نورانیتِ مصطفیٰﷺ

بمقام: مدینہ منورہ
حضرات محترم! اس وقت ہم سب دیار حبیبﷺ  میں حاضر ہیں یہ ہماری خوش بختی ہے نصیب یاوری ہے یہ وہ سعادت عظمیٰ ہے جس کی طلب اور تڑپ جس کی حسرت و آرزو لاکھوں کروڑوں سینوں میں پل رہی ہے۔ اس مقدس سرزمین پر جہاں ہر ایک سوالی بن کر جھولی پھیلائے کھڑا ہے۔ جہاں بادشاہ وقت ہو یا عالم بے بدل ہو، سبھی سائل منگتے اور فریادی ہیں۔ مجھ جیسے کمترو ناچیز کا کچھ کہنا یقینا حسب حال نہیں مگر حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی کا حکم ہے اس لئے چند گزارشات برکت اور ثواب کے حصول کی خاطر پیش خدمت ہیں۔ اگر حضرت قطب مدینہ دامت برکاتہمﷺ لقدسیہ کی دعائیں میرے شامل حال رہیں تو چند الفاظ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرپائوں گا وگرنہ یہ بولنے کا مقمﷺ ور کہنے کی جگہ نہیں ۔
میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی آیت تلاوت کی ہے
قَدْ جَآ ئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ (المائدہ: ۱۵)
بے شک جلوہ گر ہوا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب۔
قرآن کریم میں کئی مقامات پر لفظ نور آیا ہے اور ہر جگہنور کے معنی محل استعمال کے مطابق ہیں۔ اس آیت کریمہ میں لفظنور سے مراد کیا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ای محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم
اکابر صحابہ علماء راسخین مجتہدین اجلہ مفسرین کے ارشادات گرامی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کی روشنی میں ہمارا مسلک ہمارا عقیدہ بالکل واضح ہے کہ
قَدْ جَآ ئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ سے ذات پاک محمدﷺ کا نور ہونا ثابت ہے۔
اس مقام پر مجھے امام غزالی رضی اللہ عنہ کی ایک بات یاد آئی ہے آپ فرماتے ہیں
النور جوہر مجرد ظاہر لذاتہ مظہر لغیرہ
نور ایک جوہر مجرد ہے اپنی ذات میں ظاہر ہوتا ہے اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔
نور کی یہ تعریف نبی اکرمﷺ  پر خوب صادق آتی ہے۔  اللہ تعالیٰ  مادیت جسمانیت اور جوہریت سے پاک ہے۔ وہ نہ جوہر ہے نہ عرض، تو حضورﷺ  وہ جوہر مجرد ہیں جس کی طرف امام غزالی نے اشارہ فرمایا ہے۔یہ نور جوجوہر مجرد ہے ایک مصدر ہے۔ یہاں لفظ نور کا کوئی صلہ بھی مذکور نہیں ہے۔ صلہ مذکور نہ ہونا اس کے مطلق ہونے کی دلیل ہے اور
المطلق یجری علی اطلاقہ مطلق اپنے اطلاق پر جاری رہتا ہے۔ یعنی حضورﷺ  جوہر مجرد ظاہرلذاتہ اور مظہر لغیرہ ہیں۔ خود ظاہر ہیں اور دوسروں کو ظاہر کرنے والے ہیں بلکہ حضورﷺ  کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک غایت ظہور کی ہے اور دوسری غایت بطون کی ایک حیثیت سے سرکارﷺ  ظاہر ہیں اور اتنے ظاہر کہ ان سے زیادہ کوئی ظاہر نہیں اور ایک حیثیت سے پوشیدہ ہیں اور ایسے مخفی کہ ان سے زیادہ کوئی مخفی نہیں۔
کائنات کی ہر چیز جانتی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں
اگر ظہور کا عالم ہے تو یہ کہ پتھر اور کنکریاں تک جانتی ہیں کہ آپ ﷺ  اللہ تعالیٰ  کے رسول ہیں۔ اسی لئے تو آپﷺ  کے نام کا کلمہ پڑھتی ہیں، بادل بھی جانتے ہیں کہ آپﷺ  رسول ہیں اس لئے تو آپﷺ  کی انگشت مبارک کے ساتھ ساتھ پھٹتے جاتے ہیں۔ پانی بھی جانتا ہے کہ آپﷺ   اللہ تعالیٰ  کے فرستادہ نبی ہیں اس لئے آپﷺ  کی مقدس انگلیوں سے جاری ہوجاتا ہے چاند اور سورج بھی جانتے ہیں کہ آپﷺ  پیغمبر خدا ہیں اسی لئے تو آپﷺ  کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ درخت بھی جانتے ہیں کہ آپﷺ  ہی سبب ایجاد عالم ہیں اسی لئے آپﷺ  کے بلاوے پر چلے آتے ہیں۔ جانور بھی جانتے ہیں کہ آپﷺ  باعث تخلیق کائنات ہیں۔ اسی لئے آپﷺ  کے قدموں پر اپنے سر رکھ دیتے ہیں۔ پہاڑ بھی جانتے ہیں کہ آپﷺ  مرکز الفت و محبت ہیں۔ اسی لئے تو اُحد آپﷺ  سے محبت کرتا ہے گویا جب سرکارﷺ  کے ظہور کا عالم ہو تو شجر و حجر ، حیوان بلکہ اجرام فلکی پر تک آپﷺ  ظاہر ہیں اور جب بطون کا عالم ہو پوشیدگی اور اخفی کا عالم ہو تو رب کائنات کے سوا آپﷺ  کی حقیقت سے دوسرا کوئی واقف نہیں۔ حتیٰ کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جیسے ہمدم دیرینہ خلوت اور جلوت کے ساتھ زندگی کے ہر راستے کے ہمراہی سے ارشاد ہوتا ہے
یا ابابکر لم یعرفنی حقیتۃ غیر ربی
اے ابوبکر! میرے صبح و شام لیل و نہار تم پر آشکار ہیں۔ میرا مزاج میری سیرت و کردار میری عادات و اطوار میری پسند نا پسند کا معیار تمہارے سامنے ہے۔ میری زندگی کا ہر لمحہ کھلی کتاب کی طرح ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم میری حقیقت سے بھی واقف ہوگئے ہو، نہیںمیری حقیقت کو میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
بہرحال عزیزان محترم! یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ میں گفتگو کی روانی میں دور نکل گیا۔ کہنا یہ تھا کہ حضورﷺ  ظاہر لذاتہ ہیں کہ تمام عالمﷺ مکان ان کی جلوہ گاہ ہے، یہ ساری بساط ہستی آپﷺ  ہی کے حسن کو منکشف کرنے کے لئے بچھائی گئی ہے۔ آپﷺ  کی جلوہ گری کے لئے کون و مکاں تخلیق ہوئے۔
حضورﷺ  نور مطلق ہیں
اس مقام پر اگر یہ حقیقت بھی ذہن میں رہے تو بات سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی کہ نور انبساط کا مبداء ہے۔ انبساط یعنی کسی چیز کے کھلنے کی ابتداء نور سے ہوتی ہے۔ تمام عالمﷺ مکاننور کے بغیر نہیں کھلتا مثلاً اگر کسی چیز کو دیکھنا ہو تو دیکھنے کا انبساط نور بصارت پر ہوگا۔ بصارت کے نور کے بغیر دیکھی جانے والی چیزیں منکشف نہ ہونگی۔ اگر کوئی آواز سنی جائے تو سننے کا انبساط نور سماعت پر ہوگا، سماعت کے نور کے بغیر مسموع اشیاء آشکار نہ ہوں گی۔ علی ہٰذا القیاس تمام محسوسات کے لئے مبداء انبساط حواس ہیں۔ حواس کے ذریعے تمام محسوسات کا علم ہوتا ہے، اسی طرح تمام معقولات کے لئے مبداء انبساط عقل ہے۔ عقل بھی نور ہے، حواس کی ہر اصل نور ہے، نور ہی تمام چیزوں کا مبداء اور انبساط ہوتا ہے، نور ہی حقائق کا انکشاف اور اسرار کے پردے اٹھانے والا ہوتا ہے۔ تو حضورﷺ  تمام کائنات کا ، تمام معلومات کا مبداء انبساط ہیں۔ مبداء علم کا انبساط حضورﷺ  کی ذات والا صفات ہے، کیونکہ ہر علم کا مبداء انبساط نور ہوتا ہے۔ تو وہی ہستی تمام کائنات کے اسرار و رموز اور علم معرفت کا مبداء انبساط ہوسکتی ہے جو کسی ایک طرح یا ایک قسم کا نور نہ ہو بلکہ نور مطلق ہو اور حضورﷺ  نور مطلق ہیں۔ اسی لئے عالمﷺ مکان کے لئے ذات و جوب کا انبساط ہوتا ہے۔ تو اس کا مبداء بھی سرکار دو عالمﷺ  یعنی اگر حضورﷺ  نہ ہوتے تو مخلوق خدا پر خالق کی معرفت کا کشف نہ ہوتا۔
اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورﷺ  چونکہ خود ظاہر ہیں اور ایسے ظاہر ہیں کہ ان سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں اس لحاظ سے میرے آقاﷺ  ظاہر لذاتہ ہیں اور چونکہ تمام مخلوق خدا اپنے وجود اور اپنی بقا کے لئے سرکارﷺ  کی مرہون منت ہے۔ مخلوق پر ذات وجوب کے انکشاف واظہار کا ذریعہ بھی آپﷺ  ہی ہیں اس اعتبار سے آپﷺ  مظہر لغیرہ ہیں اور نور کی یہ تعریف کہ وہ جوہر مجرد ہے۔ ظاہر لذاتہ اور مظہر لغیرہ (خود ظاہر اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا) تو یہ تعریف خدا پر صادق نہیں آتی کہ وہ جوہر نہیں جوہر کا خالق ہے وہ مظہر لغیرہ اور ظاہر لذاتہ کا خالق ہے۔
عالمﷺ مکان میں ہر نور کا مبداء آپ کی ذات ہے
یہ درست ہے کہ نور کی کئی قسمیں ہیں۔ وہ نور بصر اور نور سمع بھی ہوسکتا ہے وہ نور عقل اور نور علم بھی ہوسکتا ہے وہ ہدایت اور نور ایمان بھی ہوسکتا ہے وہ ظاہری یا باطنی نور بھی ہوسکتا ہے وہ جسمانی یا روحانی نور بھی ہوسکتا ہے وہ معنوی یا حقیقی نور بھی ہوسکتا ہے وہ نور حسی بھی ہوسکتا ہے اور عقلی بھی مگر چونکہ
قَدْ جَآ ئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ میں کوئی قید نہیں لگائی گئی اور حضورﷺ  نور مطلق ہیں۔ آپﷺ  علم و عرفان کا نور ہیں تو عرش و کرسی کا نور بھی۔ آپﷺ  تقویٰ و ہدایت کا نور ہیں، تو لوح و قلم کا نور بھی۔ آپﷺ  اسلمﷺ ور ایمان کا نور ہیں تو شمس و قمر کا نور بھی۔ الغرض اس عالمﷺ مکان میں ہر نور کا مبداء آپﷺ  کی ذات اقدس ہے۔
نور کا ادراک صرف نور ہی کرسکتا ہے
یہاں پر کئی ایک سوالات اور شبہات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان کا سرسری ذکر بھی موقع محل کے خلاف نہ ہوگا۔ ایک سوال تو بچگانہ سا ہے کہ اگر حضورﷺ  حاضر و ناظر ہیں اور نور حسی بھی تو پھر کہیں بھی اندھیرا نہیں ہونا چاہئے تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ نور کا ادراک نور ہی کرسکتا ہے اگر آنکھ نور سے خالی ہو تو آفتاب نصف النہار بھی دیکھائی نہ دے گا۔ ملائکہ کے نور حقیقی ہونے سے کون انکار کرسکتا ہے وہ ہمہ وقت ہمارے ساتھ ہیں۔  اللہ تعالیٰ  جو زمین و آسمان کا نور ہے ہمہ وقت ہر جگہ پر موجود ہے اس کے باوجود بے شمار جگہوں پر اندھیرا بھی ہوتا ہے جب یہ اندھیرا ملائکہ بلکہ رب کے نور ہونے کے خلاف دلیل نہیں بن سکتا تو محبوب رب کائنات ﷺ کی نورانیت کے انکار کا ثبوت کیسے بن سکتا ہے جبکہ سرکارﷺ  کا نور ملائکہ کے نور سے زیادہ لطیف ہے۔ اس پر کلام کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔
حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جواب
ایک اور حدیث کو بطور اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض اوقات تہجد کے وقت میں سورہی ہوتی تھی اور حضورﷺ  تہجد ادا کرتے ہوئے مجھے چھوتے تو میں سجدہ کے لئے جگہ چھوڑ دیتی تھی یہ حدیث چند الفاظ کے فرق کے ساتھ مسلم و بخاری دونوں میں ہے لیکن نفس مضمون ایک ہی ہے اس لئے حدیث کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ معترض نے کہا کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ حضورﷺ  نور نہیں ہیں۔ اصولی طورپر تو اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں مزید عرض یہ ہے کہ اس حدیث میں تو نماز تہجد کے وقت حضورﷺ  کے نور مبارک کے حسی طورپر ظاہر نہ ہونے کی حکمت اور وجہ بیان کردی گئی ہے کم ازکمﷺ س حدیث کو تو اعتراض کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے تھا وہ حکمت یہ ہے کہ حالت وضو میں بلکہ حالت نماز میں عورت کے بدن کو ہاتھ لگ جانا ناقص وضو اور ناقض نماز نہیں ہے۔ یہ مصلحت تھی اس وقت اندھیرا ہونے اور نور کے حسی طورپر ظاہر نہ ہونے کی گویا یہ عدم ظہور دین کی تکمیل کے لئے تھا مسئلہ شریعت کی تعلیم کے لئے تھا۔
آپ اس محفل میں تشریف فرما ہیں بیٹھے ہوئے ہیں خاموشی سے میری بات سن رہے ہیں آپ کو اس حال میں دیکھ کر اگر کوئی کہے کہ آپ لوگ چل نہیں سکتے اور بات نہیں کرسکتے تو یہ بات مضحکہ خیز ہوگی۔ غلط اور خلاف واقعہ ہوگی کہ اس وقت آپ کا نہ چلنا نہ بولنا محفل کے آداب اور وقت کے تقاضے کے تحت ہے۔ ہاں جب ضرورت ہوگی آپ گفتگو بھی کریں گے اور چلنا پھرنا شروع کردیں گے۔ ہمارے افعال کی طرح خدا کے افعال بھی ضرورت کے مطابق صادر ہوتے ہیں ۔ یہاں سب زندہ سلامت جیتے جاگتے افراد بیٹھے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ  اللہ تعالیٰ  ہمیں مارنے پر قادر نہیں؟ یقینا اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے یا آپ کے ہاتھ میں قلم ہے اس کی باریک نِب سے آپ نفیس کاغذ پر لکھ رہے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے ہاتھ میں کلہاڑا ہوتا ہے اور اس سے ہم لکڑی کو پھاڑ دیتے ہیں اب کاغذ پر قلم سے لکھتے ہوئے کوئی یہ گمان کرے کہ ہمارے ہاتھ میں لکڑی چیرنے کی قوت نہیں ہے اگر ہوتی تو اتنا باریک قلم کیسے محفوظ رہتا جبکہ حضورﷺ  کا نور ملائکہ کے نور سے زیادہ لطیف ہے۔ یہ بات تو زمانہ جاہلیت میں تھی جیسا کہ اقبال نے کہا

خوگر پیکر محسوس تھی انسان کی نظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر

بہر حال میں یہ عرض کررہا تھا کہ  اللہ تعالیٰ  نے اپنی حکمت کے تحت جب چاہا اپنے محبوب ﷺ کی جسمانی اور حسی نورانیت کو ظاہر فرما دیا اور جب چاہا اسے پوشیدہ کردیا۔ یاد رکھیے عدم ظہور عدم وجود کی دلیل نہیں بلکہ عدم ظہور تو درحقیقت وجود کی دلیل ہے وہ اس لئے کہ اگر کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہ ہوتو اس کے ظاہر یا غائب ہونے کا تصور قائم نہیں ہوسکتا۔ بہرحال اگر کسی وقت میرے آقاﷺ  کا نور حسی طورپر ظاہر نہیں ہوا تو یہ میرے رب کی حکمت کا تقاضا تھا اور جب اس نے چاہا تو یہ نور ظاہر بھی فرما دیا
نورِ حسی کا ظہور
حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا صبح صادق سے قبل اپنے حجرہ مبارکہ میں سوئی تلاش کررہی تھیں کہ اتنے میں سرکارﷺ  تشریف لائے اور آپﷺ  کا نور حسی طورپر اتنا ظاہر ہوا کہ اسی روشنی میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سوئی تلاش کرلی۔ (۱)
سرکار کے دندان مبارک سے نور کی شعاعیں پھوٹتی تھیں
اسی طرح ایک اور حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں
اذاضحک یتلا لؤ فی الجدر
کہ جب سرکارﷺ  تبسم فرماتے تھے آپﷺ  کے دندان مبارک سے نور کی شعاعیں پھوٹتی تھیں۔ (۲)
اسی طرح حدیث مبارکہ میں آتا ہے حضورﷺ  کے دندانہائے مبارک کی کشادگی سے نور کی شعاعیں نکلتی تھیں اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضورﷺ  کی پیشانی مبارک کی لکیروں سے نور کی شعاعیں نکلتی تھیں اور پھر عالم مسرت میں سرکار کا تمام رخ انور اس قدر روشن ہوجاتا تھا کہ کرنیں پھوٹتی محسوس ہوتی تھیں۔ (۳)
گویا عرض کرنے کا مدعا یہ تھا کہ کبھی  اللہ تعالیٰ  اپنے محبوب ﷺ کے نور کو حسی طورپر ظاہر فرما دیتا تھا اور کبھی پوشیدہ رکھتا تھا یہ اس کی حکمتیں ہیں اور ان پر اعتراض کاغذ کیسے رہ جاتا ہے۔ الغرض ایسی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ قوت و طاقت قدرت و اختیار شجاعت و بہادری تکلم و تبسم گویائی و بینائی تمام صفات و کمالات اور جملہ صلاحیتوں کا اظہار ضرورت مصلحت اور حکمت کے مطابق ہوتا ہے اسی طرح  اللہ تعالیٰ  کی حکمتوں کے تحت کبھینورمحمدی حسی طورپر ظاہر ہوا کبھی پوشیدہ رہا۔
اللّٰھمﷺ جعل لی نورا۔ اس دعا کا مطلب
اور اگر یہاں یہ سوال کیاجائے کہ  اللہ تعالیٰ  نے حضورﷺ  کو نور مجسم بنایا ہے تو حضورﷺ  کی اس دعا کا کیا مطلب ہوگا
اللّٰھمﷺ جعل لی نورا فی قلبی و نورا فی جسمی و نورا فی قلبی و نورا فی بصری و نورا فی شعری و نورا فی بشری ونورا فی لحمی و نورا فی عظامی و نورا من۔ الخ
یعنی اگر حضورﷺ  خود نور ہیں تو وہ  اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ میں یہ دعا کیوں کرہے ہیں کہ وہ انہیں نور بنادے۔ اس دعا کا کیا مقصد ہے؟ دعا تو اس چیز کے لئے ہوتی ہے جو پہلے سے حاصل نہ ہو اور وہ چیز جو پہلے سے موجود ہے حاصل ہے تو اس کے حصول کی دعا لاحاصل ہوگی۔
اس سوال کے جواب میں عرض ہے کہ بسا اوقات بلکہ اس مقام پر یوں کہنا پڑے گا کہ کسی نعمت کے لئے دعا دراصل اس کے ثابت اور باقی رہنے کے لئے کیجاتی ہے یا اس نعمت کی ترقی مقصود ہوتی ہے اس لئے  اللہ تعالیٰ  نے اپنے حبیبﷺ  کو بلند درجات کے لئے یہ دعا تعلیم فرمائی۔  اللہ تعالیٰ  نے اس دعا کی برکت سے اپنے حبیبﷺ  کے درجے بلند فرمائے۔  اللہ تعالیٰ  کے حبیبﷺ  نے پھر اس سے اگلے درجے کو طلب فرمایا اسی لئے  اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
وَلَـلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّـکَ مِنَ الْاُوْلٰی (الضحٰی: ۴)
اور بے شک (ہر) پچھلی(گھڑی) آپ کے لئے پہلی سے بہتر ہے۔
کمالات محمدی کا ظہور ہورہا ہے تمام کمالات کا تدریجا اظہار ہوتا جارہا ہے اور اس دعا کا مطلب ہے کہ الٰہی تو میرے اس درجے کو ایک اور درجہ آگے بڑھا دے اور میری نورانیت کا بھی اظہار فرما دے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ماں اپنے بچہ کو لقمہ دیتی ہے تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پہلے اپنے منہ میں وہ لقمہ چبا کر پھر بچے کے منہ میں دیتی ہے تاکہ بچے کو لقمہ نگلنے میں آسانی رہے۔ اسی طرح جن الفاظ میں حضورﷺ  نے یہ دعا فرمائی وہ اس لئے بابرکت ہوگئی ہے کہ امت جب ان الفاظ میں دعا کرے گی تووہ دعا حضورﷺ  کے بولے ہوئے الفاظ ہوں گے اور انہیں خالی واپس کرنا  اللہ تعالیٰ  کو گوارہ نہ ہوگا۔
آخر ہم بھی تو اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ اے مولا! ہمیں ایمان عطا فرما ہمیں یقین کی دولت سے سرفراز فرما کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہمﷺ یمان سے محروم ہیں یا ہمیں  اللہ تعالیٰ  اور اس کے فرمان پر یقین نہیں ہے۔ یقینا اس سے یہ مراد نہیں ہوتا بلکہ مدعا یہ ہوتا ہے کہ مولا ہمارے ایمان اور یقین میں ترقی عطا فرمائے اور اسے ہمارے لئے باقی رکھے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ حضورﷺ  نے رب سے جو یہ دعا مانگی تو کیا رب نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ہوگی۔ اگر نبی کی دعا بھی رد کی جاسکتی ہے تو ہمارے لئے امید کی کیا گنجائش باقی رہے گی۔ پھر ہماری دعا کی کیا وقعت اور کیا حیثیت رہ جائے گی؟ جب حضورﷺ  نے یہ دعا مانگی اور یقینا قبول بھی ہوئی تو کمﷺ ز کمﷺ ب تو یہ شبہ نہیں رہنا چاہیے کہ حضورﷺ  نور ہیں یا نہیں؟ کوئی کم فہم، کوئی کج بحث اب اگر بات کرے بھی تو یہ بحث کرے کہ یہ دعا مانگنے سے پہلے حضورﷺ  نور تھے یا نہیں؟ اس دعا کے بعد تو بحث کے دروازے بند ہوجانے چاہئیں۔
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج