انعام یافتگان الٰہیہ

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم اما بعد فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

حضرات محترم! پہلے میں اپنا عقیدہ بیان کرتا ہوں، میں جماعت اہل سنت سے ہوں اور سنی ہوں اور سنیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور تاجدار مدنی جناب محمد مصطفیٰﷺ   اللہ تعالیٰ  کی ذات پاک کے مظہر اتم ہیں اور  اللہ تعالیٰ  نے ساری کائنات میں سب سے زیادہ افضل، اکمل ، اعلیٰ، اعلم اپنے حبیبﷺ  کو پیدا فرمایا کسی نے خوب کہا ہے

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

ہمارا ایمان ہے کہ  اللہ تعالیٰ  کے بعد حضورﷺ  کا مرتبہ ہے اور  اللہ تعالیٰ  کے بعد آپ ساری کائنات کے مالک و مختار ہیں۔ آپﷺ  اللہ تعالیٰ کے تمام فضائل ، کمالات و صفات کا مظہر اتم ہیں اور پھر تمام انبیاء علیہم السلام کا مرتبہ، رسولوں کا مرتبہ۔  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہَ وَ رَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ (البقرۃ: ۱۵۳)
یہ سب رسول ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور (سب پر) درجوں بلندی عطا فرمائی۔
 اللہ تعالیٰ  نے آپﷺ  کو وافر فضیلت دی اور نبوت ایک ایسا مقام اور مرتبہ ہے کہ نبوت سے آگے انسان کے لئے کوئی مرتبہ نہیں ہے۔ کون انسان؟ جو اشرف المخلوقات ہے ساری کائنات میں سب سے افضل اور اشرف ہے بس انسانیت نبوت پر منتہی ہے ۔ حضورﷺ  کے بعد نبوت ختم ہے حضورﷺ  خاتم النبین ہیں۔ اگر کوئی حضورﷺ  کے بعد نبوت کا دعوی کرے تو وہ کذاب ہے۔
انسانی کمال میں سب سے اعلیٰ کمال نبوت ہے نبوت کے بعد دوسرا کمال صدیقیت ہے، صدیقیت کے بعد تیسرا کمال شہادت ہے اور شہادت کے بعد چوتھا کمال صالحیت ہے۔  اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے
اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ (النساء: ۶۹)
 اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول کی اطاعت کرنیوالوں کا قیامت کے دن نبیوں، صدیقیوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ حشر ہوگا گویا وہ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے ساتھی ہوں گے اور پھر خود ہی ارشاد فرماتا ہے
اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔
گویا یہ بڑے اچھے ساتھی اور رفیق ہیں ان جیسا اچھا ساتھی اور رفیق تصور میں نہیں آسکتا۔
ہر کمال کی اصل حضورﷺ  ہیں
تو اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے النبیین، پھر صدیقین، پھر شہداء اور پھر آخر میں صالحین کا ذکر فرمایا معلوم ہوا سب سے پہلا مقام نبوت ہے اس کے بعد صدیقیت ، پھر شہادت اور پھر چوتھا مقام صالحیت ہے۔ ہر کمال کی اصل حضورﷺ  ہیں۔ اگر کمال نبوت حضورﷺ  میں نہ ہوتا تو کوئی نبی حضورﷺ  سے پہلے دنیا میں نہ آتا۔ اسی طرح کمال صدیقیت، کمال شہادت اور کمال صالحیت حضورﷺ  میں نہ ہوتا تو قیامت تک کوئی صدیق، کوئی شہید اور کوئی صالح پیدا نہ ہوتا۔
شبہ
آپ کہیں گے کہ نبی، صدیق، َشہید اور صالح تو حضورﷺ  تو ہیں تو اور نبی، صدیقین، شہداء اور صالحین کہاں سے آئے؟
شبہ کا ازالہ
النبیین، صدیقین، شہداء اور صالحین کا مرکز تاجدار مدنی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم کثیرًا کثیرًا ہیں اور کمالات نبوت کا مرکز مقام الوہیت ہے۔ میرے آقاﷺ  اول النبیین اور آخر النبیین ہیں۔ آپﷺ  کی نبوت کا حسن و جمال حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی میں چمکا ہے اور یقین کیجئے کہ سب سے پہلے اس کائنات میں  اللہ تعالیٰ  نے جو صدیق پیدا فرمائے اس سے لے کر قیامت تک جو صدیق پیدا ہوگا۔ وہ میرے آقاﷺ  کے کمال صدیقیت کا آئینہ اور حسن وجمال ہوگا۔ اس سر زمین پر پہلے شہید سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے شہید کی شہادت، میرے آقاﷺ  کی شہادت کا مظہر ہوگی۔ اسی طرح ازل سے ابد تک جو صالح پیدا ہوگا وہ میرے آقاﷺ  کی صالحیت کا مظہر ہوگا اور کیونکہ تمام کمالات نبوت کا مرکز و محور مقام الوہیت ہے۔ تو اب نتیجہ یہ نکلا کہ اصل حسن خالق حقیقی کا ہے۔ اور حسن الوہیت کا آئینہ (محبوبِ خدا) محمد عربی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم ہیں اور اس حسن محمد کے آئینے تمام انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ حسن الوہیت کی تجلی اول کا نام حسن محمدیت ہے اور اس حسن اول کی تجلیاں جب پھیلیں تو کہیں نبوت کے حسن کی تجلی چمکی اور اس تجلی کے انوار جہاں نظر آئے وہ انبیاء ہی انبیاء ہوئے۔ اسی حسن کی صدیقیت کا جلوہ جب چمکا تو جس جس آئینے نے اس جلوے کو لے لیا وہ صدیق بن گیا اور آپﷺ  کے حسن شہادت کے جلوے جن جن آئینوں میں چمکے وہ شہداء ہوگئے اور اسی آئینہ اکمل اور مظہر اتم کے حسن صالحیت کا جب ظہور ہوا تو جس جس آئینہ کے اندر اس کی صالحیت کے انوار چمکے وہ سب صالحین قرار پائے۔
بحث امکان و وجود
عزیزان محترم! ایک ہے امکان اور ایک ہے وجود۔ وجود واجب کے لئے بھی ہے اور ممکن کے لئے بھی یہ اور بات ہے کہ ممکن کا وجود ایسا ہے کہ اس کا عدم ضروری ہے اور نہ وجود۔ اس کا ہونا بھی ضروری نہیں اور اس کا نہ ہونا بھی اور واجب ایسا وجود ہے کہ جس کا ہونا ضروری ہے اور نہ ہونا محال اور عالم امکان کامرکز اول محمد ﷺ ہیں۔ امکان آپﷺ  کا بھی ہے اور میرا بھی۔ عالم امکان کا ہر ممکن اور ہر فردامکان کی صفت سے متصف ہے مگر جو امکان مصطفیٰﷺ  میں پایاجاتا ہے وہ امکان کسی میں نہیں پایا جاتا۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہر ممکن کے اندر امکان موجود ہے مگر میرے آقاﷺ  جس امکان کے ساتھ ممکن ہیں اس امکان کی نظیر عالم امکان میں نہیں ہے۔ یہ میں نہیں کہتا حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں

در عالم امکان مثل او متصور نیست

فرماتے ہیں ممکن تم بھی ہو ممکن ہم بھی ہیں۔ لیکن جس امکان کے ساتھ میرے آقاﷺ  ممکن ہیں اس امکان کی نظیر عالم امکان میں نہیں۔ واللّٰہ باللّٰہ ثم تاللّٰہ۔ میرے آقاﷺ  وجود(حقیقی) کا مظہر اتم ہیں ۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ نے کیا خوب فرمایا

واجب میں عبدیت کہاں اور ممکن میں یہ قدرت کہاں
حیرت نے جھنجھلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

عزیزان محترم! اب جن کے دلوں میں بَیر (بغض) ہے ان کا جواب تو کوئی بھی نہیں دے سکتا۔
شبہ
شاید کوئی یہ کہے کہ جب آپﷺ  یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں تو پھر آپﷺ  کیا ہیں؟
شبہ کا ازالہ
تو میں کہوں گا کہ ہیں ہی آپﷺ  اور کوئی ہے ہی نہیں۔ اللہ اکبر! اس کی وجہ آپ کو بتائوں اس کی وجہ یہ ہے کہ وجود حقیقی کا ظہور کسی صفت میں مقید نہیں ہوتا۔ نہ وہ امکان میں مقید ہے اور نہ زمان میں۔ وہ نہ کسی ہیئت میں مقید ہوسکتا ہے اور نہ کسی قید میں۔
عزیزان محترم! میرے آقاﷺ  وہ ہیئت کبری ہیں کہ جو عالم وجود سے پاک ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ حضور سید عالم ﷺ نے  اللہ تعالیٰ  کو کیسے دیکھا؟  اللہ تعالیٰ  کہاں تھا۔ حضورﷺ  کہاں تھے۔ حضورﷺ  کہاں سے چل کر  اللہ تعالیٰ  کے پاس کہاں پہنچے؟ تو اللہ اکبر!  اللہ تعالیٰ  تو کہاں سے پاک، جہاں سے پاک، جہت و سمت سے پاک، یہاں اور وہاں سے پاک، زمان و مکان سے پاک ہے، وہ پاک ہے ، وہ پاک ہے، وہ پاک ہے، مگر اس نے جس کو اپنا مظہر اتم بنایا وہ اس کا جلوہ ہو کر پاک ہے وہ خدا اصل ہوکر پاک ہے۔ وہ (سید عالم ﷺ ) فرع ہوکر پاک ہیں۔ اس لئے اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا ہے کہ

کمان امکان کے جھوٹے نقطو تم اول و آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

محیط کی چال میں کدھر کدھر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک ہے محیط کی چال اور ایک وہ ہیں کہ جن کی صفت عالم امکان کو محیط ہے۔ وہ کیا صفت ہے؟ وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن  اللہ تعالیٰ  نے میرے آقاﷺ  کو العَالَمِیْنَ کی اصل کردیا اور العَالَمِیْنَ کو آپﷺ  کی فرع کردیا۔ العَالَمِیْنَ کو میرے آقاﷺ  کے دامن میں دیکر آپﷺ  کی رحمت کا محتاج کردیا اور العَالَمِیْنَ کیا ہے؟ العَالَمِیْنَ ماسوا اللہ کو کہتے ہیں لہٰذا العَالَمِیْنَ کو مصطفیٰﷺ  کی رحمت محیط ہے ۔ محیط کی چال سے پوچھو ، کدھر سے آئے کدھر گئے تھے۔ آپﷺ  کی صفت محیط ہے اور جن کی ایک صفت محیط ہے ان کی ذات کا کیا عالم ہوگا۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن جن کی صفت رحمت سارے عالم کو محیط ہے ان کی صفت رسالت بھی سارے عالم کو محیط ہوگی اور یہ میں نہیں کہتا۔ اے زبان رسالت! آپ پر کروڑوں سلام مسلم شریف کی حدیث میں فرمایا
ارسلت الی الخلق کافۃ
میں تو ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
میرے آقا زمانے کو محیط ہیں
زمین و آسمان، چاند اور سورج ، عرش و کرسی، لوح و قلم ، زمان و مکان یہ کیا ہیں؟ مخلوق ہیں زمان کیا ہے؟ زمانہ کیا ہے؟ فلسفیوں نے کہا کہ مقدار حرکت کا نام زمانہ ہے، بسیں گاڑیاں، کاریں، فیکٹریاں چلتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ حرکت کر رہی ہیں۔ لیکن زمانہ کی حرکت کو کیسے معلوم کیا جائے جبکہ فلسفیوں کے نزدیک مقدار حرکت کا نام زمانہ ہے۔ معلوم ہوا کہ زمانہ حرکت میں ہے۔ فلسفیوں کے نزدیک زمانہ کیسے ختم ہوگا؟ جب حرکت ختم ہوگی۔ حرکت کس چیز کی؟ متحرک کی۔ متحرک کیا ہے؟ زمانہ ہے۔ جب متحرک نہیں رہا تو حرکت نہیں رہے گی اور جب حرکت نہیں رہے گی تو مقدار حرکت بھی نہیں رہے گی۔ تو لہٰذا زمانہ ختم ہوجائے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ گھڑیوں کی مقدار حرکت کا نام زمانہ نہیں ہے۔ سارے جہاں کی گھڑیاں ٹوٹ جائیں تب بھی زمانہ ختم نہیں ہوگا کیونکہ گھڑیاں بننے سے پہلے بھی زمانہ تھا۔ اب اگر گھڑیاں ہیں تب بھی زمانہ ہے اگر گھڑیاں ختم ہوجائیں تو تب بھی زمانہ رہے گا۔ تو اب زمانہ کیا ہوا۔ زمانہ فلک الافلاک کی گردش کا نام زمانہ ہے۔ فلک الافلاک کیا ہے؟ یہ متحرک ہے۔ اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے تو اس مقدار حرکت کا نام زمانہ ہے۔ اللہ اکبر! ایک بات کہتا ہوں کہ معراج کی رات جب میرے آقاﷺ  عرش سے اوپر گئے۔ تو عرش نیچے رہا میرے آقاﷺ  اوپر، متحرک بھی نیچے اور حرکت بھی نیچے مقدار حرکت بھی نیچے رہی تو معلوم ہوا کہ زمانہ حضورﷺ  کو محیط نہیں ہے بلکہ میرے آقاﷺ  زمانہ کو محیط ہیں۔ میرے آقاﷺ  کے کمالات کی یہی شان کہ آپﷺ  کی نبوت، آپﷺ  کی رسالت، آپﷺ  کی رحمت، آپﷺ  کے جمال محمدیت کے جلوے اور آپﷺ  کی صدیقیت کے جلوے ہر ایک کو محیط ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صدیق ماننا فقط میرے لئے ضروری نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر چیز کو خواہ وہ زمین پر ہے یا آسمانوں پر ہے یا سدرہ پر ہے بلکہ ستر ہزار حجابات عظمت کے آگے بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت کا اقرار کرنا پڑے گا کیوں؟ اگر ایسا نہ ہو تو مقام حیرت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آواز کی شکل میں حضورﷺ  کے کانوں میں آواز کہاں سے آئی۔ یہ کیا تھا؟ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ میرے محبوب ﷺ کی رحمت محیط ہوکر آپﷺ  کو
الٰہ نہیں بناتی تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صدیقیت محیط ہوکر ان کو محمد ﷺ کیسے بنادے گی؟ کیونکہ آپﷺ   اللہ تعالیٰ  کا مظہر ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپﷺ  کے مظہر ہیں۔
عزیزان محترم! بات دور چلی گئی۔ مجھے کہنا یہ تھا کہ اصل کمال محمد ﷺ کا ہے، حضورﷺ  اصل ہیں۔ اصل اعلیٰ ہوتی ہے باقی فرع ہے۔ فرع ادنیٰ ہوتی ہے۔ اگر ادنیٰ اعلیٰ کے ساتھ مل جائے۔ ادنیٰ کی اعلیٰ کے ساتھ نسبت ہوجائے۔ تو ادنیٰ بھی اعلیٰ کا مظہر ہوجائے گا۔ بشرطیکہ اعلیٰ کے اندر فیض پہنچانے کی صلاحیت ہو اور ادنیٰ کے اندر فیض قبول کرنے کی صلاحیت ہو۔ تو جب ادنیٰ کو اعلیٰ کا قرب، اعلیٰ کی صحبت اور مصاحبت نصیب ہوجائے گی تو ادنیٰ کو اعلیٰ کا نائب قرار دیاجائے گا۔ تو پھر کیا ہوگا؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ اعلیٰ فیض دے رہا ہوگا اور ادنیٰ فیض لے رہا ہوگا تو اس وقت ادنیٰ اعلیٰ کا فیض لے کر اعلیٰ تو نہیں ہوسکتا مگر اعلیٰ کا مظہر ہوجائے گا۔ عزیزان محترم!  اللہ تعالیٰ  فیض دینے والا ہے اور محمد ﷺ فیض لینے والے ہیں۔
عزیزان محترم! دنیا میں دو طاقتیں کام کرتی ہیں۔ ایک انفعال اور ایک انکسار۔ انفعال کا معنی ہے اثر دینا اور انکسار کا معنی ہے اثر لینا۔ گویا انفعال کا معنی ہے فیض دینا اور انکسار کا معنی ہے فیض لینا فیض قبول کرنا اور محمد ﷺ کو فیض قبول کرنے کی صلاحیت کہاں سے آگئی۔  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے۔
سُبْحٰنَ الَّذِیٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ (بنی اسرائیل: ۱)
ہر عیب سے پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے(مقدس) بندے کو۔ اللہ اکبر!
عبد کا معنیٰ
عبد کے کیا معنی ہیں؟  اللہ تعالیٰ  نے محمد ﷺ کو عبد اس لئے کہا ہے کہ میرے عبد مقدس کو اپنے جیسا بشر کہنے والو اپنی عاقبت خراب نہ کرو۔ اللہ اکبر۔  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ معراج کی رات ہم فیض دینے والے تھے اور آپﷺ  فیض لینے والے تھے۔ عبدیت تو اس انکسار کانام ہے یعنی جب بچے قلم کے ساتھ تختی(لوح) پر ا ب پ ت کا نقش بناتے ہیں۔ تو تختی نقش لے رہی ہوتی ہے تختی کا کام انکسار ہے اور قلم کا کام انفعال ہے یعنی قلم نقش دے رہا ہے۔ میں بس اتنی بات کہنا چاہتا ہوں کہ  اللہ تعالیٰ  جب معراج کی رات اپنے حبیبﷺ  کو لے گیا تو یوں کہئے کہ اس صفت کمال کے ظہور کا موقع آیا۔ یوں تو  اللہ تعالیٰ  دیتا ہے اور حضورﷺ  لیتے ہیں۔ یہ ہمیشہ کی بات ہے۔ انفعال میرا ہوگا اور انکسار مصطفیٰﷺ  کا ہوگا۔ اے پیارے حبیبﷺ  جب تو میری طرف رخ کرے گا تو پھر میں دینے والا اور تو لینے والا اور جب تو کائنات کی طرف رخ کرے گا تو پھر تو کائنات کو دینے والا اور کائنات تجھ سے لینے والی۔ یعنی جب تیرا رخ ادھر ہے تو میں دینے والا تو لینے والا
واللّٰہ یعطی وانا قاسم میں دوں گا تو لے گا اور جب تیرا رخ کائنات کی طرف ہوگا۔ تُو تو دینے والا ہوگا۔ عبدیت کی لوح بن کر میری بارگاہ میں آجا اور نبوت کا قلم بن کر کائنات کے سامنے آجا۔(معراج کی رات) جب حضور خدا کی بارگاہ میں پیش ہوئے، خدا کی قسم عبدیت کی لوح بن گئے، اس لئے فرمایا
سُبْحٰنَ الَّذِیٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ (بنی اسرائیل: ۱)
آپﷺ  عبدیت کی لوح بن کر جاتے ہیں اور نبوت اور رسالت کا قلم بن کر  اللہ تعالیٰ  کے بندوں کے سامنے واپس آتے ہیں
واللّٰہ یعطی وانا قاسم آپﷺ  نے  اللہ تعالیٰ  سے لیا اور نبیوں اور رسولوں کو دیا اور آپﷺ  کے بعد نبوت تو ختم ہوگئی تھی مگر میرے آقاﷺ  نے نگاہ اٹھائی تو صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو صدیقیت کبری عطا فرمائی اور میرے آقاﷺ  کے یہ سب خلفائے راشدین، ازواج مطہرات، اہل بیت اطہار یہ نبی نہیں ہوسکتے مگر ان میں ہر ایک صدیق ہے، مگر اے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی صدیقیت کبریٰ کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں۔
حضرت ابوبکر، صدیق اکبر کیوں ہیں؟ ایک شبہ کا ازالہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کیوں بنایا گیا؟ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو صدیق اکبر بنایا ہوتا؟
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی صدیقیت کا کون انکار کرتا ہے؟ اگر کوئی منکر ہے تو میں اس کو مومن ہی نہیں سمجھتا۔ بات کیا تھی؟ بات یہ تھی کہ اگر لوگ جیسا ذہن رکھتے ہیں حضورﷺ  ویسا ہی عمل فرماتے تو حضورﷺ  کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی کہ جو کچھ ہے اپنے گھر کے لئے ہے۔ دوسروں کے لئے کچھ نہیں ہے فرمایا یہ بات نہیں ہے میں تو تمام کائنات کے لئے
معطی بن کر آیا ہوں۔ عطا فرمانے والا بن کر آیا ہوں۔ میں نے اگر عمر رضی اللہ عنہ کو ، عثمان رضی اللہ عنہ کو اور علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو دیا ہے تو وہ میری عطا ہے اور اگر میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر بنایا ہے تو وہ بھی میری عطا ہے لیکن یہ مت سمجھنا کہ صدیق اکبر کو میں نے صدیق اکبر بنا کر اپنی ازواج مطہرات اور اپنی آل پاک کو محروم کردیا ہے۔ نہیں نہیں بلکہ جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صدیقیت کبری کا قائل ہوگا اس کو صدیقیت کبریٰ کا فیض مل جائے گا۔ ملے گا کہاں سے اور کیسے؟ تو حقیقی دینے والا تو  اللہ تعالیٰ  ہے اور تقسیم کرنے والے مصطفیٰﷺ  ہیں۔ مگر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو واسطہ بنا دیا تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ وہ ایسے کریم اور سخی ہیں کہ خود بھی دیتے ہیں اور دوسروں سے بھی دلواتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب حوض کوثر کا موقع آئیگا تو یہ شرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو ملے گا اور یہ شرف اس لئے ملے گا تاکہ حضورﷺ  کی عام جودو سخا کا ظہور ہوجائے اور دنیا کو پتہ چل جائے کہ میرے آقاﷺ  کی جودو سخا کسی مرحلہ پر مقید نہیں ہے۔
خلفاء راشدین کے کسی کمال کا انکار حضورﷺ  کا انکار ہے
بہر نوع! ہر کمال کی اصل حضورﷺ  ہیں اور سب کو فرمایا کہ میرے محبوب ﷺ کا قرب حاصل کرلو۔ان سے نسبت مضبوط کر لو۔ تم جب اپنی نسبت مضبوط کرلوگے تو جو صلاحیت جس کے اندر ہوگی وہی فیض میرے آقاﷺ  سے ان کے اندر پہنچ جائے گا۔ صلاحیت دینے والا میں ہوں۔ کسی کو کوئی صلاحیت دی ہے اور کسی کو کوئی۔ صدیق اکبر کو وہ صلاحیت دی ہے کہ جس کی بنا پر انہوں نے مانعین زکوٰۃ اورمسیلمہ کذاب کے ساتھ جہاد کیا اور صدیقیت کبری کا وہ مظاہرہ فرمایا کہ دنیا حیران رہ گئی۔  اللہ تعالیٰ  کے حبیبﷺ  نے اپنے جمال کا کمال صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں چمکا دیا اور جلال کے کمال کا مظہر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بنادیا، شرم و حیا کا آئینہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اور شجاعت کا مظہر علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو بنا دیا۔اس کو اس طرح ہی سمجھا جاسکتا ہے کہ جیسے ایک کسان زمین میں کماد، کپاس، گندم ، چاول اور تمام قسم کے پھول اور تمام قسم کی سبزیاں کاشت کرکے کماد کے بیج سے کماد، کپاس کے بیج سے کپاس، گندم کے بیج سے گندم، چاول کے بیج سے چاول، پھول اور سبزیاں اسی جنس کی حاصل کرتا ہے جو اس نے بوئی تھیں بالکل اسی طرح تمام صحابہ کرام سے جمیع امت محمدیت نے  اللہ تعالیٰ  کی عطا کی ہوئی صلاحیت کے مطابق قرب حاصل کرنے کے بعد فیض پایا۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک جنس سے دوسری جنس حاصل ہوئی ہو ایک پھول سے دوسری قسم کا پھول پیدا ہوا ہو ایک قسم کی سبزی سے دوسری قسم کی سبزی حاصل ہوئی ہو اور پھر یہ تمام قسم کے اجناس اعلیٰ قسم کے پھول اور پھل اور سبزیاں زمین ہی سے پانی اور خوراک حاصل کرتے ہیں لیکن ان کا یہ فرق اور تفاوت کیوں ہے؟ کیونکہ جو جو صلاحیت اور خوبی جس جنس، پھول، پھل اور سبزیوں میں تھی ایک ہی زمینی خوراک سے سامنے آئی بعینہٖ ابوبکر کا کمال ظاہر ہوا جو صلاحیت  اللہ تعالیٰ  نے اس میں رکھی تھی۔ فاروق اعظم، عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے کمالات ان کی صلاحیتوں کے مطابق سامنے آئے جس طرح آم کا پھل کھجور میں نہیں لگ سکتا۔ اسی طرح ایک کی خوبی دوسرے میں ظاہر نہیں ہوسکتی۔ مگر جس نے جو کمال لیا وہ ایک ہی ذات سے لیا۔ جس طرح مختلف پھول اور پھل اور مختلف اشیاء نظر آرہی ہیں سب ایک ہی زمین سے مستفیض ہیں۔ بالکل اسی طرح میں کہوں گا کہ کہیں صدیقیت نظر آرہی ہے تو کہیں شہادت، کہیں صالحیت نظر آرہی ہے تو کہیں ولایت، کہیں غوثیت نظر آرہی ہے تو کہیں قطبیت، کہیں علم نظر آرہا ہے تو کہیں عرفان، کہیں جلال نظر آرہا ہے تو کہیں جمال یہ سب ایک ہی ذات مقدسہ کی تجلیاں ہیں۔
میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ اگر ہم کسی ایک کے کمال کا انکار کریں گے تو اصل کا انکار ہوگا گویا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صدیقیت کبری کا انکار، حضورﷺ  کی ذات کا انکار ہوگا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کمالات کا انکار مرکز رسالت کا انکار ہے۔ اگر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انکار کرو گے تو اس کا اثر حضورﷺ  کی ذات پر پڑے گا، حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے کمالات کا انکار بھی حضورﷺ  کی ذات کا انکار ہے کیونکہ یہ سب ایک ہی چشمہ سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صدیقیت کا انکار کیا ہے تو اس نے حضورﷺ  کی ذات کا انکار کیا ہے اور جو حضورﷺ  کے قول کا انکار کرے تو گویا اس نے خدا کا انکار کیا۔ ہاں اس کے محبوب کی تجلی کا انکار اس کی ذات کا انکار ہے۔ اس لئے میں کہوں گا کہ ہم حضورﷺ  کے حسن و جمال کی تجلیوں کو اپنے دلوں، دماغوں میں محفوظ کرلیں(کیونکہ) صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جمال محمدی کا جلوہ ہیں۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جلال محمدی کا جلوہ ہیں۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ سخاوت محمدی کا مظہر ہیں اور علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ شجاعت محمدی کا جلوہ ہیں۔
یہود و ہنود ہم پر کیوں سوار ہیں؟
بہر حال! ہم(اہلسنّت) نے  اللہ تعالیٰ  کے حبیبﷺ  کے ہر ایک جلوے کو دل و دماغ میں جگہ دی ہوئی ہے۔ اگر ہم ان جلوئوں کو ان خلفائے راشدین کی عظمتوں کو اپنے ذہنوں میں محفوظ کرلیں تو ہمارے تمام مسائل خود بخود حل ہوتے جائیں گے۔ آپ خود بتائیں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں یہودیت کس قدر ذلیل تھی؟ لیکن آج یہودی ہم پر سوار ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہم نے اپنے اندر فاروقیت کے جلوے نہیں لئے لیکن افسوس! اگر ہمارے اندر آج بھی فاروقیت کے جلوے پیدا ہوجائیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہودی ہم پر چھا جائیں۔ یاد رکھ لیں آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرلیں۔ اپنے جذبات کو ابھاریں اور اپنے ایمانوں کو قوی کرلیں اور خوب سمجھ لیں کہ اصل خدا ہے اور اس کا پہلا جلوہ مصطفیٰﷺ  ہیں اور مصطفیٰﷺ  کے جلوئوں کے مظاہر خلفائے راشدین، مجتہدین، اغواث، اقطاب، نقبا، نجبا اور اوتاد ہیں۔ حضورﷺ  کی امت کا ہر عالم، ہر ولی آپ کے جلوئوں کی جلوہ گاہ ہے لہٰذا سب کا احترام کرو۔ ان کی سیرت کو دیکھ کر سبق حاصل کرو۔ ان کی سیرت کو سیکھو اور اختیار کو۔
اختتامیہ کلمات
میں بیمار ہوں۔ آپ کی محبت نے چند کلمات کہلوا دیئے ورنہ میں اس کے قابل کہاں تھا؟ میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور آپ میرے لئے دعا کردیں کہ جو خدمت  اللہ تعالیٰ  نے میرے ذمہ لگائی ہے اسے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)  اللہ تعالیٰ  میرے اس بچے ارشد سعید کاظمی کو عالم باعمل بنائے اور تمام علماء دین کی حفاظت فرمائے اور انجمن طلباء اسلام کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ (آمین)

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج