عقائد اہل سنت

حضرات محترم! ہم سب مسلمان ہیں اور ہمارا کلمہ طیبہ لَـآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اِلٰـہ اور پوجا کے لائق نہیں۔ جناب محمد مصطفی ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی اِلٰـہ نہیں وہ ایک ہی اِلٰـہ ہے۔
اِلٰھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ۔ (البقرۃ: ۱۶۳)
تمہارا معبود ایک معبود ہے۔
توحید سارے دین کی جڑ اور بنیاد ہے۔ یعنی اللہ ہی ایک
اِلٰـہ ہے۔ اللہ فرماتا ہے
لَوْکَانَ فِیْھِمَا اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا۔ (الانبیاء: ۲۲)
اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہو جاتے۔
سارے جہانوں میں فقط اللہ ہی
الٰـہ ہے۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور الٰـہ ہوتے تو کیا ہوتا؟ لَفَسَدَتَا تو کائنات کا نظام فاسد ہو جاتا، تباہ ہوجاتا۔ کیوں؟ وجہ یہ تھی کہ الٰـہ وہ ہوتا ہے کہ جو وہ چاہے وہ ہوجائے۔ اگر اللہ کے چاہنے کے باوجود کچھ نہیں ہوتا تو گویا وہ اللہ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ کے لئے کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔
اگر کئی خدا ہوتے تو ہر
الٰـہ یہی چاہتا کہ میری مرضی پوری ہو۔ کوئی چاہتا کہ زید زندہ رہے اور کوئی چاہتا کہ مرجائے تو اس طرح ان الٰھوں میں اختلاف ہو جاتا۔ تو نتیجہ کیا ہوتا؟ کہ نظام کائنات درہم برہم ہوجاتا۔ اگر کوئی کہے کہ فساد نہ ہو ان میں کسی ایک کی بات پوری ہوجائے اور دوسرے کی بات پوری نہ ہو تو میں کہوں گا کہ جس کی بات پوری ہو وہی الٰـہ ہوگا اور جس کی بات پوری نہ ہوسکے وہ الٰـہ نہیں ہوسکتا لہٰذا الٰـہ وہی ایک ہی ہوگا جس کی ہر بات پوری ہوجائے اور وہ کسی کے ماتحت نہ ہو، کسی کے حکم کے نیچے نہ ہو اور نہ کسی سے مغلوب ہو، سب اس کے حکم کے ماتحت ہوں، سب اس کے مغلوب ہوں اور سب اس کے نیچے ہوں اور وہ سب کے اوپر ہو۔ عرب کے مشرک کہتے تھے کہ زمین وآسمان کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے مگر لاۃ، مناۃ، یعوق، نائلہ، نصر بھی الٰـہ ہیں اور جب حضورﷺ نے فرمایا لَـآاِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ اللہ کے سوا کوئی الٰـہ نہیں ۔ تو وہ مشرک کہنے لگے۔
اَجَعَلَ الْاٰ ِلہَۃَ اِلٰہًا وَّاحِدًا۔ (ص: ۴)
یعنی یہ کیسے رسول ہیں کہ جنہوں نے بہت سے معبودوں کا ایک ہی معبود بنا دیا۔
تو پتہ چلا کہ عرب کے مشرک بہت سے معبودوں کے قائل تھے اور معبود وہ ہوتا ہے جو کسی سے مغلوب نہ ہو، وہ سب پر غالب ہو، وہ کسی کا محکوم نہ ہو، وہ سب کا حاکم ہو۔ تو اب یہ تو ممکن نہ تھا کہ بہت سے
الٰہوں کا حکم بہت سے معبودوں کا حکم سب پر غالب ہو۔ یہ تو محال تھا اور جو چیز محال ہو وہی شرک ہوا کرتی ہے اور جو چیز ممکن ہو وہ شرک ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ یہ بات محال تھی کہ لاۃ، مناۃ، یعوق، نصر، نائلہ ، ہبل یہ تمام کے تمام الٰہ ہوجائیں اور ہبل تمام پر غالب ہوجائے۔ یہ ممکن ہی نہ تھا یہ محال تھا۔ تو اللہ نے فرمایا! تم بڑے بے وقوف ہو تم ایک محال کے قائل ہوگئے۔ حالانکہ اللہ فرماتا ہے
لَوْکَانَ فِیْھَا اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا
کیونکہ ہر ایک یہ کہتا کہ اس کی بات پوری ہو اور جس کی بات پوری ہوجائے وہی
الٰـہ ہوگا اور جس کی بات پوری نہ ہو وہ الٰـہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اللہ نے الوہیت اور توحید کی یہ دلیل قائم فرمائی کہ
لَوْکَانَ فِیْھَا اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا
ہم پر الزام ہے کہ ہم انبیاء علیہم السلام اور اولیا ء اللہ کے ساتھ بعض اعتقادات کے بارے میں شرک کرتے ہیں۔ لیکن میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم ایک
الٰہ کے سوا کسی کو الٰـہ نہیں مانتے۔ اگر ہم کسی کو الٰـہ مانتے تو محمد مصطفی ﷺ کو الٰـہ مانتے۔ خدا کی قسم! ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم کوبھی خدا نہیں مانتے کیونکہ وہ اللہ کے حکم کے نیچے، اللہ کے اذن کے ماتحت ، اللہ کے ارادہ اور مشیت کے ماتحت ہیں۔ اللہ کسی کے ماتحت نہیں ہے جب ہم حضورﷺ کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں تو کسی نبی یا ولی، خواہ اغواث ہوں یا اقطاب، نجبا ہوں یا نقباء، فرشتے ہوں یا جنات۔ اٹھارہ ہزار کائنات کا ہر فرد اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ لہٰذا وہی الٰـہ ہے۔ کوئی اور الٰـہ نہیں ہوسکتا۔
نبیوں، ولیوں کے وسیلے کی کیا ضرورت ہے؟
پھر تم نبیوں اور ولیوں کے پاس جانے کا کیوں کہتے ہو۔ وسیلے کی بات کیوں کرتے ہو جبکہ
الٰـہ کی شان یہ ہے کہ
اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔ (المومن: ۲۰)
بے شک وہی خوب سننے والا دیکھنے والا ہے۔
وہ عالم الغیب والشہادہ ہے۔ ہمارے ظاہر وباطن سے خوب آگاہ ہے اور پھر اس کا یہ فرمان اقدس بھی ہے کہ
اُدْعُوْنِیٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ۔ (المومن: ۶۰)
مجھ سے دعا کرو میں(ضرور)قبول کروں گا۔
اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ۔ (البقرۃ: ۱۸۶)
جب اللہ یہ فرما رہا ہے کہ میں تمہاری حاجت سے آگاہ ہوں اور تمہاری دعائوں کو سنتا اور قبول کرتا ہوں اور تمہارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ ہمارا
الٰـہ ایک ہے تو پھر ادھر اُدھر تکنے کا کیا مطلب ؟
٭ اللہ فقط
الٰـہ اور سمیع و بصیر نہیں ہے بلکہ وہ رازق، خالق اور شافی بھی ہے۔ اللہ فرماتا ہے
وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَا اَللّٰہُ یَرْزُقُھَا وَاِیَّاکُمْ۔ (العنکبوت: ۶۰)
اور کتنے ہی جاندار زمین پر چلنے والے ہیں جو اپنا رزق(اپنے ساتھ)اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں (بھی)
وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا۔ (ھود: ۶)
اور زمین پر چلنے والا کوئی (جاندار) نہیں لیکن اللہ(کے ذمۂ کرم) پر اس کا رزق ہے۔
خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ۔ (الانعام: ۱۰۲)
ہر چیز کا بنانے والا وہی ہے
وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ۔ (الشعرا: ۸۰)
اور جب مجھے بیماری لاحق ہو تو وہی مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔
اور اللہ نے انسان کو مٹی کے ذریعے سے بنایا اور فرمایا کہ
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْم۔ (التین: ۴)
بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں بنایا۔
روحانی حاجات کے لئے باطنی اسباب کا استعمال نظامِ ربوبیت کا حصہ ہے
اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ عورت اور مرد کے اجتماع کے بغیر پیدا کیا؟ ہرگز نہیں۔ خالق بھی اللہ ہے اور سبب بنانیوالا بھی تو اللہ ہے۔ مریض کو شفا اللہ ہی دیتا ہے مگر ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے اسی طرح رزق وہی خدا دیتا ہے مگر زمینوں کی طرف اور دوسرے ذرائع کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ایک ظاہر ہے اور دوسرا باطن ہے۔ ظاہری سبب بھی وہی پیدا کرتا ہے اور باطنی سبب بھی وہی پیدا کرتا ہے۔ معلوم ہوا اور پتا چلا کہ اللہ ہی دیتا ہے اور اللہ ہی حاجتیں پوری کرتا ہے اور مشکلات کو کھولنے والا بھی وہی ہے۔ مگر اللہ نے جس طرح ظاہری حاجتوں کے لئے ظاہری اسباب بنا دیئے اسی طرح اللہ نے باطنی حاجتوں کے لئے باطنی اسباب بھی بنا دیئے۔ اللہ فرماتا ہے
وَلَوْاَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَھُمْ جَآئُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَلَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔ (النساء: ۸۴)
اللہ فرماتا ہے جن لوگوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کئے گناہ اور ظلم میں ملوث ہوئے
وَلَوْاَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَھُمْ جَآئُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ
اور اگر وہ کبھی اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو آجاتے آپ کے پاس پھر مغفرت طلب کرتے اللہ سے
اور خالی ان کا مغفرت طلب کرنا کافی نہیں ہوگا۔
وَاسْتَغْفَرَلَہُمُ الرَّسُوْلُ
اور مغفرت طلب کرتا ان کے لئے رسول۔
رسول کی زبان کھلے تو کیا ہوگا؟
لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
تو ضرور پاتے اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، بے حد رحم فرمانے والا۔
یہ استغفار کیا ہے؟ یہ دعا ہے اور خود اللہ فرماتا ہے
اَجِیْبُ دَعْوَۃَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ خود خدا نے فرمایا
اُدْعُوْنِیٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ۔ (المومن: ۶۰)
مجھ سے دعا کرو میں(ضرور)قبول کروں گا۔
معلوم ہوا کہ جس طرح
وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ کے باوجود ڈاکٹروں کو مریض کی شفایابی کا سبب بنایا اسی طرح اُجِــیْبُ دَعْـوَۃَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَـانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ اور اُدْعُوْنِیٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ کے باوجود جَآئُوْکَ فرمایا اور رسول کو مغفرت کا سبب بنایا اور ان کو بھی دعائوں کی قبولیت کا سبب بنایا ہے جن کا تعلق رسول سے ہے۔ مجھے اپنا واقعہ یاد آتا ہے کہ میں ایک دن حضور غوث بہائو الدین زکریا کی بارگاہ اقدس کی زیارت سے صبح کے وقت آرہا تھا تو ایک غیر مقلد میرے پڑوس میں رہنے والا جس سے بے تکلفی تھی راستہ میں مل گیا اور فوراً اشارہ کیا کہ آپ وہاں سے آرہے ہیں تو میں نے کہا ہاں وہیں سے آرہا ہوں۔ کہنے لگا! آپ شرک نہیں چھوڑیں گے۔ میں نے کہا بڑا افسوس ہے ہم تو ان کو وسیلہ مانتے ہیں۔ ہمارا معبود الٰہ ایک ہے ہم ان کو اللہ کے حکم، اذن اور ارادہ کے ماتحت سمجھتے ہیں۔ یہ (اولیاء اللہ) اللہ کے اذن، حکم اور ارادہ کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے لیکن اللہ کے اذن، حکم اور ارادہ سے، یہ سب کچھ کردیتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کو سبب بنایا ہے۔ لہٰذا ہم ان کو سبب بناکر جاتے ہیں۔ کہنے لگا یہی تو عرب کے مشرکین کہا کرتے تھے کہ ہمارے یہ بت ہمارے لئے وسیلہ ہیں، میں نے کہا، ارے وہ تو معبود مانتے تھے۔ قرآن کہتا ہے
مَانَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیَقُرِّبُوْنَـآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی۔ (الزمر:۳)
ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر صرف اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔
خدا کے قریب کرنے کا عقیدہ تو الگ رہا۔ خدا کے قریب تووہ کرے گا جوخدا کے قریب ہوگا۔ بت تو خود ہی خدا کے قریب نہیں ہیں۔ جو خود راستہ بھولا ہوا ہو، وہ کس کو راہ بتائے گا؟ بلکہ وہ خود اقرار کرتے ہیں کہہم عبادت کرتے ہیں معلوم ہوا کہ وہ ان کو معبود جانتے ہیں اور ان کا قول قرآن میں یوں آیا ہے۔
اَجَعَلَ الْاٰ ِلہَۃَ اِلٰہًا وَّاحِدًا۔ (ص: ۴)
یعنی یہ کیسے رسول ہیں جنہوں نے بہت سے معبودوں کا ایک ہی معبود بنادیا ہے۔
گویا وہ ان کو
الٰہ مانتے تھے اور الٰہ اسے کہتے ہیں جو کسی کے ماتحت نہ ہو۔ اس لئے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا کا اذن ہو نہ ہو۔ ہمارا معبود جو چاہے گا کردے گا۔ خدا اذن نہ دے تب بھی یہ ہماری شفاعت کردیں گے۔ یہ خدا کے اذن کے محتاج نہیں رہے۔ کیونکہ یہ الوہیت کے درجہ پر فائز ہیں اور جو الوہیت کے درجہ پر پہنچ جائے وہ خدا کے ماتحت نہیں رہتا۔ پھر وہ آزاد ہوجاتا ہے۔ جیسے ریاستیں بڑی سلطنت کے آزاد کردینے سے خود مختار ریاستیں بن جاتی ہیں۔ اب وہ بڑی حکومت کے حکم کے ماتحت نہیں رہتیں۔ اسی طرح خداوند کریم نے ان چھوٹے چھوٹے خدائوں(بتوں) کو آزاد کردیا ہے کہ تم میرے حکم کے ماتحت نہیں ہو۔ اب تم جو مرضی آئے کرو۔ نعوذ باللّٰہ من ذالک۔
الحمد للّٰہ۔ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے پیارے محبوب حضرت محمد ا بھی خدا کے حکم کے ماتحت ہیں۔ لہٰذا الوہیت کا تصور بھی قائم نہیں ہوتا۔
شبہ
اب یہ کہ ہم ان کے پاس کیوں جاتے ہیں؟
شبہ کا ازالہ
٭ اس لئے کہ اللہ نے ہمیں انہیں کا دَر دِکھایا ہے فرمایا
جَائُوْکَ
کیا آیت اذ ظلموا انفسہم جاؤک اس زمانے کے لوگوں کے لئے تھی۔ اعتراض کا جواب
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضور سید عالم ﷺ کے زمانہ والوں کیلئے ہے۔
شبہ کا ازالہ
تمہارا یہ اصول وہاں بھی غلط ہوگیا کیونکہ
اُدْعُوْنِیٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ بھی تو صحابہ کے زمانہ میں نازل ہوئی تھی۔ تو صحابہ نے یہ کیوں نہ کہا کہ اے اللہ! ادھر تو جَائُوْکَ کہ میرے محبوب کے پاس آجائو اور اُدھر اُدْعُوْنِیٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ کہتا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ یہ قرآن فقط حضورﷺ  کی حیات ظاہری کے لئے نہیں ہے بلکہ پورا قرآن ہمیشہ کے لئے ہے۔ لہٰذا یہ غلط ہے کہ قرآن صرف صحابہ کے لئے ہے۔ بلکہ
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا۔ (الفرقان: ۱)
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے(مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
بلا قید زمان و مکان اللہ کی کتاب
العالمین کے لئے ہے۔
شبہ
اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک امیر آدمی اپنے خرچہ سے مدینے جاکر
جَائُوْکَ کامصداق ہوسکتا ہے لیکن ایک غریب آدمی کیسے مدینے پہنچے؟
شبہ کا ازالہ
جو لوگ ظاہری طورپر جاسکتے ہیں وہ جائیں لیکن جو لوگ ظاہری طورپر نہیں جاسکتے وہ باطنی طور پر سرکار ﷺ کی بارگاہ میں حاضری دیں۔ وہ کیسے حاضری دیں ؟ وہ اپنے اور سرکار ﷺ کے درمیان دوری کیسے ختم کریں؟ اس کا طریقہ خود اللہ نے بتایا ہے۔
حضورﷺ کی محبت ہی حقیقتِ ایمان کا نام ہے
اے میرے پیارے محبوب ﷺ! حقیقت ایمان تیری محبت کا نام ہے اور محبت کیا ہے؟ کہ محب کے قلب کے اندر محبوب کا سما جانا اور اتر جانا ہے۔ جب کسی کے دل میں محبوب اتر جائے تو محب محبوب کے ساتھ ہوتا ہے۔ جیسے زبان نبوت ا نے فرمایا
اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ آدمی اس کے ساتھ ہے جس کو اس کی محبت ہے اور
عن انس قال قال رسول اللّٰہ ﷺ لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین۔ (۱)
بخاری اور مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا۔ جب تک میری محبت اس کے والدین، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہوجائے۔
اور جب حضورﷺ  کی محبت ایمان کی حقیقت ہے تو محبت جہاں ہو محبوب وہاں ہوتا ہے۔ مگر فرق اتنا ہے کہ محبوب اور محب کے درمیان حجاب نہ رہے۔ یہ حجاب کیسے دور ہوگا؟ جتنی محبت غالب ہوتی جائے گی حجاب اٹھتا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جو لوگ حضورﷺ  کی محبت کامل کے درجہ پر پہنچتے ہیں ان کے اور حضورﷺ  کے درمیان کوئی حجاب باقی نہیں رہتا اور قرآن نے بھی اس کی حقیقت واضح فرمائی اللہ فرماتا ہے
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْ مِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ۔ (الاحزاب: ۶)
یہ نبی ایمان والوں کے ساتھ ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔
اے اللہ کے بندو! تمہاری جانیں تم سے دور ہوسکتی ہیں مگر مصطفی ﷺ تم سے دور نہیں ہوسکتے۔ آپ کہیں گے کہ سرکار ﷺ تو ہمیں نظر نہیں آتے۔ تو میں کہوں گا کہ تو نے اپنے اور حضورﷺ  کے درمیان حجاب قائم کیا ہوا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شامیانہ کے نیچے بیٹھ کر سورج کی شعاعوں سے دور ہوجائے۔ اگر آپ شامیانہ ہٹا دیں تو آپ کے اور سورج کی شعاعوں کے درمیان کوئی حجاب اور کوئی دوری نہیں رہے گی۔ اگر ہم معصیت اور گناہ کے حجابات دور کردیں تو ہم بھی قریب ہوجائیں گے۔ ارے حجاب ڈا ل کر تم خود دور ہوگئے۔ وہ دور نہیں ہیں۔
جَائُوْکَ اور جنہوں نے حجاب ہٹایا انہوں نے ان آنکھوں سے جاگتے ہوئے حضورﷺ  کو دیکھا۔ اس پر میں اتنے دلائل پیش کرسکتا ہوں کہ میں بیان کرتے کرتے نہیں تھکوں گا اور آپ سنتے سنتے تھک جائیں گے۔ تفسیر روح المعانی جو علامہ سید محمود آلوسی بغدادی کی ہے۔ پوری تیس جلدوں میں ہے انہوں نے تیئیسویں پارہ میں ان اولیاء اللہ کا ذکر کیا جنہوں نے بعد وصال حضورﷺ  کو جاگتے ہوئے سر کی آنکھوں سے دیکھا اور امام شعرانی نے میزان الکبری میں فرمایا کہ جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ نے بیس مرتبہ جاگتے ہوئے سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جامع بغداد میں تشریف فرما تھے۔ وعظ نہیں کہا کرتے تھے تو سرکار ﷺ جاگتے ہوئے تشریف لے آئے اور فرمایا لم لا یتکلم یابنی پیارے بیٹے وعظ کیوں نہیں کہتے؟ عرض کیا، میرے آقا ﷺ ! میری زبان کچھ اضطراب پیدا کردیتی ہے فرمایا استخفا منہ کھولو۔ غوث پاک رضی اللہ عنہ نے منہ کھولا۔ تو حضورﷺ  نے سات مرتبہ اپنا لعاب دہن منہ میں ڈالا۔ اس کے بعد غوث پاک رضی اللہ عنہ نے وعظ کہنا شروع کیا تو آپ کے وعظ کا یہ عالم تھا کہ وعظ کے دوران وعظ کا لوگوں پر اتنا اثر ہوتا کہ کئی لوگ وہیں فوت ہوجاتے تھے۔

آنکھ والا تیرے جلوے کا تماشا دیکھے
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

حضرات محترم! قرآن سچ کہتا ہے جَائُوْکَ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تیرے پاس آجائیں۔ کم از کم اپنے دل کو اتنا قریب کرلیں کہ میں حضورﷺ  کے سامنے ہوں اور حضورﷺ  کی بارگاہ میں اپنے آپ کو حاضر سمجھ کر خود ہی استغفار کرے اور یقین کرے کہ رسول اللہ ﷺ بھی میرے لئے استغفار فرما رہے ہیں تو جب ایسا ہوگا تو کیا ہوگا؟ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا تو اللہ کو تَوَّابٌ رَّحِیْم پائیں گے ۔ آئیں گے رسول کے پاس اور پائیں گے کس کو؟ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا آئیں گے رسول ﷺ کے پاس اور پائیں گے خدا کو۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں رسول اللہ ﷺ کے بغیر خدا کو کوئی پا نہیں سکتا۔ خدا کی قسم انبیاء و اولیاء الٰہ نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کو وسیلہ بنایا ہے ان کو ہماری بخشش کا سبب بنایا ہے وہ سب اللہ کی مشیت، اذن اور ارادے کے ماتحت ہیں۔ کیونکہ الوہیت فقط اللہ کی شان ہے اور کوئی الٰہ نہیں ہوسکتا۔
باذن اللہ تو مردے بھی زندہ ہوجاتے ہیں
٭ آپ کہیں گے بھائی
مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کا کیا مطلب؟ ادھر آپ کہتے ہیں کہ اولیاء اللہ وسیلہ ہیں ادھر مِنْ دُوْنِ اللّٰہ اللہ کے بغیر کوئی تنکا نہیں ہلا سکتا کوئی نفع نہیں دے سکتا۔ کوئی ضرر نہیں دے سکتا۔ کوئی مکھی نہیں اڑا سکتا تو یہ کیا بات ہوئی۔
شبہ کا ازالہ
٭ اس کے جواب کے لئے پہلے
مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کا معنی سمجھنا ہوگا۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کا معنی ہے کہ جہاں اللہ کا کوئی حکم نہ ہو۔ اللہ کا کوئی اذن نہ ہو یعنی اللہ نہ چاہے اور کوئی چاہے کہ میں تجھے فائدہ پہنچا دوں گا تو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ یہ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کا معنی ہے اور ہمارا مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کی سب آیتوں پر ایمان ہے اور یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی تنکا نہیں ہلتا اور جہاں اذن آجائے وہاں مردے بھی زندہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا
وَاُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ۔ (آل عمران: ۴۹)
اور اچھا کرتا ہوں اندھے اور کوڑھی کو اور مردے کو زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے
خود نہیں باذن اللہ، اللہ کے اذن سے۔ پتہ چلا اللہ کا اذن نہ ہو تو کوئی تنکا نہیں ہلتا اور اللہ کا اذن ہوجائے تو مردے بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ہم
مِنْ دُوْنِ اللّٰہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تم بھی تو باذن اللہ کی آیتوں پر ایمان لے آئو۔
شبہ
اگر آپ سے یہ کوئی اعتراف کر لے کہ سب کچھ اللہ کے اذن سے ہوتا ہے تو جب اللہ کا اذن ہوگا تو کام خود بخود ہوجائے گا۔ جب اللہ کی مشیت ہوگی اس وقت تمہاری حاجت پوری ہوجائے گی۔
شبہ کا ازالہ
٭ حالانکہ اوپر میں اس کا جواب دے چکا ہوں کہ جب خدا نے وعدہ کیا ہے کہ رزق میں دوں گا تو پھر گھر میں بیٹھے رہو۔ کوئی ضرورت نہیں کہ مزدوری کی جائے، دکانداری، تجارت، کھیتی باڑی اور ملازمت کی جائے مگر سمجھتے ہو کہ اللہ نے اسباب پیدا کئے ہیں۔ کیونکہ اللہ کا اذن ہوگا ورنہ نہیں۔
ہم کھیتی باڑی تو کرتے ہیں اور زمین میں بیج ڈالتے ہیں، شور والی زمین میں بیج بے کار جاتا ہے۔ کوئی پھل پھول نہیں لگتا
بِاِذْنِ اللّٰہِ کے لئے صلاحیت چاہیے۔ جبکہ ہماری زمینوں میں شور اور کلر لگا ہوا ہے اور اولیاء اللہ کی زمینیں تو وہ ہیں کہ وہاں اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اس سے وہ وسیلہ بننے کے اہل ہیں۔ خدا کی رحمتوں میں تو کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ سب کے لئے برابر نازل ہوتی ہیں لیکن

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و در شور بوم و خس

بارش کی طبع میں تو کوئی فرق نہیں ہر جگہ برابر برستی ہے جو زرخیر زمین میں پھول اور پھل لاتی ہے جبکہ کلراہٹی زمین میں کانٹے دار جھاڑیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ابو جہل بھی تو ایک زمین تھا اورابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ایک زمین تھے۔ جن کے لئے قرآن نے خود کہا
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَاھُوَ شِفَآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔ (بنی اسرائیل: ۸۲)
اور قرآن میں ہم وہ چیز نازل فرماتے ہیں جو رحمت اور شفا ہے ایمان والوں کے لئے۔
مگر ابو جہل جیسے ظالموں کے لئے
وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا۔ (بنی اسرائیل: ۸۲)
اور وہ نہیں زیادہ کرتا ظالموں کے لئے مگر نقصان کو۔
اب میں ایک ایسی حدیث سے اس کی مزید وضاحت کرتا ہوں جس کی سند میں کسی کو کچھ کہنے کی جرأت نہیں ہوسکتی۔ وہ حدیث مسلم و بخاری کے علاوہ مشکوٰۃ شریف میں، مسند امام احمد بن حنبل میں، مسند ابو یعلٰی میں، مسند دارمی، مسند طبرانی میں اور معجم طبرانی میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ الحمد للّٰہ! میں نے حدیث بہاولپور جانے سے پہلے بیس برس انوار العلوم میں پڑھائی اور گیارہ سال بہاولپور میں پڑھائی اور اب دوبارہ انوار العلوم میں پڑھا رہا ہوں۔ (۱) الحمد للّٰہ! میں ذمہ دار آدمی ہوں اور پھر دین کے معاملے میں کوئی مسلمان غلط بات کہہ بھی نہیں سکتا اور وہ مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔ اب میں بخاری و مسلم شریف کی حدیث کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔ حضور سید عالم نور مجسم ﷺ نے صحابہ کو مخاطب فرما کر سابق انبیاء کی امم میں سے ایک امتی کا واقعہ بیان کیا۔ جس نے نناوے بے گناہ قتل کیے ہوئے ہیں۔ تو اس کے دل میں خیال آیا کہ میں بڑا ظالم جابر اور خبیث انسان ہوں میں نے اتنے بے گناہ قتل کیے ہوئے ہیں۔اب میری بخشش اور توبہ کی کوئی صورت ہونی چاہیے۔ چنانچہ وہ ادھر اُدھر لوگوں کے پاس بھاگا۔ تو لوگوں نے بتایا کہ فلاں راہب بڑا عبادت گزار ہے تو یہ وہاں پہنچ گیا اور تمام قصہ بیان کیا تو وہ زاہد خشک تھا۔ اس نے کہا تیری بخشش کی کوئی صورت نہیں ہے اس پر وہ نہایت یاس اور قنوط میں مبتلا ہوکر اس راہب زاہد خشک کو بھی قتل کرکے سو کا عدد پورا کردیا۔ اسلام قنوط کی تعلیم نہیں دیتا
لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ لیکن زاہد خشک راہب نے اسے مایوس کردیا تھا مگر ضمیر نے پھر جھنجھوڑا کہ تو گناہ پہ گناہ بڑھاتا جارہا ہے۔ پھر مغفرت اور توبہ کے لئے بے چین اور بے قرار ہوکر لوگوں کی طرف متوجہ ہوا تو لوگوں نے کہا فلاں بستی کی طرف جا وہاں اولیاء اللہ رہتے ہیں۔ چنانچہ اپنے گھر سے اولیاء اللہ کی بستی کی طرف چل پڑا ابھی آدھا راستہ بھی طے نہیں ہوا تھا کہ ملک الموت آگئے۔ بڑا بے چین ہوا کہ کسی طرح اولیاء اللہ کی بستی میں پہنچ جائوں اور اپنے گناہوں سے سبکدوش ہوجائوں اور یہ گناہوں کا بوجھ میرے سر سے اتر جائے مگر موت تو آگے پیچھے نہیں ہوتی۔ بہرحال اس کی روح قبض ہوگئی۔ جب اس نے دیکھا کہ اب بچنے کی کوئی صورت نہیں تو بخاری شریف کے الفاظ ہیں جب کچھ نہ ہوسکا تو اپنے سینے کو اولیاء اللہ کی بستی کی طرف کردیا۔ اللہ نے رحمت اور عذاب کے فرشتوں کو زمین کی پیمائش کا حکم دیا اور ادھر اولیاء اللہ کی بستی کے راستہ کو حکم دیا کہ قریب ہو جا اور گھر والی زمین کو حکم دیا کہ پھیل جا۔ جب پیمائش کی گئی تو اتنا حصہ اولیاء کی بستی کی طرف کم ہوا جتنا اس نے سینہ کو اس طرف بڑھایا تھا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغفرت فرمانے والے اولیاء ہیں یا اللہ۔ اللہ ہی ہے تو پھر زمین کی پیمائش کا کیا مطلب؟ کیا یہ زمین اللہ کی مغفرت کے لئے رکاوٹ تھی؟ تو یہ زمین نہ رکاوٹ تھی اور نہ معاون تھی۔ وہ تو خود ہی سب کا معاون و مددگار ہے تو کیا مقصد تھا؟ مقصد یہ تھا کہ مغفرت میں کرتا ہوں مگر انہیں اولیاء کے ہاتھوں دلواتا ہوں۔ ادھر فرمایا اُدْعُوْنِیٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ مجھ سے مانگو میں دوں گا اور ادھر اولیاء اللہ کی بستی کو حکم دیا کہ تو قریب ہوجا۔ یہ کیا تماشا ہے؟
خدا جانے یہ لوگ قرآن و حدیث پڑھتے ہیں کہ نہیں۔ اگر پڑھتے ہیں تو کیسے سمجھتے ہیں؟ میں بڑا حیران ہوں کہ قرآن و حدیث کے ساتھ مذاق کررہے ہیں اور پھر مسلمانوں کو مشرک اور بے دین قرار دینا خود بے دینی ہے۔ الحمد للّٰہ! ہم مشرک نہیں ہیں اور ہم نے اعلان کردیا کہ
لَـآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰـہ نہیں اور اگر اللہ کے سوا کوئی اِلٰـہ ہوتا تو مصطفی ﷺ اِلٰـہ ہوتے مگروہ بھی ہمارے اِلٰـہ نہیں ہیں۔ انبیاء اور اولیاء اللہ اِلٰـہ نہیں ہیں بلکہ اللہ نے ان کو وسیلہ بنایا ہے۔ مشکل حل کرنے، مغفرت اور قبولیت دعا کا سبب بنایا۔
سرکار ﷺ نے کسے وسیلہ بنایا۔ ایک شبہ کا ازالہ
لوگ کہتے ہیں کہ سرکار ﷺنے بھی کسی کو وسیلہ بنایا ہے؟
میں کہتا ہوں یہ کہنا کتنا بڑا ظلم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نہروں سے دریا نکال کر زمینوں کو سیراب کیا جائے۔ دریائوں سے تو نہریں نکالی جاتی ہیں۔ مگر دریا تو نہروں سے نہیں نکالے جاتے۔ وہاں تو باران رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ باران رحمت کا نزول دریائوں میں ہوتا ہے اور پھر وہاں سے نہریں نکال کر کھیتوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔ ارے وہ تو سارے جہان کا وسیلہ ہیں۔ خدارات دن ان کے دامنوں میں رحمتیں نازل فرماتا ہے گویا خدا ان کو دیتا ہے اور وہ ہمیں دیتے ہیں۔
واللّٰہ یعطی وانا قاسم
صحابہ نے تو کسی کو وسیلہ نہیں بنایا۔ ایک شبہ
پھر دوسرا شبہ لوگ یہ ڈالتے ہیں کہ صحابہ نے وسیلہ نہیں بنایا۔تم کیوں وسیلہ بناتے ہو؟
شبہ کا ازالہ
میں کہتا ہوں کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ سرکار ﷺ کی حیات ظاہری کے بعد صحابہ نے ایسا کیا ہے اول تو یہ ہے کہ صحابہ کے پاس سب سے بڑی ذات حضور ﷺ کی موجود تھی۔ صحابہ کو حضور ﷺکے ہوتے ہوئے کسی چیز کی حاجت نہیں تھی۔ جب سرکار ﷺ نے پردہ فرمایا تو مدینہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں قحط پڑ گیا تھا تمام صحابہ پریشان ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے آپ ﷺکے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بلایا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کے مجمع میں جو دعا فرمائی وہ قابل غور ہے جو بخاری شریف میں ہے وہ دعا یہ ہے کہ
اللّٰہم انا کنا نتوسل الیک بنبینا فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا ادع یا عباس فدعا العباس فسقاھم اللّٰہ
اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی ﷺکا وسیلہ پیش کیا کرتے تھے تو تُو ہمیں بارش عطا کیا کرتا تھا۔ تو ہم تیری بارگاہ میں تیرے نبی کے چچا کا واسطہ پیش کرتے ہیں تو ہم پر بارش برسا۔ اے عباس! دعا کیجئے۔ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی اور اللہ نے ان پر بارش برسائی۔ اللہ کی بارگاہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ پیش کرنا دراصل حضور ﷺ کا ہی وسیلہ پیش کرنا ہے کیونکہ انہوں نے حضرت عباس کو اس لئے وسیلہ بنایا کہ وہ حضور ﷺکے چچا اور ان کے ہاں صاحب مقام ہیں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کلام سے واضح ہے۔ چنانچہ بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط کے دنوں میں عام طور پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ پکڑتے تھے چنانچہ آپ نے کہا اے اللہ! حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بارش برسا اور یوں بھی کہا اے اللہ ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کریم ﷺ کو وسیلہ پیش کیا کرتے تھے تو تو ہم بارش برساتا تھا۔ آج ہم تیرے نبی ﷺ کے چچا کو وسیلہ کے طورپر پیش کرتے ہیں تو ہم پر بارش برسا۔ تو موسلادھار بارش ہوئی جوتھمتی نہ تھی۔ یہ تو بخاری شریف کے الفاظ ہیں اس میں ان کا یہ کہنا کہ اے اللہ ہم تیری بارگاہ میں تیرے نبی ﷺکے چچا کو بطور وسیلہ پیش کرتے ہیں۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج