وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً الِّلْعَالَمِیْن

نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ چند کلمات آیۃ کریمہ کے بارے میں عرض کروں گا تاکہ وقت کی گنجائش کے مطابق کلام کو مربوط اور بامعنی انداز میں پیش کرسکوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن
وَمَا اَرْسَلْنٰکَ میں مََا نافیہ ہے۔ نفی کے بعد اِلَّا ہو تو یہ اثبات کے لئے آتا ہے اور یہ بات نہایت قابل توجہ ہے کہ کلام میں نفی کے بعد اثبات پایا جائے تو اس سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ اس کو اس طرح سمجھئے۔ میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کروں کہ کسی شخص نے صاف کپڑے نہیں پہنے، سوائے عبداللہ کے۔ یا میں کہوں کہ یہاں کوئی سرکاری ملازم نہیں سوائے اسلم کے۔ نفی کے بعد اثبات آرہا ہے۔اگر کلام صحیح ہے، اگر بات درست ہے تو حصر نہیں ہے، کوئی دوسرا بھی صاف کپڑے زیب تن کئے ہوئے ہے، یا کوئی اور شخص بھی سرکار ملازم یہاں ہے تو کلام جھوٹا قرار پائے گا۔ اب بات ہورہی ہے قرآن کریم کی۔ قرآن کریم غلط نہیں ہوسکتا، اس لئے جب قرآن کریم میں نفی کے بعد اثبات آئے گا توحصر لازم آئے گا۔ جیسے ہم کلمہ پڑھتے ہیں لَـآ اِلٰہَ کوئی معبود برحق نہیں۔ پہلے نفی آگئی اس کے بعد کہا اِلَّا اللّٰہُ سوائے اللہ تعالیٰ کے۔یہ اثبات ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے الوہیت کی نفی ہوگئی۔ الوہیت صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے۔ کوئی دوسرا الہٰ نہیں ہوسکتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے جب وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ ارشاد فرمایا تو اس میںک ضمیر خطاب ہے اور اس کا مصداق اور اس کے مخاطب صرف اور صرف حضورا کرمﷺ  ہیں۔ اب حصر کی صورت میں ترجمہ کریں گے تو دوباتیں سامنے آئیں گی۔ یا تو یہ کیجئے کہ اے محبوب! میں نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا۔ تو صرف رحمت ہے۔ تو اگر رسول ہے، اگر نبی ہے، اگر ہادی ہے، اگر رؤف ہے، اگر کریم ہے، تو جو کچھ بھی ہے اے محبوب! ہر صورت میں تو رحمت ہی ہے۔
یا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اے محبوب! ہم نے صرف تجھے رحمت بنا کر بھیجا۔ تیرے سوا کوئی ہستی کوئی ذات ایسی نہیں جس کو یہ شرف ملا ہو، یہ امتیاز تیرا ہے، یہ خصوصیت تیری ہے کہ
العَالَمِیْنَ کے لئے، تمام جہانوں کے لئے، اس ساری کائنات کے لئے رحمت ہے۔ ہم نے بس تجھی کو یہ اعزاز بخشا ہے۔
ایک بات مزید سمجھنے کی ہے کہ اس آیت کریمہ میں لفظ
رحمت عربی زبان کے قواعد کی رو سے مصدر ہے اور مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ مبالغہ مقصود ہو۔ ہاں کبھی مجازاً مصدر کا استعمال اسم فاعل کے اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رحمت مصدر ہے اور راحم اس کا اسم فاعل ہے جس کا مطلب ہے کہ رحمت کرنے والا بہرحال اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوا کہ اے محبوب! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے صرف رحمت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اب اس حصر کا فائدہ کیا ہوگا؟ یہ رَحْمَۃ کے لفظ کوسمجھنے پر منحصر ہے۔ایک بات تو آپ نے سمجھ لی کہ رَحْمَۃ کے معنی راحم کے یعنی رحمت کرنے والے کے ہیں۔ اب دوسری بات یہ سمجھئے کہ ترکیب نحوی کے لحاظ سے اس کے معنی کیا ہوں گے؟ بعض علماء نحو نے کہا ہے کہ یہ مفعول لہ ہے اور بعض نے کہا یہ ضمیر خطاب سے حال ہے۔ حال کے معنی ہیں کہ وہ ذوالحال کی ہیئت بیان کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر فاعل یا مفعول کا حال بیان کرنے والا کلمہ حال کہلاتا ہے۔ اب اگر رَحْمَۃ حال ہے تو اس کے معنی اور ہوں گے اور اگر مفعول لہ ہے تو اس کے معنی اور ہوں گے۔ لفظ رَحْمَۃ کو مفعول لہ سمجھا جائے تو آیت کریمہ کا مطلب ہوگاپیارے محبوب! ہم نے آپ کو کسی اور سبب سے نہیں بھیجا، بلکہ آپ کے بھیجنے کا سبب صرف یہ ہے کہ آپ تمام جہانوں کے لئے رحمت کرنے والے ہیں اور اگر رَحْمَۃ کو حال قرار دیاجائے تو آیت کریمہ کا ترجمہ ہوگااے محبوب!ہم نے آپ کو اور کسی حال میں نہیں بھیجا۔ صرف اس حال میں بھیجا ہے کہ آپ سارے جہانوں پر رحم فرمانے والے ہیں اس تمام گفتگو کا مطلب یہ نکلا کہ رحمت مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے جو مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ اے محبوب! تیرے بھیجنے کا فقط ایک ہی حال ہے کہ میں نے تجھے سارے عالم کے لئے راحم بنا کر بھیجا ہے یا یہ کہ تو سارے عالموں پر رحم کرنے والا ہے۔ اسی سبب سے میں نے تجھے بھیجا ہے کہ تو راحم ہے۔
یہاں یہ بھی پیش نظر رہے کہ سرکار ﷺ
العَالَمِیْن کے لئے رحم فرمانے والے ہیں کوئی شے اس کائنات کی کوئی چیز العَالَمِیْن سے باہر نہیں۔ جیسے ارشاد ہوا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
سب تعریفیں تمام جہانوں کے رب کے لئے ہیں وہ تمام جہانوں کا رب ہے، وہ العالمین کا رب ہے۔ جن کا وہ رب ہے ان کے لئے سرکارﷺ  رحمت فرمانے والے ہیں۔ جب کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سے باہر نہیں تو آقاﷺ  کی رحمت سے باہر کیسے ہوسکتی ہے اور رب کہتے ہیں تربیت کرنے والے کو۔ تربیت کا مطلب ہےپالنا اور پالنے کے لئے رحمت لازمی ہے۔ ماں بچے کو پال نہیں سکتی۔ اس کے لئے اپنی نیند خراب نہیں کرسکتی، اس کے آرام کے لئے خود تکلیف نہیں اٹھا سکتی جب تک بچے کے لئے رحمت کا جذبہ اس کے اندر موجزن نہ ہو۔ انسان تو درکنار، حیوان بھی، چرند، پرند اور درند بھی اپنے بچوں کو اس وقت پال سکتے ہیں جب ان کے اندر بچوں کے لئے رحمت ہو۔ اپنی غذا، اپنا شکار بچوں کو تبھی کھلائیں گے ناں۔
پتا چلا کہ
رَحْمَۃ کے بغیر تربیت نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ گویا فرماتا ہے کہ ربوبیت میری صفت ہے اور رحمت بھی میری صفت ہے۔ اے محبوب! اگرچہ رحمت بھی میری صفت ہے،میں رحمن ہوں، میں رحیم ہوں لیکن میری اس صفت رحمت کا مظہر آپﷺ  ہیں۔ میں نے اپنی ربوبیت عامہ کو اپنی رحمت عامہ میں ظاہر کیا۔ میری رحمت عامہ کا مظہر اتم آپﷺ  ہیں۔ میں نے اپنی رحمت کو آپﷺ  کی صورت میں ڈھال دیا ہے ۔ اس لئے میں نے آپﷺ  کورحمت قرار دیا ہے اور چونکہ آپﷺ  میری صفت کا مظہر ہیں اس لئے آپﷺ  تمام کائنات، ساری خدائی، سب عالموں پر رحم فرمانے والے ہیں۔ اے محبوب! جس کا میں رب ہوں، اس پر آپﷺ  رحمت فرمانے والے ہیں۔
پتا چلا کہ آپﷺ  کی رحمت کے دائرے سے کوئی باہر نہیں۔ وہ انسان ہو ںیا حیوان ہوں، جن ہوں یا فرشتے ہوں، وہ عالم تحت ہو یا عالم فوق، عالم ظاہر ہو یا عالم باطن، وہ عالم خلق ہو یا علم امر ہو، جواہر ہوں یا اعراض ہوں ، لوح و قلم ہو یا عرش و کرسی ہوں، میرے آقاﷺ  سب پر رحم فرمانے والے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کو رحمت کی ضرورت ہوتی ہے، احتیاج ہوتی ہے وہ تو محتاج ہوتا ہے اور یاد رکھئے جس کی حاجت ہوتی ہے وہ پہلے ہوتا ہے اور جو محتاج ہوتا ہے وہ بعد میں ہوتا ہے۔ ہمیں سانس لینے کے لئے ہوا کی احتیاج تھی، ہم پیاس بجھانے کے لئے پانی کے محتاج، ہمیں رہنے، بسنے، چلنے کے لئے زمین کی احتیاج تھی، تو ہم پیدا بعد میں ہوئے۔ ہوا، پانی، زمین وغیرہ پہلے موجود تھیں۔ بچہ بعد میں پیدا ہوتا ہے اس کی ماں کی چھاتی میں دودھ پہلے اتر آتا ہے۔ بچہ سکول میں پڑھنا بعد میں شروع کرتا ہے اس کا استاد اور کتابیں پہلے سے مہیا کیے جاتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ جس کی احتیاج ہو وہ پہلے ہوتا ہے اور جو محتاج ہو وہ بعد میں ہوتا ہے۔ پتا چلا کہ ساری کائنات پر رحمت کرنے والی ذات میرے آقاﷺ  کی ہے تو کائنات بعد میں ہے اور سرکارﷺ  پہلے ہیں۔
سرکارمدینہ ﷺ نے فرمایا
کنت اول النبین فی الخلق واخرہم فی البعث (۱)
میں پیدا ہونے میں سب نبیوں سے پہلے تھا اور تشریف سب کے بعد لایا۔
اور اس لئے فرمایا
یا جابر اول ماخلق اللّٰہ نوری کہ اے جابر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نور کو فرمایا کیونکہ حضورﷺ  محتاج الیہ ہیں اور عالم محتاج ہے اور محتاج، محتاج الیہ کے بعد ہوتا ہے۔ (۲)
شبہ
اس مقام پر ایک شبہ وارد ہوتا ہے اس کا جواب بھی دیتا چلوں۔ اگر کوئی نا سمجھ، یہ کہنے لگے کہ بھائی! جس طرح ہم بعد میں پیدا ہوئے اور زمین پہلے پیدا ہوئی اسی طرح حضورﷺ  بعد میں پیدا ہوئے اور زمین پہلے پیدا ہوئی۔ ہمیں پیاس لگی ہے، ہم پانی پیتے ہیں، پانی پہلے تھا اور ہم بعد میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح سانس لینے کے لئے ہم ہوا کے محتاج، ٹھہرنے کے لئے ہمیں زمین کی اور کھانے کے لئے ہمیں خوراک کی ضرورت ہوتی تھی تو یہ سب چیزیں پہلے تھیں اور ہم بعد میں پیدا ہوئے، ایسے ہی حضورﷺ  کو پیاس اور بھوک لگتی تھی، آپﷺ  بھی ہوا میں سانس لیتے اور زمین پر چلتے تھے۔ اگر پانی نہ ہوتا تو حضورﷺ  کیا پیتے؟ کھانا نہ ہوتا تو آپﷺ  کیا کھاتے؟ ہوا نہ ہوتی تو حضورﷺ  سانس کیسے لیتے؟ زمین نہ ہوتی تو کہاں ٹھہرتے؟ تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ
 رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن ہیں تو سارے عالم کا ہر ذرہ حضورﷺ  کا محتاج ہے۔ حالانکہ حضورﷺ  خود زمین و آسمان اور آب و ہوا کے محتاج۔ حرارت کے لئے آگ کے ، بھوک و پیاس کے لئے کھانے اور پانی کے، ٹھہرنے اورر کنے کے لئے زمین کے اور سانس لینے کے لئے ہوا کے محتاج نہیں؟
اگر کوئی کم عقل اپنی کم عقلی کا مظاہرہ کرے تو اس کانٹے کو میں پہلے ہی نکال دوں۔
شبہ کا ازالہ
یہ شبہ تب پیدا ہوگا جب ہم حضورﷺ  کو اپنے جیسا سمجھ لیں گے۔
میرے دوستو! بے شک حضورﷺ  زمین پر ٹھہرے، ہوا میں سانس لیا۔ آپﷺ  نے پانی پیا اور کھانا کھایا لیکن آپﷺ  ان چیزوں کے محتاج نہیں تھے بلکہ یہ تمام چیزیں حضورﷺ  کی محتاج تھیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جو جس کا محتاج ہوتا ہے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جیسے ہم ان چیزوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ مثلاً آکسیجن ہماری زندگی کے لئے بہت ضروری ہے تو آپ نے ہوائی جہازوں میں دیکھا ہوگا کہ ضرورت کے وقت آکسیجن کی کمی پورا کرنے کے لئے آکسیجن کے چھوٹے چھوٹے سلنڈر لگے ہوتے ہیں۔ جن سے ہم آکسیجن حاصل کرتے ہیں، اس لئے کہ ہم اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے مگر حضورﷺ  کی ذات اقدس کو معراج کی رات میں دیکھ لیں۔معراج کی رات کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ
ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے مقدس بندے کو۔
میرے آقاﷺ  زمین سے اوپر گئے کرۂ ہوا کرۂ پانی کرۂ آگ اور کرئہ زمین سب نیچے رہ گئے اور حضورﷺ  اوپر تشریف لے گئے معلوم ہوا کہ میرے آقاﷺ  پانی کے محتاج ہیں نہ آگ کے، ہوا کے محتاج ہیں نہ زمین کے۔
شاید کوئی یہ کہے کہ حضورﷺ  آسمانوں یا عرش کے محتاج ہیں تو یہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ حضورﷺ  پہلے آسمان سے لے کر ساتویں آسمان کے اوپر حتی کہ عرش کے بھی اوپر تشریف لے گئے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ حضورﷺ  ان میں سے کسی چیز کے محتاج ہیں۔
پتا چلا کہ کائنات کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کے حضورﷺ  محتاج ہوں۔ کیونکہ محتاج، کبھی محتاج الیہ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کی وضاحت کے لئے میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں مثلاً دیکھئے مچھلی اپنی زندگی میں پانی کی محتاج ہے اور پرندے ہوا کے محتاج ، اگر کوئی شخص مچھلیوں کو پانی سے نکال کر، پرندوں کے آشیانوں میں رکھ دے اور ہوا میں رہنے والے پرندوں کو پانی میں ڈال دے تو کیا یہ سب زندہ رہیں گے؟ نہیں، مر جائیں گے کیونکہ مچھلیاں پانی کی محتاج تھیں اور پرندے ہوا کے محتاج تھے۔ تو جو جس کا محتاج ہوتا ہے، وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
٭ میرا یہ عقیدہ ہے کہ زمین نہ تھی، ہاں نہ تھی، آسمان نہ تھے اور عرش بھی نہ تھا جب کہ میرے آقا و مولا حضورﷺ  کا وجود مسعود موجود تھا۔ خالق کائنات نے سب سے پہلے حضورﷺ  کے نور ہی کو تخلیق فرمایا۔ میرے اس عقیدے کی تائید واقعہ معراج سے ثابت ہے۔ اس لئے معراج کی رات حضورﷺ  ان سب چیزوں کو نیچے چھوڑ کر اوپر تشریف لے گئے۔پتا چلا آپﷺ  فرش سے عرش تک کسی چیز کے محتاج نہیں ہیں۔
شبہ
اس مقام پر ایک اور شبہ واردہوتا ہے۔ اس کا جواب بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے کہ جب فرش سے عرش تک تمام اشیاء حضورﷺ  کی محتاج تھیں، تو معراج کی رات آپﷺ  کے بغیر کیسے زندہ رہ گئیں؟ کیونکہ جو جس کا محتاج ہوتا ہے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
شبہ کا ازالہ
تو میں عرض کروں گا کہ یہ تمام خیالات فاسدہ اس لئے پیدا ہوئے کہ لوگوں نے حضورﷺ  کو اپنے جیسا سمجھ لیا۔ خدا کی قسم حضورﷺ  ہم جیسے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے مصطفیٰﷺ  کو سراج منیر فرمایا ہے، سورج کی روشنی زمین پر موجود ہے حالانکہ فلاسفہ کے خیال میں سورج چوتھے آسمان پر ہے۔

کالشمس فی کبدالسماء وضو ء ھا
یغشی البلاد مشارقاو مغاربا

سورج آسمان پر ہونے کے باوجود اس کی روشنی مشرق و مغرب کے شہروں میں پہنچتی ہے۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ سورج تو چوتھے آسمان پر ہے، وہ زمین، پہلے، دوسرے اور تیسرے آسمان سے دور ہے، تو میں کہوں گا کہ جب اس کی روشنی، زمین کی سطح پر موجود ہے تو زمین کس طرح اس سے دور ہے؟ پتا چلا کہ حضورﷺ  عرش پر تھے مگر آپ کی روحانیت زمین کے ذرے ذرے میں موجود تھی اور موجود ہے۔ حضورﷺ  زمین سے اس لئے جدا ہوئے تاکہ پتا چلے کہ آپ زمین کے محتاج نہیں ہیں۔ مگر میرے آقاﷺ  کی روحانیت کی شعاعیں زمین پر پڑتی رہی ہیں۔ ہاں اگر زمین میرے آقاﷺ  کی روحانیت سے جدا ہو جاتی تو ہلاک ہوجاتی، زمین نہ رہتی، پانی سے حضورﷺ  اوپر چلے گئے، اگر حضورﷺ  پانی کے محتاج ہوتے تو آپﷺ  پانی کے بغیر کیسے رہ جاتے؟ لیکن ہم نے دیکھا کہ حضورﷺ  پانی کے اوپر تھے لیکن آپ کی روحانیت پانی پر اسی طرح موجود تھی جیسے سورج کی روشنی زمین پر موجود تھی، اس طرح آپﷺ  زمین پر ہیں تو آپﷺ  کی روحانیت آسمانوں پر جلوہ فگن ہے اور آپﷺ  آسمانوں پر ہیں تو آپﷺ  کی روحانیت زمینوں پر آرہی ہے۔ اگر آپﷺ  فرش پر ہیں تو عرش پر آپ کی روحانیت جلوہ گر ہے اور اگر آپﷺ  عرش پر ہیں تو فرش آپﷺ  کی روحانیت سے بھرپور ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کسی آن کوئی چیز حضورﷺ  سے جدا نہیں ہے، اگر کوئی چیز آپ سے جدا ہو تو وہ باقی نہیں رہ سکتی، کیونکہ ہر چیزتو آپ کی محتاج ہے اور محتاج، محتاج الیہ سے جدا ہوجائے تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ حالانکہ سارے کا سارا عالم زندہ رہا۔ اس لئے کہ حضورﷺ  جدا ہوگئے مگر حضورﷺ  کی روحانیت ان اشیاء سے متصل رہی، پھر جب حضورﷺ  کی روحانیت اور نورانیت متصل رہی تو پتہ چل گیا کہ آپﷺ  کا یعنی محتاج الیہ کا انخلاء نہ ہوا۔
دوستو اور عزیزو! میں نے یہ سب مسائل نہایت سادہ انداز میں آپ کے ذہن میں ڈال دیئے اور آ پ کو بتا دیا کہ حضورﷺ 
رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن ہیں۔ جو چیز رحمت ہو، اس کی حاجت ہوتی ہے جس کی حاجت ہو وہ پہلے ہوتی ہے۔ لہٰذا عالمین کا وجود بعد میں ہے اور حضورﷺ  کا وجود پہلے ہے اور جس کی حاجت ہو اس کے بغیر کوئی چیز رہ نہیں سکتی جبکہ میرے آقاﷺ  تو زمین و آسمان اور آب و ہوا کے بغیر بھی رہ گئے، معلوم ہوا حضورﷺ  ان اشیاء کے محتاج نہیں تھے۔ زمین و آسمان، چاند و سورج، آب وہوا یہ سب حضورﷺ  کے محتاج تھے اور ہیں۔ کیونکہ حضور کی روحانیت ان پر پڑ رہی تھی۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ  کو فرش سے عرش تک پہنچا کر یہ بتا دیا کہ آپﷺ  بے شک زمین پر چلے مگر زمین کے محتاج ہو کر نہیں، بلکہ زمین آپﷺ  کی محتاج تھی، بے شک آپﷺ  نے پانی پیا مگر پانی کے محتاج ہو کر نہیں پیا بلکہ پانی میرے حضورﷺ  کے قرب سے پیاس بجھاتا ہے۔ لوگ ہوا سے زندگی حاصل کرتے ہیں اور ہوا حضورﷺ  کے قرب سے زندگی حاصل کرتی ہے، اگر کرۂ ہوا پر حضورﷺ  کی روحانیت اور نورانیت نہ ہوتی تو ہوا فنا ہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ  نے اپنے محبوب کی روحانیت اور نورانیت کو ہوا، پانی، زمین و آسمان پر رکھا تاکہ یہ زندہ رہیں اور جب میرے آقاﷺ  عرش سے بھی اوپر گئے تو عرش کے اوپر بھی آپﷺ  کی روحانیت اور نورانیت کو برقرار رکھا تاکہ عرش بھی زندہ رہے۔ خدا کی قسم میرے آقاﷺ  کائنات کے لئے منبع حیات ہیں اور پھر کوئی یہ کہے کہ وہ مرگئے ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیسے زندہ رہ گیا؟مرکز حیات تو مصطفی ﷺ ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوگئی کہ کوئی کہے بجلی گھر میں تو بجلی نہیں ہے مگر میرے گھر میں سب بلب روشن ہیں، یہ تو ہوسکتا ہے کہ بجلی گھر میں موجود ہواور تیرے گھر میں اندھیرا ہو، کیوں؟ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ تو نے ابھی فٹنگ ہی نہ کرائی ہو اور اگر بالفرض کنکشن بھی مل گیا ہو تو پھر بھی ممکن ہے کہ تیرے گھر میں اندھیرا ہو کیونکہ تو نے ابھی ٹیوب لائٹ اور بلب نہ لگوائے ہوں، اگر بلب بھی لگوا لئے ہوں تو پھر بھی ہوسکتا ہے کہ اندھیرا تیرا مقدر ہو اس لئے کہ تو نے ابھی سوئچ ہی آن نہ کیا ہو۔ اگر تو نے سوئچ بھی آن کردیا ہو تو اجالے کی پھر بھی ضمانت نہیں۔ ممکن ہے تیرے بلب کا فیوز اڑگیا ہو۔
جناب یہ تو ممکن ہوسکتا ہے کہ بجلی گھر میں بجلی ہو اور آپ کا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہو لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ بجلی گھر میں بجلی نہ ہو اور آپ کا گھر روشن ہو، اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضورﷺ  مردہ ہوں اور تو زندہ رہے کیونکہ
پیارے حبیب! ہم نے آپ کو سارے عالموں کے لئے رحمت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
اس سے ایک مسئلہ تو یہ ثابت ہوا کہ حضورﷺ  سارے عالموں کے لئے رحمت کرنے والے ہیں اور آپ کا وجود سب عالموں سے پہلے ہوگا اور
العالمین کا وجود بعد میں ہوگا لہٰذا حضورﷺ  پہلے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ جب حضورﷺ  سارے عالموں پر رحمت کرنے والے ہیں تو حضورﷺ  کی سب کو ضرورت ہے اور جس چیز کو کسی کی ضرورت ہو وہ چیز اس کے بغیر نہیں رہ سکتی، تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ  کے بغیر کوئی نہیں رہ سکتا۔
رہا یہ سوال کہ حضورﷺ  زمین کے بغیر، پانی اور خوراک کے بغیر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب میں نے دیا کہ معراج کی رات کیونکہ زمین، کرۂ ہوا، کرۂ پانی ساتوں آسمان اور عرش نیچے رہ گئے اور حضورﷺ  اوپر چلے گئے اور ان سب اشیاء کے بغیر زندہ رہ گئے۔ حضورﷺ  جب معراج کی رات عرش پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو منزل اجلال پر بلایا اور فرمایا
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی
یعنی سب منزلیں نیچے رہ گئیں اور حضورﷺ  اوپر پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ حضورﷺ  ان چیزوں کے محتاج ہوتے تو آپﷺ  ان کے بغیر زندہ نہ رہتے مگر آپﷺ  ان کے بغیر زندہ رہے، پتا چلا کہ یہ تمام اشیاء مصطفیٰﷺ  کی محتاج ہیں، مصطفیٰﷺ  ان کے محتاج نہیں۔
پھر جب یہ اعتراض ہوا کہ اگر یہ چیزیں حضورﷺ  کی محتاج تھیں تو آپﷺ  کے معراج پر جانے کے بعد یہ چیزیں کیسے زندہ رہ گئیں؟ اس کا جواب بھی میں نے دے دیا ہے کہ خدا نے اپنے محبوب کی روحانیت کو ان کے ساتھ متصل رکھا اگر اُن کی روحانیت متصل نہ رہتی تو یہ چیزیں زندہ نہ رہتیں۔ زمین، آسمان، پانی، آگ اور فرش حتی کہ عرش کچھ بھی زندہ نہ رہتا مگر یہ سب چیزیں اس لئے زندہ رہیں کہ خداوندتعالیٰ نے اپنے محبوب کی روحانیت اور نورانیت کو ان اشیاء کے ساتھ متصل رکھا، کیونکہ یہی ذات منبع و مرکز حیات ہے اس طرح یہ بات واضح ہو کر سمجھ آگئی۔
ایک اور بات بھی عرض کردوں، وہ یہ ہے کہ حضورﷺ  سارے عالموں کے لئے رحمت کرنے والے ہیں۔ آخر کوئی وجہ بھی تو ہوگی آپﷺ  رحمت کرنے والے کیوں ہیں؟ تو میں نہیں کہتا تفسیرروح المعانی جو سیدی علامہ محمود آلوسی حنفی بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے تیس جلدوں میں لکھی ہے، اٹھاکر دیکھیں، انہوں نے اس میں ایک عبارت لکھی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ سارے عالموں پر رحمت کرنے والے اس لیے ہیں کہ حضورﷺ  روف و رحیم
العالمین کی اصل ہیں اور اصل کے اندر تمام فروع کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ اس لئے پتا چلا کہ حضورﷺ  العالمین کے لئے رحمت کیوں ہیں؟ بات سمجھانے کے لئے مثال دیتا ہوں کہ درخت کی اصل جڑ ہے، تنا ، شاخیں اور پتے اس کی فرع ہیں۔ جڑ ان سب کے لئے رحمت ہے۔ انہیں نباتاتی حیات اور غذا پہنچا رہی ہے کہ یہ جڑ زمین سے خوراک، پانی حاصل کرکے تمام فروع کو پہنچاتی ہے اور اگر کوئی جڑ کے زندہ ہونے کو دیکھنا چاہے تو اس درخت کے تنے، شاخوں اور پتوں کو دیکھے، اگر وہ سر سبز ہیں تو جڑ زندہ ہے ورنہ زندہ نہیں ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جڑ زندہ ہو لیکن اس کا تعلق بعض شاخوں سے منقطع ہوگیا ہو جس کی وجہ سے وہ سوکھ گئی ہوں اور کچھ خوش قسمت شاخیں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جن کا تعلق جڑ سے برقرار ہو اور سر سبز ہوں۔ دنیا میں حضورﷺ  کی محبت کی نعمت سے محروم لوگ اچھی طرح جان لیں کہ اسی طرح جب قیامت آئے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضورﷺ  کی ذات مقدسہ کے ساتھ ان کے رابطے تو منقطع فرمادے گا کہ وہ تمام کے تمام اس طرح جھڑ جائیں گے جیسے پیڑ کے پتے جھڑ کر ختم ہوجاتے ہیں۔
بہرحال میں آپ کی خدمت میں عرض کررہا تھا کہ حضورﷺ 
رحمۃ للعالمین اس لئے ہیں کہ آپﷺ لعالمین کی اصل ہیں اور ہر اصل کے اندر فرع کے لئے رحمت ہوتی ہے، لہٰذا العالمین کے لئے حضورﷺ  کے اندر طبعاً رحمت ہے اور حضورﷺ  جب اصل ہیں تو فرع کو جو کچھ ملے گا اصل سے ملے گا جیسے درخت کو جڑ کے بغیر کچھ نہیں مل سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے جو کچھ دینا تھا وہ مصطفیٰﷺ  کودے دیا ہے کہ اے میرے محبوب! کائنات کی اصل اور جڑ تو آپﷺ  ہیں اور شاخوں کو جو کچھ دینا ہے وہ آپ ہی نے دینا ہے اور تقسیم کرنا ہے، اس لئے میرے محبوب! میں تجھے دوں گا اور تو آگے شاخوں کو دے گا۔
اٹھارہ ہزار عالم جس کے اندر، زمین و آسمان اور اس کی تمام مخلوق، جن و انس ، ملائکہ ، چرند و پرند، نباتات و جمادات، جواہر و اعراض، فوق و تحت، عالم امرو نہی اور عالم برزخ، الغرض تمام خلق کی سرسبزی اور شادابی اس اصل کی مرہون منت ہے۔ جیسے تمام درخت جڑ سے غذا لے کر سرسبز و شاداب ہے اور جڑ زمین سے غذا لے رہی ہے پھر شاخوں اور پتوں کو پہنچا رہی ہے۔ اسی طرح حضورﷺ  اپنے رب سے تمام فیض لیتے ہیں اور پھر اسے آگے تمام کائنات کو دیتے ہیں۔ اس لئے حضورﷺ  نے فرمایا
واللّٰہ یعطی وانا قاسم
اللہ تعالیٰ  دیتا ہے اور میں بانٹتا ہوں۔
تومعلوم ہوگیا کہ حضورﷺ 
رحمۃ للعالمین ہیں۔
جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضورﷺ 
العالمین کے لئے رحمت ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ حضورﷺ  کی دنیا میں کیا رحمتیں ہیں؟ حضورﷺ  کی دنیا میں وہ رحمتیں ہیں کہ جن کو ہم گن ہی نہیں سکتے۔ ہمارے اندر علم و عمل ہے، تقویٰ و پرہیزگاری ہے، ایمان ہے، نیز ہمارے اندر دنیا و آخرت کی نعمتیں اور رحمتیں عالم برزخ کی نعمتیں، اور عالم نوم و یقظہ کی نعمتیں ہیں الغرض دین و دنیا کی تمام نعمتیں ہیں جو ہمارے لئے رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ساری نعمتیں اپنے حبیبﷺ کو عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ نے وہ نعمتیں ہمیں عطا فرمائیں، جن کا شمار نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا۔ (النحل: ۱۸)
یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں گنو جو حضور صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم پر ہیں تو انہیں شمار نہیں کرسکو گے۔
وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً۔ (لقمان:۲۰)
اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کردیں
یہ تمام نعمتیں اور رحمتیں حضورﷺ  کے دامن سے وابستہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اے میرے محبوب!میں نے تجھے
العالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
جو نعمت کسی کو ملتی ہے وہ تیرے دامن سے ملتی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے کہا
اِنَّآ اَعْطَیْنَاکَ الْـکَوْثَرَ۔ (الـکوثر: ۱)
بے شک آپ کو خیر کثیر عطا فرمائی۔
یعنی اے محبوب! میں نے کائنات کی ساری کی ساری خیر، خیر کثیر تجھے دے دی کہ تو اصل ہے اور العالمین تیری فرع ہیں اور فرع کو جو کچھ ملے گا وہ اصل سے ملے گا۔ اس لئے اے حبیب! آپﷺ لعالمین کو میری نعمتیں تقسیم فرماتے رہیں۔
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں اگر جڑ کو کچھ ہوجائے تو کیا درخت باقی رہے گا؟ ہرگز نہیں، اگر حضورﷺ  مردہ ہوجائیں تو کیا کائنات باقی رہے گی؟ ہرگز نہیں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے۔ بجلی گھر میں بجلی نہ ہو تو کوئی کہے میرا گھر روشن ہے، سراسر نادانی ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ بجلی گھر میں بجلی ہونے کے باوجود تیرا گھر روشن نہ ہو کیونکہ تو نے ابھی بجلی حاصل ہی نہیں کی۔ میرے آقاﷺ  کی حیات کے باوجود تو مردہ ہوسکتا ہے کیونکہ تو نے ابھی تاجدار مدنیﷺ سے کنکشن پیدا نہ کیا ہو۔
اے محترم دوستو اور عزیزو! اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ حضورﷺ  تمام جہانوں پر رحمت فرماتے ہیں اور ہر رحمت حضورﷺ  سے ہے یعنی، علم و عمل، زہد و تقویٰ و ایقان، حلال و حرام کی تمام تفصیلات، عبادت کے تمام معا ملات، عالم برزخ اور عالم عقبیٰ کی ہر راحت، الغرض دین و دنیا کی ہر بہتری اور رحمت حضورﷺ  کے ہاتھوں سے ملی، گویا آپﷺ 
العالمین کے لئے رحمت ہیں اور العالمین میں سب چیزیں داخل ہیں۔ تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپﷺ العالمین میں شامل ہیں یا العالمین سے باہر ہیں۔ اگر آپﷺ العالمین سے باہر ہیں تو خدا آپ کا رب کیسے ہوگا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ تم اگر العالمین میں سے نہیں ہو تو وہ تمہارا رب کیسے ہوگا؟ میں کہتا ہوں جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جاتی ہے وہاں تک حضورﷺ  کی رحمت جاتی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ رحمت حضورﷺ  کی ذاتی نہیں ہے، آپﷺ  اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا مظہر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپﷺ للہ تعالیٰ کی رحمت ہیں۔ اب ہر چیز حضورﷺ  کی رحمت کے دامن میں ہے اور حضورﷺ  عالم کے ہر ذرے پر رحم فرما رہے ہیں۔
شبہ
شاید آپ لوگ یہ کہیں گے حضورﷺ  نے ابوجہل، ابو لہب، عتبہ، شیبہ اور یزید پر کون سا رحم کیا ہے؟ کوئی بھی رحم نہیں کیا۔ تو پھر حضورﷺ  کو رحمتہ للعالمین کیوں کہہ سکتے ہیں؟ حالانکہ العالمین میں تو یہ لوگ بھی شامل ہیں۔
شبہ کا ازالہ
یہ بتائو، کیا میرے آقاﷺ  کی رحمت خدا تعالیٰ کی رحمت سے زیادہ ہے؟ خدا تعالیٰ کو رحمن و رحیم مانتے ہو کہ نہیں؟ اور
وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ۔ (الاعراف: ۱۵۶)
قرآن کریم میں ہے کہ نہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری رحمت نے ہر شے کو گھیر ے میں لے لیا ہے اور میری رحمت کے دامن میں سب ہیں تو کیا ابوجہل، ابو لہب، عتبہ، شیبہ ، کعب بن نضر، عبداللہ بن ابی، یزید اور شمر وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت میں لے لیا ہے کہ نہیں، پھر کیا یہ سب جنتی ہوگئے؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ حضورﷺ  کی رحمت پر اعتراض ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کوئی اعتراض نہیں، ارے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر تو حضورﷺ  ہیں۔ خدا کی قسم حضورﷺ  کی رحمت تو خدا ہی کی رحمت کا ظہور ہے اور وہ سب کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔مگر کیا کیا جائے؟ کوئی خود ہی اس رحمت سے استفادہ نہ کرے تو اس کا اپنا مقدر ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَاھُوَ شِفَائٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔ (بنی اسرائیل: ۸۲)
قرآن کریم میں ہم وہ چیز نازل فرماتے ہیں جو ایمان والوں کے لئے رحمت اور شفا ہے۔
قرآن کریم شفا اور رحمت ہے کہ نہیں، بے شک قرآن کریم شفا اور رحمت ہے لیکن کروڑوں انسان جو قرآن کریم کو نہیں مانتے اور اس کا انکار کرتے ہیں تو ان کے لئے شفاء ہے، نہ رحمت۔ بلکہ قرآن کریم نے فرمایا
وَلَا یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ اِلاَّ خَسَارًا۔ (بنی اسرائیل: ۸۲)
اور وہ نہیں زیادہ کرتا ظالموں کے لئے مگر نقصان کو۔
قرآن کریم تو رحمت ہے مگر اس کے لئے جو اس سے رحمت حاصل کرے اگر کوئی قرآن کریم سے رحمت حاصل نہیں کرتا تو یہ اس کا قصور ہے قرآن کریم کا نہیں۔ یہ قصور تو اس کا ہے جس نے قرآن کریم سے رحمت حاصل نہیں کی۔ مولانا سعدی کا ایک شعر یاد آیا ہے انہوں نے کہا

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و درشور بوم و خس

بارش کہ اس کی طبیعت کے پاکیزہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں باغ میں گل لالہ اگاتی ہے اور خراب زمین میں کانٹے اور گھاس۔
فرماتے ہیں جو بارش چمنستان میں برستی ہے وہی بارش خارستان میں بھی برستی ہے۔ اچھی زمین اور چمنستان میں بارش سے پیداوار بڑھتی ہے اور پھول اور پھل اگتے ہیں مگر شور زدہ زمین میں ایسی بارش سے کانٹے دار جھاڑیاں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ تو اب کوئی کہے کہ یہ باران کیا ہوئی اس سے تو سارے کانٹے ہی کانٹے ہو گئے۔ تو دوستو! یاد رکھو اس میں باران رحمت کا کوئی قصور نہیں ہے قصور اس زمین کا ہے جس میں شور تھا یہ قرآن کریم اور حضورﷺ  کی رحمت کا قصورنہیں۔ یہ ابو جہل کی زمین کا قصور تھا اس کو شور لگا ہوا تھا جس قدر رحمت کی بارش ہوتی گئی اس قدر کانٹے بڑھتے گئے کیونکہ شور زمین میں جتنی بارش ہوگی کانٹے پیدا ہوتے جائیں گے اور خارستان بڑھتا جائے گا تو اس لئے فرمایا
وَلَا یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا
قرآن کریم ہی رحمت ہے چونکہ ظالموں کے اندر اس رحمت کو حاصل کرنے کی استعداد ہی نہیں ہے۔ اس لئے جتنا قرآن کریم نازل ہوگا، اتنا ہی انکار کریں گے اور مذاق اڑائیں گے ، لہٰذا خسارہ بھی اسی قدر بڑھتا جائے گا۔کانٹوں میں اسی قدر اضافہ ہوتا جائے گا۔ تو پتا چلا کہ قصور حضورﷺ  کی رحمت کا نہیں بلکہ ان کا ہے جن کے دلوں کو شور لگا ہوا ہے، نفاق اور شرک کی دیمک جن کے دلوں کو لگی ہوئی ہے اور اگر مصطفیٰﷺ  کی رحمت پر یہ قصور عائد کرو گے تو قصور خدا کی ذات پر بھی آئے گا اس لئے کہ حضورﷺ  اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر اتم اور مظہر اعلیٰ ہیں اور خدا وند قدوس قصور سے پاک ہے۔ لہٰذا اس کی رحمت کے مظہر اتم بھی قصور سے پاک اور مبرا ہیں۔
بہرحال
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن بے شک میرے آقاﷺ  سارے عالموں پر رحمت فرمانے والے ہیں۔ یہ سارے عالم، زمین و آسمان اور اس کی مخلوق اور تمام کائنات سب پر حضورﷺ  کی رحمت ہے۔ پھر العالمین تو بڑی چیز ہے کسی ایک شخص پر بھی اس وقت تک رحم نہیں کیاجاسکتا جب تک راحم میں یہ چار شرطیں نہ ہوں بلکہ رحم کرنے کے لئے یہ چارشرطیں ضروری ہیں۔ پہلی شرط تو یہ ہے کہ رحم کرنے والا زندہ ہو ورنہ رحم نہیں کرسکے گا۔ اگر وہ مردہ ہے وہ بیچارہ تو خود قابل رحم ہو گا۔ وہ دوسرے پر کس طرح رحم کرے گا مگر آقاﷺ  قرآن کریم کی رو سے العالمین پر رحم فرمانے والے ہیں اگر ہم کہتے ہیں معاذ اللہ وہ تو مرکر مٹی ہوگئے تو بتایئے وہ رحم کیسے کریں گے؟ کیا کوئی مردہ بھی کسی پر رحم کرسکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں کرسکتا، حضورﷺ  حیات ابدی کے ساتھ زندہ ہیں اور وہ تو وہ قوت اور حیات رکھتے ہیں جو پوری کائنات میں نہیں ہے بلکہ پوری کائنات کو زندگی بخشنے والے ہیں اور آپﷺ  میں پوری کائنات کی قوت حیات ہے اور آپﷺ  کی قوت حیات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک آدمی آدھا سیر آٹا پیستا ہے اور دوسرا آدمی چار ہزار من آٹا پیستا ہے۔ تو آپ بتایئے زیادہ طاقت کس کی ہوگی اور زیادہ قوت حیات کس کے اندر ہوگی تو صاف ظاہر ہے جو چار ہزار من آٹا پیسے گا طاقت اس کے اندر زیادہ ہوگی۔ کوئی آدمی صرف ایک شخص پر رحم کرتا ہے اور ایک ذات مقدسہ ساری کائنات پر رحم کرنیوالی ہے۔ فرق تو واضح ہے تو پتا چلا کہ ساری کائنات کے اندر وہ حیات نہیں ہے جو مصطفیٰﷺ  کے اندر ہے کیونکہ جب تک کوئی زندہ نہ ہو تو وہ راحم ہوہی نہیں سکتا اور میرے آقاﷺ  راحم ہیں۔ راحم بعد میں ہوں گے اور زندہ پہلے مانو گے۔ پھر خالی زندہ ہونے سے بھی رحم نہیں ہوتا دوسری اور بات بھی ضروری ہے، وہ کیا ہے؟ کہ رحم کرنے والا زندہ بھی ہو اور جس پر رحم کرتا ہے اس کا حال بھی جانتا ہو اگر کوئی زندہ ہو مگر حال نہ جانتا ہو تو وہ کوئی رحم نہیں کرسکتا۔ آپ دیکھیں میں ملتان سے آیا اور میں نے کہا مدینہ والو! مجھ پر رحم کرو تو آپ کہیں گے کہ بھائی اپنا حال بتائو ہم رحم کرنے کو تیار ہیں میں کہوں کہ بھائی حال مت پوچھو۔ بس رحم کردو تو آپ کہیں گے کہ حال تو بتانا پڑے گا کہ اگر آپ بھوکے ہیں تو ہم آپ کو کھانا کھلا کر رحم کردیں، اگر آپ پیاسے ہیں تو ہم آپ کو پانی پلا کر آپ پر رحم کردیں، اگر آپ بیمار ہیں تو ڈاکٹر کو بلوا کر دوا دیکر آپ پر رحم کردیں، اگر آپ کے پاس رقم نہیں ہے تو آپ کو رقم دیکر آپ پر رحم کردیں۔ اگر وطن واپس جانے کے لئے بے قرار ہیں تو ہم آپ کو وطن پہنچا کر رحم کردیں، مگر اپنا حال تو بتائو! تو آپ کہیں گے کہ جب تک حال معلوم نہ ہو تو کوئی رحم نہیں ہوسکتا۔

 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج