معارف اسم محمدﷺ

وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلِ یَّأتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ۔ (الصف: ۶)
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضورﷺ قدس ﷺ کی بشارت دی اور یہ دونوں نام (احمد اور محمدﷺ )پہلے سے ہیں بیہقی شریف کی حدیث ہے کہ آدم علیہ السلام جنت میں داخل ہوئے تو دیکھا۔
کان مکتوبا علی باب الجنۃ لَـآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
جنت کے دروازوں پر
لَـآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا تھا۔
کان مکتوبا علی ساق العرش لَـآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
عرش کے پائے پر
لَـآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا تھا۔
وکان مکتوبا علی اوراق اشجار الجنۃ لَـآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
اور جنت کے درختوں کے پتوں پر
لَـآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا ہواتھا۔
٭ لفظ محمد ﷺ کے ساتھ سرکار کا نام کسی انسان نے کسی گھر والے نے کسی اپنے اور پرائے نے نہیں رکھا بلکہ خود  اللہ تعالیٰ  نے رکھا ہے۔ اگر یہاں گھر والوں میں سے یہ نام کسی نے رکھا ہو تو جنت کے دروازوں پر، عرش کے پائے پر اور جنت کے درختوں کے پتوں پر محمد ﷺ سرکار کا نام کون لکھتا رہا؟ تو گویا جس اللہ نے جنت کے دروازں پر، جنت کے درختوں کے پتوں پر یہ نام لکھا اسی  اللہ تعالیٰ  نے اپنے پیارے حبیب پاک کا نام محمد ﷺ رکھا اور اس لیے  اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔ (الفتح: ۲۹)
محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ۔ (الاحزاب: ۴۰)
نہیں ہیں محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ لیکن وہ  اللہ تعالیٰ  کے رسول ہیں۔
بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔ (محمد: ۲)
جو محمدﷺ پر نازل کیا گیا۔
اور  اللہ تعالیٰ  نے صاف صاف ارشاد فرمایا
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْل۔ (آل عمران: ۱۴۴)
اور محمد (ﷺ معبود نہیں) صرف رسول ہیں۔
محمدﷺ کی نسبت
الی الالوہیت رسول ہونے پر محصور ہے یعنی آپ ﷺ الٰـہ نہیں بلکہ رسول ہیں اورقرآن میں  اللہ تعالیٰ  نے واضح ارشاد فرمایا کہ
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔ (کہف: ۱۱۰)
یعنی میرے محبوب ا! فرمادیجئے کہ اگر میں تمہاری مثل بشر ہوں تو دنیا و آخرت، علم و عمل اور جسم و روح میں نہیں بلکہ
الٰہ نہ ہونے میں، میں تمہاری مثل بشر ہوں جیسے تم الٰہ نہیں اور قرآن کی آیات ایک دوسرے کی وضاحت کررہی ہیں۔ قرآن کا ایک حصہ دوسرے کی تفسیر کردیتا ہے۔ لہٰذا یہ حق ہے کہ میرے آقائے نامدار محمد عربیﷺ کا بشریت پر محصور ہونا بھی بالنسبت الی الاُ لوہیت ہے۔ اب اگر اس کے باوجود بھی کوئی سرکارﷺ کی رسالت اور نورانیت کی نفی کرتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ وہ بشر ہیں نور کہاں؟ تو افسوس صد افسوس بشریت پر حضورﷺ  کا حصر سرکار کی نورانیت اور رسالت کے مقابلے میں نہیں ہے بلکہ وہ الوہیت کے مقابلے میں ہے کیونکہ آپ الوہیت کا وصف نہیں رکھتے آپ ﷺ بالنسبت الی الالوہیت محصور البشریت ہیں۔ اس آیت کریمہ سے حضور سید عالم ﷺ کی نورانیت کی نفی کرنا خود بے نور ہونے کی دلیل ہے۔ خوب یاد رکھیئے کہ اس کے دل میں نور ایمان نہیں۔
٭ محترم حضرات! لفظمحمد جامع کمالات ہے۔ مدثر، مزمل، یٰسین، طہٰ الرسول اور النبی وغیرہ کے معنی اس میں پائے جاتے ہیں۔ اب میں ان کی تفصیل کیابیان کروں؟ ایک
النبی کے معنی کی تفصیل ہی نہیں ہوسکتی۔
لفظ نبی کا شرعی معنی
٭ لفظ نبی کے شرعی معنی یہ ہیں
ھو انسان بعثہ اللّٰہ تعالیٰ الی الخلق لتبلیغ احکامہ
وہ مقدس انسان کہ جس کو  اللہ تعالیٰ  نے اپنے احکام کی تبلیغ کے لئے اپنے بندوں کی طرف بھیج دیا۔ (۱)
کیونکہ
النبی عربی زبان کا لفظ ہے عربی زبان کی لغت میں النبی کے آٹھ معنی ہیں اور اس کے تین ماخذ ہیں۔ اگر کسی کے ذہن میں لفظ النبی کے تین ماخذ نہیں پائے جاتے تووہ اپنی کم علمی پر ماتم کرے اور النبی کے تین ماخذیہ ہیں۔
(۱) نبئا (۲) نبوۃ (۳) نباوۃ
ان تین ماخذوں کے اعتبار سے لفظ
النبی کے آٹھ معنی ہوئے
۱۔
النبی اَلْمُخْبِر خبر دینے والا
۲۔
النبی اَلْمُخْبَر خبر دیا ہوا
۳۔
النبی الخارج ایک جگہ سے دوسری جگہ نکلنے والا
۴۔
النبی المُخْرَج ایک جگہ سے دوسری جگہ نکالا ہوا
۵۔
النبی الظاہر ظاہر(کمال ظہور کی صفت رکھنے والا)
۶۔
النبی الطریق الواضح طریق واضح(واضح راستہ)
۷۔
النبی السامع الصوت الخفی ہلکی سے ہلکی آواز سننے والا
۸۔
النبی المقام المرتفع رفعت اور بلندی والا
نبی شرعی میں مذکورہ بالا آٹھوں معنی پائے جاتے ہیں اور نبی شرعی کون ہوتا ہے؟ نبی شرعی وہ ہوتا ہے جو احکام خداوندی سے خبردار کیاجاتا ہے اور ارشادات خداوندی کی خبر اپنی امت کو دیتا ہے اور ہر خبر دینے والانبی نہیں ہوتا۔ ورنہ اخبار و رسائل والے جو رات دن خبر دیتے ہیں سب نبی ہوجائیں۔
۱۔ مگر غیب کی خبردینے والا ہی نبی ہوتا ہے اس لئے وہ المخبر ہوئے۔
۲۔ اور وہ(نبی)  اللہ تعالیٰ  کے بندوں کو خبر دیتا ہے اس لئے وہ مخبر ہوئے۔
۳۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس نجات اخروی کا روشن راستہ اور معرفت خداوندی کا وسیلہ ہے۔ اس لئے آپ طریق واضح ہیں۔
۴۔  اللہ تعالیٰ  کا نبی دشمنوں کی انتہائی ایذا رسانی کے بعد بحکم ایزدی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے اس لئے وہ خارج ہوئے۔
۵۔ کفار کی طرف سے شدید عداوت کی بناء پر اس کا اخراج عمل میں آتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ مخرج ہوئے۔
۶۔ نبی وحی الٰہی کی صوت خفی اور ہلکی سے ہلکی آواز سنتا ہے۔
۷۔ نبی علامات نبوت یعنی معجزات و آیات کا حامل ہونے کی وجہ سے کمال ظہور کی صفت سے متصف ہوتا ہے اس لئے وہ ظاہر بھی ہے۔
۸۔ جسمانی و روحانی اعتبار سے  اللہ تعالیٰ  کے نبی کا مقام سب سے بلند ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں رفعت اور بلندی کے معنی بھی پائے جاتے ہیں۔
اور پھر خاص طور پر یہ مفہوم ذہن میں رکھا جائے کہ
السامع الصوت الخفی کہ نبی ہلکی اور خفی سے خفی آواز کو سنتا ہے۔ آپ قرآن میں دیکھیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت لشکر ہوا پر اڑا جارہا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام کا تخت بمع لشکر وادی نملہ سے گزر رہا تھا تو چیونٹیوں کی ملکہ نے اپنی چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں سے کہا
قَالَتْ نَمْلَۃٌ یّٰاَیُّھَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْ (النمل: ۱۸)
ایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو! تم اپنی رہائش گاہوں میں داخل ہوجائو(کہیں) سلیمان علیہ السلام اور اس کے لشکر تمہیں کچل نہ ڈالیں یعنی تم اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجائو کہ کہیں تمہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر بے توجہی کی حالت میں اتفاقاً روند نہ دے۔
چیونٹیوں کی ملکہ جب یہ بات چیونٹیوں سے کہہ رہی تھی قرآن کہتا ہے
فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِھَا۔ (النمل: ۱۹)
یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام چیونٹیوں کی اس بات سے مسکرا کر ہنس پڑے۔ آپ بتائیں رات دن ہم چیونٹیوں کے ساتھ رہتے ہیں ہم نے تو کبھی ان کی آوازنہیں سنی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹیوں کی آواز کو سن لیا۔ شاید آپ یہ کہیں کہ یہ بات تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے خاص تھی۔
لیکن میرے آقاﷺ  کی شان اللہ اکبر!  اللہ تعالیٰ  نے اپنے نبیوں کو جو جو کمال عطا فرمائے ان سب کمالات کو اپنے حبیبﷺ  کے دامن میں رکھ دیا۔ گویا مرکز کمال، مرکز حسن و جمال جناب محمد مصطفیٰﷺ  کی ذات مقدسہ ہے۔ اس لئے  اللہ تعالیٰ  نے آپﷺ  کا نام محمدﷺ رکھا ہے۔ حضورﷺ  تو عرش کی آواز بھی سنتے ہیں۔
قال رسول اللّٰہ عرج بی حتی ظہرت مستوی السمع فیہ صوت الاقلام
حضورﷺ  نے فرمایا کہ پھر مجھے اور بلند کیا گیا۔ حتی کہ میں ایک بلند مقام پر چڑھ گیا جہاں میں نے قلموں کی آواز سنی۔
اور پھر عرش کہاں، حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت اور چیونٹیوں کی آواز کہاں؟
حضرت بلال اور سرکارﷺ کی قوت سماعت
محترم حضرات! آپ کو بات سمجھ آئے یا نہ آئے۔ میں ایک بات بتائے دیتا ہوں۔ یہ خصائص کبری کی حدیث نہیں۔ بلکہ بخاری شریف کی حدیث ہے۔ سرکارﷺ  نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا
اے بلال! وہ عمل بتا جس کی وجہ سے میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے چلنے کی آواز سنی۔ لوگ کہیں گے کہ حضورﷺ  کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے عمل کا پتہ نہیں تھا۔
لیکن یہ بتائو کہ جس عمل کا حضورا قدس ﷺ کو پتہ ہی نہ ہو(حضورﷺ  کے علم کے بغیر وہ عمل کر رہا ہو)تو کیا وہ بدعتی ہوگا کہ نہیں ہوگا۔ تو وہ بدعتی ہوگا تو کیا بدعتی جنت میں جائے گا۔
سرکارﷺ  کے پوچھنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ سرکارﷺ  کو علم نہیں تھا بات اور تھی(اور وہ یہ کہ)سرکارﷺ  یہ چاہتے تھے کہ اے بلال! کیونکہ تم اس عمل کی وجہ سے یہ فضل،  اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ میں پا چکے ہو لہٰذا تم وہ عمل بیان کرو تاکہ لوگوں کو بھی اس عمل کا شوق پیدا ہو۔ سرکارﷺ  نے فرمایا
میں نے اپنے آگے جنت میں تیرے چلنے کی آواز اپنے کانوں سے سنی۔
آپ ایمان سے بتائیں کیا معراج کی رات، حضرت بلال رضی اللہ عنہ  حضورا قدس ﷺ کے ساتھ گئے تھے؟ قطعاً نہیں تو آواز کہاں سے پیدا ہوئی؟ تو سرکارﷺ  نے سنا کیا؟ ارشد سعید۔ یہ میرا بیٹا ہے میں نے کل اسے مختصر المعانی پڑھائی ہے۔ اس میں یہ بات ہے کہ صدق و کذب کا مدار متکلم اور خبر کے اعتماد پر ہے۔ صدق کا مطلب واقع کے مطابق اور مطابقت پر ہے۔ارے! یہاں تو واقعہ کا تصور بھی نہیں ہے۔ سرکارﷺ  نے اپنے آگے جنت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کے چلنے کی آواز کو سنا۔ حضورﷺ  آواز کو کب سنیں گے؟ جب آواز کا وجود ہوگا اور آواز کا وجود کب ہوگا؟ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ  چلیں گے اور چلیں گے کب؟ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ  جنت میں ہوں گے۔ ارے! وہ جنت میں حضورﷺ  کے ساتھ گئے نہیں پھر چلے نہیں۔ جب چلے نہیں تو آواز پیدا ہوئی نہیں تو حضورﷺ  نے سنا کیا؟ توکیا حضورا قدس ﷺ کی بات غلط ہوسکتی ہے؟ کیا واقع کے خلاف ہوسکتی ہے۔ ہرگز نہیں اور یہ واقعہ سرکارﷺ  معراج کی رات کا بیان فرمارہے ہیں۔ معراج کی رات حضرت بلال رضی اللہ عنہ  سرکارﷺ  کے ساتھ نہیں گئے تھے۔
٭ لیکن  اللہ تعالیٰ  اپنے نیک بندوں کے لئے اس بات پر قادر ہے کہ ایک ہی وقت میں انہیں دو جگہ موجود فرمادے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ  ایک ہی وقت میں زمین پر بھی موجود تھے اور آسمان پر بھی۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیـُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ
اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْن

بہر حال! میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا حضورا قدس ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کے چلنے کی آواز کو سنا کہ نہیں سنا؟
اب اس کی دو صورتیں ہیں
ایک صورت تو یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کو ایک ہی وقت میں معراج کی رات کو دو جگہ مان کر ایک بڑا پہاڑ اپنے سینے پر رکھ لیا اگر تم نے یہ مان لیا تو تمہاری مہربانی۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضرت سیدنا محمد مصطفیٰﷺ  نے واقعہ سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کے آگے چلنے کا سن لیا۔ جبکہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ اتنی لمبی مدت کے بعد پیدا ہونیوالی آواز کو حضورا قدس ﷺ پہلے سن رہے ہیں۔
یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ  حضورا قدس ﷺ کے غلام ہیں لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ  حضوراقدس ﷺ کے آگے آگے جنت میں داخل ہوئے۔ جبکہ غلاموں کا کام ہے پیچھے چلنا
فَاتَّبِعُوْنِیْ میرے پیچھے رہو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ  آگے کیسے چلے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ  خدا کی قسم میرے آقاﷺ  کے خادم بن کر آگے چلے اور وہ خدمت سر انجام دی جو آگے جا کر ہی انجام دی جاسکتی ہے۔ اس حدیث پاک کو امام سہیلی اور غالباًابن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے۔حضورا قدس ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوں گے اور اونٹنی کی مہار حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کے ہاتھ میں ہوگی اور مہار پکڑنے والا آگے آگے ہوتا ہے ویسے ہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ  آگے آگے جنت میں داخل ہوں گے۔ مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا کہ جب محمود غزنوی کی سواری نکلنے والی ہوتی تھی تو غلام ایاز پہلے آگے نکل جاتے تھے کہ کسی نے ایاز سے کہا۔
اے ایاز! اپنی قدر کو پہچان محمود غزنوی پیچھے آرہا ہے اور تو آگے نکل آیا ہے۔
اس نے کہا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میں بادشاہ کی توہین کے لئے آگے نکل آیا ہوں بلکہ

من ستارہ صبح ام کہ در طریق ادب
ہمیں در پیش روی آفتاب می آفتند

میں وہ صبح کا ستارہ ہوں کہ جو آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے نکلتا ہے کہ لوگ سمجھ لیں کہ آفتاب عالم، طلوع ہونیوالا ہے۔
بلاشبہ وہی آواز ہے جو قیامت کے دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کی اونٹنی کے آگے آگے چلنے میں جنت میں پیدا ہوگی۔ یہ ہے انبیاء کا ادراک اور علم ۔ آواز بھی پیدا نہیں ہوئی۔ میرے آقاﷺ  نے پہلے ہی سن لی۔ کیوں؟ اس لئے نبی کی عقل اور حواس کا مقابلہ کائنات کی عقلیں اور حواس نہیں کرسکتے اور نبی کو جو خبر ملتی ہے اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی چیز نہیں کرسکتی۔ کیونکہ نبی کو غیب کی خبر ملتی ہے۔ اب غیب کی خبر کوئی کہاں سے لائے گا؟ یہ تو  اللہ تعالیٰ  ہے جس کو غیب کی خبر دے گا اس کو ملے گی اور  اللہ تعالیٰ  غیب کی خبریں اپنے نبیوں کو دیتا ہے۔
وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآئُ۔ (آل عمران: ۱۷۹)
یعنی  اللہ تعالیٰ  ہر ایک کو غیب کی خبریں نہیں دیتا۔  اللہ تعالیٰ  اپنی غیب کی خبروں کے لئے اپنے نبیوں کو چن لیتا ہے۔
بہر حال!  اللہ تعالیٰ  نے ہر کمال اپنے محبوب ﷺ کو عطا فرمایا اور اس لئے سرکار کا نام محمد ﷺ رکھا۔ معراج کی رات سرکار زماں و مکان کو نیچے چھوڑ گئے۔ اگر فلسفیوں سے پوچھیں کہ زمانہ کیا ہے؟ تو وہ کہیں گے کہزماں مقدر بحرکت مقدار حرکت زمانہ ہے اور وہ فلک الحرکت کی مقدار کو زمانہ کہتے ہیں۔ جب آقائے نامدار حضورا قدس ﷺ عرش کے اوپر گئے تو متحرک نیچے رہا اور جب متحرک نیچے رہا تو مقدار حرکت بھی نیچے رہی اور جب حرکت نیچے رہی تو گویا زمانہ نیچے رہا اور مکان بھی نیچے رہا۔ مکان کیا ہے؟ فلسفیوں سے پوچھیں کہ مکان کیا ہے؟تو بتائیں گے کہ جس میں حاوی کا سطح باطن محوی کے سطح ظاہر سے مماس کرے اس کو مکان کہتے ہیں۔ حاوی اور محوی نیچے رہ گیا یعنی حاوی کا سطح باطن اور محوی کا سطح ظاہر نیچے رہ گیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ مکان نیچے رہ گیا اور محمد مصطفیٰﷺ  اونچے ہوگئے۔
۱۔ النبی- المخبِر ۲۔ النبی- المخبَر
۳۔ النبی -الخارج ۴۔ النبی -المخرج
۵۔ النبی-الظاہر ۶۔ النبی الطریق الواضح
۷۔ النبی السامع الصوت الخفی ۸۔ النبی-المقام المرتفع

آٹھ معنی النبی کے ہوئے آپ آٹھ معنی کی کیا بات کرتے ہیں؟ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ جو کمال و جمال جو خوبی اور وصف، سب جہاں جمع ہوں اسی کو محمد کہتے ہیں اور یہ میں نہیں کہتا  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔ (الاحزاب: ۵۶)
نبی ﷺ پر اللہ کی صلوٰۃ کیا ہے؟
آیت کی تفسیر میں امام بخاری نے امام المفسرین حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ جو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے والے ہیں کا قول روایت کیا ہے۔
صلٰوۃ اللّٰہ ثناؤہ علیہ عند الملائکۃ
اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے نزدیک اپنے حبیبﷺ  کی ثنا فرماتا ہے۔
صلٰوۃ اللّٰہ ثناؤہ علیہ عندالملائکۃ
یہ جملہ بڑا چھوٹا سا ہے مگر اس کے معنی اتنا وسیع ہیں کہ سب کچھ ختم ہوسکتا ہے مگر اس کے معنی ختم نہیں ہوسکتے کیونکہ
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔
میں
یُصَلُّوْنَ ایک مضارع کا صیغہ ہے تمام علماء کے نزدیک یہ ایک مضارع استمرار ہے۔ اس میں مضارع استمرار کے معنی پائے جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ  اللہ تعالیٰ  کی صلوٰۃ میں استمرار ہے  اللہ تعالیٰ  کی صلوٰۃ دا ئماً اور مستقلاً ہے اور صلوٰۃ کیا ہے؟ صلوٰۃ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ  اپنے فرشتوں کے نزدیک اپنے محبوب ﷺ کی ثناء فرمارہا ہے اور ثناء کیا ہے؟ ثناء کا معنی ہے کسی کی تعریف یعنی کسی کی خوبیاں بیان کرنا۔  اللہ تعالیٰ  اپنے محبوب ﷺ کی خوبیاں بیان فرمارہا ہے اور یہ خوبیاں بیان فرمانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا کیونکہ  اللہ تعالیٰ  کی ثناء کا سلسلہ دائماً مستقلاً جاری ہے۔
سرکار کی خوبیوں کا بیان ختم نہیں ہوسکتا
اگر ثناء کا سلسلہ ختم ہوجائے تو دوام اور استمرار کہاں رہا؟ اور خوبیوں کا سلسلہ تب ختم ہو جب خوبیاں ختم ہوجائیں۔ میرے آقاﷺ پ پر کروڑوں صلوٰۃ و سلام ہوں نہ آپﷺ  کی خوبیاں ختم ہوتیں ہیں نہ خوبیوں کا بیان۔
کیا خوبیاں عیب کی ہوتی ہیں یا حسن وجمال کی۔ ثناء حسن کی ہوتی ہے نہ کہ عیب کی۔ عیب کوئی خوبی کی بات نہیں خوبی کی بات حسن ہے تومعلوم ہوا کہ میرے آقاﷺ  میں خوبیاں ہیں۔ عیب ہے ہی نہیں خوبیوں کے بیان کا سلسلہ تب ختم ہو جب کوئی عیب اور نقص آئے اور جب کوئی عیب اور نقص آئے گا تو  اللہ تعالیٰ  کی ثناء کا بیان ختم ہوجائے گا۔ لیکن  اللہ تعالیٰ  کی ثناء میں دوام اور استمرار ہے اس لئے میرے آقاﷺ  مخلوقیت میں سب عیبوں سے پاک ہیں۔ آپﷺ  سراپا حسن و جمال ہیں۔
٭ عیب کا تصور ہی آپﷺ  کی بارگاہ میں راہ نہیں پاتالفظ محمد کے معنی ہی بے عیب ہیں ویسے لفظمحمداسم مفعول کا صیغہ ہے۔ مگر یہ مبالغہ کے معنی بھی دیتا ہے۔ اس لئے جب محدثین نے لفظمحمد کا ترجمہ کیا تو پڑھ کر چمنستان ایمان میں بہار آگئی۔ اے ملا علی قاری تجھ پر کروڑوں رحمتیں ہوں آپ لفظ محمد کا ترجمہ فرماتے ہیں
الذی حمد مرۃ بعد مرۃ والذی حمد کرۃ بعد کرۃ۔ (۱)
محمد وہ ہے جس کی بار بار تعریف کیجائے اور بے شمار حمد کی جائے۔
آپ کہیں گے کہ بار بار اور بے شمار حمد تو  اللہ تعالیٰ  کی ہوتی ہے۔  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے۔
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ (الحدید:۱)
 اللہ تعالیٰ  کی تسبیح کی ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔
اور  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ۔ (بنی اسرائیل: ۴۴)
اور کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔
یعنی کائنات کا کوئی ذرہ نہیں جو  اللہ تعالیٰ  کی حمد نہ کرتا ہو سب سے زیادہ اور بار بار حمد تو  اللہ تعالیٰ  کی ہوتی ہے اور ہم ہر نماز میں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پڑھتے ہیں۔ اس لئے محمد  اللہ تعالیٰ  کا نام ہونا چاہئے تھا کیونکہ لفظ محمد کے معنی ہیںبار بار اور بے شمار حمد کیا ہوا لیکن  اللہ تعالیٰ  کا نام محمود ہےمحمد نہیں۔ میرے آقاﷺ  کا نام پاکمحمد بھی ہے اورمحمود بھی، کیا آپ نے وہ حدیث پاک نہیں پڑھی جو حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا

وشـق لــہ مـن اسـمــہ لـیـجــلـہ
فذ و العرش محمود وھذا محمد (۱)

کہ اللہ تعالیٰ  نے ایک ہی لفظ سے اپنا نام نکالا ہے اور اپنے محبوب کا بھی۔ عرض کرتے ہیں کہ عرش والا محمود ہے اور یہ محمد جلوہ گر ہیں۔
بلا شبہ  اللہ تعالیٰ  کی حمد بار بار ہوتی ہے اور بے شمار ہوتی ہے  اللہ تعالیٰ  خود فرماتا ہے
وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ (بنی اسرائیل: ۴۴)
یعنی کائنات کا ہر ذرہ جن و انس، پرند وچرند، جمادات و نباتات الغرض کائنات کی تمام مخلوق حمد باری تعالیٰ کرتی ہے
اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا مگر محمد ﷺ کی حمد کون بیان کرتا ہے؟ ابھی بخاری شریف سے حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ کا قول میں نے پڑھا ہے کہ
صلٰوۃ اللّٰہ ثناؤہٗ علیہ عند الملئکۃ
محمدﷺ  کی حمد تو خود خالق فرمارہا ہے اور خالق کی حمد تو مخلوق کرتی ہے۔
کس کی حمد زیادہ ہوگی؟ خالق کی حمد زیادہ ہوگی یا مخلوق کی؟ جس کی حمد زیادہ ہوگی وہی محمد ہوگا۔ حضور کی حمد  اللہ تعالیٰ  فرما رہا ہے۔
حضورﷺ کی تعریف درحقیقت اللہ کی تعریف ہے
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضورﷺ  کی تعریف  اللہ تعالیٰ  سے زیادہ ہے بلکہ یوں کہو کہ  اللہ تعالیٰ  اپنے محبوب ﷺ کی جو تعریف فرمارہا ہے اس لئے کہ وہ (محبوب) اس کے حسن و جمال کا آئینہ ہیں۔
انا مرأۃ جمال الحق
 اللہ تعالیٰ  تو اپنے حسن و جمال کے جلوئوں کی تعریف فرما رہا ہے۔ تو جب  اللہ تعالیٰ  نے اپنے حسن وجمال کی تعریف فرمائی تو وہ  اللہ تعالیٰ  کی تعریف ہوئی۔ اس لئے حضورﷺ  کی جتنی تعریف کرو گے  اللہ تعالیٰ  کی تعریف ہوگی۔ معلوم نہیں یہ لوگ حضورﷺ  کی تعریف سے کیوں گھبراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور کی تعریف مت کرو۔
حضورﷺ  کے حسن کی تعریف  اللہ تعالیٰ  کے حسن کی تعریف ہے کیونکہ حضورﷺ  کاحسن  اللہ تعالیٰ  کے حسن کا جلوہ ہے۔ حضورﷺ  کا علم  اللہ تعالیٰ  کے علم کا جلوہ ہے۔ حضورﷺ  کی قدرت  اللہ تعالیٰ  کی قدرت کا جلوہ ہے۔ جو سیدنا مصطفیٰﷺ  کے کمالات کی تعریف ہے وہ ہر کمال  اللہ تعالیٰ  کے کمال کی تجلی ہے تو جب رسول کا ہر کمال  اللہ تعالیٰ  کے کمال کی تجلی ہے تو رسول ﷺ کی جو تعریف ہوگی ۔ خد اکی قسم! وہ رسول ﷺ کی تعریف بعد میں ہوگی پہلے  اللہ تعالیٰ  کی تعریف ہوگی۔ اب یہ شبہ بھی دور ہوگیا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی تعریف  اللہ تعالیٰ  سے زیادہ کرتے ہیں۔ ہم نے
صلٰوۃ اللّٰہ ثناؤہٗ علیہ عند الملئکۃ کی بنا پر محمدیت کے پہلو کو واضح کیا ہے اور  اللہ تعالیٰ  اپنے محبوب کی خود ہی تعریف فرما رہا ہے۔
٭ محترم حضرات! غالب کا عقیدہ کیسا بھی ہو مگر وہ ایک شعر اچھا کہہ گئے ہیں

غالب ثنائے خواجہ بیزداں گزا شتیم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

 اللہ تعالیٰ  نے اپنے محبوب کو اپنے حسن وجمال کا آئینہ بنا یا۔ اس لئے ان کا مرتبہ  اللہ تعالیٰ  کے سوا کون جان سکتا ہے؟
لم یعرفنی حقیقۃ غیرربی
جب ان کے مرتبے کو اس کے سوا کوئی جان ہی نہیں سکتا۔ تو ان کی شان  اللہ تعالیٰ  کے سوا کون بیان کرسکتا ہے؟ ہم تو تعریف اپنے نفع کی خاطر کرتے ہیں کہ جس کا کھاتے ہیں اسی کا گاتے ہیں ورنہ حضورﷺ  کی تعریف  اللہ تعالیٰ  ہی کرتا ہے ۔

صلٰوۃ اللّٰہ ثناؤہٗ علیہ عندالملئکۃ

رسول اللہ ﷺ ہر عیب سے پاک ہیں
عزیزان محترم! لفظ محمد کے معنی ہر حسن و جمال کا مجسمہ حسن و جمال سے متصف ہر خوبی والا اور ہر عیب سے پاک کے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے رسول کو بے عیب کہہ دیا جبکہ ہم بچپن سے  اللہ تعالیٰ  کا بے عیب ہونا سنتے آئے ہیں گویا تم نے رسول کو اللہ بنادیا۔
میں کہتا ہوں۔  اللہ تعالیٰ  ہر عیب سے پاک ہے اور رسول بھی ہر عیب سے پاک ہے۔ مگر الوہیت کا ہر عیب سے پاک ہونا  اللہ تعالیٰ  کی شان کے لائق ہے اور رسول کا ہر عیب سے پاک ہونارسول کی شان کے لائق ہے۔  اللہ تعالیٰ  کے لئے اولاد عیب ہے مگر حضورا قدس ﷺ کے لئے نسل کانہ ہونا عیب تھا۔ جب آپﷺ  کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے تو دشمن نے آپﷺ  کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا تھا مگر  اللہ تعالیٰ  نے اس دشمن کی نسل کو منقطع کردیا اور آپ کو خیر کثیر عطا فرما کر آپﷺ  کی نسل کو حضرت فاطمہ الزاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جاری کردیا۔  اللہ تعالیٰ  کے لئے نسل کا ماننا عیب ہے اور رسول اقدس ﷺ کے لئے نسل کا نہ ماننا عیب ہے۔  اللہ تعالیٰ  بھی عیب سے پاک ہے اور رسول بھی عیب سے پاک ہے۔  اللہ تعالیٰ  شان الوہیت میں عیب سے پاک ہے اور حضورﷺ  شان نبوت میں عیب سے پاک ہیں۔ میں صا ف کہتا ہوں  اللہ تعالیٰ  خالق ہوکر بے عیب ہے اور آپﷺ  عبد ہوکر بے عیب ہیں۔ لہٰذا ہر ایک کی بے عیبی ان کی شایان شان ہے یہ کہنا کہ تم نے رسول کو خدا بنا دیا ہے یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔
بہر حال!  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْل۔ (آل عمران: ۱۴۴)
 اللہ تعالیٰ  نے حضورﷺ  کو محمدﷺ  فرماکررسول ہونے پر محصور فرمادیا اور محمد کے کیا معنی ہیں یعنی جس کی بار بار اور کثرت سے حمد و ثناء ہوتی ہو۔ وہی محمد ہوتا ہے۔
عزیزان محترم !  اللہ تعالیٰ  واحد اور احد ہے لیکن اس کی شان کا ظہور عالم کثرت سے ہوتا ہے اگر عالم کثرت ہمارے سامنے نہ ہو تو اس کی شانوں کا ظہور نہ ہوتا تو ہم اس کی حمد و ثناء کیسے بیان کرتے؟ بہر نوع میرے آقاﷺ  مظہر شان الوہیت ، مظہر ذات واجب اور مظہر اسم اللہ ہیں۔ اس اعتبار سے حضورﷺ  تمام کثرت کا مبدا اور منتہا ہیں۔ لہٰذا  اللہ تعالیٰ  کی جتنی شان جتنے اوصاف و کمالات اور حسن و جمال حضورﷺ  کی ذات میں ظاہر ہوئے اور کہیں ہو ہی نہیں سکتے۔  اللہ تعالیٰ  نے اپنے حسن کو جہاں جس جگہ ظاہر فرمایا اس حسن کا جلوہ اپنے حبیبﷺ  میں رکھ دیا بس بات ختم ہوگئی۔
٭ اے سنیو! تمہیں مبارک ہو تم بڑے خوش نصیب ہو۔ تمہارا ذہن حضورﷺ  کی خوبیوں اور آپﷺ  کے حسن وجمال کو تلاش کرنے کا کام کرے گا۔ تمہارے علم کی شعاعیں کتب تواریخ، کتب و احادیث اور علوم دینہ کی کتب میں پھیلیں گی اور تمہاری نگاہوںکا ہر پہلو میرے آقاﷺ  کے حسن و جمال عظمت علم قدرت اور اختیار کو ثابت کرنے کے لئے اٹھے گا لیکن اس کے بر عکس وہ لوگ بھی ہیں جو اس کوشش میں ہیں کہ معاذ اللہ کہ کہیں کوئی عیب اور نقص نظر آجائے۔کہیں حضورﷺ  کے علم کی نفی کہیں آپﷺ  کی قدرت و اختیار کی نفی مل جائے اور وہ اپنے علم کو حضورﷺ  کے کمال کی نفی تلاش کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ وہ علم، علم ہی نہیں وہ جہل ہے۔ اے سنی! تیری مثال اس بلبل کی سی ہے جو جب اڑتی ہے تو اس کی نگاہ پھولوں کی تلاش میں ہوتی ہے کہ کہیں نظر آجائے اور وہ اتر جائے اور ان لوگوں کی مثال کرگس (گدھ) کی سی ہے کہ جب اڑتا ہے تو اس کی نگاہ جمی رہتی ہے کہ کہیں کوئی مردار نظر آئے تو وہ اتر جائے بس اپنا اپنا مقدر اور اپنا اپنا نصیب۔
بہرنوع!وہ لوگ نصیحت اور عبرت حاصل کریں جو مسلمانی دعویٰ کے باوجود حضورﷺ  میں نقص اور عیب تلاش کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ایسا وطیرہ تو قرون اولیٰ کے لوگوں نے بھی اختیار نہیں کیا تھا جو ایمان نہیں لائے تھے۔(وہ محمدﷺ  کہہ کر نقص تلاش کرنے کے قائل نہیں تھے)۔
کفار کا مذمم کوئی اور ہوگا میں محمد ہوں (ﷺ)
آخر میں ایک حدیث پر ایک بات کہہ کر کلام کا سلسلہ ختم کرتا ہوں۔ اس حدیث پاک کو طبرانی اور ابو دائود شریف کے علاوہ اور محدثین نے بھی روایت کیا ہے۔
آپ لوگوں نے ابو دائود میں پڑھا ہوگا کہ مشرکین مکہ نے آپﷺ  کا نام لے کر ہجو، مذمت اور برائی کے طور پر قصیدے لکھنے شروع کئے۔ انہوں نے سوچا کہ ہم محمد بھی کہتے ہیں اور معاذ اللہمحمد میں عیب اور نقص بھی تلاش کرتے ہیں۔ گویا ہم اپنا منہ آپ ہی کالا کرتے ہیں اب دوہی صورتیں ہیں یا محمد کہنا چھوڑ دیں یا عیب نکالنا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عیب تو نکالنا ہی ہے کیونکہ ہماری دشمنی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ معاذ اللہ ان کی شان میں گستاخی کریں ہجو کریں۔ چنانچہ انہوں محمد کہنا چھوڑ دیا اور اب انہوں نےمذمم کہنا شروع کردیا مذمم کے معنی ہیں مذمت کیا ہوا تو اب وہ حضورﷺ  کی ہجو محمد کہہ کر نہیں کرتے تھے۔ بلکہ مذمم کہہ کر کرتے تھے کہ مذمم میں یہ نقص ہے، یہ خرابی ہے۔ مشرکین مکہ نے اب تو آپﷺ  کانام لینا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اب آپﷺ  کی شان میں جو ہجو کرتے ہیں تو لفظ مذمم بول کر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لفظ مذمم میں یہ خرابی ہے، یہ عیب ہے، یہ نقص ہے تو سرکارﷺ  نے کیا فرمایا؟میرے آقاﷺ  آپ کی عظمتوں کو کائنات جھک کر سلام کرتی ہے میں تو اس قابل بھی نہیں کہ جھک کر سلام کروں مگر کیا کروں میرادل بارگاہ نبوت کی عظمتوں کے سامنے جھکتا ہے۔ جب سرکارﷺ  کے سامنے یہ کہاگیا کہ وہ محمدﷺ  نہیں کہتے بلکہمذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں تو سرکار ﷺ نے یہ فرمایا

الا تعجبون کیف یصرف اللّٰہ عنی شتم قریش ولعنھم یشتمون مذمما وانا محمد رسول اللّٰہ

بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم نے فرمایا کیا تم کو تعجب نہیں آتا کہ کیسے حق تعالیٰ میری طرف سے قریش کی گالی اور لعنت کو پھیرتا ہے وہ گالی دیتے ہیں مذمم کو اور میں تو محمد ہوں۔ (۱)
اے میرے غلامو! ذرا دیکھو تو سہی کہ  اللہ تعالیٰ  نے ان کی بدگوئی کو کس طرح مجھ سے دفع فرمایا؟ وہ کسی اور نام کو برا کہتے ہوں گے مگر میں تو محمدﷺ  ہوں۔
سرکار کا نور حجابات عظمت میں تربیت پاتا رہا
 اللہ تعالیٰ  نے اپنے محبوب ﷺ کومحمد فرمایا اور انہیں کے نور مبین کو  اللہ تعالیٰ  نے اپنے نور کی تجلی سے ظاہر فرمایا اور پھر اس نور مبین کی تجلی فرمائی اور پھر اس نور کی تجلی کے حصے بنائے اور پھر اس تجلی کے حصوں کو تقسیم فرمایا(ان سے) زمین و آسمان، عرش و کرسی، لوح، قلم اور فرشتوں کو پیدا فرمایا۔ وہی نور مبین جس کے جلوئوں سے کائنات کو پیدا فرمایا۔ 70000حجابات عظمت میں تربیت پاتا رہا پھر آدم علیہ السلام کی پشت پناہی کے لئے وہی نور مبین پشت مبارک میں رکھا گیا اور نورِ مبین کے جلوے حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی میں چمکتے رہے اور وہی نورِ مبین حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام سے لے کر سرکارﷺ  کے والدین کریمین، طیبین، طاہرین حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچا اور وہ نور مبین آمنہ طاہرہ طیبہ رضی اللہ عنہا کے شکم اقدس سے بروز پیر بارہ ربیع الاول کے مبارک مہینے میں صبح صادق کے وقت جلوہ گر ہوا۔ صبح صادق کے وقت حکمت یہ تھی کہ رات تو بھی میرے محبوب ﷺ کی ولادت کی برکتوں سے مستفید ہو جا اور اے دن تو بھی میرے محبوب ﷺ کی ولادت کے لمحات سے مستفید ہوجا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ایسا وقت مغرب کو بھی ہوتا ہے لیکن اس میں بڑا فرق ہوتا ہے کیا؟ کہ مغرب کے وقت دن جارہا ہے اور ظلمت آرہی ہے۔ لیکن صبح صادق کے وقت رات جارہی ہے اور دن آرہا ہے اندھیرا جا رہا ہے اور روشنی آرہی ہے ظلمت جارہی ہے اور نور آرہا ہے کہ
قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ۔ (المائدہ: ۱۵)
بیشک جلوہ گر ہوا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور روشن کتاب۔
امام ابن کثیر نے
البدایہ والنہایہ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت آمنہ طاہرہ و طیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ
خرج من بطنی نور
مجھ سے نور ہی نور ظاہر ہوا اور اس نور مبین سے میرا مکان روشن ہوگیا۔
مکہ مکرمہ روشن ہوگیا اور اس نور مبین کی روشنی میں بصرہ میں موجود ایک قطار میں مڑی ہوئی گردن والے اونٹ کا مشاہدہ فرمایا
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ کی آیت پڑھ کر حضور کی نورانیت کی نفی ثابت کرنا ایسا ہے جیسا کہ اس آیت سے رسالت کی نفی ثابت کرنا۔ وہ باطل ہے لہٰذا یہ بھی باطل ہے۔
میرے آقاﷺ  رسول ہونے پر بالنسبت الی الالوہیت محصور ہیں اور رسالت پر محصور ہوں تو بشریت کی نفی نہیں ہوتی اگر آپ بشریت پر محصور ہوں تو آپﷺ  کی نورانیت کی نفی نہیں ہوتی اور نور مبین جلوہ گر ہوا۔ ملائکہ آئے حوران جنت آئیں تو سب نے
صلٰوۃ و سلام پڑھا۔ لہٰذا میں چاہوں گا کہ ان کی اقتدا میں ذکر ولادت کی برکات حاصل کرنے کے لئے ذکر ولادت کی خوشی میں حضورﷺ  پر صلوٰۃ و سلام پڑھیں۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج