رسالت عامہ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم اما بعد فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا
(الفرقان: ۱)

محترم حضرات! میں کس زبان سے آپ کی محبت اور خلوص کا شکریہ ادا کروں آپ حضرات کی عزت افزائی کا کما حقہٗ شکریہ ادا نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ  سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ  مجھے یہ توفیق عطا فرمائے کہ میں دین اور قوم کی خدمت کرتا رہوں۔ (آمین)
عزیزان گرامی! جن حضرات نے یہ استقبالیہ دے کر میری عزت فرمائی، میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں اور میرے لئے جو کلمات ارشاد فرمائے گئے ہیں میں بالکل ان کا اہل نہیں ہوں یہ کلمات سن کر میری گردن زمین میں جھکی جاتی ہے بہر حال آپ حضرات کی محبت ہے ورنہ
من آنم کہ من دانم کہ میں جو کچھ ہوں میں ہی جانتا ہوں۔ میں خدا سے دعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ  مجھے آپ کے مبارک ارشادات کے صدقے اس قابل کردے کہ زندگی کے لمحات اسلام کی خدمت کرتے کرتے گزر جائیں اور خاتمہ ایمان پر ہوجائے۔(آمین)
میں نے قرآن مجید اور فرقان حمید کی آیت پڑھی ہے اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے(مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
جماعت اہلسنّت کے قیام کا مقصد ناموسِ رسالت کا تحفظ ہے
آپ یقین کیجئے کہ جماعت اہل سنت کے قیام اور اس کے اجتماعات کا انعقاد فقط اس ایک ہی نقطہ پر کیا ہے کہ حضورتاجدار مدینہ محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ جو اللہ تعالیٰ  کے عبد مقدس، رسول برحق، پہلے اور آخری نبی ہیں کی عظمتوں کی بنیاد پر عقیدہ استوار ہوجائے۔
لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
تو ہم سب پڑھ لیتے ہیں لیکن ہم اصل حقیقت کو نہیں سمجھتے
لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ اور حضور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ کسی کا رسول ہونا اور رسول ہونے کا کسی ذات کے لئے ثابت کرنا یہ کب ہوگا؟
جب وہ ذات ہوگی۔ اگر وہ ذات ہے ہی نہیں تو رسول ہونے کا حکم کس پر لگائیں گے؟ یہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ موجود کا وجود نہ ہو تو وجود کا حکم کس پر محمول ہوگا؟ مبتداء کا وجود ہی نہ ہو تو خبر کا حکم کس پر لگے گا؟ اگر محمد مصطفی ﷺ کا وجود نہ ہو تو رسول کا حکم کس پر لگے گا؟ اور میں کہتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ  کے سچے رسول ہیں جو فقط ہم انسانوں کی طرف نہیں بلکہ
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا
یعنی وہ عالمین کے لئے مبعوث ہوکر آئے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن (انبیاء: ۱۰۷)
مسلم شریف کی حدیث ہے
قال رسول اللّٰہ ﷺ ارسلت الی الخلق کافۃ (۱)
میرے آقا ﷺ مخلوق کے ہر فرد کی طرف رسول ہوکر آئے ہیں یعنی کوئی بھی میرے محبوب ﷺ کی حدود رسالت سے باہر نہیں، نہ زماں و مکاں اور نہ زمین و آسماں کی کوئی مخلوق۔ بلکہ ہر چیز میرے آقا ﷺ کی حدود رسالت میں داخل ہے اور پھر میں آپ سے کیا کہوں؟ قرآن کریم فرماتا ہے
ھُوَالَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ (الصف: ۹)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔
قرآن کریم باربار ارشاد فرماتا ہے
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (الفرقان: ۱)
میرے آقا ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ ﷺ فقط انسانوں کے لئے رسول نہیں ہیں بلکہ تمام عالم کے لئے رسول ہیں۔
ارسلت الی الخلق کافۃ
میں تمام عالم آگئے کہ نہیں آگئے۔ تمام عالم آگئے اور اسی طرح
لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا للعلمین کے عموم میں سب عالم آگئے۔ عالم بیداری، عالم نوم، عالم دنیا و آخرت اور عالم برزخ، عالم انسان، عالم ارواح اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ  نے کائنات میں اٹھارہ ہزار عالمین کے ساتھ تعبیر فرمایا اور میرے آقا ﷺ ان سب عالمین کے رسول ہیں۔
ارسلت الی الخلق کافۃ
آپ ﷺ ساری مخلوق کی طرف رسول بن کر تشریف لائے ہیں اور حضورﷺ ساری کائنات اور عالمین کے ذرے ذرے کے لئے رسول ہیں اور وہ رسول کون ؟ جو وصف رسالت سے متصف ہوگا اور وصف رسالت کیا ہے؟ رسالت کا مفہوم اور معنی کیا ہیں؟ رسالت کا مفہوم یہ ہے کہ خدا کا پیغام ، خدا کا فیض، خدا کی نعمتیں اور رحمتیں خدا سے لے کر خدا کے بندوں تک پہنچانا۔
عزیزان گرامی! پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ میرے آقا ﷺ کو اگر تم رسول مانتے ہو تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ حضور ﷺ رسول ہیں اور العالمین کے لئے نذیر ہیں اور
ارسلت الی الخلق کافۃ کے مطابق عالم کے ہر ذرے کے لئے رسول ہیں اور نذیر ہیں یعنی آپ ﷺ کائنات کے ہر ذرے کے لئے خدا کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ آپ ﷺ عالم بیداری اور عالم خواب کے بھی رسول ہیں۔ میرے آقا ﷺ دنیا و آخرت اور برزخ کے بھی رسول ہیں۔ آپ ﷺ تحت الثرٰی اور عرش علی کے بھی رسول ہیں اور پھر یہ کہنا کہ ہم تو فقط اسی دنیا کے لئے حضورﷺ کی رسالت اور نبوت کے قائل ہیں تو یہ غلط ہے۔
ہمارا عقیدہ
میں کہتا ہوں کہ حضور ﷺ ماسوا اللہ کے ساری کائنات کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ  تمام عالم کا رب ہے اور العالمین کا کوئی فرد خد ا کی ربوبیت سے باہر نہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا جس کا رب ہے مصطفی ﷺ اس کے لئے رحمت اور رسول ہیں۔ حضور سید عالم ﷺ کی رحمت اور رسالت ایک ایسا عمل پیہم ہے کہ اگر کسی وقت بھی منقطع ہوجائے تو رسالت کا مفہوم برقرار نہ رہے گا۔ رسالت ایک عمل پیہم ہے جو خدا سے پیغام لے کر خدا کے بندوں کو دینا عمل ہے۔ یعنی خدا سے پیغام لینا ایک عمل ہے اور خدا کے بندوں کو اللہ تعالیٰ  کاپیغام دینا بھی ایک عمل ہے۔ اب بتایئے عمل بغیر حیات کے ہوسکتا ہے؟ عمل بغیر حیات کے نہیں ہوسکتا۔ البتہ ایسا ہوسکتا ہے کہ اس عالم بیداری میں میرا عمل محفوظ رہے لیکن عالم خواب میں میرا عمل محفوظ نہیں رہے گا جب تک میں بیدار ہوں تو میرا عمل بیداری تک تو محفوظ رہے گا اور اگر میں سو جائوں تو عالم نوم میں میرا جو عمل ہوگا وہ بیداری میں نہیں ہوگا اور اگر میں عالم برزخ میں چلا جائوں اور جو میرا عمل عالم برزخ کے مطابق ہوگا وہ نہ دنیا میں ہوگا اور نہ آخرت میں اور اگر میں عالم آخرت میں چلا جائوں اور وہ عمل جو آخرت کے مطابق ہوگا اس کا تعلق نہ عالم برزخ سے ہوگا اور نہ عالم آخرت سے لیکن میرے آقاﷺ  بیک وقت ہر عالم کے ذرے ذرے کے رسول ہیں یعنی ایک ہی وقت میں آپ عالم بیداری کے بھی رسول ہیں اور عالم نوم کے بھی اسی وقت آپ عالم دنیا کے بھی رسول ہیں۔ عالم آخرت کے بھی، عالم برزخ کے بھی اور عین اسی وقت تحت الثری کے بھی رسول ہیں اور عرش علی کے بھی۔
اور سن لیجئے! عمل حقیقت حیات ہے۔ حیات ہے تو عمل ہے۔ عمل کا وجود دلیل حیات ہے اور اگر تم نے میرے آقاﷺ  کو محمد رسول اللہ مان لیا کہ ان کا عمل رسالت عالم بیداری ، عالم خواب، دنیا و آخرت تحت الثری اور عرش علی میں جاری ہے تو ٹھیک ہے اور اگر ان کا عمل رسالت عالمین میں جاری نہ ہوتو آپ عالمین کے رسول کیسے ہوئے؟ یا پھر یوں کہو کہ عالم دنیا مخلوق نہیں عالم برزخ، آخرت مخلوق نہیں، عالم تحت الثریٰ اور عالم عرش علی مخلوق نہیں ہے۔ تو جب سب عالم مخلوق نہیں ہیں تو آپﷺ 
ارسلت الی الخلق کافۃ کے مصداق کیسے ٹھہرے۔ لہٰذا کہنا پڑے گا کہ ہر عالم کی حیات ہر آن سرور عالمﷺ  کے حضور موجود ہے۔
شبہ کا ازالہ
شاید آپ یہ کہیں کہ بات سمجھ نہیں آتی ہم جاگ رہے ہیں تو سونے کی حالت میں نہیں ہیں گویا عالم خواب سے دور ہیں اور اگر سو گئے تو عالم بیداری سے دور ہیں۔ لیکن جس نے حضورﷺ  کی ذات پاک کا قیاس اپنے اوپر کیا وہ گمراہی میں مبتلا ہوا اور میں دلیل سے ثابت کروں گا کہ میرے آقاﷺ  جس ایک ہی وقت خواب میں ہیں اسی وقت بیداری میں بھی ہیں۔ اگر جناب محمد رسول اللہ ﷺ  کو نیند آجائے تو کیا آپﷺ  کا وضو ٹوٹتا ہے؟ نہیں ٹوٹتا کیوں کہ سرکارﷺ  نے خود فرمایا
تنام عینای وقلبی یقظان
میری آنکھ سوتی ہے میرا دل نہیں سوتا۔
اگر حضورﷺ  ساری رات سوتے رہیں۔ سونے کی وجہ سے سرکارﷺ  کا وضو نہیں جائے گا گویانوم حضورﷺ  کے حق میں ناقص وضو نہیں ہے۔ تو پتا چلا کہ آپﷺ  عالم نوم میں ہونے کے باوجود بھی عالم یقظہ(بیداری) سے بے خبر نہیں ہیں اور اس عالم کا علم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس عالم کی حیات بھی آپﷺ  کے حضور موجود ہے۔
عذابِ قبر اور علم رسول
اور صحیحین کی حدیث ہے حضورﷺ  ایک مرتبہ صحابہ کے ہمراہ جنگل میں تشریف لے جارہے تھے وہاں دو قبریں تھیں سرکارﷺ  وہاں ٹھہرے اور فرمایا یہ دو قبریں ہیں اور دونوں کو عذاب ہورہا ہے اے صحابہ میں ان کے عذاب کا سبب بھی جانتا ہوں یعنی ایک صاحب پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا اس وجہ سے دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان کے عذاب کی تخفیف کا سبب کیا ہوسکتا ہے آپﷺ  نے کھجور کی ٹہنی منگوائی اس کے دو ٹکڑے کئے ایک ٹکڑے کو ایک قبر پر ڈال دیا اور دوسرے ٹکڑے کو دوسری قبر پر ڈال دیا پھر آپﷺ  نے فرمایا ان کھجور کے ٹکڑوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ  ان کے عذاب میں تخفیف فرمائے گا۔
یہ حدیث آپ نے اور میں نے ہزاروں مرتبہ پڑھی اور سنی لیکن ہم نے اس کی حکمت پر غور نہیں کیا۔ اس کی حکمت میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں وہ یہ کہ حضورﷺ  نے صحابہ کو یہ تاثر دیا کہ تم میرے ساتھ ہو اور میں تمہارے ساتھ ہوں جب آپﷺ  قبر کے پاس تھے تو صحابہ آپ کے ساتھ تھے۔ سرور عالمﷺ  نے گویا یہ فرمایا کہ اے میرے صحابہ، بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں مگر یہ مت سمجھنا کہ فقط میں تمہارے ساتھ ہوں کسی اور کے ساتھ نہیں ہوں۔ نہیں ہرگز نہیں جیسے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں ویسے ان اہل قبور کو بھی دیکھ رہا ہوں جیسے تمہیں فیض اور فائدہ پہنچا رہا ہوں ویسے ان کو بھی فائدہ پہنچا رہا ہوں جیسے تم سے باخبر ہوں ویسے ان سے بھی باخبر ہوں یعنی میں دنیا کے عالم کا بھی رسول ہوں اور برزخ کے عالم کا بھی رسول ہوں۔ اگر کسی عالم سے بے خبر اور بے تعلق ہوجائوں تو میں اس عالم کا رسول نہیں ہوؤں گا اور پھر اس سے ایک عجیب تاثر یہ بھی نکلتا ہے کہ اے میرے صحابہ میں دنیا میں ہوں اور یہ برزخ میں ہیں مگر میں ان سے بے خبر نہیں ہوں اور جب میں برزخ میں چلا جائوں گا تو تم سے بھی بے خبر نہیں ہوں گا لہٰذا سمجھ لو کہ میں تمہارا بھی رسول ہوں اور ان (اہل برزخ) کا بھی رسول ہوں میں دنیا کا بھی رسول ہوں اور عالم برزخ کا بھی رسول ہوں اور میں آپ سے کیا عرض کروں آپﷺ  کے صرف معراج کے واقعہ کو لے لیں۔ ہر عالم کی حیات اسی میں ہے۔
عالم برزخ کا علم
حضورﷺ  معراج کی رات سرخ ٹیلے (کثیب الاحمر) سے گزر رہے ہیں وہاں حضور موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرے تو آپﷺ  فرماتے ہیں
مررت علی قبر موسیٰ لیلۃ اسری بی عندالکثیب الاحمر وھو قائم یصلی فی قبرہ (۱)
(ترجمہ) معراج کی رات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرا (کیا دیکھتا ہوں کہ) وہ سرخ ٹیلے کے نزدیک اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں۔
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں اگر آپ قبر والوں سے گزریں تو کیا آپ کو کچھ پتا چلتا ہے آپ کو کچھ علم نہیں ہوتا کہ اہل قبور کس حال میں ہیں تو پتا چلا اس عالم کا پتا چلے گا جس عالم میں آپ کی حیات ہے دنیا کی حیات آپ کو حاصل ہے دنیا کا آپ کو پتا چلے گا میرے آقاﷺ  کو برزخ کا پتا چلا معلوم ہوا برزخ کی حیات بھی اسی وقت اور اس عالم کی حیات بھی اسی وقت میرے آقاﷺ  میں موجود ہے کیونکہ آپ اسی ایک وقت میں یہاں کے بھی رسول ہیں اور وہاں کے بھی رسول ہیں۔ میرے آقاﷺ  نے معراج کی رات فرمایا(شرح عقائد حنفی میں) یہ دو قول ہیں
۱۔ ایک قول یہ ہے کہ میرے آقاﷺ  عرش پر پہنچے۔
۲۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ سرکارﷺ  فوق العرش پر پہنچے۔
یعنی عرش سے کہیں اوپر چلے گئے اور عرش نیچے رہ گیا اور ہم اہلسنّت کا بھی یہی مسلک ہے کہ سرکارﷺ  فوق العرش پر پہنچے۔ فوق عرش عالم آخرت ہے اور اس عالم میں حضورﷺ  کا عمل جاری ہوا اگر کسی عالم کی حیات نہ ہوتو اس عالم میں عمل کیسے ہوگا؟ معلوم ہوا کہ ایک ہی وقت میں حضورﷺ  کے اندر عالم یقظہ(بیداری) ، عالم نوم، عالم برزخ اور عالم آخرت کی حیات موجود ہے۔ میرے آقاﷺ  ہر آن ہر عالم کی حیات سے متصف ہیں کیونکہ اگر کسی عالم کی حیات منفی ہوجائے تو اس عالم میں عمل رسالت بھی منفی ہوجائے جبکہ عمل رسالت منفی ہو نہیں سکتا لہٰذا کسی عالم کی حیات کسی آن حضور سے منفی ہو نہیں سکتی میں نے آپ کو یہ مختصر سی بات بتائی اب آپ کہیں گے کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے۔
عقیدۂ اہلسنّت
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (الفرقان: ۱)
لوگوں نے کہا کہ کاظمی صاحب نے عبد کو معبود بنا دیا اور قرآن کریم نے
عَلٰی عَبْدِہٖ کہہ دیا اور جب التحیات پڑھتے ہو تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کہتے ہو اور جب کلمہ شہادت پڑھتے ہو تو اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ کہتے ہو سبحان اللہ نمازوں میں ان کے عبد ہونے کا اقرار کرو اور قرآن کریم پڑھو تو عَلٰی عَبْدِہٖ پڑھو اور جب ممبر پر آئو تو تم کہو وہ(رسول خدا) تو خدا سے بھی اوپر ہیں ۔ لاحـول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم اور جب ممبر پر آئو تو انہیں معبود بنا کر کہہ دو۔
شبہ کا ازالہ
میں مختصر سی بات کہنا چاہتا ہوں۔ خدا کی قسم ہم سب اہلسنّت مسلمانوں کی یہی پہچان ، مذہب، مسلک اور عقیدہ ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ عبد ہیں اور اگر وہ عبد نہ ہوں تو عبد کی جہاں نفی ہوگی وہاں معبودیت کا تصور قائم ہوگا۔ جہاں صفات عبدیت کی منفی ہو وہ صرف معبود ہوگا اور ہم تو حضورﷺ  کو معبود نہیں مانتے ہم تو حضورﷺ  کو عبد مانتے ہیں۔
حضورﷺ  عبد ضرور ہیں مگر ہم جیسے نہیں
تم نے نماز میں قرآن کریم میں
علی عبدہ دیکھ لیا لیکن تم نے لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا کو دیکھا ہی نہیں ارے وہ عبد تو ضرور ہیں مگر آپﷺ  مجھ جیسے اور آپ جیسے عبد نہیں ہیں۔ وہ تو لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا کی شان والے عبد ہیں۔ اس لئے قرآن کریم نے لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا فرما کر امتیاز پیدا کردیا ہے اور نماز میں عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ کہلوایا تاکہ کسی کے ذہن میں معبود کا تصور ہی پیدا نہ ہو اور ساتھ ہی یہ حکم ہوا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کہو۔
تو پتا چلا کہ حضورﷺ  عبد ضرور ہیں مگر
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ کہلوا کر فوراً حد فاصل پیدا کردی کہ آپﷺ  ایسے عبد ہیں کہ اگر نماز میں آپﷺ  کو سلام نہ کریں تو نماز ہی نہیں ہوتی اور ہم ایسے عبد ہیں کہ اگر کوئی نماز میں سلام کہے تو نماز ہی فاسد۔ اب میں آپ سے کیا کہوں زیادہ بات کہنے کا موقع نہیں صرف ایک بات عرض کرتا ہوں۔
نماز میں انشاء کلام کی نیت سے حضورﷺ  پر سلام پیش کیا جائے
بعض لوگوں نے کہا کہ جو ہم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ اور عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ کہتے ہیں یہ تو معراج کی رات اللہ تعالیٰ  نے اپنے رسول کو کہے تھے اور ہم سے بھی کہلوادیا گویا یہ تو خدا کے سلام کی حکایت ہے۔ انہوں نے اس کی تائید میں ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب شرح مشکواۃ سے یہ عبارت نقل کی کہ یہ الفاظ علی سبیل الحکایۃ کہے جاتے ہیں تو حکایت کے معنی نقل کرنا ہے یعنی ہم نے یہ سلام خدا سے نقل کیا ہے لہٰذا یہ سلام ہماری طرف سے تو نہ ہوا اور ملا علی قاری کی وہ عبارت بھی ہمارے سامنے آگئی۔
میں نے کہا، ارے افسوس کا مقام ہے کہ ملا علی قاری نے تو باربار انشاء کلام کیا اور ہمارے تمام فقہائے احناف اور مجہتدین نے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ کو انشاء کلام پر حمل کیا۔ کیا مطلب؟ یعنی جب نمازی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ کہے تو نیت کرے کہ میں حضور سید عالمﷺ  کو مخاطب کرکے انشاء کلام کر رہا ہوں اور حضورﷺ  کی بارگاہ میں سلام کا تحفہ پیش کررہا ہوں ورنہ فریضہ خداوندی یا حکم رسالت مآب کی تعمیل نہیں ہوگی۔
ملا علی قاری کی عبارت پر اعتراض کا جواب
اب آپ یہ کہیں گے کہ پھر ملا علی قاری کی یہ عبارت کہاں جائے گی؟
اس کا جواب عرض کردوں اور اہل علم تو پہلے ہی جانتے ہیں بہرحال میں اس کا جواب عرض کردوں جواب یہ ہے کہ ملا علی قاری نے اس کو حکایت پر حمل کیا وہ حکایت ان کی مراد میں یہ الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے شب معراج میں یہ الفاظ اپنے حبیب تاجدار مدینہ ﷺ کو ارشاد فرمائے ان الفاظ کی حکایت نماز میں رکھ دی گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ  کے کلام کی حکایت ان تک محدود ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہی لفظ نماز میں پیش کرو یعنی ان ہی لفظوں میں انشاء کلام کرو جو الفاظ اللہ تعالیٰ  نے فرمائے یا یوں کہو کہ اللہ تعالیٰ  کا فرمان کلمات کی حکایت ہے اور ان کلمات کو ادا کرکے معنی کا انشاء ہے کہ اے میرے بندو! ان لفظوں میں میرے محبوبﷺ کو سلام پیش کرو جن لفظوں میں میں نے اپنے محبوب ﷺ کو سلام فرمایا تو پتا چلا کہ حکایت لفظوں کی ہے اور معنی کا انشاء ہے بس بات ختم ہوگئی۔
مسئلہ حاضر و ناظر اور حضرت پیر سید مہر علی شاہ
میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑہ شریف والے نے ایک رسالہ لکھا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی انہوں نے بہت اچھی بات لکھی کہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ حضورﷺ  کے حاضر و ناظر ہونے کی قوی ترین دلیل ہے کیونکہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہر نمازی جہاں کہیں بھی ہو یعنی خواہ پہاڑوں میں ہو یا میدانوں میں، شہروں میں ہو یا بیابانوں میں، گھروں میں ہو یا مساجد میں، شمال میں ہو یا جنوب میں، مشرق میں ہو یا مغرب میں، پڑھتا ہے تو گویا اس نمازی نے خدا کی بارگاہ میں حاضری دے دی جہاں خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوا وہاں میرے آقاﷺ  پہلے ہی حاضر ہیں۔
جماعت اہلسنّت کی تشکیل
میرے دوستو عزیزو! یہ وہ نکتہ تھا جس پر ہم نے جماعت اہلسنّت کی تشکیل کی ہے اب اگر آپ کو اس نکتہ اور اس حقیقت سے اتفاق ہے تو آپ کو جماعت اہلسنّت سے اتفاق ہونا چاہیے اور اگر یہ نکتہ آپ کے نزدیک غلط ہے تو یوں سمجھو یہ بنیادہی غلط ہے اور پھر
لَـکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن (الکافرون: ۶)
تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین۔
لہٰذا ہر شہر ہر قصبہ اور ہر گھر میں جماعت اہلسنّت ہونی چاہیے اور جو لوگ ہمارے ملک پر مسلط ہیں ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
جمعیت علماء پاکستان (J.U.P)
اس میدان میں اپنے سیاسی حقوق کی حفاظت اور اپنی مدافعت کے لئے ہمارے علماء اور ہمارے رہنما جمعیت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم پر موجود ہیں اور جیسا کہ میرے عزیز حاجی امجد علی صاحب چشتی نے کہا کہ تعلیمی دنیا میں، یعنی سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے ملک کی حفاظت اور تحفظ کے لئے انجمن طلباء اسلام موجود ہے ۔ اس میدان مین آپ نے یعنی A.T.I. اور جمعیت علماء پاکستان کے ساتھ بھی تعاون کرنا ہے اور جماعت اہلسنّت کے ساتھ بھی تعاون کرنا ہے اور جماعت اہلسنّت کو بھی انجمن طلباء اسلام کا تعلمی میدان میں تعاون کرنا ہے یہ میرا پیغام تھا جو میں نے آپ حضرات تک پہنچا دیا۔
جن حضرات نے میرے حق میں بہت اونچے اونچے کلمات فرمائے ہیں، میں اس قابل کہاں ہوں؟ میں اللہ تعالیٰ  سے توبہ کرتا ہوں کہ الٰہی مجھے عجب اور کبر نفس سے بچادے! ان تمام حضرات کو اپنی تمام نعمتوں سے نواز دے۔ (آمین)
(مدرسہ کے طلباء و مدرسین کے لئے دعائیہ کلمات اِرشاد فرمائے)
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج