عید الاضحی تجدید عہد کا دِن

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم اَمَّا بَعْد
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

محترم حضرات! عید الاضحی کا دن عظیم دن ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے تمام عالم اسلام کی مرکزیت کے لئے اس دن کو بڑی عظمت عطا فرمائی ۔ بلاشبہ یوم حج کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے حج کی عبادت کو بڑی عظیم عبادت قرار دیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ  نے حج میں مالی اور بدنی عبادتوں کو جمع کردیا ہے۔لیکن آپ جانتے ہیں کہ حج تو صرف کعبہ کے طواف اور عرفات میں ٹھہرنے کا نام ہے۔(وقوف عرفہ) جو نویں تاریخ کو ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں حج کے ارکان ہیں اور باقی امور حج کے واجبات و سنن میں سے ہیں۔ یعنی رمی جمار ہو یا وقوف منیٰ ہو یا مزدلفہ وغیرہ۔ آپ جانتے ہیں کہ عرفات بھی مکہ مکرمہ کے نواح میں ہے اور خانہ کعبہ خود مکہ مکرمہ کے اندر ہے تو حج کرنے والے نویں تاریخ کو عرفات میں ہوں گے یا خانہ کعبہ کے طواف کے لئے مسجد حرام میں ہوں گے۔اگرچہ لوگ عالم اسلام کے گوشے گوشے سے وہاں جمع ہوتے ہیں۔ مگر یہ سعادت صرف انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ (دسویں ذوالحجہ کے) اس دن کو تمام عالم اسلام میں مرکزیت حاصل ہے۔ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہ ہوگا کہ جہاں مسلمان نہ ہوں اور اس دن کی عظمت کا مظاہرہ نہ ہورہا ہو۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ عرفات اور خانہ کعبہ ایک مخصوص مقام میں ہیں اور اس ایک خاص جگہ میں ہیں لیکن اس دن (دسویں ذی الحجہ) کو اللہ تعالیٰ  نے تمام عالم اسلام کے لئے مرکزیت کا حامل قرار دیا ہے اور بلاشبہ یہ ایک عظیم دن ہے۔ یہ دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد کو تازہ کرتا ہے اور جس کا ذکر اللہ تعالیٰ  نے قرآن کریم میں بیان فرمایا۔ اس کی تفصیل اللہ تعالیٰ  کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بیان فرمائی۔ یہاں اس کی تفصیل بیان کرنے کا وقت نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ  نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب بیان فرمایا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سید نا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بلا کر کہا
یٰـبُنَیَّ اِنِّیٓ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیٓ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی۔ (اَلصّٰفّٰت: ۱۰۲)
اے میرے بیٹے! بے شک میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ تو (اب) تم غور کر لو تمہاری کیا رائے ہے۔
شاید آپ یہ سمجھیں کہ یہ تو خواب کی بات ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ میرا اور تمہارا خواب نہیں۔ یہ انبیاء علیہم السلام کے خوابوں میں سے خواب ہے۔ یقین کیجئے کہ نبی کا خواب صرف خواب ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ امر الٰہی ہوتا ہے، وحی خداوندی ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا
قَالَ یٰٓـاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیٓ اِنْ شَائَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ
یعنی اباجان! آپ کو جو امر کیاگیا ہے وہ کر گزریئے ان شاء اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ نہ کہا کہ جو آپ نے خواب دیکھا ہے اس کے مطابق عمل کیجئے بلکہ یہ کہا
یٰٓـاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ
اے ابا جان! آپ کیجئے جس کام کا آپ کو حکم دیا گیا۔
معلوم ہوا کہ نبی کا خواب خواب نہیں ہوتا بلکہ وہ امر الٰہی ہوتا ہے گویا ابراہیم علیہ السلام کو امر الٰہی ہوا کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کریں۔ چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے میں کوئی تردد نہیں کیا۔ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نیچے لٹایا اور ان کے حلقوم پر چھری کو چلایا اور اللہ تعالیٰ  کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ چھری دنبہ کی گردن پر چلے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ  نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا اور چھری دنبے پر چلی۔ اگرچہ چھری حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حلقوم پر رکھی تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس خیال سے چھری چلائی کہ میں اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کررہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا لقب ذبیح اللہ قرار پایا اور خوب سمجھ لیجئے کہ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے بیٹے کو سکون اور اطمینانِ قلب، خوشی اور راحت کے ساتھ ذبح کررہا ہے۔ تو کیا کوئی باپ بشری تقاضوں کے پیش نظر اس قدر سکون قلب اور خوشی کے ساتھ اپنے بیٹے کو ذبح کردے گا۔ کیا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کوئی باپ اللہ تعالیٰ  کے حکم کی تعمیل میں ایسا کرے گا بھی تو اس کے دل میں بے چینی اور اضطراب ضرور ہوگا۔ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں ذرہ برابر بھی بے چینی اور بے قراری پیدا نہیں ہوئی۔
کیوں؟ اس کی کیا وجہ تھی؟
اس کی وجہ یہ تھی کہ بے چینی اور بے قراری محبت کے غلبہ کی بنا پر ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر بکرا وغیرہ ذبح کریں تو کوئی بے چینی اور اضطراب پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس بکرے کی محبت ہمارے اعصاب پر غالب نہیں آتی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی محبت کا غلبہ کیوں نہ ہوا؟ اس لئے کہ آپ خلیل اللہ ہیں اور مقام خلت پر فائز ہیں۔ آپ کو خلت کا مرتبہ دیا گیا تو جب آپ نے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری پھیری تو بیٹے کی محبت پر اللہ تعالیٰ  کی محبت کا غلبہ ہوگیا اس بناء پر آپ پر سکون قلب اور اطمینان تھا۔ نہ کہ بے چینی اور بے قراری اورپھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان؟ اللہ تعالیٰ  بیان فرماتا ہے
وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض۔ (الانعام: ۷۵)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب کچھ دیکھا کوئی چیز نگاہِ ابراہیم علیہ السلام پر مخفی نہ تھی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے دنبہ ان کی نظر سے مخفی ہوجائے۔ مگر اللہ تعالیٰ  کی محبت بیٹے کی محبت پر اس قدر غالب ہوئی کہ غلبہ حال محبت میں آپ کی توجہ ادھر ادھر مبذول نہ ہوئی کہ چھری بیٹے کی گردن پر چل رہی ہے یا دنبہ کی گردن پر۔ یہی کمال غلبہ محبت الٰہیہ کا ہے اور یہی مقام خلت کا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس مقام کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
بہر حال میرے عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قربانی کی اصلی حیثیت خدا کی وہ محبت ہے جس محبت کے جذبے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلائی تھی۔ تو آج ہم اس رسم کو پورا کرتے ہیں اور کم و بیش ہر مسلمان اپنے دل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس سنت اور طریقہ مقدسہ کا احترام دل میں رکھ کر اور حُکمِ خدا کی تعمیل کا تصور ذہن میں قائم کرکے اور دل سے تسلیم کرکے قربانی کرتا ہے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ وہ یقینا ماجور ہے اس کو اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ اقدس میں اجر ملے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ
اس دن قربانی کا خون بہانے سے بہتر اور کوئی کام نہیں ہے۔
کیونکہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یادگا ر ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی نگاہ سے تو کوئی چیز مخفی نہ تھی کیونکہ
وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
اور پھر یہ کیسے چھپا رہ گیا کہ چھری اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چلا رہا ہوں یا دنبہ پر؟
یقینا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے ہی کو ذبح کرنے کے لئے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری رکھی لیکن جب اللہ تعالیٰ  نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بجائے دنبے کو وہاں رکھ دیا تو بے شک یہ مت کہو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نظر میں کوئی کوتاہی یا کمی تھی بلکہ نگاہ خلیل تو
مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کودیکھ رہی تھی۔ مگر خدا کی محبت کا غلبہ اتنا تھا کہ آپ کی توجہ ادھر ادھر مبذول نہ ہوئی کہ میں بیٹے کو ذبح کررہا ہوں یا دنبے کو۔ اس لیے ان کا امتحان پورا ہوگیا اور آج ہمارے دل میں خدا کی محبت کا وہی جذبہ ہے۔
میرے محترم دوستو اور عزیزو! اسی جذبہ محبت کا یہ کرشمہ تھا کہ اللہ تعالیٰ  نے عالم ارواح میں تمام بنی آدم کو جمع کرکے ان سے عہد لیا۔
وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ م بَنِیٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ۔ (الاعراف: ۱۷۲)
یعنی یاد کیجئے(محبوب ﷺ )کہ جب اللہ تعالیٰ  نے آدم علیہ السلام  کی ذریت اور ان کی اولاد کی پشتوں سے ان کی اولاد کو لے لیا۔ ان کی ذریت کو لے لیا۔ اللہ تعالیٰ  نے مثالی صورت میں عالم ارواح میں ان کو پھیلادیا اور اللہ تعالیٰ  نے ان سب سے عہد لیا۔
وَاَشْھَدَ ہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ( اور ان کی جانوں پر انہیں گواہ بنایا) اور ان سے کہا اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں؟ قَالُوْابَلٰی شَہِدْنَا سب نے کہا کیوں نہیں (یقینا تو ہمارا رب ہے) ہم نے گواہی دی۔
یعنی ہم نے گواہی دی اس بات کی کہ تو ہمارا رب ہے اور یہ گواہی کس بنا پر تھی؟ یہ گواہی بلاشبہ محبت کی بنا پر تھی کیونکہ انسان کی فطرت میں پہلے ہی سے خدا کی محبت تھی اور وہ (انسان) اللہ تعالیٰ  کی محبت اس دنیا میں لے کر آیا۔ مگر وہ لوگ ناکام ہوئے جنہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کو چھوڑ کر خدا کو تلاش کیا اور جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں خدا کو تلاش کیا وہ کامیاب ہوئے۔ وہ کامیاب ہوں یا نہ ہوں مگر ان کا رب کو تلاش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں رب کی تلاش کا مادہ ضرور موجود ہے اور وہ تلاش کا مادہ دراصل وہ جذبہ محبت ہے جس کو ہم نے لے کر
عالم ارواح میں بلٰی کا نعرہ لگا کر اس دنیا میں آئے اور رب کو تلاش کیا۔ اب بتایئے کہ رب کو تلاش کرنے کے بعد پھر اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنا یہ تو عہد کو توڑنے والی بات ہے۔ ارے! خدا کی ربوبیت کے اقرار کرنے کے کیا معنی ہیں؟ کہ اے اللہ تو ہمارا رب ہے تو پھر رب کے حکم کے خلاف تو کوئی کام نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ عالم ارواح کا عہد ہے کہ تو ہمارا رب ہے اور جو تیری ربوبیت کا نظام ہوگا وہ ہمیں قبول ہوگا یہ نہیں ہوسکتا کہ ربوبیت کا اقرار کریں اور نظام ربوبیت کا رد کردیں۔ اگر ایسا ہورہا ہے تو گویا۔ ہم نے اس عہد کو توڑ دیا ہے۔
آج ہم نے اس عہد کو تازہ کرنا ہے کہ اے ش! ہم نے تیرے رب ہونے کا جو عہد کیا تھا وہ یہ تھا کہ اے رب ہم تیرے نظام ربوبیت کو برقرار رکھیں گے۔
نظام مصطفیٰ ﷺ ہی نظام ربوبیت ہے
نظام ربوبیت اسلامی نظام کا وہ دوسرا نام ہے اور نظام ربوبیت دراصل اس نظام مصطفی کا نام ہے جس کے لئے لوگوں نے جانیں دیں گولیا ں، کھائیں، جیلوں میں گئے، ہماری بہو بیٹیاں اور ہماری مائیں بیوہ ہوئیں اور کتنے لعل ان سے جدا ہوگئے اور کس قدر خون بہہ گئے اور قوم کو کس قدر تکالیف ہوئیں۔ اسی نظام مصطفی کے لئے قرآن کریم نے ہمیں ایک بات بتائی۔
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تَوُا الزَّکٰوۃَ وَأَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ (الحج: ۴۱)
وہ لوگ(ایسے ہیں کہ) اگر ہم انہیں زمین میں سلطنت عطا فرمائیں(تو)وہ نماز قائم کریں اور زکواۃ دیں اور نیکی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور سب کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ  ہی کے اختیار میں ہے۔
عزیزان محترم ! تیس بر س گزر چکے ۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ہم کس حال میں ہیں (کہ ابھی تک نظام مصطفی نافذ نہیں ہوا)
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج