رحمت عالمﷺ

محترم حضرات! آپ بڑے خوش نصیب ہیں کہ اس وقت حرم مدینہ میں تشریف فرما ہیں۔ وہ مدینے کی زمین کہ جو آسمانوں سے زیادہ اونچی ہے۔ آسمانوں سے فرشتے آکر جس زمین کو چومیں اور جس سر زمین پر بارگاہ نبوت میں سلام پیش کریں اندازہ فرمائیں اس زمین کا کیا مقام ہوگا؟ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا وہ شعر یاد آتا ہے۔

؎ حرم کی زمین اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانیوالے

اور میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا سر بھی اس قابل نہیں کہ اس زمین پر رکھا جائے۔ یہ وہ زمین ہے کہ چپے چپے پر اللہ تعالیٰ  کے حبیب ﷺ کے قدمین مطہرین مس ہوئے ہیں اور سرکار دوعالم ﷺ کی ذات مقدسہ نے مدینے کی فضائوں میں اپنی انفاس قدسیہ سے وہ انوار بھر دیئے ہیں جو قیامت اور ابد تک باقی رہیں گے مگر میں یہی عرض کروں گا کہ ان انوار کی برکات کو حاصل کرنا یہ اعزاز پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ  ایسی روحانیت عطا فرمائے کہ ہم ان انفاس(انوار)قدسیہ کی برکات کو حاصل کرسکیں۔ میں نہایت ہی اختصار اور جامعیت کے ساتھ چند کلمات اس آیت کریمہ کے متعلق عرض کروں گا اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو اے محبوب مگر رحمت کرنے والا بناکرتمام جہانوں کے لئے۔
دیکھئے
وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ میں ما نافیہ ہے اور الا اثبات کے لئے آتا ہے اور نفی کے بعد جب اثبات کے معنی کلام میں آجائیں تو حصر کے معنی پیدا ہوتے ہیں اور حصر میں ماسوائے مذکور کی نفی ہوتی ہے ۔ جیسے ہم کہیں لَـآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو اس میں اللہ تعالیٰ  مذکور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  کے سوا ہر ایک سے الوہیت کی نفی ہے ۔ الوہیت صرف اللہ تعالیٰ  کی ذات کے لئے ثابت ہے۔ باقی سب سے الوہیت کی نفی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ اے میرے محبوبﷺ  ! میں نے تجھے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے اور باقی تجھے کچھ بھی بناکر نہیں بھیجا۔
وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ میں ک کے ضمیر خطاب کا مصداق اور مخاطب صرف حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات مقدسہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میرے محبوب ﷺ ! یہ صرف تیری ہی شان ہے کہ میں نے تجھ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ضمیر خطاب کا مخاطب اور مصداق حضورﷺ کی ذات مقدسہ ہے(یعنی)حضور ﷺ کی ذات مقدسہ سراپا رحمت ہے۔یہ ایک بات ذہن کے گوشوں میں یاد رکھئے۔
دوسری بات
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن میں یہ ہے کہ لفظ رحمت عربی کے قاعدے کے لحاظ سے مصدر ہے اور مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہوا کرتا اور رحمۃ مبالغتاً کبھی مصدر کے معنی میں اسم فاعل کے لئے آتا ہے اور کبھی مصدر کے معنی میں اسم مفعول کے لئے آتا ہے۔ یہ لفظ رحمت مصدر اور راحم اس کا اسم فاعل ہے۔ تو اس رحمت کے معنیراحم کے ہیں۔ یعنی رحمت کرنے والے کو الرحیم کہتے ہیں۔
تو اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اے میرے محبوب ﷺ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے صرف رحمت کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔ تو اب اس حصر کا مفاد کیا ہوگا؟ یہ تو اب
رحمۃ کے لفظ کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ رحمۃ کے متعلق آپ نے ایک بات سمجھ لی کہ رحمت کے معنی راحم کے بطور اسم فاعل کے ہیں اور دوسری بات کہ رحمۃ کے معنی ترکیب نحوی میں بعض علماء نے کہا کہ یہ مفعول مطلق ہے، بعض نے کہا یہ مفعول لہ ہے اور بعض نے کہا کہ یہ حال ہے کسی نے اس کو ضمیر خطاب سے حال قراردیا اور کسی نے اس کو مفعول لہ قرار دیا۔ اَرْسَلْنٰـکَ تو فعل ہے اور مفعول لہ ہو گا۔ اور اگر اس کو حال قرار دیں تو صیغہ تو پھر بھی فعل کا ہوگا۔ مگر وہ حال ہوگا ۔ ظاہر ہے کہ اس کا عامل بھی فعل ہوتا ہے۔ اگرچہ ذوالحال کا حال بیان کیا جاتا ہے۔ حال کے معنی یہ ہیں کہ ذوالحال کے معنی کی ہیئت بہت بیان کرے فاعل یا مفعول کا حال بیان کرنا ذوالحال کہلاتا ہے۔
بعض نے کہا یہ حال ہے۔ اگر حال ہے تو اس کے معنی الگ ہوں گے اور اگر مفعول
لہ ہے تو اس کے معنی الگ ہوں گے میں ان کے الگ الگ معنی بیان کئے دیتا ہوں۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن کے معنی یہ ہوں گے
کہ پیارے حبیب ہم نے آپ کو کسی اور سبب سے نہیں بھیجا بلکہ آپ ﷺ کے بھیجنے کا سبب صرف یہ ہے کہ آپ ﷺ تمام جہانوں کے لئے رحمت کرنے والے ہیں۔ اگر
رحمۃ کو حال قرار دیں تو وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن کا ترجمہ یہ ہوگا کہ پیارے حبیب! ہم نے آپ کو اور کسی حال میں نہیں بھیجا صرف اس حال میں بھیجا ہے کہ آپ ﷺ سارے جہانوں پر رحم فرمائیں۔ یہ رحمۃ مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں بھی ہے۔ مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اور حال بھی اور دونوں تقریروں پر معنی الگ الگ ہیں۔ لیکن مفاد ایک ہے اور وہ یہ کہ اے پیارے محبوب ﷺ تیرے بھیجنے کا فقط ایک ہی حال ہے کہ میں نے تجھے سارے عالم کے لئے راحم بناکر بھیجا ہے یا یہ کہ تو سارے عالموں پر راحم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یا یہ کہ تو سارے عالموں پر رحم کرنے والا ہے۔ اسی سبب سے میں نے تجھے بھیجا ہے تو راحم ہے اور العَالَمِیْنَ میں کوئی چیز حائل نہیں ہے جیسے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ میں اللہ تعالیٰ  سارے عالموں کا رب ہے یعنی کوئی چیز اللہ تعالیٰ  کی ربوبیت سے باہر نہیں ہے تو جو چیز اللہ تعالیٰ  کی ربوبیت سے باہر نہیں تو وہ میرے آقا ﷺ کی رحمت سے کیسے باہر ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ  تمام عالموں کا رب ہے اور میرے آقا ﷺ تمام عالموں کے لئے رحمت فرمانے والے ہیں اور رب کے معنی تربیت کے ہیں اور تربیت کے معنی ہیں پالنا اور پالنے کے لئے رحمت بڑی ضروری ہے کہ رحمت کے بغیر پالنا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ماں اپنے بچے کو اس وقت پال سکتی ہے جب اس کے دل میں بچے کے لئے رحمت ہو انسان تو درکنار حیوان بھی اپنے بچوں کو اس وقت تک پال نہیں سکتے جب تک ان کے دل میں بچوں کے لئے رحمت نہ ہوخواہ پرندے ہوں یا درندے کیونکہ ان کے دل میں ان کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ پتا چلا کہ رحمت کے بغیر تربیت نہیں ہوا کرتی اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ ربوبیت میری صفت ہے اور رحمت بھی میری صفت ہے۔ رحمت صفت میری ہے مگر اس کا مظہر تو ہے۔ میں نے اپنی صفت ربوبیت کو صفت رحمت عامہ کے ضمن میں ظاہر کیا۔ میری رحمت عامہ کا مظہر اتم آپ ﷺ ہیں اس لئے میں نے آپ ﷺ کو رحمت قراردیا اور تو فقط کسی ایک چیز پر رحم نہیں کررہا بلکہ سارے عالموں پر رحم کررہا ہے۔ اب یہاں کئی باتیں ہمارے سامنے آئیں کہ میرے آقا ﷺ سارے عالموں پر رحم کرنے والے ہیں تو سارے عالموں میں زمین و آسمان، لوح و قلم، عرش و کرسی اور اس میں موجود تمام مخلوق جیسے جن و انس، ملائکہ و ارواح، عالم خلق اور عالم امر، عالم فوق اور عالم تحت، عالم ظاہر اور عالم باطن، عالم جواہر و اعراض العالمین میں شامل ہیں۔
میرے آقا ﷺ زمین و آسمان کی تمام مخلوق پر راحم ہیں۔ لوح و قلم، عرش و کرسی اور ملائکہ حتی کہ جبرائیل امین علیہ السلام پر بھی رحم فرمانے والے ہیں۔
سرکار اول الخلق ہیں۔ ایک شبہ کا ازالہ
حضور ﷺ جس کے لئے رحمت ہوں گے اس کا وجود پہلے ہوگا یا جو رحمت ہوگا اس کا وجود پہلے ہوگا؟ تو یقیناً اس کا وجود پہلے ہوگا جو رحمت ہوگا۔ کیوں؟ اس لئے کہ جو رحمت ہوتا ہے اس کی طرف احتیاج ہوتی ہے اور جس کے لئے رحمت ہو وہ محتاج ہوتا ہے۔
العالمین کے لئے حضور ﷺ رحمت ہیں۔ معلوم ہوا العالمین میرے محبوب ﷺ کا محتاج ہے کیونکہ وہ رحمت ہیں وہ راحم ہیں۔ یاد رکھو، جس کی حاجت ہو وہ پہلے ہوا کرتا ہے اور جو حاجت مند ہو وہ بعد کو ہوا کرتا ہے دیکھئے ہمیں چلنے کے لئے زمین کی حاجت تھی تو ہم پہلے پیدا ہوئے یا زمین۔ تو زمین پہلے پیدا ہوئی۔ زمین نہ ہوتی تو ہم چلتے کہاں؟ ہمیں ہوا کی حاجت تھی ہم بعد کو پیدا ہوئے۔ ہوا پہلے پیدا ہوئی میں آپ سے کیا کہوں؟ بچہ بعد میں پیدا ہوتا ہے اور ماں کی چھاتی میں دودھ پہلے ہوتا ہے۔ چونکہ جس چیز کی حاجت ہوتی ہے وہ پہلے ہوتی ہے معلوم ہوا اللہ تعالیٰ  کے سوا کائنات کا ہر ہر ذرہ بعد کو ہوا اور محبوب مصطفی ﷺ سب سے پہلے ہوئے اور عالم کا ہر ہر ذرہ میرے آقا ﷺ کا محتاج ہے کیونکہ وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن آپ ﷺ سارے عالموں پر رحم فرمانے والے ہیں رحم فرمانے والے کی ضرورت ہوتی ہے اور جس کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہلے ہوتا ہے اور جو ضرورت مند ہوتا ہے وہ بعد کو ہوتا ہے لہٰذا العالمین کا وجود بعد کو ہے اور مصطفی ﷺ کا وجود پاک پہلے ہے اس لئے سرکار ﷺ نے فرمایا
انا اولھم فی الخلق و آخرھم فی البعث
اور دوسری روایت میں ہے
کنت اول الناس فی الخلق و آخرھم فی البعث
اور تیسری روایت میں ہے
کنت اولہم فی الخلق و آخرھم فی البعث (۱)
میں بااعتبار پیدائش کے سب سے پہلے اور نبیوں میں با اعتبار بعثت کے آخری ہوں۔
اور اسی لئے فرمایا اے جابر
اول ما خلق اللّٰہ نوری (۲)
اے جابر! سب سے پہلے اللہ تعالیٰ  نے میرے نور کو پیدا کیا۔
کیونکہ حضورﷺ تو محتاج الیہ ہیں اور عالم محتاج ہے۔ محتاج، محتاج الیہ کے بعد ہوتا ہے۔
کائنات کی ہر چیز حضور کی محتاج ہے۔ ایک شبہ کا جواب
اگر کوئی خردماغ یہ کہے کہ بھائی جس طرح ہم بعد کو پیدا ہوئے اسی طرح حضورﷺ بعد کو پیدا ہوئے اور زمین پہلے پیدا ہوئی۔ جس طرح ہم پانی پیتے ہیں، پیاس لگتی ہے، ہم بعد کو پیدا ہوئے پانی پہلے تھا۔ ہم نے پانی پیا، پیاس بجھائی۔ اس لئے سانس لینے کے لئے ہم ہوا کے محتاج ہوئے اور ہمارے ٹھہرنے کے لئے زمین پہلے تھی، ہمارے کھانے کے لئے خوراک پہلے تھی اور ہم بعد کو پیدا ہوئے، اسی طرح حضور ﷺ کو پیاس اور بھوک لگتی تھی۔ آپ ہوا میں سانس بھی لیتے تھے اور زمین پر چلتے تھے۔ اگر پانی نہ ہوتا تو حضورﷺ  کیا پیتے۔ کھانا نہ ہوتا تو حضورﷺ  کیا تناول فرماتے۔ ہوا نہ ہوتی تو سانس کیسے لیتے؟ زمین نہ ہوتی تو ٹھہرتے کہاں؟ لہٰذا تم یہ کہتے ہو کہ سارے عالم کا ہر ذرہ حضورﷺ  کا محتاج ہے حالانکہ حضورﷺ  خود زمین و آسمان، آب و باد کے محتاج ہیں۔ حرارت کے لئے آگ کے، بھوک و پیاس کے لئے کھانے اور پانی کے، ٹھہرنے اور چلنے کے لئے زمین کے سانس لینے کے لئے ہوا کے محتاج ہیں۔ اگر کوئی خردماغ اپنی خردماغی کا مظاہرہ کرے تو اس کانٹے کو میں پہلے ہی نکال دوں۔
یہ شبہ تب پیدا ہوا جب ہم نے حضورﷺ  کو اپنے جیسا سمجھ لیا۔
میرے دوستو اور عزیزو! حضورﷺ  یقیناً زمین پہ ٹھہرے ہوا میں سانس لیا پانی پیا کھانا کھایا۔ آپﷺ  ان چیزوں کے محتاج نہیں تھے بلکہ یہ تمام چیزیں حضورﷺ  کی محتاج تھیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ جو جس کا محتاج ہوتا ہے وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسے ہم ان چیزوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مثلاً ہوائی جہاز وں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے (بوقت ضرورت) آکسیجن کے چھوٹے چھوٹے سلنڈر لگے ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مگر حضورﷺ  کی ذاتِ اقدس کو معراج کی رات کو دیکھ لو معراج کی رات کیا ہوا؟
سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ۔ (بنی اسرائیل: ۱)
پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندے کو
میرے آقا ﷺ زمین سے اوپر گئے۔ کرئہ ہوا، کرئہ پانی، کرئہ آگ اور زمین نیچے رہ گئے۔ حضورﷺ  اوپر تشریف لے گئے۔ معلوم ہوا کہ میرے آقاﷺ  نہ پانی کے محتاج ہیں اور نہ ہوا کے اور نہ آگ اور نہ زمین کے محتاج ہیں۔ شاید کوئی یہ کہے کہ حضورﷺ  آسمانوں یا عرش کے محتاج ہیں تو حضورﷺ  پہلے آسمان سے لے کر ساتویں آسمان کے اوپر حتیٰ کہ عرش کے اوپر تشریف لے گئے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ حضورﷺ  ان میں سے کسی چیز کے محتاج ہیں۔ معلوم ہوا کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں، جس کے حضورﷺ  محتاج ہوں کیونکہ محتاج، محتاج الیہ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کی وضاحت کے لئے میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ مچھلی اپنی زندگی میں پانی کی محتاج ہے اور پرندے ہوا کے محتاج ہیں اگر کوئی شخص مچھلیوں کو پانی سے نکال کر پرندوں کے آشیانوں میں رکھ دے اور ہوا میں رہنے والے پرندوں کو پانی میں ڈال دے تو یہ سب مر جائیں گے کیونکہ مچھلیاں پانی کی محتاج تھیں اور پرندے ہوا کے محتاج تھے تو جو جس چیز کا محتاج ہوتا ہے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ زمین نہ تھی، ہوا نہ تھی، آسمان نہ تھے، عرش بھی نہ تھا۔ معراج کی رات حضورﷺ  ان سب چیزوں کو نیچے چھوڑ کر اوپر تشریف لے گئے۔ پتا چلا آپﷺ  فرش سے عرش تک کسی چیز کے محتاج نہیں ہیں۔
شبہ
اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے کہ فرش سے عرش تک تمام اشیاء حضورﷺ  کی محتاج تھیں تو معراج کی رات آپﷺ  کے بغیرکیسے زندہ رہ گئیں۔ کیونکہ جو جس کا محتاج ہوتا ہے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
شبہ کا ازالہ
تو میں عرض کروں گا کہ بات یہ ہے کہ حضور تاجدار مدنیﷺ کولوگوں نے اپنے جیسا سمجھ لیا اس لئے تو یہ تمام خیالات فاسدہ پیدا ہوئے۔ خدا کی قسم محمد مصطفیٰﷺ  ہم جیسے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے مصطفیٰﷺ  کو
سراج منیر فرمایا ہے حالانکہ سورج چوتھے آسمان پر ہے لیکن اس کی روشنی زمین پر موجود ہے
کالشمس فی کبد السماء وضوء ھا
یغشی البلاد مشارقا و مغاربا

سورج چوتھے آسمان پر ہونے کے باوجود اس کی روشنی مشرق اور مغرب کے شہروں میں پہنچتی ہے۔
اب اگر کوئی یہ کہے سورج تو چوتھے آسمان پر ہے اور وہ زمین سے، پہلے آسمان سے، دوسرے آسمان سے تیسرے آسمان سے دور ہے مگر میں کہوں گا کہ اس کی روشنی زمین کی سطح پر پڑی ہوئی ہے تو کہاں کی زمین دور ہے؟ پتا چلا مصطفیٰﷺ  عرش پر تھے مگر آپﷺ  کی روحانیت زمین کے ذرے ذرے میں موجود تھی اور موجود ہے۔ آپﷺ  زمین سے جدا ہوئے تاکہ پتا چلے کہ آپﷺ  زمین کے محتاج نہیں مگر میرے آقاﷺ  کی روحانیت زمین پر موجود رہی ہے اگر زمین میرے آقاﷺ  کی روحانیت سے جدا ہوجاتی تو ہلاک ہوجاتی، زمین نہ رہتی۔ پانی سے حضورﷺ  اوپر چلے گئے اگر حضورﷺ  پانی کے محتاج ہوتے تو آپﷺ  پانی کے بغیر کیسے رہ جاتے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ حضورﷺ  پانی کے بغیر رہ گئے۔ میرے آقاﷺ  پانی کے اوپر تھے۔ لیکن میرے آقاﷺ  کی روحانیت پانی پر اسی طرح موجود تھی جیسے سورج کی روشنی زمین پر موجود ہے اگر آپﷺ  زمین پر ہیں تو آپﷺ  کی روحانیت آسمانوں پر جارہی ہے اور اگر آپﷺ  آسمانوں پر ہیں تو آپﷺ  کی روحانیت زمین پر آرہی ہے۔ اگر آپﷺ  فرش پر ہیں تو عرش آپﷺ  کی روحانیت سے جلوہ گر ہے اور اگر آپﷺ  عرش پر ہیں تو فرش آپﷺ  کی روحانیت سے بھرپور ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کسی آن کوئی چیز حضورﷺ  سے جدا نہیں ہے۔ اگر کوئی چیز جدا ہو توہر چیز تو آپﷺ  کی محتاج ہے اور محتاج، محتاج الیہ سے جدا ہوجائے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ تو سارے کا سارا عالم زندہ رہا اس لئے کہ مصطفیٰﷺ  جدا ہوگئے لیکن مصطفیٰﷺ  کی روحانیت اور نورانیت متصل رہی اور پھر جب حضورﷺ  کی روحانیت اور نورانیت متصل رہی اور پھر پتہ چل گیا اور مخلوق کا اور محتاج الیہ کا انخلاء نہیں ہوا۔ تو اب یہ سب مسائل میں نے آپ کے ذہن میں ڈال دیئے اور آپ کو میں نے بتا دیا کہ حضورﷺ  رحمۃ للعالمین ہیں تو جو چیز رحمت ہو، اس کی حاجت ہوتی ہے جس کی حاجت ہو وہ پہلے ہوتا ہے لہٰذا سب عالمین کا وجود پیچھے اور مصطفیٰﷺ  کا وجود پہلے ہے اور جس کی حاجت ہواس کے بغیر کوئی چیز رہ نہیں سکتی اور میرے آقاﷺ  زمین و آسمان اور آب و باد کے بغیر رہ گئے۔ معلوم ہوا مصطفیٰﷺ  محتاج نہیں تھے۔ زمین و آسمان، چاند و سورج، آب و باد یہ سب مصطفیٰﷺ  کے محتاج تھے کیونکہ حضورﷺ  کی روحانیت ان پر پڑ رہی تھی معراج کی رات اللہ تعالیٰ  نے حضورﷺ  کو فرش سے عرش تک پہنچا کر یہ بتا دیا کہ آپﷺ  بے شک زمین پر چلے مگر زمین کے محتاج ہو کر نہیں بلکہ زمین آپﷺ  کی محتاج تھی بے شک آپﷺ  نے پانی پیا مگر پانی کے محتاج ہو کر پانی نہیں پیا بلکہ پانی میرے محبوب ﷺ کا محتاج تھا کہ اگر پانی کو میرے محبوبﷺ  کا قرب نصیب نہ ہوتا تو اس کی پیاس نہ بجھتی لوگ پانی سے پیاس بجھاتے ہیں اور پانی مصطفیٰﷺ  کے قرب سے اپنی پیاس بجھاتا ہے اگر کرئہ ہوا پر حضورﷺ  کی روحانیت اور نورانیت نہ ہوتی تو ہوا فنا ہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ  کی روحانیت اور نورانیت کو ہوا، پانی، زمین و آسمان پر رکھا تاکہ یہ زندہ رہیں اور جب میرے آقاﷺ  عرش سے بھی اوپر گئے تو عرش کے اوپر بھی میرے آقاﷺ  کی روحانیت اور نورانیت کو برقرار رکھا تاکہ عرش بھی زندہ رہے میرے آقاﷺ  خدا کی قسم کائنات کے لئے حیات ہیں اور پھرکوئی یہ کہے کہ وہ مرگئے ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تو کیسے زندہ رہ گیا؟ مرکز حیات تو مصطفیٰﷺ  ہیں یہ تو وہی بات ہوگئی کہ کوئی کہے کہ بجلی گھر میں بجلی نہیں ہے مگر میرے گھر کے سب بلب روشن ہیں ۔ تو دنیا کے سب لوگ کہیں گے کہ تو پاگل ہے یہ تو ہوسکتا ہے کہ بجلی گھر میں بجلی ہو اور تیرے گھر میں اندھیرا ہو کیوں؟ اس لئے کہ تو نے ابھی فیٹنگ ہی نہ کرائی ہو اگر بالفرض تو نے فیٹنگ کرالی ہو تو ممکن ہے کہ تو نے ابھی تک کنکشن ہی نہ لیا ہو اور اگر بالفرض کنکش بھی مل گیا ہو تو پھر بھی تیرے گھر میں اندھیرا ہو کیونکہ تو نے ابھی بلب بھی نہ لگوائے ہوں اگر بلب بھی لگوالئے ہیں تو پھر بھی ہوسکتا ہے کہ تیرے گھر میں اندھیرا ہو اس لئے کہ تو نے ابھی سوئچ ہی نہ دبایا ہو اور اگر تو نے سوئچ بھی دبا دیا ہو تو پھر بھی ممکن ہے کہ تیرے گھر اندھیرا ہو کیونکہ ممکن ہے کہ اس کا فیوز اڑگیا ہو بھائی یہ تو ہوسکتا ہے کہ بجلی گھر میں بجلی ہو اور تیرے گھر میں اندھیرا ہو لیکن یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ بجلی گھر میں بجلی نہ ہو اور تیرا گھر روشن ہو؟ اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مصطفیٰﷺ  مردہ ہوں اور تو زندہ رہے کیونکہ
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔
پیارے محبوب ہم نے تو آپ کو سارے عالموں کے لئے رحمت کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔
تو اس سے ایک مسئلہ تو یہ ثابت ہوا کہ مصطفی کریم ﷺ سارے عالموں کے لئے رحمت کرنے والے ہیں اور جو سب عالموں کے لئے رحمت کرنے والا ہو وہ سب عالموں سے پہلے ہوگا اور العالمین کا وجود بعد کو ہوگا۔ لہٰذا مصطفیٰﷺ  پہلے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہواکہ جب حضورﷺ  سارے عالموں پر رحمت کرنے والے ہیں تو حضورﷺ  کی سب کو ضرورت ہے اور جس کو جس چیز کی ضرورت ہو وہ چیز اس کے بغیر نہیں رہ سکتی تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ  کے بغیر کوئی رہ نہیں سکتا۔
یہ سب سوال کہ حضورﷺ  زمین کے بغیر، ہوا کے بغیر، پانی کے بغیر اور خورک کے بغیر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں تو اس کا میں نے جواب دے دیا کہ معراج کی رات کیونکہ زمین، کرئہ ہوا، کرئہ پانی، ساتوں آسمان اور عرش نیچے رہ گئے اور مصطفیٰﷺ  اوپر چلے گئے اور ان سب اشیاء کے بغیر زندہ رہ گئے اور حضورﷺ  جب معراج کی رات عرش پر پہنچے تو شگ نے ان کو منزل اجلال پر بلایا اور فرمایا
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ (النجم: ۷-۸)
یعنی سب منزلیں نیچے رہ گئیں اور مصطفیٰﷺ  اوپر پہنچ گئے معلوم ہوا کہ حضورﷺ  ان چیزوں کے محتاج ہوتے تو آپﷺ  ان کے بغیر نہ رہتے مگر آپﷺ  ان کے بغیر رہے پتا چلا یہ تمام اشیاء مصطفیٰﷺ  کی محتاج تھیں۔ تو آپﷺ  کے معراج پر جانے کے بعد یہ چیزیں کیسے زندہ رہ گئیں؟ اس کا جواب بھی میں نے دے دیا ہے کہ خدا نے اپنے محبوبﷺ  کی روحانیت کو ان کے ساتھ متصل رکھا اگر روحانیت متصل نہ رہتی تو یہ چیزیں زندہ نہ رہتیں یعنی نہ زمینیں زندہ رہتیں اور نہ آسمان، نہ پانی باقی رہتا اور نہ آگ، فرش زندہ رہتا اور نہ عرش، مگر یہ سب چیزیں اس لئے زندہ رہیں کہ خدا نے اپنے محبوبﷺ  کی روحانیت اور نورانیت کو ان اشیاء کے ساتھ متصل رکھا۔ کیونکہ یہی ذات منبع حیات اور مرکز حیات ہے۔ تو اب یہ بات سمجھ آگئی۔ ایک اور بات بھی عرض کروں وہ یہ ہے کہ آپﷺ  سارے عالموں کے لئے رحمت کرنے والے ہیں۔ آخر کوئی وجہ بھی تو ہوگی آپﷺ  رحمت کرنے والے کیوں ہیں؟ تو میں نہیں کہتا تفسیر روح المعانی اٹھا کر دیکھو جو سیدی علامہ محمود آلوسی حنفی بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے تیس جلدوں میں لکھی ہے۔
وکونہ رحمۃ للجمیع با اعتبار انہ علیہ الصلواۃ والسلام واسطۃ فیض الالھی علی الممکنات علی حسب القوابل ففی الخبر اول ما خلق اللّٰہ تعالی نور نبیک یا جابر الی آخر (۱)
نبی کریم ﷺ کا تمام عالموں کے لئے رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ حضورﷺ  تمام ممکنات پر ان کی قابلیتوں کے موافق فیض الٰہی کا واسطہ ہیں اور اس لئے تو آپﷺ  کا نور مخلوقات سے اول ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں ہے، اے جابر! اللہ تعالیٰ  نے سب سے پہلے تیرے نبی کے نور کو پیدا کیا
انہوں نے اس میں ایک عبارت لکھی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ سارے عالموں پر رحمت کرنے والے اس لیے ہیں کہ حضور رؤف و رحیم
العالمین کی اصل ہیں اور اصل کے اندر تمام فروع کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ اس لئے پتا چلا کہ حضورﷺ  العالمین کے لئے رحمت ہیں؟ بات سمجھانے کے لئے مثال دیتا ہوں کہ درخت کی اصل جڑ ہے، تنا ، شاخیں اور پتے اس کی فرع ہیں۔ جڑ ان سب کے لئے رحمت ہے۔ انہیں نباتاتی حیات اور غذا پہنچا رہی ہے کہ یہ جڑ زمین سے خوراک، پانی حاصل کرکے تمام فرع کو پہنچاتی ہے اور اگر کوئی جڑ کے زندہ ہونے کو دیکھنا چاہے تو اس درخت کے تنے، شاخوں اور پتوں کو دیکھے، اگر وہ سر سبز ہیں تو جڑ زندہ ہے ورنہ زندہ نہیں ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جڑ زندہ ہو لیکن اس کا تعلق بعض شاخوں سے منقطع ہوگیا ہو جس کی وجہ سے وہ سوکھ گئی ہوں اور کچھ خوش قسمت شاخیں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جن کا تعلق جڑ سے برقرار ہو اور سر سبز ہوں۔ دنیا میں حضورﷺ  کی محبت کی نعمت سے محروم لوگ اچھی طرح جان لیں کہ اسی طرح جب قیامت آئے گی تو اللہ تعالیٰ  اپنے محبوب حضورﷺ  کی ذات مقدسہ کے ساتھ ان کے رابطے تو منقطع فرمادے گا کہ وہ تمام کے تمام اس طرح جھڑ جائیں گے جیسے پیڑ کے پتے جھڑ کر ختم ہوجاتے ہیں۔
بہرحال میں آپ کی خدمت میں عرض کررہا تھا کہ حضورﷺ 
رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْن اس لئے ہیں کہ آپ العالمین کی اصل ہیں اور ہر اصل کے اندر فرع کے لئے رحمت ہوتی ہے، لہٰذا العالمین کے لئے حضورﷺ  کے اندر طبعاً رحمت ہے اور حضورﷺ  جب اصل ہیں تو فرع کو جو کچھ ملے گا، اصل سے ملے گا، جیسے درخت کو جڑ کے بغیر کچھ نہیں مل سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے جو کچھ دینا تھا وہ مصطفی ﷺ کودے دیا ہے کہ اے میرے محبوب! کائنات کی اصل اور جڑ تو آپﷺ  ہیں اور شاخوں کو جو کچھ دینا ہے وہ آپ ہی نے دینا ہے اور تقسیم کرنا ہے، اس لئے میرے محبوب! میں تجھے دوں گا اور تو آگے شاخوں کو دے گا۔
اٹھارہ ہزار عالم جس کے اندر، زمین و آسمان اور اس کی تمام مخلوق، جن و انس ، ملائکہ ، چرند و پرند، نباتات و جمادات، جواہر و اعراض، فوق و تحت، عالم امرو نہی اور عالم برزخ، الغرض تمام خلق کی سرسبزی اور شادابی اس اصل کی مرہون منت ہے۔ جیسے تمام درخت جڑ سے غذا لے کر سرسبز و شاداب ہیں اور جڑ زمین سے غذا لے رہی ہے پھر شاخوں اور پتوں کو پہنچا رہی ہے۔ اسی طرح حضورﷺ  اپنے رب سے تمام فیض لیتے ہیں اور پھر اسے آگے تمام کائنات کو دیتے ہیں۔ اس لئے حضورﷺ  نے فرمایا
واللّٰہ یعطی وانا قاسم
اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور میں بانٹتا ہوں۔
 

پچھلا صفحہ                            اگلا صفحہ

ہوم پیج