تعدد ازواج

٭ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو ہمارے رسول معظم ﷺ کو بے شک ایک بشر کے روپ میں بھیجا لیکن بشری کمزوریوں اور نقائص و عیوب سے مبرا اورمنزہ بناکر بھیجا۔ اس کو سمجھیئے کہ ہر انسان کے اندر کچھ نفسانی خواہشات ہوتی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ خواہشات غلط ہوں۔ انسان کے اندر تو رب کائنات نے اس تمام کائنات کو سمو دیا ہے۔ علماء نے انسان کو عالم صغیر اور اس کائنات آب و گل کو عالم کبیر سے تعبیر کیا ہے۔ تو انسان کے اندر آرزوئوں حسرتوں تمنائوں اور خواہشات کا ایک سمندر موجزن ہوتا ہے۔ان خواہشات کو شہوت سے بھی تعبیر کیاجاسکتا ہے۔ حضورﷺ ان چیزوں سے مطلقاً پاک ہیں۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی میرا محبوب ھویٰ سے نطق نہیں فرماتا کیا مطلب ؟ ھویٰ کسے کہتے ہیں؟ نفسانی خواہش کو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا محبوب خواہش نفس سے لب کشا نہیں ہوتا۔ اِنْ ھُوَاِلَّا وَحْیٌ یُّوْحیٰ بلکہ وہ تو وہی کچھ کہتا ہے جو اس پر وحی ہوتی ہے۔ اس آیت کے تحت صاحبعرائس البیان نے کیا خوب بات کہی۔ وہ فرماتے ہیںکیف ینطق عن الھوی من لیس لہ غلبۃ الھوی وہ خواہش نفس سے کلام کیسے فرما سکتے ہیں جبکہ وہ نفسانی خواہش رکھتے ہی نہیں۔ وہ تو ان قباحتوں سے پاک ہیں۔اس مقام پر من لیس لہ کے حوالے سے اشکال پیش آتا ہے۔ ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے۔ وہ یہ کہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ
مَااَرٰی رَبَّکَ اِلَّا وَھُوَ یُسَارِعُ فِیْ ھُوٰکَ
ترجمہ٭ ام المومنین فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے محبوب میں تو ہمہ وقت آپ کے رب کو اس عالم میں پاتی ہوں کہ وہ آپ ﷺ کی خواہشات کو پوری کرنے میں عجلت فرماتا ہے۔
٭ بے اللہ تعالیٰ اس حدیث سے نبی کریم ﷺ کی عظمت کا یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ ام المومنین کے بقول وہ رب کائنات جس کی رضا اور خوشنودی کی طلب ہر بندے کی تمام آرزوئوں کا ماحصل ہے وہ خالق دو جہاں اپنے محبوبﷺ کے ارمان اور خواہشیں پوری کرنے میں تاخیر گوارا نہیں کرتا بلکہ عجلت فرماتا ہے لیکن یہاں یہ تو ثابت ہوا کہ
وھو یسارع فی ھواک کہ نبی پاک کی کچھ خواہشات نفسانی ہیں۔ ھواک اس صورت میں یہ کہنا کہ آپ ﷺ ان خواہشات سے پاک اور بالا تر تھے گویا اس حدیث کی تردید و تکذیب کے مترادف ہوگا جبکہ یہ بخاری کی حدیث ہے تو بخاری کی حدیث کے مقابلے میں ایک عالم کے قول کو ترجیح کیسے دی جاسکتی ہے۔
٭ اس کا جواب ایک مثال کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ ایک لفظ ہے
ادام یہ اس سالن کو کہتے ہیں جس میں لقمہ بن جائے لیکن مجازا ًہر سالن کو کہتے ہیں جس سے روٹی کھالی جائے۔ اسی طرح لفظ ھویٰ ہے کہ اس کے حقیقی معنی تو اس خواہش کے ہیں جو نفس امارہ سے پیدا ہو لیکن مجاز اً رضا کیلئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ہر وہ چیز جس سے کوئی راضی ہو۔ اسی لئے آپ بخاری شریف کی شروح ملا حظہ فرمالیجئے۔ اس وقت میرے پاس تین کتابیں موجو ہیں یہ فتح الباری ہے یہ ارشادا لساری ہے اور یہ عمدۃ القاری ہے۔ ان تینوں شرحوں میں اس حدیث کے تحت یہی معنی لکھے کہ
مَااَرٰی رَبَّکَ اِلَّا وَھُوَ یُسَارِعُ فِیْ ھُوٰکَ اَیْ فِیْ رَضَاکَ
٭ اللہ تعالیٰ آپﷺ کی خواہش پوری کرنے میں عجلت فرماتا ہے یعنی آپ ﷺ کی رضا کی تکمیل جلد فرماتا ہے اور اسی معنی کی تائید خود کسے بھی ہوتی ہے کہ
وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ
٭ اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے
فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰیھَا
٭ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات تو ان دلائل کے بغیر بھی عقل میں آجانی چاہئے۔ خواہش کرنے والا محبوب خدا ﷺ ہے اور اس کی تکمیل کرنے والا رب علیٰ ہے تو درمیان میں نفس امارہ کی گنجائش کہاں نکلتی ہے۔
٭ اس بات کو تائید کیلئے واقعاتی شہادتیں بھی موجود ہیں۔ ایک نوجوان جس کو حسین و جمیل کنواری دوشیزائوں اپنی من پسند باکرہ عورتوں سے شادی کرنے میں کوئی دشواری کوئی دقت نہ ہو کیا وہ چالیس سالہ بیوہ عورت سے شادی کرنا چاہیے گا۔ وہ عورت جو چالیس سال کی ہو جس کے کئی بچے پیدا ہونے کے بعد وفات پا چکے ہوں اور کئی ایک زندہ بھی ہوں کیا ایک پچیس سالہ جوان ایسی بیوہ سے شادی کو ترجیح دے گا۔ کیا نفسانی خواہشات کا اسیر کیا نفس امارہ کے اشاروں پر چلنے والا نوجوان ایسے رشتے کو قبول کرے گا اور پھر اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی عورت کے ساتھ بسر کرے اور اس عورت کی زندگی میں کسی دوسری عورت کے قریب نہ جائے اور اس عورت کی وفات کے بعد جب دوسرا نکاح کرے تو نکاح میں آنے والی کنواری دوشیزہ کو اس وفات پانے والی عورت کے فضائل و کمالات و خوبیاں اس حد تک گنوائی جائیں کہ وہ نئی منکوحہ اس فوت شدہ عورت پر رشک کرنے لگے۔
٭ حضرات محترم! ہمارے نبی مکرم ﷺ کا محض پہلا نکاح ہی آپﷺ کو ہوائے نفسانی سے پاک ثابت کرنے کیلئے کافی ہے اور پھر آپﷺ کی باقی ازواج مطہرات پر نظر ڈالیں تو صرف حضرت عائشہ ان میں کنواری ہیں اور باقی ازواج میں سے صرف حضرت زینب مطلقہ ہیں اور باقی تمام ازواج بیوہ ہیں۔ حضرت زینب سے حضورﷺ کی شادی میں کئی ایک حکمتیں ہیں۔ مگر میں صرف اتنا بیان کرتا ہوں کہ دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص کسی بچے کو اپنا بیٹا قرار دے دیتا تھا یعنی متنبیٰ بنالیتا تھا تو اس شخص کو حقیقی باپ کے قائم مقام تصور کیاجاتا تھا اور اس بچے کے دو باپ متصور ہوتے تھے۔ ایک اس کا حقیقی باپ جس کے نطفے سے اس نے جنم لیا ہے اور دوسرا منہ بولا باپ جس کا یہ متنبیٰ ہے۔ دونوں کو ایک ہی حیثیت دی جاتی تھی اور رشتوں ناطوں کے حوالے سے بالکل یکساں سمجھا جاتا تھا۔ جس سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں اور اسلام کے اصولوں سے یہ صورت حال متصادم بھی ہوتی تھی۔ اس دور جاہلیت میں یہ تصور جس شدت کے ساتھ قائم تھا اس کو توڑنے کیلئے اور اس کی نفی کیلئے کوئی ایسی ہی صورت چاہیئے تھی کہ مسلمانوں کے ذہنوں میں کوئی خلش اور کوئی کشمکش باقی نہ رہے۔
٭ اس کے علاوہ ایک پہلو یہ بھی ملحوظ رہے کہ آج اگر ہم کسی غریب خاندان یا کسی ایسے گھرانے کی پرورش کا ذمہ لیں جو سماجی اعتبار سے ہم سے کم حیثیت ہو تو ہمارے ذہن میں عام طورپر یہ خیال جاگزیں رہتا ہے کہ یہ تو ہماری عظمت اور روشن خیالی ہے کہ ایک کم تر حیثیت رکھنے والے کو ہم اپنی شفقت و محبت سے نوازتے ہیں۔ یہ گمان و خیال اس وقت خاص طورپر نکھر کر واضح ہوکر سامنے آتا ہے جب وہ نوجوان ہماری شفقت و محبت کے سہارے ہمارے خاندان کی کسی لڑکی سے شادی کا خواہان ہو تو اس وقت ہماری غیرت حمیت خاندانی تعصب و غیرہ وغیرہ ہمارے آڑے آتے ہیں اور ہم اس نوجوان کو اس کی اوقات یاد دلانے لگتے ہیں جو اس سے پہلے ہماری نگاہ التفات کا مرکز رہا ہے۔
٭ حضرت زید اور حضرت زینب کے نکاح و طلاق اور پھر حضرت زینب سے نبی پاک ﷺ کی شادی کے واقعات میں ان تمام پہلوئوں کی وضاحت ہوگئی۔پہلی بات تو یہ کہ حضرت زینب جو سرکار دو عالم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن ہیں۔ ان کا نکاح ایک ایسے شخص سے کیاجارہا ہے جو آزاد کردہ غلام ہے۔ عرب کی روایات کو بھی ذہن میں لائیے۔ عرب لوگ جتنا فخر اپنے شجرہ نسب پر اپنے آبائو اجداد پر کرتے تھے اتنا کسی اور چیز پر نہ کرتے تھے۔ ان کے نزدیک شرافت عظمت اور عزت کا سب سے معتبر اور سب سے اہم حوالہ شجرہ نسب تھا۔ اب حضورﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام سے اپنے رشتے کی بہن کی شادی کردی۔
٭ گویا جو آپ نے تعلیم دی تھی کہ محض شجرہ نسب رنگ و نسل باعث افتخار نہیں بلکہ عزت و وقار کا اصل پیمانہ تو تقوی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی اس تعلیم اس فرمان کی عملی مثال سامنے رکھی اور بتا دیا کہ میں جو کچھ اپنی امت کو حکم دیتا ہوں پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھاتاہوں۔ دوسری بات جو اس واقعے میں واضح ہوئی وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کی تمام ازواج میں ایک حضرت زینب ہیں جو مطلقہ ہیں۔ ایک بات تو آپ سب بھی مانیں گے کہ معاشرے میں عموماً طلاق یافتہ خواتین سے شادی کو معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن حضورﷺ نے حضرت زینب سے ایک مطلقہ سے شادی کرکے دین کی اس اندازسے تکمیل فرمائی کہ طلاق یافتہ خواتین سے شادی کرنا گویا سرکار کی سنت قرار پایا اور اپنی امت کو نبی اکرم ﷺ نے یہ پیغام دیا کہ مطلقہ عورت سے شادی کو مکروہ نہ جاننا اور اس طریقے سے نفرت نہ کرنا۔ گویا قیامت تک آنے والی تمام طلاق یافتہ عورتوں کیلئے نبی کریم ﷺ کی سنت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھل گیا۔
٭ اب آئیے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی طرف۔ نبی کریم ﷺ کی تمام ازواج میں سے صرف آپ ہی ہیں جو کنواری ہیں۔ لیکن اس کی تفصیل بھی سامنے رکھیئے تاکہ کسی قسم کا کوئی شک ذہن میں پروان نہ چڑھ سکے۔
٭ سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی عمروں کا فرق سامنے رکھیئے رسول اکرم ﷺ پر آغاز وحی چالیس برس کی عمر میں ہوا۔ تیرہ سال مکہ المکرمہ میں گذرے اور پھر مدینے کیطرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے بعد آپکا نکاح ہوگیا تب بھی آپکی عمر مبارک اس وقت چون برس ہوئی اور آپکو معلوم ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی عمر چھ سال تھی اور آپکی رخصتی کیلئے انتظار بھی ذہن میں لائیے۔ اگر کوئی شخص جنسی کجروی اور بے راہ روی کا شکار ہو اور اسکی سوچ فطرت سے متصادم ہو تو کیا وہ اپنی شہوت کی تکمیل کیلئے اتنا انتظار کرے گا۔ اللہ اکبر یہ تمام باتیں تو ایک عام دنیا دار ہوس پرست شخص کیلئے بھی تصور میں نہیں آتیں۔ کجا محبوب خدا رسول محتشم نبی آخر الزماں ﷺ کے بارے میں ذہن کسی گندگی سے آلودہ ہو۔
٭ معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات میں اکثریت بیوگان کی ہے اور بیوہ ہونیوالی عورت عموماً عمر کا بڑا حصہ طے کرچکی ہوتی تھیں ۔ ایک آپکی پاک بیوی طلاق یافتہ ہیں۔ اگرچہ وہ جوان ہیں لیکن طلاق یافتہ ہونیکے باعث معاشرے کی عمومی سوچ کے تحت ان سے نکاح مناسب نہ تھا لیکن اسمیں جو حکمتیں تھیں ہم ان پر مختصر کلام کرچکے۔ آپ ﷺ کی صرف ایک پاک بیوی حضرت عائشہ صدیقہ شادی کے وقت کنواری تھیں۔ لیکن ان کے بارے میں بھی عمر کے تفاوت اور حالات کے پس منظر میں جو کلام ہم نے کیا وہ کسی بھی حقیقت پسند شخص کو قائل کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ شادی بھی نفسانیت سے بالا تر تھی۔
٭ اب اس تعدد کے مسئلہ کو دوسری نظر سے لیجئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے حرم پاک کیلئے ان پاک دامن عفائف خواتین کا انتخاب فرمایا جواللہ کے کرم سے عقل و دانش کے نہایت بلند مقام پر فائز تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان خواتین کوعقل سلیم عطا فرما کر حرم نبوت کیلئے منتخب فرمالیا۔
٭ ان ازواج کا تعلق مختلف قبائل سے تھا۔ مختلف علاقوں سے تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ان مختلف قبائل کی جو کامل العقل عفائف ہیں جن کے نسوانی اوصاف بھی کامل ہیں۔ جن کی پاک دامنی اور عفت بھی کامل ہے اور جن کی عقل بھی کامل ہے جب وہ حرم نبوی میں رہیں گی تو نبی کریم ﷺ سے وہ علم حاصل کریں گی جو صحابہ کرام حاصل نہیں کرسکتے۔ جو علم مردحاصل نہیں کرسکتے اور دوسری عورتیں بھی وہ سب کچھ نہیں سیکھ سکتیں۔ تو جب یہ منتخب خواتین یہ علوم حاصل کریں گی تو پھر ان علوم کو اپنے قبائل اور اپنے علاقوں میں پہنچائیں گی اور اس طرح اسلام کی وہ تعلیمات اور شریعت کے وہ احکام جو کسی دوسرے طریقے سے صحیح اور مناسب طورپر نہ سمجھے جاسکتے تھے اور نہ سمجھائے جاسکتے تھے۔وہ سب ازواج مطہرات کے ذریعے محفوظ بھی ہوئے اور دیگر خواتین تک منتقل بھی ہوئے۔
٭ وہ پرانا زمانہ تھا۔ ذرائع ابلاغ محدود تھے۔ رسائل و جرائد کا تصور نہ تھا اور یہ احکام شرم و حیاء کے متقاضی تھے۔ اگر اتنی خواتین اور اتنے مختلف قبائل کی خواتین نبی کریم کی زوجیت میں نہ آتیں تو اسوقت مسلمان خواتین کی اکثریت شرعی مسائل سے پاکی ناپاکی اور دیگر ضروری معاملات سے ناواقف رہتی۔ جس کے باعث اسلام اور شریعت کا بڑا حصہ تشنہ تکمیل رہتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اپنے محبوبﷺ کے ذریعے دین کی تکمیل فرمانا تھی چنانچہ یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ سرکار دو عالم کی اتنی شادیوں اور اتنی ازواج کا حقیقی سبب نفسانی خواہشات نہ تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں تھیں اور دین کی تکمیل تھی۔

وما علینا الاالبلاغ
 

پچھلا صفحہ                             اگلا صفحہ

ہوم پیج