تلاش راہ حق

عزیز طلباء ! اکابر اہلسنّت، قابل قدر لائق تحسین و آفرین انجمن طلباء اسلام اللہ تعالیٰ  آپ کو اپنے مقاصد حسنہ میں کامیابی عطا فرمائے۔ حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کی مساعی جمیلہ ہمارے سامنے نہایت ہی قابل احترام ہیں گویا ان طلباء نے اہلسنّت کی لاج رکھ لی ہے اللہ تعالیٰ  ان کو ہر مرحلہ میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے۔
میرے دوستو ںاور عزیزوں نے فرمایا ہے کہ راہ حق اور اس کی صعوبتوں پر گفتگو کروں۔ اب میں اس مختصر وقت میں اس عنوان کو تفصیل کے ساتھ پیش نہ کرسکوں گا۔
اللہ تعالیٰ  نے قرآن کریم میں سورۂ والعصر نازل فرمائی۔ اس سورۃ مبارکہ میں اس کے مضامین بہت وسیع ہیں اور ان کی تفصیل بیان کرنے کے لئے بہت وقت کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍo اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ (العصر: ۲،۳)
یقینا آدمی ضرور خسارے میں ہے مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیئے اور آپس میں ایک دوسرے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
یعنی بے شک تمام انسان جو انسان کہلاتے ہیں جن کو انسان کہا جاتا ہے جن کو دنیا کی زبانوں پر انسان کے لفظ سے تعبیر کیاجاتا ہے
لفی خسر یعنی خسارے میں ہیں۔ سب نقصان میں ہیں۔ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مگر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیئے یعنی وہ لوگ گھاٹے میں نہیں ہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اور آپس میں ایک دوسرے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی یعنی ایک دوسرے کو حق کی بات کہتے ہیں اورصبر کی تلقین کرتے چلے آئے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ  نے حق پر قائم رہنے اور صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائی وہ لوگ ہیں جن کو نقصان ہے اور نہ کوئی گھاٹا۔ کسی نقصان سے ان کا تعلق نہیں ہے اللہ تعالیٰ  نے اس مقام پر حق کے ساتھ صبر کی بات فرمائی وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق کی راہ میں مصائب و آلام پیش آتے ہیں گویا جب کوئی حق کی راہ کو اختیار کرتا ہے تو لازمی طور پر اسے مصائب و آلام سے دو چار ہونا پڑتا ہے پھر وہ حق کی راہ میں کامیاب کب ہوتا ہے۔ جب وہ ان مصائب و آلام کو برداشت کرتا ہے اور یہ کام صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ حق کی راہ میں چلنا حق کی حمایت میں قدم اٹھانا نتیجتاً مصائب و آلام کا پیش آنا اور پھر اس پر صبر کرنا یہ نقصان سے بچنے کا ذریعہ ہے یعنی وہی لوگ نقصان سے محفوظ ہیں جنہوں نے راہ حق کو اختیار کیا اور نتیجتاً پیش آمدہ مصائب و آلام پر صبر کیا۔
اب میں اس کی تفصیل میں کیا عرض کروں میں اتنی بات بتانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدسہ وہ ہے کہ جس نے ہمیں ہمیشہ ھدی، امن و سکون اور کامیابی کے تمام مراحل دکھائے اور اللہ تعالیٰ  نے اعلان فرمایا کہ
لَقَدْ کَانَ لَـکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: ۲۱)
یعنی رسول اللہﷺ  کی ذات مقدسہ ہی میں اور آپﷺ  کی سیرت طیبہ کی اتباع ہی میں تمہارے لئے فلاح، بہتری اور خیر ہے۔ جب ہم سیرت رسول ا پر نظر ڈالتے ہیں تو پہلے ہمیں آپﷺ  کی تیرہ سالہ مکی زندگی نظر آتی ہے درحقیقت وہ راہ حق میں پیش آمدہ مصائب و آلام اور مشکلات کا ایسا چمکتا ہوا نمونہ ہے کہ اس سے بہتر نمونہ ہمیں ساری دنیا میں نظر نہیں آتا اور اس کا نتیجہ اور ثمرہ دس سالہ مدنی زندگی ہے حضورتاجدار مدنی ﷺ نے مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ سیرت مقدسہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کو یہ درس دیا کہ اگر تم حق پر قائم رہے اور ہر مشکل کو برداشت کیا تو تم مدینہ منورہ میں جا کر اس کے پھل کھائو گے۔
محبت کے بغیر کوئی مہم سر نہیں ہوسکتی
میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ عشق و محبت کے بغیر راہ حق میں پیش آمدہ مصائب و آلام اور مشکلات کو برداشت کرنا اور راہ حق میں ثابت قدم رہنا ناممکن ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی کو کسی کے ساتھ محبت ہو یعنی جو چیزیں محبت کے قابل نہیں لوگوں کو ان کے ساتھ محبت ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت اور عشق کے بغیر راہ حق میں قدم اٹھانا اور اس میں ثابت قدم رہنا اور نتیجتاً پیش آمدہ مصائب و آلام کا جھیلنا ممکن نہیں اور یہ راہ حق کی بات اہل حق کے لئے کہہ رہا ہوں باقی کسی مرحلے کے لئے قدم اٹھانا کسی کے لئے جبھی ممکن ہوگا جب اس کو کسی چیز کی محبت ہوگی اور اس چیز کی محبت اس کواپنی طرف بلا رہی ہوگی تو تب وہ اپنی منزل مقصود کی طرف ، اپنے مطلوب کی طرف، اپنے محبوب کی طرف قدم اٹھائے گا۔ اگر مطلوب باطل ہے تو قدم بھی باطل کی طرف ہوگا اور اگر مطلوب حق ہے تو قدم بھی حق کی راہ میں ہوگا۔ لیکن یاد رکھیئے کہ جنہوں نے حق کی راہ میں قدم اٹھایا وہی ہیں جو حق کے ساتھ عشق و محبت میں سر شار ہیں جب ان کے اندر حق کی محبت آگئی تو پھر ان کے لئے کوئی مصیبت، مصیبت نہیں رہتی اور نہ پھر کوئی مشکل، مشکل رہتی ہے۔
ہم نے دیکھا کہ حضور تاجدار مدینہﷺ نے تیرہ سالہ مکی زندگی میں صحابہ رضی اللہ عنہما کے اندر جو جوہر بھر دیا تھا۔ واللّٰہ باللّٰہ ثم تاللّٰہ۔ اس کے نتائج مدینے میں یعنی بدر کے میدان میں، احد کی پہاڑی میں حنین کے مقام پر اور ان تمام غزوات اور جہادوں میں ظاہر ہوئے جو مسلمانوں کو پیش آئے اور پھر میں سچ کہتا ہوں کہ وہ تمام جوہر خلافت صدیقی میں، خلافت فاروقی میں، خلافت عثمانی میں اور خلافت مرتضوی میں ظاہر ہوئے۔ ہماری اسلامی تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مشکلات پر قابو پانے کا جو جذبہ صحابہ کرام ث کے اندر رکھ دیا تھا۔ واللّٰہ باللّٰہ ثم تاللّٰہ وہی جذبہ آج ہم تک پہنچا ہے اگر وہ جذبہ مسلمانوں میں نہ ہوتا تو آج شاید ہم اس نعمت سے محروم ہوتے۔
انجمن طلباء اسلام اور عشق مصطفی ﷺ
انجمن طلباء اسلام ایک ایسی پیاری جماعت ہے کہ جنہوں نے عشق مصطفی اور محبت مصطفی ﷺ کو اپنا مطمح نظر اور اپنا نصب العین بنایا ہے اور یہ طلباء کیا ہیں درحقیقت یہ ہماری قوم کا ایک عظیم سرمایہ ہیں یہ ہماری قوم کا ایک خلاصہ اور عطر ہیں بشرطیکہ اگر ہم نے ان کے ذہنوں کو، ان کے قلوب کو، ان کے باطنوں کو اور ان کے ظاہر کو درست کرلیا اور ان کے دلوں میں حضورﷺ  کی محبت پیدا ہوگئی تو پھر ان کا راہ حق کی طرف قدم اٹھانا اور کسی مشکل سے نہ گھبرانا اور ہر مشکل کو عبور کرجانا کوئی بڑی بات نہیں۔ انہوں نے اب تک اپنے کردار سے جو ثبوت فراہم کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر باطل کے سامنے حق کی بات کے لئے ڈٹ جاتے رہے اور ملک کی بہتری کے لئے ملک کے تحفظ کے لئے انہوں نے وہ کام کیئے جو ہمارے لیئے باعث فخر ہیں۔ انجمن طلباء اسلام ہماری ترجمانی کر رہی ہے جو کام مجھے اور آپ نے ملکر کرنا تھا وہی کام انجمن طلباء اسلام کی جماعت کررہی ہے اور یہ ہماری اہل سنت کی جماعت ہے ہم بحیثیت اہل سنت ہونے کے اکثریت کے مدعی ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اکثریت ہماری ہے۔
اہلسنّت کی بقا اور استحکام کیلئے قوت، تنظیم اور اتحاد ضروری ہے
عزیزان محترم! دوسری جماعتیں جس تنظیم کے ساتھ جس استحکام کے ساتھ منظم اور مستحکم ہیں اسی قوت، تنظیم اور استحکام کے ساتھ میں انجمن طلباء اسلام کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن انجمن طلباء اسلام میں وہ قوت، تنظیم اور استحکام نہیں پایا جاتا ہے حالانکہ ہم تو سب سے زیادہ ہیں اس لئے ہمیں تنظیمی طاقتوں میں سے زیادہ طاقتور ہونا چاہیے اور جبھی ہوسکتا ہے کہ جب تمام اہل سنت اپنے اندر یہ احساس پیدا کرلیں کہ یہ جماعت کتنی قیمتی ہے اور اس کا وجود کتنا زرین اور ضروری ہے اس کے بغیر ہمارا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے چھوٹے چھوٹے گروہ اپنے گروہوں کو سکولوں میں کالجوں میں اور یونیورسٹیوں میں منظم کرکے مختلف سامان کے ساتھ لیس کرکے تقویت دے رہے ہیں لیکن اہلسنّت بالکل خاموش ہیں انہیں بالکل خبر ہی نہیں کہ ہماری جماعت کا کیا حال ہے کسی کا ہاتھ ان پر نہیں ہے کوئی بھی ان کی سرپرستی کرنے کو تیار نہیں ہے حالانکہ ان کا قدم راہ حق کی طرف ہے اور قدم قدم پر ان کے لئے مشکلات ہیں یقینا یہ اپنی ہمت سے آگے بڑھ رہی ہے اور ان شاء اللہ! آگے بڑھتی رہے گی لیکن ہمارا اور آپ کا بھی کوئی فرض ہے کہ ہم راہ حق میں ان کی پیش آمدہ مشکلات میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔
عزیزان محترم! میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ راہ حق میں یہ قدم اٹھانے والی جماعت انجمن طلباء اسلام ہے ان کو جو مشکلات آرہی ہیں ان مشکلات کا ان کے پاس کوئی مداوا ہے اور نہ کوئی تدارک ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کریں ان کے اندر حضورﷺ  کی محبت کا ، حضورﷺ  کے عشق کا، ملک کی محبت کا ایک جذبہ ہے اور یہ جذبہ محبت اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نعمت پر ساری نعمتوں کو قربان کردوں۔
جہاد کی روح اور ایمان کی جان عشق و محبت رسول ہے
یہ جذبہ محبت اور یہ عشق رسول ﷺ خدا کی قسم دین کی جان، اسلام کی جان، ایمان کی جان اور جہاد کی روح ہے۔ جب تک یہ نہ ہو، جہاد کا جذبہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا اور جہاد میں جان و مال سب قربان کرنا پڑتا ہے۔ آج کوئی شخص اپنی جیب سے کسی کو سو روپے دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا جب تک کہ کہیں اس کی محبت کا تعلق نہ ہو اگر بیٹا یا بیوی کوئی فرمائش کرے تو فورا پوری ہوجاتی ہے کیونکہ ان کی محبت اس کے دل میں ہے لیکن کوئی فقیر بے نوا اس سے دس روپے مانگے تو وہ دینے کوتیار نہیں ہوتا کیونکہ اس کے دل میں اس کی محبت نہیں۔
عزیزان محترم! اگر آپ چار پیسے بغیر محبت کے نہیں نکال سکتے تو سر بغیر محبت کے کون کٹاتا ہے؟ یہ محبت کا جذبہ ہے کہ جس نے بدر کے میدان میں، احد کی پہاڑی میں، حنین کے میدان میں علیٰ ہٰذا القیاس تمام غزوات میں سرکٹوا دیئے۔ آپ کو معلوم ہے کہ رسول خدا ﷺ نے انہیں وارفتگان محبت کو میدان بدر میں جمع فرمایا اور اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے مولا! اگر یہ تین سو تیرہ ہلاک ہوگئے تو تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ م! کیا شان محبوبانہ تھی؟ لیکن میں آپ سے کیا عرض کروں صحابہ کرام سے پوچھئے کہ صحابہ کرام محبت کا کس قدر جذبہ رکھتے تھے؟ چھوٹے چھوٹے بچے ایڑیوں کے بل کھڑے ہوجاتے تھے کہ ہمیں بھی کسی طرح مجاہدین میں شامل کرلیاجائے ان میں یہ عشق و محبت کا جذبہ تھا۔
شہداء احد کی عظمت
عزیزان محترم! لوگوں نے کہا کہ احد پر ستر صحابہ شہید ہوگئے اس سے آپ یہ نہ سمجھیں کہ معاذ اللہ! وہ کمزور ہوکر شہید ہوگئے خدا کی قسم ایسا نہیں ہے اس میں دو باتیں ہیں
۱۔ ایک بات تویہ تھی کہ اللہ تعالیٰ  نے یہ بتایا کہ میرے محبوب ﷺ کے فرمان پر اگر تم نے عمل نہ کیا تو تمہیں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوگی اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ جن صحابہ کو اس درہ پر متعین فرمایا گیا تھا انہوں نے معاذ اللہ۔ معاذ اللہ معصیت کے ارادے سے ہرگز کوئی قدم نہیں اٹھایا کسی میں حضورﷺ  کی نافرمانی کے جذبے کا تصور تک نہ تھا باقی بتقاضائے بشریت ان سے بھول ہوگئی اور درہ کو چھوڑد یا۔ دشمنوں نے بھاگتے ہوئے پیچھے اس درہ سے مسلمانوں پر حملہ کردیا تھا اور ستر صحابہ شہید ہوگئے اور خود حضور سرور عالم ﷺ کو بھی بہت سے زخم آئے اور دو دندان مبارک کے کنارے بھی شہید ہوئے۔ یہ سب کچھ ہوا۔ بتانا یہ تھا کہ میرے محبوبﷺ کے ارشاد کے مطابق، اگر تم نے کوئی کام نہ کیا تو پھر اس کا نتیجہ تمہارے حق میں تکلیف کے سوا کچھ نہیں ہو گا تو اس لئے اللہ تعالیٰ  نے حضورﷺ  کی عظمت کا اعلان فرمایا اور پھر یہ بھی بتایا کہ تم میں جو شہید ہوئے ہیں ان کی بھی حقیقت ہے بدر کے میدان میں سات مہاجر اور سات انصاری شہید ہوئے تو لوگوں نے کہا کہ وہ دنیا کی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور مرگئے تو ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ  نے ارشاد فرمایا
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ۔ (البقرۃ: ۱۵۴)
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیئے جاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو۔
بَلْ اَحْیَآ ئٌ وَّلٰـکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ
بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں شعور نہیں۔
ہر تکلیف کے بعد آسانیاں ہیں
تو میں عرض کررہا تھا کہ اللہ تعالیٰ  نے ہر عسر کے بعدیسر کو رکھا ہے اور ہر تکلیف کے دامن میں راحت کو رکھا ہے اس لئے فرمایا
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ (الم نشرح: ۵،۶)
یعنی ہرعسر کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو یسر ہیں گویا ہر تکلیف کے دامن میں کئی راحتیں ہیں۔ مصیبت اور تکلیف میں راحت کو چھپایا بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ موت کے اندر حیات کو مضمر فرمایا ہے اور قرآن کریم نے بار بار ہم کو فرمایا ہے
وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِالْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا وَاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا (النساء: ۷۵)
یہ خطاب عہد رسالت کے انصار و مومنین مدینے والوں کو ہے کہ
وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (مسلمانو) تمہیں کیا ہے کہ نہ لڑو اللہ تعالیٰ  کی راہ میں وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِالْدَانِ حالانکہ بے بس کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں میں سے وہ ہیں یعنی وہ لوگ کمزور نہ تھے مگر انہیں دبا دیا گیا تھا اور انہیں کمزور کردیا گیا تھا اور وہ کون ہیں؟ مِنَ الرِّجَالِ ان میں مرد بھی ہیں وَالنِّسَآئِ عورتیں بھی ہیں وَالْوِالْدَانِ اور بچے بھی ہیں۔ ان کا کیا حال ہے؟ ان کا حال یہ ہے کہ وہ مکہ کے اندر ان ظالموں کے ظلم و ستم سے منتقم ہوئے ہیں اور وہ رات دن یہ گریہ کرتے ہیں کہ رَبَّنَـآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال دے یعنی اس مکہ سے ہمیں نکال دے الظَّالِمِ اَھْلُھَا جس کے لوگ ظالم ہیں یعنی وَاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا اور اپنے پاس سے ہمارے لئے کوئی کارساز بنادے وَّاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا اور کردے کسی کو اپنی طرف سے ہمارا مددگار۔
کفار سے جہاد اب بھی ضروری ہے
شاید آپ یہ کہیں کہ مدینے کے مسلمانوں نے قتال نہیں کیا تو ہم کیوں کریں؟ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ  نے ان کو حکم دیا اور مدینہ کے مسلمانوں نے عمل کیا مکہ کو فتح کیا انصار مومنین نے مکہ کے ظالموں سے مظلوم مسلمانوں کو آزاد کرایا پھر آپ کو معلوم ہے کہ مکہ کے رہنے والوں کو قرآن کریم نے ظالم کہا ہے اور اس مکہ کے اندر اللہ تعالیٰ  نے کیا انقلاب پیدا کیا؟ کہ پھر جاہلیت کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا کفر اور بت پرستی کو ختم کر کے توحید کے پرچم لہرائے گئے اور قیامت تک لہراتے رہیں گے یہ الگ بات ہے کہ وہاں کسی قسم کا کوئی ایسا معاملہ درمیان میں آجائے کہ جو ہمارے لئے اور آپ کے لئے تکلیف کا باعث ہو کچھ بھی ہو مگر
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کے خلاف وہاں کوئی آواز نہیں اٹھ سکتی اور یہ توحید کا پرچم قیامت تک لہرا تا رہے گا میں یہ عرض کر رہا تھا کہ مدینے کے مسلمانوں نے قرآن کریم پر عمل کیا جہاد کیا قتال کیا ہر قسم کی قربانیاں دیں یہی حق کی راہ تھی جن پر انہوں نے مشکلات کو برداشت کیا یقین کیجئے کہ تیرہ سالہ مکی زندگی میں مسلمان یہی کرتے رہے اور پھر مدینے میں اس کے بعد بد ر میں انہوں نے حق کی راہ میں مشکلات کا سامنا کیا اور مشکلات کو عبور کیا اور اسی طرح تمام اسلامی غزوات میں ہوا۔ خلافت راشدہ پر جلوہ گر ہوئے تو ارتداد کا فتنہ کھڑا ہوگیا۔ ارتداد کے فتنہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرو کیا۔ یہ راہ حق میں کتنی بڑی مشکل تھی؟ مگر آپ رضی اللہ عنہ نہیں گھبرائے اس زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کیا ہوا تھا اور وہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا اس کی سرکوبی کے لئے وہاں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی فوج لڑ رہی تھی اس میں جلیل القدر حفاظ صحابہ شہید ہو رہے تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر گھبرائے کہ کہیں ہم قرآن کریم کے ایک عظیم حصہ سے محروم نہ ہوجائیں کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب نہیں فرمایا تھا اور یہ قرآن کریم حفاظ کے سینوں میں مرتب تھا اور وہ شہید ہو رہے تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے صورت حال سے آگاہ کیا اور عرض کیا کہ ابھی ابھی قرآن کریم کو جمع کیاجائے۔
فتنہ ارتداد اور جمع و تدوین قرآن
پہلے تو میں یہ بات کہوں گا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ جذبہ ہوا ہوگا کہ قرآن کریم جمع کیاجائے۔ ایمان سے کہنا یہ ایمان کا تقاضا ہے کہ نہیں۔ میں حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ایمان کو سلام کرتا ہوں یہ کمال ایمان کی دلیل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم قرآن کریم کے ایک بڑے حصہ سے محروم ہوجائیں تو گھبرا کر جمع قرآن کریم کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا
کیف افعل شیئا لم یفعلہ رسول اللہﷺ 
میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہﷺ  نے نہیں کیا۔
کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضورنبی کریم ﷺ کی سنت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ سنت رسول ﷺ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ تو اس لئے کہا کہ اے عمر! وہ کام میں کیسے کروں جو رسول اللہﷺ  نے نہیں کیا۔
یعنی کتابی شکل میں قرآن کریم کو جمع نہیں فرمایا تو جو کام سرکار ﷺ کی سنت کے خلاف ہو طریق اور عمل کے خلاف ہو میں وہ کام کیسے کروں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ
ھو خیر کہ اس میں بہتری اور بھلائی کا کام ہے لہٰذا اس کو کیجئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے پھر یہی جواب دیا کیف افعل شیئا لم یفعلہ رسول اللہﷺ  حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پھر وہی جواب دیا کئی دفعہ مراجعت کلام کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حتی شرح اللّٰہ صدری للذی شرح اللّٰہ صدر عمر اللہ تعالیٰ  نے میرے سینے کو اس چیز کے لئے کھول دیا جس چیز کے لئے عمر کے سینے کو کھولا تھا۔
اور پھر زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ جنگ یمامہ سخت ہوگئی ہے حفاظ اور قراء شہید ہورہے ہیں خدا کے لئے ابھی ابھی قرآن کریم کو جمع کیجئے تو زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے وہی جواب دیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا کہ
ھو خیر کہ اس میں خیر کا پہلو ہے مطلب یہ تھا کہ بے شک یہ کام حضورﷺ  نے نہیں کیا لیکن سرکارﷺ  نے منع بھی تو نہیں فرمایا اور اس میں خیر کا پہلو ہے لہٰذا اس کو کرلینا چاہیے کئی دفعہ مراجعت کلام کے بعد زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا حی شرح اللّٰہ صدری للذی شرح اللّٰہ صدر ابی بکر و عمر یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ  نے میرے سینے کو اس چیز کے لئے کھول دیا جس چیز کے لئے ابوبکر اور عمر کے سینے کو کھولا تھا۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ راہ حق میں یہ کتنی بڑی مشکلات تھیں جو پیش آئیں مگر جن کے دلوں میں عشق مصطفیﷺ تھا۔ انہوں نے راہ حق میں قدم رکھا اور ان مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور پھر قرآن کریم جمع ہوا۔
جس کام میں خیر کا پہلو ہو اس کو کرلینا چاہئے
میں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ یہ بات طے ہوگئی کہ جوکام سرکارﷺ  نے نہیں کیا اس سے منع بھی نہیں فرمایا اور اس میں خیر کا پہلو بھی ہے تو اس کام کو کرلینا چاہیے یہ نکتہ واضح ہوگیا کہ نہیں ہوگیا۔ اللہ اللہ اللہ۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی توجہ دلانے سے، اس نکتہ کو قبول کرلیا۔ زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی شیخین کی توجہ دلانے سے، اس نکتہ کو قبول کرلیالیکن آج ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس نکتہ کو قبول کرلینے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ کیسی عجیب بات ہے؟
بہر حال! جہاں اور مشکلات ہیں وہاں راہ حق میں ایک یہ بھی مشکل ہے لیکن اگر آپ نے ہمت کے ساتھ راہ حق میں قدم اٹھایا ہے تو ان شاء اللہ آپ ہر مشکل کو عبور کرتے چلے جائیں گے۔ بدر کے میدان میں مشکل عبور ہوگئی احد پہاڑی کی مشکل عبور ہوگئی حنین کے میدان میں مشکل عبور ہوگئی اور وہی مشکلات خلافت راشدہ میں پیش آئیں۔ کیا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مشکلات پیش نہیں آئیں ؟ اللہ اکبر! کیسے کیسے معرکے چھوڑے گئے؟ اور کیسی کیسی خلاف ورزیاں کی گئیں اور پھر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بار بار جہاد کرنا پڑا اور اس جہاد کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایک مہینے میں چوراسی شہر فتح ہوئے اور دنیا میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ  کی فتوحات کا ڈنکا بج گیا۔ پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ  کے زمانہ میں دس قسم کی مشکلات پیش آئیں اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانہ میں بھی جب سندھ کے اندر بغاوت ہوئی یہ خلافت مرتضوی میں ایک بڑی عظیم مشکل تھی تو پھر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے کوفہ سے فوج روانہ کی جس نے اس بغاوت کو فرو کیا۔ پھر یہ فوج فتح اور نصرت کے جھنڈے لہراتی ہوئی واپس پہنچی اور دنیا کو بتا دیا کہ مسلمان جب حق کے لئے قدم اٹھاتا ہے تو کوئی مشکل اس کے درمیان حائل نہیں ہوسکتی اور وہ اس کو مشکل نہیں سمجھتا وہ اس کو روندتا ہوا اور پامال کرتا ہوا چلا جاتا ہے۔ ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہی سبق پڑھایا جو مشکلات تھیں ان میں آپ ثابت قدم رہے لوگ کہیں گے یزید کامیاب ہوا خدا کی قسم یزید کامیاب نہیں ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  کامیاب ہوئے کیونکہ وہ ثابت قدم رہے۔
انبیاء و اولیاء عون الٰہی کے مظہر ہیں
لوگ کہا کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم مشکل کشا ہیں۔ حضورﷺ  بھی مدد فرمانے والے ہیں تو جب خاندان نبوت پر مصائب و آلام آئے تو حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے مدد فرمائی نہ حضور سید عالم ﷺ نے۔
شبہ کا ازالہ
ٹھیک ہے تمہارے نزدیک ان کی مدد نہیں ہوئی۔ اچھا یہ بتائو قرآن کریم کیا کہتا ہے؟ قرآن کریم کہتا ہے
کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ (الروم: ۴۷)
یعنی اللہ فرماتا ہے ہم پر حق ہے ایمان والوں کی مدد کرنا
یہ قرآن کریم کی آیت ہے یہ حدیث نہیں کہ جس کو تم ضعیف کہہ دو۔ جو احد میں شہید ہوئے کیا وہ مومن نہیں تھے؟ اور اللہ تعالیٰ  تو مشکل کشا ہے اللہ تعالیٰ  ان کو قتل ہونے سے بچا لیتا اگر وہ مومن تھے؟ پھر وہ کیوں شہید ہوئے؟ معلوم ہوا کہ شہید ہونا مدد ہونے کے منافی نہیں ہے چلو تم حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضورﷺ قدس ﷺ کی مدد کے قائل نہیں ہو تو ہم بھی ان کو کوئی مستقل مددگار نہیں مانتے ہم کسی کی عون کے مستقلاً قائل نہیں ہیں ہمارا تو ایمان ہے کہ تمام محبوبین، مقدسین مظاہر عون الٰہی ہیں اور مدد کرنے والا ، عنایت فرمانے والا اللہ تعالیٰ  ہے۔ اللہ تعالیٰ  کے سوا کوئی مستقلاً مددگار نہیں، کوئی معاون اور معین نہیں۔ وہ ایک ہی معین ہے۔
دُنیا کی کوئی مصیبت حضرت امام حسین کے
قدم کو ڈگمگا نہ سکی۔ یہی اللہ کی مدد تھی

لیکن آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ  کا وعدہ تھا
وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور ہم پر حق ہے ایمان والوں کی مددکرنا۔ تو یہ قیاس کرنے والے مجھے بتائیں کہ کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مومن تھے یا نہیں۔ وہ مومن تھے۔ اگر وہ مومن نہیں تھے تو تم کہاں سے مومن نکل آئے ۔ معلوم ہوا کہ تم نے اس آیت کا مفہوم غلط سمجھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ مومن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ  کا وعدہ ہے۔ شہید ہوجانا اگر نصرت کے خلاف ہے تو قرآن کریم معاذ اللہ غلط ہوتا ہے۔ قرآن کریم غلط ہو نہیں سکتا لہٰذا تم اپنی غلطی کو تسلیم کرلو۔ اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو تو میں یہی کہوں گا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے راہ حق کی طرف قدم اٹھایا بھوک ، پیاس، زخم، ساتھیوں کا مقتول ہونا اور اللہ تعالیٰ  کی راہ میں خود جان دینا، یہ سب مشکلات سامنے آئیں مگر کوئی مشکل ان کے قدم ڈگمگا نہ سکی۔ واللّٰہ باللّٰہ ثم تاللّٰہ۔ یہ اللہ تعالیٰ  کی نصرت تھی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  کے شامل حال کردی کہ دنیا کی کوئی مصیبت ، کوئی مشکل تیرے قدموں کو ڈگمگا نہ سکے گی۔ یہاں تک کہ تو شہادت کی منزل کو پہنچ جائے گا وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ اور ہم پر حق ہے ایمان والوں کی مدد کرنا۔ یہی اللہ تعالیٰ  کی مدد اور نصرت تھی جو آپ رضی اللہ عنہ  کو شہادت کے مقام تک لے گئی۔
آپ اپنے بچے کو روزہ رکھواتے ہیں آپ کے گھر میں اللہ تعالیٰ  کی طرف سے نعمتیں بے شمار ہیں۔ مشروبات رکھے، اعلیٰ اعلیٰ کھانے گھر میں موجود ہیں لیکن بچہ روتاہے، بھوکا ہے، پیاسا ہے، بے چین و بے قرار ہے مگر آپ اسے کھانا دیتے ہیں اور نہ کوئی پانی۔ بلکہ آپ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ابھی دن غروب ہونے والا ہے ذرا صبر کرو۔ تسلی کرو، ابھی افطاری کا وقت آتا ہے۔ یہ صبر کی تلقین کرنا یہ تسلی دینا یہی بچہ کی مدد ہے۔ اگر آپ ص پانی کے لئے زمین پر پائوں مارتے تو پانی کے چشمے پھوٹ پڑتے۔آپ رضی اللہ عنہ  اشارہ فرماتے تو نظام کائنات درہم برہم ہوجاتا، لیکن بات یہ تھی کہ یہ جیسے آپ اس بچہ کو تسلی دیکر روزے افطار کے وقت تک لے جاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ  نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  کو شہادت کی منزل تک پہنچایا یہی اللہ تعالیٰ  کی مدد ہے۔
یزید فاسق تھا
سوال: کسی نے مجھ سے پوچھا کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ  سے پہلے یزید اور اس کے ساتھی مومن تھے یا نہیں؟
جواب: میں اس کو قتل حسین رضی اللہ عنہ  کے بعد بھی کافر نہیں کہتا کیونکہ میرے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کو کافر نہیں کہا۔ کفر وایمان کی بحث الگ ہے۔ ہمارے نزدیک کافر اور مومن کے درمیان کا کوئی واسطہ نہیں ہے یا آدمی مومن ہوگا یا کافر۔ ہم فاسق کو بھی ایمان سے خارج نہیں کہتے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یزید قتل حسین رضی اللہ عنہ  سے پہلے بھی فاسق تھا اور قتل حسین رضی اللہ عنہ  کے بعد بھی اگر کوئی چاہے تو میں اس کا ثبوت دے سکتا ہوں۔ ابو دائود شریف کی حدیث موجود ہے میں بتا سکتا ہوں۔ اگر کوئی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہے تو میں آپ کو بتا دوں کہ امیر معاویہ سے جو کچھ بھی ہوا وہ اجتہادی غلطی کی بنا پر ہوا۔ اللہ تعالیٰ  ان کو معاف فرمائے جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ رسول اللہﷺ  کے تبرکات شریفہ یعنی ناخن مبارک کے تراشے، میرے سینے پر رکھ دینا اور مجھے میرے رب کے حوالے کردینا، میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک لفظ بھی تصور میں نہیں لا سکتا اور نہ زبان سے کہنا جائز سمجھتا ہوں وہ صحابی رسول ہیں۔ حضورﷺ  کی صحابیت کی عظمت ایک ایسی چیز ہے جو ان کی ہر لغزش کے اوپر غالب ہے۔
حق پر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں
لیکن جہاں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا مقابلہ آئیگا تو میں کبھی نہیں کہوں گا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حق پر ہیں۔ حق پر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں ، حق پر حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں ، حق پر علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں۔
عزیزان گرامی! میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ہر سختی کے بعد آسانی ہے قرآن کریم بھی یہی کہتا ہے کہ
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ (الم نشرح: ۵، ۶)
یعنی ہر سختی کے بعد آسانی ہے پھر ایک نہیں دو آسانیاں ہیں۔ لہٰذا یہی سختی تو وہی مشکلات ہیں۔ یہ مشکلات حق کی راہ میں قدم اٹھانے والوں کو پیش آتی ہیں۔ اگر وہی مشکلات اہل حق کو پیش آجائیں تو وہ ان کو روندتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر یہ کب ہوگا؟ جب آپ کے سینے میں عشق مصطفی ﷺ ہوگا۔
جہاد فی سبیل اللہ عشق و محبت رسول ﷺ کے بغیر نہیں ہوتا
یہ جہاد جہاد کا نعرہ لگانے والو! سو چ لو کہ جہاد کا نعرہ وہ لگاسکتا ہے جو حضورﷺ  کے عشق و محبت کا قائل ہو کیونکہ عشق و محبت کے بغیر جہاد نہیں ہوتا۔ منافقین جہاد میں جاتے تھے مگر عشق مصطفی ﷺ سے عاری تھے۔ ذلیل و خوار واپس آجاتے تھے اور مومنوں کے لئے عشق و مصطفی ﷺ کی شمع فروزاں تھی۔ ان کے دلوں میں سرکارﷺ  کی محبت جلوہ گر تھی۔
(سعودی عرب میں بے گناہ قیدیوں معہ مولانا اللہ بخش نیئر کی رہائی کا مطالبہ بہ رابطہ سعودی سفارت جنرل ضیاء الحق سے اجتماع سے بھر پور تائید حاصل کی گئی۔)
پاکستان کو داخلی اور خارجی دشمنوں سے محفوظ رکھنا انجمن کا نصب العین ہے
میں پھر انجمن طلباء اسلام کے عزیز بچوں کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ آپ کاکام قابل تحسین و صد آفرین ہے مگر میں آپ کو دو باتیں بتانا چاہتا ہوں۔
ایک بات تو یہ ہے کہ جس طرح اب تک آپ نے نہایت میانہ روی سے کام کیا ہے۔ آئندہ بھی آپ معتدل اور میانہ روی سے چلیں۔ آپ نے نہایت میانہ روی، اعتدال اور حکیمانہ انداز سے سب کام انجام دیئے ہیں۔ آپ نے ملک کی خدمت اور ملک میں بد امنی کو روکنا اور ملک کے اندر اسلامی قوانین کے لئے کوشاں ہونا ہے یہ آپ کا بہترین کارنامہ ہے اور اپنے طلباء کو تعلیمی اداروں میں جو آپ کی برادری ہے ان کے اندر یہی جذبہ عشق مصطفی ﷺ پیدا کرنا اور نظام مصطفی ﷺ کے لئے راہیں ہموار کرنا اور اپنے پاکستان کو داخلی اور خارجی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنا اور اس کی تنظیم کو اور بنیاد کو مستحکم کرنا، یہ آپ کا نصب العین ہو۔ آپ اس میں بڑھتے چلے جایئے۔ یہ حق کی راہ ہے مشکلات ضرور پیش آئیں گی لیکن ان شاء اللہ
وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ کے پیش نظر ہر مشکل آسان ہوگی۔ آپ اپنے حوصلے بلند رکھئے اور ان مشکلات کو روندتے چلے جایئے اور آپ حق کی حمایت سے کبھی گریز نہ فرمایئے۔
شہید کی عظمت
(کسی ساتھی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث شریف یاد دلائی تو اس پر آپ نے فرمایا) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کیا تھی۔ وہ حدیث یہ ہے کہ
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ  مایجد الشہید من مس القتل الاکما یجد احد کم من مس القرصۃ۔ (۱)
دوسری روایت:
الشہید لا یجد الم القتل الاکما یجد الم القرصۃ اوکما قال
حضورﷺ  نے فرمایا، شہید کو قتل ہونے کی صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جیسے تم میں سے کسی کو مچھر یا چیونٹی کاٹے۔
یعنی شہید کو قتل کا درد نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو عشق و محبت کا متوالہ ہے۔ شہید کو قتل کا درد نہیں ہوتا بلکہ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے چیونٹی کے بچے نے کاٹ لیا ہو۔ چیونٹی کا بچہ کیا ہوتا ہے؟ جب وہ کاٹے تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی گویا شہید کو قتل کا درد نہیں ہوتا تو وہ کیا بات ہے کہ شہید کو قتل کا درد نہیں ہوتا اور یہی میں کہہ رہا ہوں کہ یہ مشکلات جبھی آسان ہوں گی جب عشق مصطفی ﷺ ہوگا لیکن شہید سے مراد کیا ہے؟ اور شہید سے مراد کونسا شہید ہے؟
شہید سے مراد کون سا شہید ہے؟
احادیث میں بے شمار مقامات میں اس کی تفصیل آئی ہے اب میں یہاں زیادہ تفصیل بیان نہیں کرسکتا مختصر یہ ہے کہ شہید سے مراد وہ ہے جو حضورﷺ  کی محبت میں مستغرق ہو کر اور کمال عشق و محبت کے جذبے سے سر شار ہوکر سرکٹائے اور جب محبت میں سرکٹے تو واقعی قتل کا درد نہیں ہوتا محبت میں اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پتہ نہیں چلتا کہ ہاتھ کٹ گئے پہلے آپریشن کلوروفارم کا نشہ دے کر ہوا کرتے تھے اور اس نشہ میں ہڈی، گوشت کاٹا جاتا مگر اس کو درد محسوس نہ ہوتا اور پھر عشق مصطفی ﷺ کی شراب کا نشہ چڑھ جائے تو وہاں کیا پتہ چلے گا اور پھر قرآن کریم کو پڑھئے کیا کہتا ہے؟
قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّا ن زنان مصر نے اپنے ہاتھوں کو کاٹ لیا۔ (پ ۱۲ یوسف: ۳۱) مگر ان کو پتہ نہیں چلا آپ کہیں گے کہ کیسے پتہ نہیں چلا۔ میں کہتا ہوں انہیں ہاتھ کٹنے کا پتہ نہیں چلا اگر انہیں ہاتھ کٹنے کا پتہ چل جاتا تو وہ فوراً یہی کہتیں کہ ہائے افسوس ہاتھ کٹ گئے وہ ہاتھ کٹنے کی بات نہیں کہتیں ، وہ کہتی ہیں
وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاہٰذَا بَشَرًا اِنْ ہٰذَا اِلاَّ مَلَکٌ کَرِیْمٌ۔ (یوسف: ۳۱)
اور کہنے لگیں پاکی ہے اللہ کے لئے یہ بشر نہیں یہ تو نہیں ہے مگر کوئی معزز فرشتہ۔
شبہ
آپ کہیں گے کہ پتہ کیوں نہیں چلا؟
شبہ کا ازالہ
میں کہوں گا کہ یوسف علیہ السلام کے حسن کا نشہ جب ان کے دماغ پر چڑھا تو ہاتھ ہی کٹ گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ تو پھر یہ بتائو کہ جن کے دماغ پر مصطفی ﷺ کے عشق کا نشہ چڑھ جائے اس کے سر کٹنے کا کیا پتہ چلے گا اور میں عشق و محبت کی بات کہہ رہا ہوں اس لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زنان
سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردان عرب

اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا کہ یوسف علیہ السلام کے حسن پر مصر کی عورتوں نے انگلیاں کٹا دیں وہاں حسن تھا یہاں تو نام ہے ، وہاں یوسف علیہ السلام ہیں یہاں حضورﷺ  ہیں وہاں مصر کی عورتیں ہیں اور یہاں عرب کے مرد ہیں۔ وہاں تو انگلیاں ہیں اور یہاں تو سرکٹائے جارہے ہیں۔
انجمن طلباء اسلام کے طلبہ کی سرپرستی آپ حضرات کا فرض ہے
اللہ اکبر! اے میرے عزیز طلباء راہ حق میں قدم بڑھاتے جائو اور مشکلوں کو روندتے ہوئے چلے جائو۔ جب دل میں عشق مصطفی ﷺ کا چراغ روشن ہے تو ان شاء اللہ کوئی مشکل تمہاری راہ میں حائل نہیں ہوگی اور اے سنیو! یہ بچے تو واقعی ایسا کریں گے اور کر رہے ہیں مگر آپ کو ان کا ساتھ دینا ہوگا اگر آپ نے ان سے تعاون نہ کیا اور آپ نے ان کی سرپرستی نہ کی تو پھر یاد رکھئے کہ آپ سے قیامت میں سوال کیا جائے گا اور آپ سے کوئی جواب نہیں بن پڑے گا ان بچوں کی حمایت، ان کی اعانت، ان کی سرپرستی یہ آپ حضرات کا فرض ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفٰی وَسَلاَ مٌ عَلٰی
عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اَمَّا بَعْد
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o
ہُوَ الَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ
لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖج وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًاo
صَدَقَ اللّٰہُ مَوْلاَ نَا العَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ
النَّبِیُّ الْاَمِیْنُ وَنَحْنُ عَلٰی ذٰلِکَ لَمِنَ الشّٰہِدِیْنَ
وَالشّٰکِرِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا
مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ عَلَیْہ۔

 

پچھلا صفحہ

ہوم پیج