شان صحابہ رضی اللہ عنہما

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم اما بعد فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

صدر محترم، علماء اہل سنت ، مشائخ ملت و بزرگان اہل سنت! مدرسہ انوار العلوم کے چالیسواں سالانہ اجلاس کی آخری نشست ہے۔ کل اور پرسوں سے کچھ رقعے چند سوالات پر مشتمل موصول ہورہے ہیں۔ ان استفسارات و سوالات کے جوابات صرف علم و تحقیق کی روشنی میں نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کروں گا۔
حضرات محترم! ظہر کی نشست کے بعد میری تقریر پر یہ اعتراض ہوا کہ آپ نے قرآن و حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ نبی کا ہرقول وحی الٰہی ہوتا ہے اور آپ نے یہ آیت مبارکہ بھی پڑھی کہ
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اگر یہ امر اپنے حقیقی معنی میں لیاجائے تو اس سے حضورﷺ  کا خدا کے امر پر عمل نہ کرنا لازم آتا ہے کیونکہ آپﷺ  نے اپنے مرض مبارکہ کے آخری ایام میں فرمایا
ایتونی بقرطاس
ایتونی بقرطاس اکتب لکم کتاباً لن تضلوا بعدی
کاغذ قلم لے آئو تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم گمراہ نہ ہوگے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور قلم دوات نہ لائے۔ گویا خدا کے اس امر پر عمل نہ ہوا کہ وہ تحریر نہ لکھی گئی۔
بے شک حضورﷺ  نے یہ فرمایا کہ
فقال ایتونی بقرطاس اکتب لکم کتاباً لن تضلوا بعدی
پس آپﷺ  نے فرمایا (سامان کتابت) میرے پاس لائو۔ میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے۔
جب حضورﷺ  نے یہ ارشاد فرمایا تو کوئی صحابی نہ بولا تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ  نے کہا
فقال عمر! ان النبی ﷺ قد غلب علیہ الوجع
پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورﷺ  پر تکلیف غالب ہوگئی ہے۔
وعندنا کتاب اللّٰہ اور ہمارے پاس  اللہ تعالیٰ  کی کتاب موجو د ہے حسبنا کتاب اللّٰہ ہمارے لئے  اللہ تعالیٰ  کی کتاب کافی ہے ۔ اور دین کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم ضلالت و گمراہی سے بچ جائیں اور ہدایت یافتہ ہوجائیںکیونکہ ہم ہر نماز میں پڑھتے ہیں کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اور میرا عقیدہ ہے کہ امر دین میں جو بات حضورﷺ  فرمائیں گے وہ آپﷺ  کی اپنی بات نہ ہوگی وہ وحی الٰہی ہوگی۔  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی (النجم: ۳)
نہیں اس کا بولنا مگر وحی الٰہی۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ دین کے متعلق حضورﷺ  جو بات فرمائیں گے وہ
من حیث الرسول ہوگی اور جو بات من حیث الرسول ہوگی وہ ارشاد ربانی ہوگا اور اب اگر  اللہ تعالیٰ  نے گمراہی سے بچنے اور ہدایت پر قائم رہنے کے لئے اپنے حبیبﷺ  کو اس تحریر کا حکم جمعرات کو دیا تھا اور پیر کے دن چاشت کے وقت آپﷺ  کا وصال مبارک ہوا(تو) اس عرصہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حسبنا کتاب اللّٰہ کہنے کے بعد حضورﷺ  اور نہ اکابر صحابہ میں سے کسی صحابی نے اختلاف کیا اور نہ اہل بیت میں سے کسی نے اختلاف کیا۔ ہاں ! البتہ بعض صحابہ جو اکابر صحابہ کی طرح درجہ اجتہاد پر نہ تھے نے اختلاف کیا اور ان کا اختلاف بھی نیک نیتی پر مبنی تھا کہ حضورﷺ  کے فرمان کی تعمیل ہونی چاہیے مگر حضورﷺ  جب خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حسبنا کتاب اللّٰہ کہنے پر خاموش ہوگئے۔ کوئی اختلاف نہیں کیا تو اکابر صحابہ میں سے کون اختلاف کرتا۔ تو پتہ چلا کہ آپﷺ  کا یہ فرمانا کہ قلم و دوات لائو کہ میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم گمراہی اور بے دینی کی راہوں سے بچ جائو یقینا وحی الٰہی ہے۔ کیونکہ امر دین سے متعلق ہے۔ آپﷺ  کا یہ فرمان وحی الٰہی تو ہے مگر اس کا لکھوانا مقصود نہیں کیونکہ اگر لکھوانا مقصود و مطلوب الٰہی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ آخری مرحلہ میں حضورﷺ  نے مقصود الٰہی پورا نہیں کیا۔  اللہ تعالیٰ  کے حکم کی تعمیل نہیں۔ خدا کی وحی کے مقاصد پورے نہیں کئے تو منافق کہہ دیتے کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ خدا کی وحی کے مقاصد پورے نہیں کیے؟ تو یہ رسول ﷺ کے دامن پر کتنا بڑا دھبہ اور داغ ہوتا۔
ایتونی بقرطاس سے کیا مراد ہے؟
سوال: تو آپ کہیں گے اگر لکھوانا مقصود نہ تھا تو کیا مقصود تھا؟
جواب: تو صرف ان الفاظ کا زبان رسالت سے ادا کروانا مقصود و مطلوب وحی الٰہی تھا۔
سوال: آپ کہیں گے کہ اس سے ہمیں کیا حاصل ہوا؟
جواب: یہ وہ نازک ترین وقت تھا کہ آپﷺ  عنقریب سفر آخرت فرمانے والے تھے۔ آپﷺ  کے تشریف لے جانے کے بعد وحی الٰہی کا دروازہ بند تھا۔ صحابہ کے لئے نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے اور کوئی دروازہ نہ تھا۔ اب یہ صحابہ کا امتحان تھا کہ آپﷺ  یہ بات ضرور ان سے فرمادیں تاکہ وہ لوگ جو آپﷺ  کی نیابت، آپﷺ  کی خلافت اور آپﷺ  کے دین کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ صحابہ آپﷺ  کی صحبت، آپﷺ  کی تربیت سے فیض یافتہ ہیں۔ نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ایک آزمائش تھی کہ اکابر صحابہ میں سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ
حسبنا کتاب اللّٰہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ سرکار ﷺ آپ ہمیں ایسے نہیں چھوڑے جارہے ہیں کہ ہم آپﷺ  کے بعد بے یارو مددگار رہیں گے بلکہ ہم آپﷺ  کے تربیت یافتہ ہیں اور دین کی گاڑی کو قرآن و حدیث اور سنت کی روشنی میں چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ورنہ اغیار تو یہ کہہ دیں گے کہ آپﷺ  تو دین ختم کرکے جارہے ہیں۔
اگر یہ مقصود نہ ہوتا اور
معاذ اللّٰہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سرکشی اور مخالفت ہوتی توممکن نہ تھا کہ ایک باطل چیز آپﷺ  کے سامنے آتی اور آپﷺ  خاموش رہتے جبکہ خودحضورﷺ  نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس کہنے پر اتفاق کیا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے خاموش ہوکر اتفاق کیا۔ حضورﷺ  نے اپنا فرض ادا کردیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ حسبنا کتاب اللّٰہ حضورﷺ  کے حق میں ہے کہ دنیا کو پتا چلا جائے کہ  اللہ تعالیٰ  کے محبوب ﷺ دین کو ناقص نہیں چھوڑے جارہے ہیں۔ دین کو ختم کرکے نہیں جارہے بلکہ آپﷺ  کے تربیت یافتہ ایسے پیدا ہوگئے ہیں کہ آپﷺ  کے بعد آپﷺ  کے نور نبوت، نور حدیث اور نور سنت کی روشنی میں کتاب اللہ سے دین کو جاری رکھیں گے۔
سوال: میرے ایک دوست نے ایک رقعہ میں یہ لکھا کہ آپ کا یہ کہنا کہ
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی یہ غلط ہے کیونکہ صاحب بیضاوی نے اپنی تفسیر بیضاوی شریف میں ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تحفہ اثنائے عشریہ میں اور مجدد الف ثانی نے یہ لکھا ہے کہ جو قرآن کریم پڑھتے ہیں وہی وحی الٰہی ہے۔
جواب: صاحب بیضاوی، شاہ عبدالعزیز اور مجدد الف ثانی نے سچ فرمایا ہے کہ ہر حدیث وحی نہیں ہے۔ لیکن  اللہ تعالیٰ  کا کلام الٰہی زبان اقدس سے ادا ہوتا ہے اور حدیث بھی۔ قرآن کریم وحی متلو ہے اور وہ حدیث جو
من حیث الرسالت ہے وہ بھی وحی الٰہی ہے مگر غیر متلو اور اس کا ثبوت قرآن کریم میں موجود ہے  اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ کہ اے میرے محبوب! آپ پر کتاب نازل کی ہے اور حکمت بھی، کتاب معطوف علیہ اور حکمت معطوف یہ بچہ بھی جانتا ہے کہ معطوف، معطوف علیہ کیا ہوتا ہے معلوم ہوا کہ کتاب کا مصداق اور ہے اور حکمت کا مصداق اور ہے۔ کتاب بھی نازل ہوئی اور حکمت بھی اور یہ میں نہیں کہتا بلکہ زبان رسالت سے کہلوادیتا ہوںمجھے فقط قرآن کریم نہیں دیا گیا بلکہ قرآن کریم کے ساتھ قرآن کریم کی مثل حکمت بھی دی گئی اس کتاب کا نازل کرنے والا بھی  اللہ تعالیٰ  ہے اور حکمت کا نازل کرنے والا بھی  اللہ تعالیٰ  ہے۔ لہٰذا قرآن کریم بھی وحی الٰہی ہوگیا اور حدیث بھی۔
سرکار کا ہر فرمان حق ہے
لیکن جو بات بحیثیت رسول کے نہیں بلکہ بحیثیت بشریت کے فرمائی اس کا کیا نام ہوگا؟ اس کو آپ وحی الٰہی کہیں گے یا حدیث یا سنت یا قرآن کریم کہیں گے؟
تو حضورﷺ  نے جو بات اپنی طرف سے فرمائی اور وہ امور دین سے متعلق نہیں بلکہ دنیا سے متعلق ہے وہ بھی حضورﷺ  کی بات ہے۔ آپﷺ  کا فرمان ہے مگر خدا کی قسم میر ے آقاﷺ  جو بات
من حیث الرسالت فرمائیں یا من حیث البشریت کوئی بات بھی باطل نہیں ہے کیونکہ زبان نبوت اس سے پاک ہے کہ حضورﷺ  کی زبان اقدس پر باطل جاری ہو۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث ملاحظہ ہو
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ حضورﷺ  کی ہر حدیث لکھ لیا کرتے تھے۔ مشرکین مکہ نے منع کیا اور کہا کہ
انہ بشر وہ تو بشر ہیں۔ یتکلم فی الغضب و الرضاء وہ کبھی غصہ میں بات کرتے ہیں اور کبھی راضی ہو کر تو تم ہر حدیث نہ لکھا کرو۔اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ  حضورﷺ  کی ہر بات لکھنے سے روک دیئے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد حضورﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا ماجرا بیان کیا اور عرض کیا کہ حضور، اب میں کیا کروں؟ تو سرکارﷺ نے فرمایا اکتب یا عبد اللّٰہ اے عبداللہ! میری ہر بات لکھ لیا کر فوالذی نفسی بیدہ مایخرج منہ الا حق واشار الی فمہ فرمایا جس اللہ کی قدرت میں مجھ محمد کی جان پاک ہے میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نکلتا ہی نہیں۔ لہٰذا حضورﷺ  جو بات من حیث البشریت فرمائیں۔ میں اس کو وحی الٰہی تو نہیں کہوں گا مگر میں اس کو حق ضرور کہوں گا کیونکہ زبان رسالت نے اس کو حق فرمایا ہے۔
سوال: آپ کہیں گے کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ یہ قرآن کریم ہے یا یہ حدیث
من حیث الرسالت ہے یا من حیث البشریت؟
جواب: تو سرکارﷺ  کے فرمانے سے پتہ چلے گا کہ قرآن کریم ہے یا حدیث۔ امور دین سے متعلق ہے اور یہ حدیث دنیا سے متعلق ہے تو اس کی مثال وہ واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپﷺ  کا گزر کھجور کے باغ سے ہوا جہاں صحابہ نر، مادہ کھجور کا پیوند لگا رہے تھے تو آپﷺ  نے فرمایا اگر تم اس کو چھوڑ دیتے تو تمہارے لئے بہتر ہوتا۔ تو صحابہ نے پیوند لگانا چھوڑ دیا۔ تو اگلے سال کھجوروں میں ناقص پھل آئے تو صحابہ حضورﷺ  کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ سرکارﷺ  ہم نے تو چھوڑ دیا مگر کھجوریں پھل نہیں لائیں اور جو پھل لائیں وہ ناقص ہے تو حضورﷺ  نے کیا فرمایا؟ فرمایا
انتم اعلمون بامور دنیاکم
اپنے دنیاوی معاملات کو تم بہتر جانتے ہو۔
اس کا مطلب؟ یعنی تم پر یہ فرض نہیں، واجب نہیں کہ تم پیوندکاری چھوڑ دو۔ یہ دنیا کی بات تھی، ہم نے تم کو بتائی۔ اگر تم اس پر جاری رہتے اور دو چار سال صبر کیے رہتے تو یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ جس بات کو سرکارﷺ  خیر کہیں اور اس میں خیر نہ ہو۔ مگر تم نے بے صبری سے کام لیا اور پہلے ہی سال شکایت لے کر آگئے۔ اب اگر ہم اس تمہاری شکایت پر تمہیں مجبور کریں پھر توتمہارے لئے پیوند کاری ناجائز ہوجائے گی اور پیوندکاری سے بچنا تمہارے لئے واجب ہوجائے گا۔ ہم تو تمہارے اوپر
رؤف رحیم ہیں کریم ہیں۔ ہم تو تم پر زیادہ پابندیاں لگانا نہیں چاہتے۔اس لئے ہم نے اعلان کردیا کہ انتم اعلمون بامور دنیا کم اگر تم نے ہماری بہتری کی بات کو دنیا کے اعتبار سے اس پر عمل نہیں کیا تو دنیا کے کاموں کو تم جانو۔ یہ ہمارا کرم ہے کہ دنیا کے کاموں میں ہم نے تم پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔
تو پتہ چلا کہ جو بات میرے آقاﷺ  جہت بشریت سے فرمائیں تو زبان نبوت فیصلہ کرے گی کہ یہ بات جہت بشریت سے ہے یا جہت رسالت سے ہے۔ مگر کوئی بات آپﷺ  اپنی بشریت مقدسہ سے فرمائیں گے اگر وہ وحی الٰہی نہ ہو مگر خدا کی قسم اس کے حق ہونے میں کلام نہیں ہے۔ البتہ جن بزرگوں نے یہ فرمایا کہ حضورﷺ  کا ہر حکم وحی نہیں ہے۔ یہاں مجدد الف ثانی اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی باتیں ٹھیک ہوجاتی ہیں مگر حدیث قرطاس میں اگر میں اس بات کو تسلیم کرلوں تو پھر اس کا یہ مطلب ہوگا کہ یارسول اللہ ﷺ نے خدا کی نافرمانی کی یا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول کی نافرمانی کی؟ رسول ﷺ بھی خدا کی نافرمانی سے پاک ہیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی رسول کی نافرمانی سے پاک ہیں ورنہ حضورﷺ  فرمادیتے کہ اے عمر! تمہارا
حسبنا کتاب اللّٰہ کہنا غلط ہے باطل ہے اور کوئی باطل قول ہمارے سامنے آئے ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حسبنا کتاب اللّٰہ کہہ کر میدان صاف کردیا اور کہہ دیا کہ قرآن کریم کے سوا کچھ نہیں ہے(گویا) حدیث کوئی چیز نہیں ہے۔ خدا کی قسم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حسبنا کتاب اللّٰہ کہہ کر سنت اور حدیث پر ثابت کردیا کہ کتاب اللہ ان کے لئے بھی کافی ہوگی جب حدیث و سنت کا نور ان کے اندر موجود ہوگا۔ جن کے اندر سنت اور حدیث کا نور موجود نہیں ہے ان کے لئے کتاب اللہ کبھی بھی کافی نہیں ہوسکتی۔
عزیزان محترم! فاروق اعظم رضی اللہ عنہ  کا
حسبنا کتاب اللّٰہ کہنا منشائے رسالت کو سمجھنے پر ہے نہ کہ وحی کی مخالفت۔ بس وحی یہی تھی کہ آپﷺ  فرما دیں کہ قلم دوات لائو یہی فرمانا میری وحی ہے۔ آپﷺ  نے فرمادیا اور میری وحی پر عمل ہوگیا۔
شبہ
صاحب بیضاوی، مجدد الف ثانی اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے اقوال کا کیا معنی؟
شبہ کا ازالہ
ان لوگوں نے ان بزرگوں کے اقوال کو سمجھا ہی نہیں اور پھر میں یہ صاف کہتا ہوں کہ  اللہ تعالیٰ  کے حبیبﷺ  کے قول کے سوا کوئی بات قابل قبول ہی نہیں جیسا کہ آپﷺ  کا ارشاد اوپر مذکور ہوا۔
مرزائی کا کوئی کام کارِ خیر نہیں ہوسکتا۔ ایک سوال کا جواب
سوال: کیا اگر مرزائی عشر دیں اور کارِ خیر میں حصہ لیں تو کیا ان کی شرکت اس کارخیر میں قبول کرلی جائے؟
جواب: حضورﷺ  کے بعد جو شخص مدعی نبوت ہوا۔ خواہ وہ نجد میں پیدا ہوا ہو یا پنجاب میں ۔ واللّٰہ باللّٰہ ثم تاللّٰہ۔ وہ خارج از اسلام ہے اور جو خارج اسلام ہو اس کا کوئی کام کار خیر نہیں ہوسکتا۔ خواہ عشر کے نام سے ہو یا کسی اور نام سے۔
عشر کی مقدار اور حکومت کا فیصلہ
سوال: چھبیس من عشر کی مقدار کونسا جزیہ ہے؟
جواب: یہ مسئلہ بھی بڑا طویل ہے بخاری شریف میں دونوں حدیثیں ہیں
حضورﷺ  نے فرمایا جس زمین کو آسمان سے(بذریعہ بارش) سیرابی حاصل ہوتی ہو یا چشموں سے اس میں عشر ہے۔
اگر پانی مشقت سے نکال کر کنوئیں وغیرہ سے پانی دے تو اس میں نصف عشر ہے حنفیوں کا مذہب یہ ہے کہ کئی چیزوں کو مستثنی کرنے کے بعد زمین سے جو بھی پیداوار ہو۔ خواہ قلیل ہو یا کثیر۔ اس میں عشر ہے اور یہ عشر مالک پر بھی ہے اور مزارع پر بھی۔ بخاری شریف میں اسی طرح ہے
عن ابی سعید الخدری ان النبی ا ولیس فیما دون خمسۃ او سق صدقۃ
ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ  نے فرمایا کہ پانچ وسق سے کم پر صدقہ نہیں۔ جبکہ پہلی حدیث میں عشر کا لفظ موجود ہے کہ آسمان سے جو زمین سیراب ہوگی اس میں عشر ہوگا اور دوسری میں لفظ عشر نہیں بلکہ لفظ صدقہ ہے۔ صدقہ اور عشر میں کوئی مساویت نہیں ہے کہ جو صدقہ ہیں۔ عشر نہیں اور جو عشر ہیں وہ صدقہ نہیں۔ زکوۃ کے حکم سے پہلے صدقہ واجب تھا۔ زکوۃ کے حکم نے صدقات کے حکم کو منسوخ کیا۔
حضرات محترم! اگر حکومت نے چھبیس من کی مقدار مقرر کی ہے اور اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ اس سے کم مقدار پیداوار سے ہم نہیں لیں گے(مالک) جس کو چاہے دے دے۔ چھبیس من سے پیداوار میں عشر ہم مالک سے وصول کریں گے۔ مزارع سے نہیں۔ یہ نہیں کہ مزارع پر واجب نہیں واجب ہونے نہ ہونے کا فیصلہ حکومت نہیں کرسکتی یہ تو اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ ہے۔
مرزائی غیر مسلم اقلیت ہیں
میں ایک بات کہتا ہوں کہ آئین میں یہ بات شامل ہے کہ مرزائی غیر مسلم اقلیت ہیں جب وہ غیر مسلم اقلیت ہیں تو ان کا اگر کوئی معاملہ مسلمانوں کے ساتھ جائز رکھا گیا تو میں کہوں گا یہ ہمارے آئین کے قطعاً خلاف ہوگا بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جو امور مسلمانوں سے متعلق ہیں ان میں سے کوئی امر بھی مرزائیوں کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارے نزدیک مرزائی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ اسلام سے خارج ہیں ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی مسلمان نہیں ہے۔
ائمہ مجتہدین پر اعتراض سے بچو
سوال: ایک بات امام شافعی کے نزدیک جائز ہے اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز نہیں ہے تو ہم کس کی بات مانیں مثلاً گوہ امام شافعی کے نزدیک حلال ہے اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک حلال نہیں ہے۔
جواب: علم کی تحقیق کی روشنی میں ان سوالات کا کوئی وزن نہیں ہے ان سوالات کے جوابات کے لئے میں فقط ایک حدیث پڑھتا ہوں یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے اور مسلم شریف میں بھی ۔ حضورﷺ  نے صحابہ کی ایک جماعت کو حکم دیا کہ
لا یصلین احدکم العصر الا فی بنی قریظہ (۱)
تم میں سے کوئی بنی قریظہ پہنچے بغیر نماز عصر کہیں نہ پڑھے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ
لا یصلین احد کم الظہر الا فی بنی قریظہ (۲)
تم میں سے کوئی بنی قریظہ پہنچے بغیر نماز ظہر کہیں نہ پڑھے۔
محدثین نے اس میں تطبیق کی ہے کہ جو جماعتیں حضورﷺ  نے بھیجیں تھیں۔ ان میں ایک جماعت کو
لایصلین احدکم الظہر الا فی بنی قریظہ فرمایا اور دوسری جماعت کو لا یصلین احدکم العصر الا فی بنی قریظہ فرمایا۔ خیر یہ محدثین کی تطبیق تھی حضورﷺ  نے فرمایا کہ بنی قریظہ پہنچے بغیر عصر کی نماز مت پڑھنا لایصلین فرمایا اور پھر ن تاکید کا ہے کہ ہر گز ہرگز بنی قریظہ پہنچے بغیر عصر کی نماز مت پڑھنا۔ مگر ہوا کیا؟ کہ صحابہ جب روانہ ہوئے تو نماز عصر کا وقت بالکل تھوڑا رہ گیا۔ صحابہ نے سوچا کہ اگر وہاں پہنچ کر نماز عصر پڑھتے ہیں تو نماز قضا ہوجائے گی اور نماز قضا کرنے کا ہمیں حکم نہیں ہے خود رب تعالیٰ فرماتا ہے
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا (النساء: ۱۰۳)
نماز تو مومنوں پر فرض موقت ہے۔
اب یہ بات سب صحابہ کے سامنے موجود تھی۔ ان میں ہر صحابی مجتہد تھا۔ تو پھر صحابہ نے اجتہاد کیا سب صحابہ کے سامنے قرآن کریم بھی ہے
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا اور سب صحابہ کے سامنے حدیث بھی ہے لا یصلین احدکم العصر الا فی بنی قریظہ سب صحابہ کے سامنے قرآن کریم بھی ہے اور حدیث بھی ہے لیکن جب صحابہ نے اجتہاد کیا تو جماعت صحابہ میں ایک بات یہ آئی کہ حضورﷺ  کا یہ فرمانا کہ عصر کی نماز وہاں پہنچے بغیر ہرگز نہ پڑھنا جلدی پہنچنے کی تاکید ہے اور ہمیں اتفاق سے دیر ہوگئی ہے تو یہ ہمارا قصور ہے تو حضورﷺ  کے فرمان کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ نماز قضا کردینا اور قرآن کریم کے خلاف عمل کرنا۔ تو نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ کی اس جماعت نے وہاں پہنچے بغیر نماز عصر راستے میں پڑھ لی جبکہ دوسری صحابہ کی جماعت نے کہا کہ جب حضورﷺ  نے صاف صاف فرما دیا کہ لا یصلین احدکم العصر الا فی بنی قریظہ (تم نے عصر کی نماز راستے میں پڑھنی ہی نہیں ہے) تو ہم حضورﷺ  کے حکم سے نماز پڑھیں گے چنانچہ ان صحابہ نے وہاں جاکر قضا نماز پڑھ لی۔ اب صحابہ کی دونوں جماعتیں واپس آئیں اور اپنا اپنا ماجرا سنایا اور عرض کیا کہ ہم میں سے کون حق پر ہے تو سرکارﷺ  نے فرمایا حدیث میں آتا ہے کہ فرمایا (تم بھی حق پر ہو اور تم بھی حق پر ہو) نہ ان پر ناراض ہوئے اور نہ ان پر ناراض ہوئے ارے مجتہدین پر اعتراض کرنے والو خدا سے ڈرو۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج