اعلیٰ حضرت دینی علوم نبوت کے وارث اور نظریۂ پاکستان کے موجد ہیں

عزیزان محترم! اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان نے بلاشبہ اپنے علمی علوم مذہبی اور دینی قیادت و سیادت اور غیرت امامت کا صحیح معنی میں حق ادا فرمایا۔ آپ کے علمی کارناموں پر تفصیلاً کیا؟ اجمالاً بھی بیک وقت روشنی ڈالنا ممکن نہیں۔ آپ نے جس موضوع پر جس عنوان پر اور جس مسئلہ پر قلم اٹھایا خدا کی قسم دریا بہا دیئے اور ایسے علمی جواہر اور نکات بیان فرمائے کہ ان کی نظیر نظر نہیں آتی۔ علم حدیث ہو یا علم فقہ، علم اصول حدیث ہو یا علم اصول فقہ، دینی و مذہبی علوم کے علاوہ مروجہ علوم میں بھی اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ  کو وہ دسترس حاصل تھی کہ جن کی مثال اور کہیں نظر نہیں آتی۔
حضرات محترم! اعلیٰ حضرت کے ترجمہ قرآن کنزالایمان کو دیکھئے وہ ایک عظیم علمی شاہکار ہے اور دین متین کی خدمت کا ایک ایسا بنیادی اصولی اور نمایاں کارنامہ ہے کہ ہم قیامت تک اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے اس احسان سے عہدہ برا نہیں ہوسکتے رہا یہ کہ جن لوگوں نے کنز الایمان کے بارے میں اپنے بغض و عناد اور حسد و کینہ کا مظاہرہ کیا وہ ان کے خبث باطن پر موقوف ہے۔
عزیزان محترم! جن لوگوں کے دلوں میں زیغ تھا تو انہوں نے قرآن کریم پر بھی نکتہ چینی کی۔ تو اہل زیغ جب قرآن کریم پر بھی نکتہ چینی کرسکتے ہیں تو کسی دور میں ترجمہ القرآن کنز الایمان پر بھی نکتہ چینی ہوسکتی ہے۔ یہ تو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے بلکہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ  کے پیارے حبیب تاجدار مدنی محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم کی ذات مقدسہ اورحضور ﷺ کی سیرت طیبہ پر بھی نکتہ چینی کی۔ لیکن اہل حق جانتے ہیں کہ یہ ایسا ہے جیسا کہ کوئی آفتاب و ماہتاب پر خاک اڑائے تو وہ دھول واپس منہ پر آئے۔
دین کا مرکزی اور بنیادی نکتہ حضورﷺ ہیں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ حضور تاجدار مدنی جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے دینی علوم کے وارث اور حامل ہیں اور اسی دین کو آپ نے پیش کیا اور آپ نے اس دین کا بنیادی نکتہ حضورﷺ  کی ذات مقدسہ کو قراردیا اور یہ بنیادی نکتہ ہم نے قرار نہیں دیا بلکہ اللہ تعالیٰ  نے اپنے حبیبﷺ  کو دین کا بنیادی نکتہ قراردیا۔ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی ذات کا علم ہمیں حضورﷺ  کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ کائنات کا ہر ذرہ اگرچہ خدا کی ہستی کی دلیل ہے لیکن اگر یہ دلیل ایسی ہوتی کہ جن کے بعد ہم کسی اور دلیل کے محتاج نہ ہوتے تو پھر تمام حکماء و محققین نے خدا کی ہستی کا انکار نہ کیا ہوتا۔ حالانکہ یہ دلائل ان کے سامنے موجود تھے معلوم ہوا کہ ہمیں ایک ایسی دلیل کی ضرورت تھی کہ جس کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت نہ ہو۔
حضرات محترم!اللہ تعالیٰ  نے اٹھارہ ہزار کائنات کو پیدا کیا اور دلائل آفاقی کو پھیلایا مگر لوگ ان دلائل آفاقی کو بھی دیکھ کر قائل نہ ہوئے اور نہ ہی توحید پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ  نے آدم علیہ السلام سے لے کر جناب محمد رسول اللہ ﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار یا دو لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل علیہم السلام کو بطور ناطق دلیل بنا کر بھیجا کائنات میں معبود کی ہر چیز دلیل ہے مگر خاموش ۔ اگر کہیں پتھر کی پوجا ہورہی ہے تو پتھر خاموش دلیل ہے اگر چاند، سورج کی پوجا ہورہی ہے تو وہ خاموش ہیں۔ حجر و شجر، آفتاب و ماہتاب سب خاموش دلیلیں تھیں۔ کسی نے نہ کہا کہ ہم تو معبود کا نشان ہیں ، ہم معبود نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے ہر نبی کو ناطق دلیل بنا کر بھیجا اور تمام انبیاء علیہم السلام کے سلاسل کو اور کمالات نبوت کو خواہ علمی کمالات ہوں یا عملی سب کا جامع بنا کر سب سے آخری دلیل توحید بنا کر اپنے حبیبﷺ  کو مبعوث فرمایا۔ حضور سرورِ عالم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم اللہ کی دلیل و برہان اور توحید کا نشان بن کر آئے حضورﷺ  سے الگ ہوکر توحید کا تصور اور ہو ہی نہیں سکتا۔
ہمیں اللہ تعالیٰ  کی ذات و صفات کا پتہ نہیں جبکہ اللہ تعالیٰ  نے تمام انبیاء علیہم السلام کو اپنی ذات و صفات کا یقینی علم عطا فرمایا اور ہر نبی نے
اشھد کہا اور اشھد کے معنی ہی یہ ہیں کہ میں یقین کا اظہار کرتا ہوں اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ  کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اللہ تعالیٰ  نے ہر نبی کو علم یقینی عطا فرمایا اس لئے اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
اِذَا جَآئَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ (منافقون: ۱)
منافق آپ کے پاس آتے ہیں (تو) کہتے ہیں۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک ضرور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ
اللہ جانتا ہے کہ یقینا ضرور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
اس کے باوجود فرمایا
وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰـفِـقِـیْـنَ لَکٰذِبُوْنَ
اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک منافق ضرور جھوٹے ہیں۔
منافق کس بات میں جھوٹے ہیں؟ حضورﷺ  کو رسول کہنے میں تو جھوٹے نہیں ہیں کیونکہ حضور رسول تو ہیں تو وہ
نَشْھَدُ کہنے میں جھوٹے ہیں۔ نَشْھَدُ کے معنی ہیں کہ (یقینا) ہمارے دل میں آپ اللہ تعالیٰ  کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ اے میرے محبوب ﷺ یہ منافق آپ کو زبانی رسول کہتے ہیں دل سے نہیں۔ لہٰذا یہ اظہار شہادت میں جھوٹے ہیں جبکہ شہادت کے معنی علم یقینی کے ہیں۔ گویا شہادت یقین کو کہتے ہیں خوب سمجھ لیجئے کہ شہادت میں مشہود اور حضور کا مفہوم ہے۔ یہ مفہوم بھی اس لئے کہ اس سے علم یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن علم یقینی کا حصول حضور پر اور حواس کے مشاہدہ پر موقوف نہیں ہے۔ اگر اس پر موقوف ہوتا تو انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ  کے ہونے کی گواہی دیتے۔ یہ اللہ تعالیٰ  کی گواہی ہر نبی نے دی ہے اور ہر نبی نے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا ہے۔ تو پتا چلا کہ شہادت کے لئے حواس ظاہر کے ساتھ مشاہدہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس لئے علماء نے لکھا ہے
الشھادۃ والشھود الحضور مع المشاہدۃ اما بالبصر او بالبصیرۃ (۱)
حاضر ہونا اور گواہی کے معنی موجودگی بمعہ مشاہدہ ہے اور مشاہدہ خواہ بصر سے ہو یا بصیرت سے۔
پتا چلا کہ شہادت محض بصر پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ بصیرت پر بھی موقوف ہے اس لئے انبیاء علیہم السلام نے مومنین نے، کاملین نے، الغرض تمام مقربین خدا نے، اللہ تعالیٰ  کی توحید کا مشاہدہ بصر سے نہیں کیا بلکہ بصیرت سے کیا۔ مشاہدہ بصر سے ہو تب بھی شہادت دے سکتے ہیں۔ مشاہدہ بصیرت سے ہو تب بھی شہادت دے سکتے ہیں کیونکہ مفاد دونوں کا علم یقینی ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ  کی توحید کا یقینی علم بھی اللہ تعالیٰ  کے رسول کے بغیر نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے اپنے محبوب ﷺ کو دونوں قسم کا علم عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ  کی توحید کی شہادت حضورﷺ  نے بصیرت سے بھی دی اور بصارت سے بھی دی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضورﷺ  نے اللہ تعالیٰ  کو آنکھوں سے دیکھا اور شہادت دی تو میں کہتا ہوں (معراج سے پہلے) آنکھوں سے دیکھنے کی بات تو بعد کی ہے حضورﷺ  تو پہلے ہی سے شہادت دے رہے تھے تو وہ کس بناء پر تھی؟ تو کہنا پڑے گا کہ میرے آقا ﷺ نے بصیرت سے بھی شہادت دی اور بصارت سے بھی کیونکہ تمام انبیاء علیہم السلام بربنائے بصیرت میری شہادت دیں گے اور اے میرے محبوب ﷺ تو بربنائے بصیرت بھی اور بربنائے بصارت بھی میری شہادت دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ  نے اللہ تعالیٰ  کو سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھنا بصارت ہے اور قلب مبارک کی آنکھ سے دیکھنا بصیرت ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جب تک ہم حضورﷺ  کی ذات مقدسہ کو قبول نہ کریں ۔ آپ ﷺ پر ایمان نہ لائیں توحید کا پتہ چل ہی نہیں سکتا۔ تو پتا چلا دین کا بنیادی اور مرکزی نکتہ حضورﷺ  کی ذات مقدسہ ہے اگر آپ اس بنیادی نکتہ کو برقرار رکھیں گے تو دین برقرار رہے گا اور اگر آپ اس بنیادی نکتہ کو مٹائیں گے تو دین کی بنیادیں کہاں قائم ہوں گی؟ اس لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کا سب سے عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے
اساس دین اساس ایمان اور اساس ملت کی حفاظت کی اور اس کو برقرار رکھا اور کسی قسم کا کوئی اعتراض اس مرکزی نکتہ پر نہیں آنے دیا لوگ کہتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت نے مسلمانوں کو کافر بنایا۔
ہاں تم یہ بتائو کہ تمہارے مقتدائوں نے مسلمانوں کو کافروں کی آغوش میں ڈالا کہ نہیں ڈالا(یعنی) جب سب سے پہلے مولانا فضل حق خیر آبادی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تو اس فتوی کی حمایت کس نے کی اور اس فتوی کی مخالفت کس نے کی؟
تو میں اس کا جواب دو لفظوں میں عرض کردیتا ہوں وہ یہ کہ اعلیٰ حضرت نے اسلام کی بنیاد پر ایک قومیت اور کفر کی بنیاد پر دوسری قومیت کا تصور دیا۔
اعلیٰ حضرت اور دو قومی نظریہ
اعلیٰ حضرت نے ہندوستان میں دو قومی نظریے کو پیش کیا اور یہ بتایا کہ کافر ایک الگ قوم ہیں اور مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور مومن اور کافر مل جائیں تو پھر جہاد کون کرے گا؟ اور جہاد کیسے ہوگا؟ تو جن لوگوں نے متحدہ قومیت کا پرچار کیا ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعرہ لگائے انہوں نے اسلام کی بنیادوں کو کاٹا کیونکہ بھائی تو بھائی سے جہاد نہیں کرتا جب مسلمان کافر کا بھائی ہوگیا اور مومن مشرک کا بھائی ہوگیا تو اب بتایئے کہ جہاد کا بنیادی نکتہ کہاں رہا؟
انہوں نے مولانا فضل حق خیر آبادی کے فتوی کی بیخ کنی کی۔متحدہ قومیت کا پرچار کیا۔ ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعرے لگائے اور مومن کو کافر کی آغوش میں ڈالا گیا جبکہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ  نے اس فتوی کو اور دو قومی نظریے کو اجاگر کیا اور مومن کو کافر سے جدا کیا اور یہ بتایا کہ جہاد اسلام کا بنیادی اصول ہے۔
قیامِ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے اور علما ومشائخِ اہلسنّت ہی اس کے بانی ہیں
عزیزان محترم! پاکستان کے قیام کی بنیاد اسلام بنا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے قیام کا کوئی اور سبب وجہ اور دلیل نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کے قیام کے بانی مولانا فضل حق خیر آبادی، اعلیٰ حضرت اور ان سے منسلک تمام علمائے اہلسنّت و مشائخ اہلسنّت ہیں۔ کہ جنہوں نے اس بنیادی نکتہ(اسلام) کی بنیاد پر پاکستان کو تسلیم کیا اور جنہوں نے متحدہ قومیت کا نعرہ لگایا تو انہوں نے اس بنیادی نکتہ کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
عزیزان محترم! آپ کہیں گے کہ اس طبقہ کے اندر بھی تو مسلم لیگ کے حمایت کرنے والے پیدا ہوئے اور قائد اعظم کا ساتھ دیا تو میں کہوں گا کہ ان کی یہ ایک سیاسی چال تھی مقصد تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو ہمارا پاکستان کے بانیوں میں شمار ہوگا اور یہاں ہمارے پائوں مضبوط رہیں گے اگر پاکستان نہ بنا تو متحدہ قومیت کی بنیاد پر وہاں بھی ہمارے قدم مضبوط رہیں گے تو میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے جہاں تمام علوم کی خدمت کی وہاں ہماری سیاسی قیادت اور رہنمائی بھی فرمائی جس کی بنیاد پر آج پاکستان قائم ہے ہم اعلیٰ حضرت کے ممنون ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کو فروغ ہو وہ تعلیمات اعلیٰ حضرت کی ذاتی نہیں ہیں بلکہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی محبت اور تعظیم کے نقوش ہیں کہ جن پر اسلام قائم ہے۔ ہاں جن لوگوں نے اس دین متین کو گرد آلود کیا اس میں تکدر پیدا کیا۔متحدہ قومیت کے نعرہ لگائے۔ اعلیٰ حضرت نے اس تکدر اور گردو غبار کو دور کیا اور بتایا کہ دین کی بنیاد حضورﷺ  کی ذات مقدسہ ہے۔
حضورﷺ  کی اداؤں کا نام اسلام ہے
اس لئے میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ اسلام حضورﷺ  کے مقدس قول و فعل اور ادائوں کا نام ہے اسلام حضورﷺ  سے جدا نہیں اور نہ ہی حضورﷺ  اسلام سے جدا ہیں۔ گویا آپ ﷺ بمثل آفتاب ہیں اور اس کی شعاعیں اسلام ہیں کیا آفتاب کو شعاعوں سے جدا کیا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں اور پھر کیا آفتاب نہ ہو اور اس کی روشنی ہو؟ ممکن نہیں مصطفی ﷺ نہ رہیں اور اسلام رہ جائے ممکن نہیں تو پھر معاذ اللہ حضورﷺ  مرکر مٹی میں مل جائیں تو اسلام کہاں رہ جائے گا؟
شبہ
لوگوں نے کہا کہ تم انبیاء، صدیقین، شہداء اور صلحا کی حیات کے قائل ہوتو کیا تم نے ان کو زندہ دفن کیا ہوا ہے۔
شبہ کا ازالہ
عزیزان محترم! انبیاء علیہم السلام ہوں یا صدیقین ، شہدا ہوں یا صلحاء اللہ تعالیٰ  نے ہر ایک کے لئے قانون موت کو مقرر فرما دیا اور اعلان کردیا ۔
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ
کہ عبدومعبود کا فرق واضح ہوجائے کیوں؟ اس لئے کہ یہود و نصاریٰ کا رد ہوجائے کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کا قول کیا۔ یہود نے حضرت عزیرعلیہ السلام کی الوہیت کا اقرار کیا اور جاہلیت کے دور میں نامعلوم کتنے جاہلوں نے اور مشرکوں نے اللہ تعالیٰ  کے مقربین اور محبوبین کی الوہیت کا قول کیا اور ان کو
الٰـہ مانا۔ تو اللہ تعالیٰ  نے قانون موت طاری فرما کر یہ ایک عظیم حکمت بیان فرما دی کہ جو الٰہ ہو اس پر قانون موت طاری نہیں ہوسکتا وہ الٰـہ قانون موت کے تصور سے بالا تر ہے وہ اللہ تعالیٰ  کے عبد مقدس ہیں۔ ان حضرات پر جب قانون موت طاری ہوا تو قاعدہ ہے۔
اذاثبت الشیء ثبت بجمیع لوازمہ ومنا سباتہ
جب کوئی شے ثابت ہوتی ہے تو اپنے لوازمات اور اپنے مناسبات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔
موت کے لوازمات میں سے، موت کے مناسبات میں سے وہ سب احکام ہیں جو موت کے بعد مرتب ہوتے ہیں مثلاً میت کو غسل دینا، کفن پہنانا، نماز جنازہ پڑھنا اور دفن کرنا۔یہ لوازمات اور مناسبات موت کے ہیں
الٰـہ ان سب احکام سے بالا تر ہوتا ہے اور عبد وہ ہوتا ہے جس پر قانون موت طاری ہو اور جب قانون موت طاری ہوگا تو اس کے لوازمات اور مناسبات بھی ضرور متحقق ہوں گے۔ قانون موت طاری کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ  نے انبیاء علیہم السلام کو صدیقین، شہداء، صلحاء ، نجبا، نقبا، ابدال اور اوتاد کو اور مومنین و مومنات کو ان کے مراتب و مناصب کے مطابق حیات تو ضرور عطا فرمادی ہے لیکن اس حیات کو ہماری دنیاوی، جسمانی حواس ، ادراک اور شعور سے بالا تر کردیا اور معرض خفا میں رکھ دیا۔ آثار حیات اور حقیقت حیات کو اللہ تعالیٰ  نے ہماری نگاہوں سے اوجھل کردیا۔
آثار حیات کے اوجھل ہونے کا راز کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ  نے آثار حیات کو ہماری نگاہوں سے اوجھل کیوں کردیا؟
آثار حیات کو ہمارے شعور، ہمارے ادراک سے اور ہمارے حواس سے اوجھل کردیا تاکہ قانون موت کے احکام لوازمات و مناسبات مرتب ہوسکیں۔ اگر معاذ اللہ قانون موت سے قبل حضرات قدسیہ کو دفن کیاجاتا تو پھر تم یہ کہنے کے مجاز ہوتے کہ تم نے ان قدسیوں کو زندہ درگور کیا ہوا ہے۔ ارے قانون موت سے پہلے کسی نے کسی کو دفن نہیں کیااور قانون موت طاری ہونے کے بعد، قبض روح کے بعد اگرچہ ان کو حیات ملی مگر آثار حیات مخفی رہے اگر آثار حیات مخفی نہ رہیں تو قانون موت کے لوازمات و مناسبات اور احکام پر عمل کیسے؟
شبہ
آپ شاید یہ کہیں کہ سکتہ کے مریض میں بھی آثار حیات نہیں ہوتے تو کیا پھر اسے بھی دفن کردیں؟
شبہ کا ازالہ
اسے دفن نہیں کریں گے کیونکہ قانون موت طاری نہیں ہوا۔ قبض روح نہیں ہوئی۔ جب تک قبض روح نہ ہو۔ قانون موت طاری نہیں ہوسکتا۔ اس پر احکام موت مرتب نہیں ہوسکتے، تجہیز و تدفین نہیں ہوسکتی۔ اس بات کو میں ایک مثال سے واضح کرتا ہوں کہ جیسا کہ انسان نواقض وضو کے اظہار سے نماز کے قابل نہیں ہوتا اس پر نماز کے احکام مرتب نہیں ہوتے نواقض وضو کہ جن کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ چیزیں انسان کے اندر موجود ہیں۔ جیسے کہ خون ، بول وبراز وغیرہ یہ سب انسان کے اندر موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے انسان وضو کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔
شبہ
اب اگر کوئی کہہ دے کہ نواقص وضو انسان کے اندر موجود ہیں تو پھر نماز کیسے ہوئی؟
شبہ کا ازالہ
نواقص وضو انسان کے اندر موجود ہیں مگر ان کے آثار ظاہر نہیں ہیں ان کا ظہور نہیں ہوا، ان کا خروج نہیں ہوا کہ ہم ان کا مشاہدہ کرسکیں ہاں جب ان کا خروج ہوگا ان کا اظہار ہوگا ان کے آثار سامنے آئیں گے تب ان پر وضو کے احکام مرتب ہوں گے ورنہ نہیں۔ لہٰذا حیات اِن حضرات قدسیہ ان میں موجود ہے مگر احکام مرتب نہیں ہوں گے کیونکہ ان میں آثار حیات ظاہری طورپر نمایاں نہیں ہیں۔ حیات ظاہری کے آثار مخفی اور غائب ہیں جیسا کہ نواقض وضو کے بارے میں ہم نے ابھی ذکر کیا ہے تو اس لئے حیات قدسیہ کا انکار نہیں ہوسکتا اور اس میں یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے انبیاء علیہم السلام ، شہداء اور مقربین کو حیات دینے کے باوجود آثار حیات کو ہمارے حواس، ہمارے ادراک اور ہمارے شعور سے پوشیدہ اور مخفی رکھا تاکہ قانون موت کے احکام مرتب ہوسکیں ورنہ ہم غسل و جنازہ و تجہیز و تدفین نہیں کرسکتے۔
شبہ
یہ کہنا کہ وہ قبر میں زندہ کیسے رہ سکتے ہیں؟
شبہ کا ازالہ
اس کا جواب یہ ہے کہ قبر میں تم زندہ رکھتے ہو یا اللہ تعالیٰ ؟ جو اللہ قبر کے باہر زندہ رکھ سکتا ہے وہ قبر کے اندر زندہ نہیں رکھ سکتا؟
بڑی عجیب بات ہے ملتان میں ایک بد عقیدہ ڈاکٹر تھا لوگوں نے اسے بتایا کہ کاظمی صاحب حیات انبیاء علیہم السلام کے قائل ہیں تو وہ کہنے لگا کہ یہ تو سائنس کے قانون کے خلاف ہے اگر کاظمی صاحب اپنے قول پر مصر ہیں تو صبح انہیں قبر میں دفن کردیتے ہیں شام کو اگر زندہ رہے تو ٹھیک ہے ورنہ باقی انسان کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟ لوگوں نے مجھے ڈاکٹر صاحب کی یہ بات بتائی میں ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر پہنچا باہر ایک اونٹنی بھی موجود تھی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ بھائی اونٹنی کے پیٹ میں کتنے مہینے بچہ زندہ رہتا ہے تو اس نے کہاگیارہ بارہ ماہ تو میں نے کہا اگر تمہیں اس اونٹنی کے پیٹ میں دس گھنٹے کے لئے رکھ دیا جائے تو کیا تم زندہ رہ جائو گے۔ تو کہنے لگا کہ وہ اور نظام ہے اور یہ اور نظام ہے۔ پھر میں نے کہا کہ میرے سوال کا جواب تو تُونے خود ہی دے دیا اور پھر میں نے کہا کہ تم قرآن کریم پڑھو کہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں رہے کہ نہیں رہے؟ اگر حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہ سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کو مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھ سکتا ہے تو وہ خدا انبیاء علیہم السلام کو ان کی قبروں میں زندہ نہیں رکھ سکتا؟ اور قرآن کریم نے تو پہلے ہی بتا دیا
سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ (حٰم السجدہ: ۳۳)
یعنی ہم اپنی قدرت کی نشانیاں آفاق عالم میں دکھائیں گے اور ان کے نفسوں میں دکھائیں گے آفاق عالم کی نشانیاں آپ نے دیکھ لیں۔
بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں زندہ رہتا ہے اور حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے اور یہ قرآن ہے کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے اللہ تعالیٰ  نے اپنی قدرت کی آیات کو آفاق عالم میں چمکایا اور ہمارے اندر بھی چمکایا اور بتادیا کہ اے انبیاء علیہم السلام کی حیات کے انکاری تو ماں کے پیٹ کی قبر میں کیسے زندہ رہا؟ تو جس نے تجھے ماں کے پیٹ میں زندہ رکھا وہی خدا قبر میں انبیاء علیہم السلام کو ان کی قبور میں قیامت تک زندہ رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح آفاق عالم کے ان گنت دلائل ہمارے سامنے موجود ہیں بہرنوع انبیاء ، اولیاء اور مقربین خدا کی توہین ان لوگوں کا شعار ہے۔ اللہ تعالیٰ  ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔(آمین)
اعلیٰ حضرت نے ہمیں دو چیزیں دیں، ادب اور محبت
حضرات محترم! اعلیٰ حضرت مجدد مائۃ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو چیزیں عطا فرمائی ہیں۔ایک ادب دوسری محبت اگر ادب اور محبت ہے تو دین ہے ورنہ دین نہیں ہے اس لئے ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے ممنون اور متشکر ہیں اور ان کے احسان سے ہم عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج