اولیاء اللہ کی محبت و تعظیم امن کی ضمانت ہے

حضرات محترم! ملتان مدینۃ الاولیا ہے۔ اولیاء اللہ کا شہر ہے۔ جس میں حضور سیدی شاہ رکن عالم نوری حضوری رضی اللہ عنہ حضورسیدی موسیٰ پاک شہید رضی اللہ عنہ حضور سیدی خواجَہ عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ مشہور اکابر اولیاء اللہ جلوہ افروز ہیں۔ میں ان حضرات کو روحانی طورپر زندہ مانتا ہوں اور یقینا ان کی روحانیت اب بھی ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہے۔
جامعہ انوارالعلوم کے قیام کا سبب
حالات ایسے پیدا ہوگئے ہیں کہ لوگ اولیاء اللہ سے دور ہٹتے جارہے ہیں اور اولیاء اللہ سے ہٹنا گویا  اللہ تعالیٰ  سے ہٹنا ہے۔ یہ مدرسہ انوار العلوم، اولیاء اللہ کے مسلک، اولیاء اللہ کی تعظیم کی محبت کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کی عقیدتیں، اولیاء اللہ سے وابستہ اور مستحکم رہیں اور اولیاء اللہ خواہ سلسلہ قادریہ سے متعلق ہوں یا چشتیہ سے۔ سلسلہ نقشبندیہ سے متعلق ہوں یا سہروردیہ سے۔ ان مقدسین، طیبین، طاہرین، عارفین حضرات کی مقدس ذاتوں کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدتوں کو پختہ اور مضبوط کرنے کی بنیادوں پر یہ مدرسہ قائم ہوا اور الحمد للّٰہ آج تک یہ مدرسہ انہی بنیادوں پر کام کر رہا ہے اور میں نے انہی بنیادوں پر پڑھایا اور انہی بنیادوں پر تقریر و تحریر کی اور  اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ میری زندگی اسی طرح گزر جائے اور اولیاء اللہ کے خادموں میں میری موت آئے۔
حضرات محترم! وہ تمام حضرات جن کی آج دستار بندی ہونی ہے میرے عزیز طلباء ہیں میں ان کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بزرگوں کے نقش قدم پر چلیں اور انہی بنیادوں پر دین وملت کی خدمات سر انجام دیں میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر اولیاء کرام کی مرکزیت کو مضبوط کردیا جائے تو دنیا میں بے عملی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
امن کا گہوارہ اولیاء اللہ ہیں
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ (یونس: ۶۲)
بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
 اللہ تعالیٰ  نے گویا یہ فرمایا کہ امن کا گہوارہ اولیاء اللہ ہیں۔
دنیا جس قدر اولیاء اللہ سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اسی قدر بدامنی کا شکار ہوتی جارہی ہے دنیا کی فطرت امن کو تلاش کررہی ہے امن اولیاء اللہ کے دامنوں میں، ان کی بارگاہوں ، ان کی محبت اور ان کی سچی اتباع میں ملے گا۔
عزیزان گرامی ارشاد ہوتا ہے
ہُوَالَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔ (الفتح: ۲۸)
(اللہ) وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین عطا فرما کر بھیجا تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کردے۔
ھو ضمیر ہے الذی اسم موصول ہے ضمیر بھی اسم ہے اور یہ دونوں اسماء مبہم ہیں۔ ان میں پوشیدگی ہے ھو ( وہ) کون ؟ الذی وہ ذات۔ وہ کون سی ذات؟ تو ضمیر میں بھی ابہام ہے اور اسم موصول میں بھی ابہام ہے۔ ضمیر کا ابہام مرجع سے دور ہوتا ہے۔ مثلاً زید آیا اور اس نے کہا۔ تو جب تک زید نہ ہو تو ضمیر(اس) کا پتہ نہیں چلتا اور اس کی پوشیدگی دور نہیں ہوگی۔ اسم موصول (الذی) میں بھی ابہام ہے اور وہ صلہ سے دور ہوتا ہے اور اس کاصلہ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی ہے کیا مقصد؟ جس طرح ضمیر کا ابہام مرجع کے بغیر دور نہیں ہوتا اسی طرح اسم موصول کا ابہام بھیصلہ کے بغیر دور نہیں ہوتا۔ لہٰذا  اللہ تعالیٰ  کی معرفت میں ہمیں جو ابہام پڑ گیا ہے وہ رسول کے بغیر دور نہیں ہوتامرجع کے بغیرضمیر نہیں پہچانی جاتیصلہ کے بغیرموصول کا پتہ نہیں چلتا اور رَسُوْلَہٗ کے بغیر خدا کی معرفت نہیں ہوتی۔ قرآن کریم کہتا ہے
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِلَاٰ یٰتِ لِّاُ ولِی الْاَلْبَابِ (آل عمران: ۱۹۰)
بے شک آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں(ان) عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاںہیں۔
تو آپ کہتے ہیں کہ رسول کے بغیر خدا کی معرفت نہیں ہوتی۔ تو یہ کیا بات ہوئی؟ جبکہ  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے ہر چیز میں ہماری نشانیاں ہیں اور کائنات کا ہر ذرہ ہماری قدرت کا نشان ہے اور اگر نشان سے خدا کا پتا نہ چلے تو وہ نشان کاہے کا؟ کسی نے کہا

ہر گیاہ از زمیں روید
وحدہٗ لا شریک لہٗ گوید

گھاس کا جو تنکا اگتا ہے وہ زبان حال سے وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ کہتا ہوا اگتا ہے کہ اگر اگانے والا نہ ہوتا میں کیسے اگتا؟ ایک گھاس کا تنکہ بھی خدا کی قدرت کا نشان ہے۔ آفتاب و ماہتاب، ارض و سموات، نباتات و جمادات، لیل و نہار کی گردشیں، بحر وبر، جواہر و معنی اور تمام موالید و عناصر الغرض کائنات کا ایک ایک ذرہ خدا کی قدرت اور معرفت کا نشان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کائنات کا ہر ذرہ خدا کی معرفت کا نشان ہے۔ اٰمنا و صدقنا، جب خود قرآن کریم ہی کہتا ہے
ان تمام چیزوں میں عقل مندوں کے لئے خدا کی معرفت کی نشانیاں ہیں اور نشانی وہی ہوتی ہے جس سے کسی چیز کا پتا چلتا ہو نشانی نشان والے کے لئے دلیل ہوتی ہے جیسے دھوپ سورج کے لئے اور چاندنی چاند کے لئے دلیل ہے اسی طرح کائنات کا ہر ذرہ کسی صانع کے لئے دلیل ہے۔ لیکن دلیلیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک خاموش اور ایک ناطق۔
خدا کی ذات بمنزل دعویٰ ہے اور کائنات کا ہر ذرہ اس دعویٰ کی دلیل ہے مگر یہ دلیلیں خاموش ہیں کیونکہ جب شمس و قمر، ارض و سموات اور نباتات و جمادات کے پوجاریوں نے انہیں پوجا تو یہ سب دلیلیں خاموش رہیں۔ کسی دلیل نے یہ نہ بتایا کہ میں دعویٰ نہیں ہوں بلکہ دلیل۔ اور ناطق دلیل تو ایک ہے۔ وہ ہے محمد رسول االلہ ﷺ  یہ وہ ناطق دلیل ہے کہ وہ خاموش دلیل بھی ان کے دامن سے وابستہ ہوئی ناطق ہوگئی جیسے ابو جہل کے ہاتھ میں پتھر کی کنکریاں بھی ناطق ہوگئیں۔اسی طرح چاند و سورج بھی ناطق ہوئے۔ انگلی کے اشارے سے سورج واپس آرہا ہے اور چاند دو ٹکڑے ہورہا ہے اور اس میں بھی حکمت ہے کہ اگر چاند یا سورج سے کوئی آواز پیدا ہوتی ہے تو لوگ شک و شبہ میں پڑ جاتے، جانے یہ آواز کہاں سے آئی ہے اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ حضور اقدسﷺ نے جیسے اشارہ فرمایا ویسے ہی ڈوبا ہوا سورج واپس آیا یوں لگتا تھا جیسے انگلی سے بندھا ہوا ہے اور یہ سورج مولائے کائنات مشکل کشا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے لئے واپس آیا۔
حضرت علی المرتضیٰ کو حضور سے بڑھادیا؟
کسی نے مجھ سے کہا کہ تم نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضور اقدس ﷺ سے بڑھا دیا کیونکہ خود سرکارﷺ  کی نماز قضا ہوئی تو کوئی سورج واپس نہیں آیا جب کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی نماز قضا ہوئی تو سورج واپس آگیا۔
میں نے کہا ارے! غلاموں کا کمال غلاموں کا کمال نہیں بلکہ آقائوں کا کمال ہوتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم حضور اقدس ﷺ کے غلام ہیں اور پھر آقاﷺ  کے لئے سورج واپس کیوں نہیں آیا اس لئے کہ قیامت تک آنیوالے مومنوں کے لئے اسوئہ حسنہ حضور اقدس ﷺ ہیں نہ کہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کیونکہ
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: ۲۱)
اگر حضور اقدس ﷺ کی قضا نماز کے لئے ڈوبا ہوا سورج واپس آتا تو قیامت تک ہر مسلمان کے لئے ڈوبا ہوا سورج واپس آتا اور یہ خدا کی حکمت کے خلاف تھا کیونکہ
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ
علاوہ ازیں یہ خدا کی قدرت میں دخل بھی ہے۔ رہا سورج کا واپس آنا تو یہ میرے آقاﷺ  کی شان ہے کہ خاموش دلیل بھی میرے آقاﷺ  کی بارگاہ اقدس میں آکر ناطق ہوجاتی ہے اور سورج کے پجاریوں کے لئے یہ خاموش دلیل، دلیل ثابت ہوئی نہ کہ دعویٰ، حالانکہ بڑے بڑے عقل مند انہی دلیلوں کو دعویٰ بناتے رہے اور مظاہر کائنات کی عبادت کرتے رہے۔ اے محبوب ﷺ اصل دلیل تو، تو ہے اور یہ سب دلیلیں تیری فرع ہیں اصل کے بغیر فرع نہیں ہوتی لہٰذا کوئی دلیل رسول کے بغیر نہیں۔
حضرات محترم! اتنی بات میں آپ کو اور بتا دوں کہ انسانوں نے مظاہر کائنات کو کیوں پوجا؟ جس کی محبت تھی اسے پوجنا چاہئے تھا۔ فطرت میں تو خدا کی محبت تھی اور پوجا گیا مظاہر کائنات کو۔ تو ایسا کیوں ہوا؟ پہلے جملے میں، مَیں نے کہا کہ انسان کی فطرت میں خدا کی محبت کا جوہر ہے یہ پہلا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کے لئے میں لفظ انسان پیش کیے دیتا ہوں انسان کو انسان کہتے اس لئے ہیں کہ وہ
انس سے نکلا ہے اور انس کے معنی ہیں اس نے محبت کی اور کس کی محبت ؟ اس بنانیوالے کی اور بھائی مجھے کہنے دیجئے کہ انسان کی فطرت کا جوہر ہی خدا کی محبت ہے۔ انسان کی فطرت میں خدا کی محبت ہے اور غیر کو پوجتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
وحدت ادیان کا ایک غلط تصور
میں نے ایک مرتبہ تقابل ادیان کا فرق پڑھایا تو میں نے یہ سوا ل خود پیدا کیا کہ وحدت یعنی تمام ادیان کی اصل تو ایک ہی ہے اور اختلاف بعد کو پیدا ہوا اور یہ اختلافات اصولی بن گئے لیکن حقیقت دین میں وحدت پائی جاتی ہے۔ دین ایک ہی ہے اس کی پھر مختلف راہیں ہوئیں۔
بعض لوگوں نے
وحدت ادیان کا فلسفہ یہ قرار دیا ہے کہ جب انسان خدا کی محبت اپنے اندر رکھتا ہے اور خدا کا انس اس کی فطرت میں ہے لہٰذا جو جس چیز کو پوجے تو وہ گویا خدا کا پوجاری ہے وحدت ادیان کے قائلین یہ کہتے ہیں کہ کوئی کعبہ میں خدا کو پوجتا ہے اور کوئی مندر میں۔ کوئی مسجد میں جاکر خدا کو پوجتا ہے تو کوئی گنگا اور جمنا میں جاکر خدا کو پوجتا ہے اور کوئی نباتات و جمادات۔چاند اور سورج کو پوجتا ہے۔ تو یہ سب اسی ایک خدا کے پوجاری ہیں۔ جو ان سب کا خالق اور مالک ہے لہٰذا کسی کا خدارام ہے تو کسی کا خدارحیم کوئی خدا کو رام کہے تو کوئی خدا کو رحیم کہے کوئی خدا کو پوجنے کے لئے مسجد جاتا ہے تو کوئی مندر میں جاتا ہے کوئی اپنے سامنے خانہ کعبہ کو رکھتے ہیں اور کوئی اپنے سامنے مورتی کو۔ آخر خانہ کعبہ بھی تو پتھروں کا بنا ہوا ہے کسی نے کعبہ کو آگے رکھ لیا اور کسی نے کسی اور چیز کو۔ تو جو جس چیز کی طرف عبادت کرتا ہے تو خدا ہی کی عبادت کرتا ہے لہٰذا تم یہ جھگڑے ختم کرو۔ اسلام، عیسائیت، یہودیت، نصرانیت، مجوسیت، بت پرستی اور دھریت وغیرہ یہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ ان تمام کے پوجا کرنے کا سبب ایک ہی ہے کہ ہر پوجا کرنے والا اپنے اندر کی جوہری فطرت کی بنا پر مجبور ہے کیونکہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب مل جائے۔ اس لئے مظاہر کائنات کے پوجاری اسی جوہر فطرت کی بنا پر(جو کہ خدا کی محبت ہے) مجبور ہیں کیونکہ عالم ارواح میں الست بربکم پر بلٰی کا نعرہ لگا کر جس کی ربوبیت کا اعتراف کیا تھا کہ تو ضرور ہمارا رب ہے تو ڈھونڈو کہاں ہے؟ سب اس کی تلاش میں بے قرار ہیں۔
خدا کی معرفت کا ذریعہ صرف ذاتِ مصطفیٰﷺ ہے
عزیزان گرامی! سب سے پہلے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے خدا کی ربوبیت کا اعتراف فرمایا اور پھر تمام رسولوں نے، نبیوں نے، صدیقوں نے، شہیدوں نے، صالحین نے، اغواث نے، اقطاب نے، ابدالوں نے، نجباء نے، نقباء نے، تمام مومنین مومنات نے، تمام عارفین عارفات نے، تمام سالکین سالکات نے، حضور اقدس ﷺ کے نعرئہ
بلٰی پر بلٰی کا نعرہ لگایا اور سب نے کہا کیوں نہیں؟ تو ضرور ہمارا رب ہے۔ اب جبکہ یہ جسم یہاں آیا اور روح اس جسم میں آئی تو روح نے کہا کہ میں نے جس کی ربوبیت کا وہاں اقرار کیا تھا۔ ڈھونڈوں وہ کہاں ہے؟ یہ محبت اسے لئے پھرتی ہے کہ کبھی اسے آسمانوں کی جستجو کراتی ہے تو کبھی زمینوں کی، کبھی نباتات کی جستجو کراتی ہے تو کبھی جمادات کی لیکن کامیابی کب ہوگی؟ جب تلاش کا ذریعہ صحیح ہوگا اور اگر تلاش کا ذریعہ غلط ہے تو تلاش تو جاری رہے گی مگر کامیابی نہیں ہوگی۔
حضرات محترم! آپ کے سامنے ایک چائے کی پیالی رکھی ہے اور آپ کو معلوم نہیں کہ اس میں میٹھا ہے یا نہیں۔ تو آپ اسے گھنٹوں دیکھتے رہیں اس کی میٹھاس معلوم نہیں ہوگی آپ اسے اپنے کان میں ڈال لیں کوئی آواز نہیں آئے گی آپ اس میں اپنا ہاتھ ڈالیں تو ہاتھ کو پتہ نہیں چلے گا کہ اس میں میٹھا ہے کہ نہیں۔ آپ اسی طرح میٹھے کو تلاش کرتے رہیں۔ دس ہزار برس گزر جائیں گے مگر کامیابی نہیں ہوگی کامیابی کب ہوگی؟ جب ذریعہ تلاش صحیح ہوگا۔ چائے کی پیالی میں میٹھا تلاش کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟ قوت ذائقہ ہے جب آپ چائے کا ایک گھونٹ پیئیں گے تو قوت ذائقہ فوراً بتائے گی کہ اس میں چینی ہے یا نہیں۔
عزیزان گرامی! انسان اپنی فطرت میں خدا کی محبت کا گوہر لے کر آیا
وحدت ادیان کے سلسلہ میں۔ میں یہاں تک متفق ہوں اور ہاں انسان اسی محبت کے فطری تقاضوں کی بناء پر اس رب کو تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے کہ جس کو میں نے بلٰی کہہ کر رب مانا وہ ہے کہاں لیکن تلاش کا ذریعہ کسی نے عقل کو بنایا تو وہ دھر یہ ہوگئے کسی نے حواس کو ذریعہ بنایا تو مظاہرپرست ہوگئے۔
 اللہ تعالیٰ  نے فرمایا! کہ عقل بھی ذریعہ نہیں ہوسکتی ہاں عقل سے تم میری معرفت کے لئے مدد لے سکتے ہو۔ میری معرفت کے لئے حواس سے بھی مدد لے سکتے ہو مگر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ ارے حواس اور عقل ناتمام ہیں میں کامل ہوں حواس متناہی ہیں میں لامتناہی ہوں عقل محدود ہے میں لا محدود ہوں۔ اگر تم محدود کو لامحدود کے لئے تلاش کا ذریعہ بنا لو کامل کے لئے ناقص کو ذریعہ بنا لو تو میں یہ تو کہہ دوں گا کہ تم تلاش اسی کو کررہے ہو مگر کامیاب نہیں ہو گے۔
ان مظاہر کائنات کو دیکھو۔ ان کو میرے محبوب ﷺ نے دلیل قرار دیا۔ لیکن یاد رکھو کہ تمہیں تلاش کرنی ہے تو ان غلط ذریعوں پر اعتماد نہ کرو۔ ان دلیلوں پر بھروسہ نہ کرو کیونکہ میرے تلاش کرنے کا ذریعہ تمہارے حواس نہیں میں تمہارے حواس میں نہیں سما سکتا میں تمہاری عقل کے دائرے میں محدود نہیں ہوسکتا۔ اگر مجھے تلاش کرنا ہے اور مجھے پانا ہے اور میری معرفت حاصل کرنی ہے تو نہ میں حواس کی دنیا میں ملوں گا اور نہ عقل کی دنیا میں اگر ملوں گا تو مصطفیٰﷺ  کی آغوش میں ملوں گا۔
ھُوَالَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی (الفتح: ۲۸)
خدا کی قسم!جس نے مصطفیٰﷺ  کو چھوڑا اس نے خدا کو کبھی نہ پایا۔ خدا کو تلاش کرنے کا اس کی معرفت حاصل کرنے کا کامیاب ترین ذریعہ مصطفیٰﷺ  کی ذات پاک ہے اور مصطفیٰﷺ  کی ذات پاک تک پہنچنے کا ذریعہ اولیاء اللہ کی جماعت قدسیہ ہے۔ اولیاء اللہ سے ہٹ کر مصطفیٰﷺ  کی ذات تک پہنچنا محال ہے اور مصطفیٰﷺ  کی ذات سے ہٹ کر خدا تک نہیں پہنچ سکتے۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج