مفہوم نبوت و رسالت

نبوت اور رسالت کے متعلق کچھ عرض کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پہلے ہم نبوت و رسالت کے حقیقی مفہوم سے ذہن کو آشنا کرلیں۔
نبوت و رسالت میں فرق
اصطلاح سے قطع نظر ہر نبی رسول ہے۔ اصطلاح کی قید اس لئے لگائی کہ اصطلاح میں رسول اس کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ  کی طرف سے نئی شریعت لے کر آئے، پس اصطلاح سے قطع نظر ہر نبی، رسول یعنی پیغمبر ہوتا ہے، کوئی نبی ایسا نہیں جو خدا کا پیغام نہ لائے، ہر نبی خدا کا پیغام لانے والا اور رسول ہوتا ہے۔ لیکن ہر رسول کا نبی ہونا ضروری نہیں، اس لئے کہ نبی انسانوں کے لئے خاص ہے، نبی انسانوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا اور رسول عام ہے، جیسا کہ رسول ملائکہ میں بھی ہیں اور جنوں میں بھی ہیں، جیسے حضرت جبرائیل ں، حضرت میکائیکل علیہ السلام رسول تو ہیں لیکن نبی نہیں، پس جو انسانوں میں سے نہ ہو اور اس کو رسالت دی جائے وہ رسول تو ہے مگر اس کو نبی نہیں کہتے۔ شاید کوئی سمجھے کہ جس پر اللہ تعالیٰ  کی طرف سے وحی ہو وہ رسول ہوتا ہے اور نبی ہوتا ہے، تو یہ غلط ہے کیونکہ وحی تو ایک تیزاشارے کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ  نے اس قسم کے اشارات انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات کی طرف بھی فرمائے اور انسانوں میں انبیاء علیہم السلام کے علاوہ دیگر لوگوں کے بارے میں بھی اشارات فرمائے چنانچہ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
اِذْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰٓی اُمِّکَ مَایُوْحٰی (طٰہٰ: ۳۸)
جب ہم نے غیبی اشارہ سے آپ کی والدہ کو وہ بات سمجھائی جس کی وحی آپ کو کی جارہی ہے۔
اب یہاں دیکھئے قرآن کریم سے ثابت ہورہا ہے کہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف وحی ہوئی لیکن عورت نبی نہیں ہوسکتی۔ نبوت تو صرف مرد انسانوں کے لئے ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ  نے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں فرمایا
فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا قَالَتْ اِنِّیٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَہَبَ لَکِ غُـلَامًا زَکٍیًّا (مریم: ۱۷ تا ۱۹)
اب دیکھئے کہ وہ رسول یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک بشر کامل کی شکل میں متشکل ہوئے جب حضرت مریم علیہ السلام نے ان کو شکل بشر میں دیکھا تو سمجھا کہ واقعی یہ کوئی بشر ہے، وہ مقدسہ بندی تھیں فوراً پناہ مانگی اور کہا اگر تم متقی ہو تو مجھ سے فوراً دور ہوجائو اس نے کہا اس کے سوا میں کچھ بھی نہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے قاصد ہوں اور آپ کو رب کی طرف سے ایک پاک بیٹا دینے آیا ہوں۔
یہاں جبرائیل علیہ السلام نے جب یہ بات فرمائی تو متکلم کے صیغے کے ساتھ بیان کی کہ میں تم کو ایک بیٹا دینے آیا ہوں حالانکہ بیٹا دینا اللہ تعالیٰ  کا کام ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ معطی حقیقی یعنی حقیقت میں عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ  ہے اور جب اللہ تعالیٰ  کا بندہ کسی کو کچھ عطا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ  کے اذن سے دیتا ہے اس لئے جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ  کی طرف سے آپ کو بیٹا دینے آیا ہوں اس کے علاوہ دیگر ملائکہ کو بھی اللہ تعالیٰ  نے اپنے بعض بندوں کی طرف بھیجا اور ان کو شرف مکالمہ سے نوازا اور فرشتوں نے ان کے ساتھ باتیں کیں۔
شہد کی مکھی کو وحی
اللہ تعالیٰ  نے سورۃ النحل میں فرمایا
وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا (النحل: ۶۸)
وَّمِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَ
اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دِل میں ڈالا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور اُن چھپروں میں، جنہیں لوگ اُونچا بناتے ہیں۔
اب دیکھئے یہاں قرآن کریم بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی لیکن یہاں نبوت کا تصور بھی نہیں، بہرحال یہ سمجھنا کہ جس کی طرف بھی وحی ہوجائے وہ نبی یا رسول ہے، غلط ہے، پس نہ فقط وحی سے اور نہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے سے نبوت ملتی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام تو حضرت مریم علیہ السلام کے پاس آئے ہیں، نبوت تو ایک اور چیز ہے یہ تو اللہ تعالیٰ  کا انعام ہے جو ان سب چیزوں سے الگ ہے۔
اب پہلے میں نبوت اور رسالت کے وہ معنی جو انسانوں کے حق میں ہیں بیان کردوں کیونکہ اس وقت ملائکہ کی رسالت سے گفتگو نہیں بلکہ انسانوں کی نبوت اور رسالت کا بیان ہے۔
نبوت کی تعریف
نبوت کی تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  اپنے کسی مقدس و مطہر اور پاک بندے پر ایسی وحی نازل فرمائے کہ اس کلام وحی یا خطاب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ  کا کوئی حکم اس کے ذمہ عائد ہوجائے یا اس پر کسی چیز کو واجب کردیاجائے اور وہ چیز پہلے اس پر واجب یا ضروری نہ تھی اب واجب اور ضروری ہوگئی پس جس مقدس بندے کو اللہ تعالیٰ  فرشتے کے واسطے سے یا واسطے کے بغیر اپنا کوئی ایسا پیغام دے یا کوئی ایسا خطاب کرے یا کوئی ایسی وحی فرمائے کہ جس وحی، خطاب یا تکلم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ  کے اس بندہ پر وہ چیز جو پہلے اس پر واجب نہ تھی اب فرض، واجب اور لازم ہوگئی۔ یہ کلام، یہ وحی اور شگ کے اس بندے کا اس لازمی امر کے لئے مامور ہونا نبوت ہے اور یہ بات سوائے نبی کے کسی اور کے لئے ثابت نہیں ہوسکتی۔
فقط اللہ تعالیٰ کا مخاطب ہونا نبوت نہیں
فقط اللہ تعالیٰ  کا مخاطب ہونا نبوت نہیں ملائکہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ  کا تخاطب اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ  نے اولیاء اللہ کے بارے میں ارشاد فرمایا
لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ (یونس: ۶۴)
یعنی ان کے لئے خوشخبری ہے دنیا میں اور آخرت میں بھی، اس بشارت کی تفسیر، حدیث میں یوں کی گئی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن اور بالخصوص مومن صالح اور اللہ تعالیٰ  کا مقرب محبوب، جب اس کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو وہ موت کو پسند نہیں کرتا، موت کو پسند نہ کرنا انسان کی جبلت میں ہے، اسی حدیث قدسی میں جس میں کہا گیا ہے کہ میں اپنے بندے کے کان ہوجاتا ہوں، آنکھیں ، ہاتھ اور پائوں ہوجاتا ہوں، یہ طویل حدیث ہے، اس کے آخر میں ہے
وما ترددت عن شی ء انا فاعلہ ترددی عن نفس المؤمن یکرہ الموت وانا اکرہ مسائتہ وفی بعض النسخ ولا بدلہ منہ (۱)
اور میں توقف نہیں کرتا کسی شے میں جیسے میں کرنے والا ہوں، مثل میرے توقف کے مومن کی جان قبض کرنے سے کہ وہ (بحکم طبیعت)موت کو ناخوش رکھتا ہے اور میں اس کے غمگین ہونے کو ناپسند رکھتا ہوں اور بعض نسخوں میں ہے کہ حال یہ ہے کہ بندے کو موت سے چارہ نہیں، اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا۔
یعنی میں کسی کام میں جو کہ میں کرنا چاہتا ہوں، دیر نہیں کرتا اور کبھی اتنی تاخیر نہیں فرماتا، جتنی دیر اس مومن کی موت کو واقع کرنے میں کرتا ہوں اس لئے کہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور میں اس کے موت کے پسند نہ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں اور مجھے اس بندے کی ملاقات بڑی محبوب ہوتی ہے، پھر انجام کیا ہوتا ہے؟ یہ بات اگر کسی کے ذہن میں آجائے تو میرا مدعا بھی حل ہوجائے۔
مومن کو مرتے وقت بشارتیں
جب اللہ تعالیٰ  کا بندہ موت سے کراہت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ  اس وقت اپنی حکمت بالغہ سے کام لیتا ہے اور جانتا ہے کہ میرا بندہ موت کو طبعاً پسند نہیں کرتا تو اس وقت اللہ تعالیٰ  اپنے فرشتے بھیجتا ہے اور وہ فرشتے اللہ تعالیٰ  کے اس بندے کے سامنے اللہ تعالیٰ  کی طرف سے بشارتیں لے کر آتے ہیں پس جو اعزاز و اکرام، راحتیں اور لذتیں اللہ تعالیٰ  کے یہاں اپنے بندے کے لئے نازل ہوتی ہیں تو ان بشارتوں کو دیکھتے ہی اس بندے کی طبعی کراہت ختم ہوجاتی ہے اور اس میں اشتیاق پیدا ہوجاتا ہے اور مسرور ہوکر مسکراتا ہے

نشان مرد مومن باتو گویم
چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ  کے نیک بندوں اور صالحین پر فرشتے بشارتیں لاتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ  فرشتوں کے واسطے سے تخاطب فرماتا ہے مگر اس کے باوجود وہ بندے اللہ تعالیٰ  کے نبی نہیں ہوتے۔نبوت کا مقام اس سے بہت بلند ہے اور صرف ایسا تخاطب نبوت نہیں ہوتی، پس جو اللہ تعالیٰ  کا مامور ہو اور اللہ تعالیٰ  اسے اپنی وحی اور پیغام کے ذریعے بالواسطہ یا بلا واسطہ تخاطب فرمائے اور مامور فرمائے تو وہ نبی ہے، ورنہ وحی تو شہد کی مکھی کی طرف بھی کی گئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف بھی کی گئی۔
اگر یہ بات ذہن نشین کرلی جائے تو بہت سی گمراہیوں سے نجات حاصل ہوسکتی ہے اور نبوت کا جو معنی اور مفہوم میں نے عرض کیا ہے اگر اس کو ذہن نشین رکھا تو اگلی بات اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔
حضورﷺ پر نبوت ختم ہے۔ اِس کا منکر کافر اور مرتد ہے
یہ بات تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور حضورﷺ  پر ختم ہوگئی، یہ کوئی عالم ارواح کی بات نہیں، یہاں کی بات ہے اور یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے اس پر ایمان لانا شرط ہے کیونکہ جو حضورا کرم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا وہ مرتد اور کافر ہے، پس حضورﷺ  خاتم الانبیاء ہیں اور آپ ﷺ کے بعد قیامت تو کیا ابد تک کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔
اب وہ لوگ جنہوں نے ختم نبوت کے متعلق ایسی باتیں شروع کردیں کہ جن میں نہ کوئی عقلی بات ہے اور نہ دلائل ان کی یہ باتیں دلائل اور سمعیات وغیرہ سب سے عاری ہیں۔ غلط توجیہات اس انداز سے کی گئی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانہ میں کس طرح باطل کو حق کا لباس پہنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیاجاتا ہے۔حضوراکرمﷺ  نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں، پس آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا لیکن فرقہ مرتدہ مرزائیہ کہتا ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے اور جو نبوت تشریعی نہیں ہے وہ ختم نہیں ہوئی وہ چلے گی۔
لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ
تشریعی نبوت اور قادیانیت کا دروغِ بے فروغ
آج تک تشریعی نبوت کا کوئی واضح مفہوم یہ لوگ نہ بتا سکے، جو تشریعی نبوت کی آڑ لے کر ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں ہم نے کہا کہ نبوت تشریعی کا مفہوم تو بتائو کہ وہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جس نبوت میں احکام نازل کئے جائیں وہ نبوت تشریعی ہے اور جس میں احکام نہ ہوں وہ غیر تشریعی ہے۔ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے احکام کی آمد ختم ہوگئی، پس جس نبوت میں احکام نہ ہوں وہ نبوت چلے گی ہم نے پوچھا کہ احکام کی تشریح کیا ہے؟ انہوں نے کہا حکم کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز پر کسی کو ضروری اور لازمی قرار دینا جو چیزیں پہلے لازمی اور ضروری تھیں ان سے رعایت دینا۔
ہم نے کہا کہ پھر تو غیر تشریعی ہر گز کوئی نبوت نہیں، نبوت تو ہوتی ہی وہ ہے جو تشریعی ہو اور جس میں کوئی حکم نہ ہو وہ تو نبوت ہی نہیں، اب تک میں آپ کی خدمت میں نبوت کا جو مفہوم واضح کرنا چاہتا تھا اس کا مطلب اور مقصد یہی تھا کہ جب اللہ تعالیٰ  وحی فرمائے اور اس وحی کے نتیجے میں احکام مرتب ہوں وہ نبوت ہے۔ محض وحی کا نزول نبوت ثابت نہیں کرتا۔ معلوم ہوا کہ نبوت کی دو قسمیں کرنا غلط ہے کیونکہ جب نبوت کے معنی ہی یہی ہیں کہ جہاںحکم ہو وہاں نبوت ہے اور جہاں حکم نہیں وہاں نبوت نہیں، اب جس غیر تشریعی نبوت کا تم ڈھنڈورا پیٹتے ہو وہ تو کوئی نبوت ہی نہیں، اس کو نبوت کہنا غلط ہے۔
دیکھئے میں چاہتا ہوں کہ اس انداز سے بات کہوں کہ کسی کا ذہن الجھنے نہ پائے، میں نے اب تک جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  کوئی حکم جب کسی بندے کو فرشتے کے واسطے سے یا واسطے کے بغیر دے یہی نبوت ہے۔
اب ایک تو ہےنبوت اور ایک ہےفیضان نبوت نبوت تو حضورﷺ  پر ختم ہو گئی اور فیضان نبوت جاری رہے گا کیونکہ اگر فیضان نبوت کا دروازہ بھی بند ہوجائے تو پھر نبی کا فیض کسی تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس وہ فیضان نبوت، جو باقی ہے اس کو حضور نبی کریم ﷺ نے مبشرات سے تعبیر فرمایا بلکہ حضورﷺ  نے اجزائے نبوت سے تعبیر فرمایا، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اجزائے نبوت کہا تو وہ تو نبوت سے متعلق ہیں پھر تو نبوت باقی ہوئی۔
تو سنیئے حضوراکرم ﷺ نے فرمایا
لم یبق من النبوۃ الا المبشرات (۱)
یعنی نہیں باقی رہی نبوت سے کوئی چیز مگر مبشرات، ہم اسے نبوت کا جزو مجازاً کہتے ہیں اور اصل یہ مبشرہ ہے، اگر یہ ہی نہ ہو تو دنیا میں کوئی فیوض و برکات نہ پھیلیں۔
اگر محض سچے خوابوں کا نام نبوت رکھ دیاجائے تو پھر وہ کون سے مسلمان ہیں۔ جس کو کبھی سچا خواب نہ آئے، اس طرح تو ہر مسلمان نبی ہوجائے گا کیونکہ ہر مسلمان کو کبھی نہ کبھی سچا خواب آہی جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ  آدمیوں کو سوتے ہوئے مبشرات دے دیتا ہے اور فرشتوں کے ذریعے جاگتے ہوئے بھی دے دیتا ہے پتا چلا کہ مبشرات کے معنی نبوت نہیں، مبشرات تو درحقیقت فیضان نبوت ہے اور یہ جاری ہے۔
مرزا قادیانی کی ایک اور غلط بیانی
نبوت کا ظل بھی فیضان نبوت ہے حضورﷺ  کی اتباع، حضورﷺ  کا ظل ہے اور اس ظل کو نبوت سے تعبیر کرنا بظاہر نبوت پر ظلم ہے بلکہ اپنے آپ پر ظلم ہے کہ کفر میں پڑنا ہے دراصل یہ لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی نے تو تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اسی کو حقیقی نبوت کہتے ہیں مرزا قادیانی نے اسی حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا کیونکہ اس نے بار بار کہا کہ میں خدا کا مامور ہوں اور یہاں تک کہ اس نے اپنے نہ ماننے والوں کو خارج از اسلام سمجھا پتا چلا کہ اس نے ماموریت قطعیہ کا دعویٰ کیا اور اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے جب اس کے دعوے کے مطابق اس پر ایمان نہ لانا کفر کا سبب ہے تو ایمان و کفر کے مسئلہ میں کم از کم ایک حکم کا اضافہ تو ہوگیا اب تک تو کہتے تھے کہ یہ غیر تشریعی نبی ہے جب ایک حکم بھی ثابت ہوگیا تو یہ دعویٰ تو باطل ہوگیا۔
مفہوم رسالت
نبوت اور رسالت مفہوم اور معنی کے لحاظ سے رسل بشر کے حق میں یکساں ہیں، نبوت کے ساتھ ساتھ رسالت کے مفہوم کو بھی عرض کرتا ہوں کہ رسالت ایک تعلق اور ربط کا نام ہے اگر وہ ربط نہ ہوتو رسالت کا کوئی مفہوم نہیں، وہ ربط ایک علمی، عملی اور باطنی تعلق ہے، جسے ہم نبوت سے تعبیر کرتے ہیں اگر نبی یا رسول کا کوئی معنوی ربط مرسل الیہ کے ساتھ نہ ہو تو اس رسول کی رسالت کے کوئی معنی نہ بنیں گے اور اس رسول کا ہونا مرسل الیہ کے لئے بالکل بے معنی ہوگا۔
رسول کے معنی یہ ہیں کہ جس کی طرف وہ رسول بن کر آیا، اس سے ایک اندرونی نسبت ہے ، جس سے نبی کا فیض پہنچ رہا ہے، اب اگر وہ قبول کرے تو خوش نصیب ہے اور جو نہ کرے وہ بد بخت ہے، سورج تو سب پر پھیلا ہوا ہے، ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ ہم پر بھی روشن ہے اور ایک نابینا ہے اس پر بھی سورج کی روشنی ہے لیکن وہ نہ دیکھ سکے گا، اب سورج کی شعاعوں نے تو نابینا سے رابطہ قائم کرلیا لیکن اس کی آنکھوں میں نور نہیں، وہ نور کے بغیر نور سے کس طرح رابطہ قائم کرسکتا ہے اور وہ سورج کی روشنی سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
اب سمجھ لو کہ رسالت کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کا نور ہر طرف پھیلا ہوا تھا یہ روشنی اور یہ اجالا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر بھی پڑ رہا تھا اور ابو جہل پر بھی پڑ رہا تھا ابوجہل چونکہ خود نور سے محروم تھا اس لئے آفتاب رسالت سے کوئی رابطہ نہ پیدا کرسکا اور کچھ حاصل نہ کر سکا۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ آفتاب زمین کے لئے ہے مگر آفتاب کی کوئی شعاع زمین کے فلاں حصے پر نہیں پڑتی تو یہ غلط ہے کیونکہ آفتاب جب چمکتا ہے تو اس کی شعاعیں ہر چیز پر پڑتی ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی چیز میں آفتاب کی شعاعوں سے مستفید ہونے کی صلاحیت ہی نہ ہو۔
اسی طرح حضورﷺ  جوکہ آفتاب نبوت ہیں حضورﷺ  کا عالموں کا رسول اور نور ہونا تب صحیح ہوگا جبکہ حضورﷺ  کے نور رسالت کی شعاعیں ہر عالم کی ہر چیز پر پڑ رہی ہوں آپ یقین جانیئے کہ حضورﷺ  کے نور رسالت کا پر تو تو ہر عالم کے ہر ذرے پر پڑ رہا ہے اور ہر عالم کا ہر ذرہ میرے آقا ﷺ کے تحت رسالت ہے تو آپ کا تعلق عالم کے ہر ذرہ ذرہ سے ہے، جب میرے آقا ﷺ تمام عالموں کے رسول ہیں تو یہ آپ ﷺ کا ہر چیز کے ساتھ علمی اور عملی رابطہ قائم ہے۔ رسالت میں ارتباط ہے اور رابطہ قائم ہونا حضورﷺ  کے حاضر و ناظر اور تمام کائنات کے عالم ہونے کا مفہوم ہے اگر آپ کا تعلق عالم کے ہر ذرہ سے نہیں اور رابطہ نہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ آپ ﷺ عالمین کے کیسے رسول ہیں؟ ارے حضورﷺ  جس کی طرف رسول بن کر آئیں وہ تو رسول کو پہچانے عالم کی ہر چیز تو رسول کو پہچان لے اور حضورﷺ  کو پتا نہ ہو۔ (معاذ اللہ)
ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک گوہ لائی گئی، آپ ﷺ نے پوچھا میں کون ہوں، اس نے کہا
انت رسول رب العلمین و خاتم النبین (۱)
ارے گوہ تو حضورﷺ  کو پہچان گئی اور حضورﷺ  کو علم نہ ہو۔ امت کو تو علم ہو اور رسول کو علم نہ ہو۔ (نعوذ باللہ)
پس جب اٹھارہ ہزار عالم کے آپ ﷺ رسول ہیں تو اٹھارہ ہزار عالم کا کوئی ذرہ ایسا نہیں جو مصطفی ﷺ کے دامن میں نہ ہو۔ میں اپنے کلام کو سمیٹ کر اس کا یہ حصہ بیان کرتا ہوں کہ نبی کی نبوت اور رسالت ایک علمی اور عملی تعلق ہے۔اگر رسول اپنے مرسل الیہ کے ساتھ علمی اور عملی تعلق نہ رکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول نہیں ہیں، حضورﷺ  چونکہ تمام عالموں کے لئے رسول ہیں، لہٰذا کائنات کا کوئی ذرہ نہیں کہ جس کو حضورﷺ  کی علمی اور عملی نسبت سے تعلق نہ ہو۔
علمی رابطہ سے مراد ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اپنی حقیقت میں حضورﷺ  کو پہچانتا ہے اور عملی رابطہ و نسبت سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے وجود بقا میں حضورﷺ  کا محتاج ہے اگر حضورﷺ  کے نور مبارک(جو واسطہ تخلیق ہے) سے اس کا رابطہ کٹ جائے تو اس ذرہ کا وجود نیست ہوجائے۔ پس اب اگر زبان سے تو نبی اور رسول کہے جاؤ لیکن نبی اور رسول کے جو معنی ہیں ان کو ذہن ہی میں نہ آنے دو اور اس سے بے خبر رہو تو یہ تو بالکل غلط ہے۔
ایک سوال
ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ ہم نماز میں کہتے ہیں
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اے اللہ ہم کو سیدھی راہ دکھا، سیدھی راہ دکھانے سے مراد ہدایت کرنا ہے اور سیدھی راہ دکھانیوالا اللہ تعالیٰ  ہے تو پھر انبیاء علیہم السلام کے ہادی ہونے کا کیا مطلب ہے؟ کیا نبی ہدایت نہیں دے سکتا؟
اس شبہ کے متعلق عرض ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ  ہی سیدھی راہ دکھاتا ہے لیکن انبیاء علیہم السلام کے ذریعے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ (الرعد: ۷)
یعنی ہرقوم کے لئے ہادی ہوتا ہے یہاں ہادی سے مراد نبی ہے۔
اسی لئے اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
اِنَّکَ لَتَھْدِیٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (الشوریٰ: ۵۲)
یعنی میرے حبیب بلاشبہ سیدھے راستے کی طرف تو توہی ہدایت کرتا ہے۔
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ کا مفہوم
اب آپ کہیں گے کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کا کیا مطلب ہے کہ
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (القصص: ۵۶)
یعنی اے حبیب! تو جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتا، اللہ جسے چاہے ہدایت دے۔
ارے بھائی یہ بتائو کہ کیا اللہ تعالیٰ  کی مشیت کے بغیر بھی کوئی نبی کچھ کرسکتا ہے؟ یہ تو ہزاروں مرتبہ ہم نے بتایا کہ نبی کوئی کام اللہ تعالیٰ  کی مرضی اور اذن کے بغیر نہیں کرتا، نبی جب کوئی ہدایت کرے گا تو اللہ تعالیٰ  کی مشیت کے تحت ہوکر کرے گا اور اللہ تعالیٰ  ہدایت کرے گا تو کسی کی مشیت کے ماتحت ہوئے بغیر ہدایت فرمائے گا۔
پس آیت کا مقصد تو یہ ہے کہ میں کسی کی مشیت کے بغیر کسی کو ہدایت دے سکتا ہوں لیکن اے نبی تو میری مشیت کے ساتھ ہدایت کرے گا اور اگر میری مشیت نہ ہوتو ہدایت نہیں کرسکتا۔ اب اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو وہ اس آیت کا انکار کررہا ہے جس میں فرمایا
اِنَّکَ لَتَھْدِیٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
یعنی تحقیق بلاشبہ میرے حبیب لوگوں کو سیدھے راستے کی ہدایت تو ہی کرتا ہے ارے اللہ تعالیٰ  تو اتنی تحقیق کے ساتھ فرمارہا ہے اور اللہ تعالیٰ  کی تحقیق پر جسے یقین اور اعتبار نہ ہو تو اسے میری بات پر کیا یقین ہوگا لہٰذا اس آیت کا مطلب صاف اور واضح ہے کہ میرے پیارے حبیبﷺ میری ہدایت میری مشیت کے تحت ہے اب ایک بات اہل علم کے لئے کہے دیتا ہوں کہ ہدایت کا لفظ جب قرآن و حدیث میں استعمال ہو تو اہل سنت کے نزدیک اس کے حقیقی اور شرعی معنی
خلق الاھتدا یعنی ہدایت کو خلق کرنے کے ہیں اور فرقہ معتزلہ کے نزدیک اس کے معنی ہیں بیان الطریق الصواب یعنی ٹھیک راستہ بتا دینا، تو اس لحاظ سے معتزلہ لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ کا مطلب لیتے ہیں کہ ہر قوم کے لئے سیدھا راستہ بتانے والا۔
ہم اہلسنّت کہتے ہیں کہ یہ معنی بھی ٹھیک ہیں، مگر یہی معنی کئے جائیں تو آیت
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ کے معنی ہوں گے کہ اے نبی تو جس کو محبوب رکھے اس کے سامنے صحیح راستہ بیان نہیں کرسکتا، ہاں اللہ تعالیٰ  جس کے لئے چاہے صحیح راستہ بیان کردے تو یہ آیت معتزلہ کے ان معنی (لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ) یعنی ہرقوم کے لئے سیدھا بتانے والا، کو رد کرتی ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا کام تو صحیح راستہ بتانا ہی ہے ، جس کی یہاں نفی ہو رہی ہے تو ثابت ہوا کہ اہلسنّت کے معنی درست ہیں۔
خلق الاہتداء اہل سنت کا عقیدہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ اے نبی تو ہدایت کی صفت خلق نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ  جس کے لئے چاہے خلق کردے پس معلوم ہوا کہ خلق کرنا حضورنبی کریم ﷺ کی صفت نہیں، یعنی ہدایت کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ  کاکام ہے اور اس کو چلانا حضورﷺ  کاکام ہے جو کام حضورﷺ  کا نہیں اس کے نہ کرنے سے نہ تو حضورﷺ  کے علم میں کمی آئے گی، نہ اختیارات میں اور نہ مرتبہ میں، حضورﷺ  کاکام تو اللہ تعالیٰ  کی ہدایت پر لوگوں کو چلانا ہے اب اگر کوئی اعتراض کرتا ہے کہ فلاں شخص کو حضورﷺ  نے ہدایت نہ دی تو یہ اعتراض اللہ تعالیٰ  پر کرے کہ اے اللہ تو نے ان کو ہدایت کیوں نہیں دی تو تو ہر چیز پر قادر ہے۔
ارے بھائی جب اللہ تعالیٰ  نے ان لوگوں کے لئے ہدایت خلق ہی نہیں فرمائی، تو حضورﷺ  پر کیسے اعتراض آئے گا کہ آپ نے ان کو ہدایت نہ دی۔ حضورﷺ  کا ہر کام اللہ تعالیٰ  کی مشیت کے ماتحت ہے اور اللہ تعالیٰ  کا کوئی کام کسی کی مشیت کے ماتحت نہیں اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے
وَمَا تَشَائُوْنَ اِلاَّ اَنْ یَّشَائَ اللّٰہُ (الدہر: ۳۰)
اور تم نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ نہ چاہے۔
آیت
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ کے معنی یہ نہیں کہ حضورﷺ  ہدایت نہیں دے سکتے اگر حضورﷺ  ہدایت نہیں دے سکتے تو آیت ھُوَ الَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی یعنی وہ وہی ہے بھیجا جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ ، کے کیا معنی ہوں گے؟
اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ کے معنی یہ ہیں کہ اے میرے حبیب ﷺ خالق کائنات میں ہوں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا میں ہوں، عدم سے وجود میں لانے والا میں ہوں، ایجاد میری صفت ہے، موجد میں ہوں، اس لئے خلق الاھتداء یعنی ہدایت پیدا کرنا میری شان ہے، جس کے لئے میں نے اھتداء کو پیدا کردیا، اس کے لئے اھتداء کو جاری کرنے والا تو ہے، اس کا معنی یہ نہیں ہیں کہ آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ انک لا تخلق الاھتداء یعنی بے شک آپ ہدایت خلق نہیں کرتے خلق الاھتداء حضورﷺ  کاکام نہیں ہے۔ اس میں حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ  جانتا تھا کہ جن کے لئے میں نے علم ازلی کے مطابق ہدایت پیدا نہیں کی، ان کو میں ہدایت نہیں دوں گا، کیونکہ میرے علم کیخلاف کوئی ظہور ممکن نہیں، بتایئے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ  کے علم کیخلاف ہو، کیا وہ ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں ہوسکتی تو جن لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ  نے ہدایت کو پیدا نہیں فرمایا، ان میں ہدایت کی استعداد نہ تھی، تو اب بتایئے کہ ان لوگوں کو ہدایت نہ ملنے کا الزام حضورﷺ  پر کیسے آسکتا ہے؟

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                                 اگلا صفحہ

ہوم پیج