحاوی للفتاوی میں شیخ عبداللہ الدّ لاصی کا واقعہ نقل فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ فرماتے ہیں زندگی میں میری ایک نماز ضرور ایسی ہے جو یقین ہے مقبول ہے ایک دن فجر کی نماز حرم کعبہ میں ہوئی تکبیر تحریمہ کے بعد میں نے دیکھا امام سے آگے خود حضورﷺ  رونق افروز ہیں اور عشرہ مبشرہ ہیں حضورﷺ  نے رکوع و سجدہ کیا تو امام نے رکوع سجدہ کیا
(فلما سلم رسول اللہ ﷺ سلم الامام) جب حضورﷺ  نے سلام پھیرا تو امام نے بھی سلام پھیرا لیکن یہ منظر ہر ایک کو نظر نہیں آتا۔

؎آنکھ والا ترے جلوے کا تماشہ دیکھے
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

٭ یزکیھم میں تذکیہ کیلئے اتصال لازمی ہے جب تک پانی کپڑے سے نہ لگے اور وجود کے قریب نہ آئے ۔ کپڑے اور وجود کی پاکی نہیں ہوتی۔ جب حضورﷺ  ہی ہمارے مزکی ہیں تو لازم ہے کہ اتصال بھی ہو کیونکہ بغیر اتصال مزکی کے ساتھ مزکی کا تزکیہ نہیں ہوتا۔
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج