حقائق کائنات بزبان مصطفی ﷺ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم اَمَّا بَعْد
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

محترم حضرات! دعوت اسلامی کی دعوت پر یہ فقیر حاضر ہوا۔ مجھے اللہ تعالیٰ  کی رحمت سے امید ہے اور انتہائی مسرت اس امر کی ہے کہ ان شاء اللہ دعوت اسلامی کی یہ آواز جو کہ کراچی سے اُٹھی اور عنقریب پورے ملک میں پھیل جائے گی۔ آپ کے دل میں یہ ایک خیال پیدا ہوگا کہ نماز اور کلمہ کی تبلیغ کے لئے کئی جماعتیں موجود ہیں۔ ہمیں اس دعوت اسلامی کی تشکیل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تو میں نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کروں گا کہ اللہ تعالیٰ  نے کائنات کی ہر چیز کو ایک ظاہری حقیقت سے نوازا ہے اور ایک باطنی سے۔ تفصیل کا موقع نہیں اور نہ اتنا وقت ہے کہ تمام حقائق کائنات کو الگ الگ بیان کروں البتہ قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ اس تمام تفصیل کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے
سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقّ۔ (حم السجدہ: ۵۳)
یعنی عنقریب ہم انہیں چمکتی ہوئی نشانیاں ، آفاق عالم اور ان کے نفسوں میں دکھائیں گے۔ یہاں تک کہ یہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ حق وہی ہے جو حضرت سیدنا محمد مصطفیٰﷺ  فرماتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں دو چیزیں ہیں(۱)
فِی الْاٰفَاقِ (۲) وَفِیْ اَنْفُسِھِمْ۔ یعنی ایک ہے آفاق اور ایک ہے نفس۔ آفاق عالم تمام کائنات کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور نفس انسانی کیا ہے؟ فِیْ اَنْفُسِھِمْ جو کہ ہم نے اٹھارہ ہزار عالم کائنات میں ظاہر کیا ہے۔ وہ ایک نفس انسانی میں جمع کردیا ہے آپ یقین کیجئے کہ ایک انسان کا وجود اٹھارہ ہزار کائنات کا مجموعہ ہے گویا اٹھارہ ہزار کائنات کی حقیقتیں ایک انسان کے اندر موجود ہیں۔ یعنی انسان خلاصہ کائنات ہے اور پھر اس کی دو صورتیں ہیں ایک ہے ظاہر اور ایک ہے باطن۔ ہم ایک دوسرے کے وجود کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہمارا ظاہر ہے جس کو ہم ظاہری آنکھ یعنی بصر سے دیکھ رہے ہیں اور اٹھارہ ہزار کائنات کی حقیقتیں جو ہر انسان کے اندر چھپی ہوئی ہیں وہ اس کا باطن ہیں مگر وہ انسان ان باطنی حقیقتوں کو ظاہری بصر سے نہیں دیکھ سکتا۔ باطنی حقیقتوں کو دیکھنے کے لئے باطنی نظر کی ضرورت ہے جسے بصیرت کہتے ہیں جس کا تعلق قلب کی آنکھ سے ہے اور اس نور بصیرت کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ۔ (الزمر: ۲۲)
تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھولا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور (عظیم) پرہے۔
اور وہ نور کیسا ہے ؟ حدیث شریف میں اس کی تفسیر وارد ہے
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال رسول اللّٰہ ﷺ اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللّٰہ (۱)
فرمایا مومن کی نظر سے ڈرتے رہو مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
وہ نور ایمان اور نور فراست ہے اور اسی نورکا نام نور بصیرت ہے۔
حضور کی محبت کے بغیر تمام اعمال بے کار ہیں
عزیزان محترم! میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ایک وہ ظاہری کلمہ اور نماز ہے جو ہمارے جسم سے تعلق رکھتی ہے لیکن ہمارے باطن میں اس کا کوئی اثر نہیں پایاجاتا(اس لئے) آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارا ظاہر و باطن ایک ہوجائے جو نورانیت ہم اپنے جسم کو دینا چاہتے ہیں وہ نور ہم اپنے جسم کو نہیں دے سکتے۔ جب تک کہ باطن کا نور پیدا نہ ہو اور باطن کا نور کیا ہے؟ خوب سمجھ لیجئے؟ وہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت ہے اگر دل میں حضورﷺ کی تعظیم، حضورﷺ کا ادب، حضورﷺ کا احترام اور حضورﷺ کی محبت نہ ہو یعنی جو دل حضور ﷺ کی محبت سے خالی ہے وہ خواہ کتنی ہی نمازیں پڑھے بالکل بے کار ہیں۔ میں نہیں کہتا اے زبان نبوت ﷺ تجھ پر کروڑوں درود و سلام ہوں۔ میرے آقا نامدار ﷺ نے صاف صاف فرمایا
سیائتی علی الناس زمان لایبقی من الاسلام الا اسمہ ولا یبقی من القرآن الارسمہ یقرئون القرآن ولا یتجا وزالقرآن عن حنا جرھم
فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اسلام کا نام رہ جائے گا۔ رسم رہ جائے گی لوگ قرآن کریم پڑھیں گے مگر وہ گلے سے نیچے نہیں اترے گا فرمایا! جب تم ان کی نمازوں پر نظر ڈالو گے ۔ فرمایا:
تحقرون صلواتکم بصلا تھم وصیامکم بصیامھم
تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے مگر ان کا حال کیا ہوگا؟
یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ، و فی رایۃ مساجد ہم عامرۃ وہی خراب من الہدی فایا کم وایاہم ولا یضلو نکم ولا یملونکم ولا یفتنونکم
فرمایا حال یہ ہوگا کہ مسجدیں آباد نظر آئیں گی مگر ہدایت سے ویران ہونگی ان کی نمازیں اور ان کے روزے بظاہر تمہیں ایسے نظر آئیں گے کہ تمہارے روزے اور تمہاری نمازیں ان کے مقابلے میں بالکل حقیر ہوں گی۔
مگر فرمایا
فایاکم وایاہم تم اپنے آپ کو ان سے بچائو اور دور رکھو کیوں؟ اس لئے کہ لا یضلونکم ولا یفتنونکم ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو بھی لے ڈوبیں اور تم کو بھی گمراہ کردیں کیوں؟ اس لئے کہ بظاہر ان کا جسم ان کا وجود اور ان کی ظاہری حالت دین کے رنگ میں رنگی ہوئی ہوگی مگر اندر کا حال خراب ہوگا یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ وہ دین سے اس طرح دور ہوں گے جیسے کہ تیر کمان سے نکل کر شکار کے جانور میں داخل ہو اور پھر باہر نکل جائے دین میں داخل ہو کر بھی دین سے باہر ہوں گے اور دین کا کوئی اثر ان پر نہ ہوگا کیوں؟ اس لئے کہ ان کے دل حضورﷺ  کی محبت سے خالی ہوں گے اور آپ کو معلوم ہے کہ دین اور ایمان حضورﷺ  کی محبت کا نام ہے۔
عزیزان محترم! اللہ تعالیٰ  نے انسان کو پیدا کیا اور سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام  ہیں سب ملائکہ کو آدم علیہ السلام  کے سجدہ کا حکم ہوا سب ملائکہ نے حکم الٰہی کی تعمیل کی مگر شیطان نے انکار کیا اور شیطان نے کہا کہ
اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ( میں اس آدم سے بہتر ہوں) خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارِ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ (تو نے مجھے آگ سے بنایا اور آدم کو مٹی سے بنایا) چنانچہ شیطان نے آدم علیہ السلام  کو سجدہ نہیں کیا سجدہ تعظیمی بجا نہیں لایا تو پھر اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ وَّاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ(الحجر:۳۴، ۳۵)
یعنی اے شیطان! تو جنت سے نکل جا تو مردود ہے تو راندہ ہوا ہے اور قیامت تک تجھ پر لعنت ہے۔ جب شیطان نے یہ سنا تو اس کے دل میں بہت تکلیف پیدا ہوئی اور کہنے لگا کہ
رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ۔ (الحجر: ۳۶)
اے میرے رب تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں۔
قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ (الحجر: ۳۷)
بے شک تو ان میں سے ہے جن کو مہلت دی گئی۔
اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ (الحجر: ۳۸)
وقت معلوم کے دن تک
مگر یاد رکھ! میرے بندوں پر تیرا دائو نہیں چلے گا۔
خیر و شر
آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے ادھر ہدایت کی راہیں دکھانے کے لئے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا اور ادھر گمراہ کرنے کے لئے شیطان کو بھیج دیا۔ گویا خیر و شر کی دونوں طاقتیں انسان کے ساتھ لگ گئیں اس لئے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کا جو کمال شرف تھا وہ کبھی بھی ظاہر نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ  نے انسان کے لئے ایک معیار قائم کردیا کہ اگر تو نے میرے دیئے ہوئے اختیار طاقت اور قوت سے شیطان کو مغلوب کرکے اپنے ایمان کو غالب کرلیا تو کامل ہوگیا اور اگر شیطان سے مغلوب ہوگیا تو پھر تیرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ تیرا ٹھکانہ پھر وہی ہوگا جو شیطان کا ہوگا۔
عزیزان محترم! یہ قرآن کریم ہے شیطان نے مہلت مانگی اللہ تعالیٰ  نے فرمایا
فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ
بے شک تو ان میں سے ہے جن کو مہلت دی گئی۔
یعنی میں نے تجھ کو مہلت دے دی۔ بتایئے اللہ تعالیٰ  نے شیطان کو گمراہ کرنے کا کیا کوئی منصب عطا فرمایا؟ ہرگز کوئی منصب عطا نہیں فرمایا شیطان نے تو اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے مہلت مانگی کہ مجھے مہلت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ  نے فرمایا میں نے تجھے مہلت دے دی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ  نے انبیاء علیہم السلام کو منصب ہدایت عطا فرما کر فرمایا۔
وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ۔ (الرعد: ۷)
ہر قوم کو ہدایت دینے والا بھیجا۔
نبی ہدایت کا منصب لے کر آیا اور شیطان کو اختیارات اور کوئی گمراہی کا منصب نہیں ملا اس نے تو صرف گمراہ کرنے کے لئے مہلت مانگی اور اس کو تو صرف مہلت ہی دی گئی شیطان نے مہلت لے کر انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ  نے اولاد آدم کو اس سے خبردار کرنے کے لئے فرمایا
یٰـبَنِیٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا لِیُرِیَھُمَا سَوْ اٰتِھِمَا۔ (الاعراف: ۲۷)
اے اولاد آدم! شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا۔ ان کا لباس اتروا دیا تاکہ انہیں دکھائے ان کی شرم گاہیں یعنی شیطان نے ان کا لباس اتروا کر ان کا جسم بے لباس کردیا۔
اللہ تعالیٰ  نے فرمایا، وہ شیطان جس نے آدم و حوا کو بے لباس کردیا کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دے۔
نگاہ شیطان
ارشاد ہوتا ہے
اِنَّہٗ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ۔
بے شک تمہیں دیکھتا ہے وہ شیطان اور اس کا کنبہ جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔
یعنی شیطان کو جو میں نے مہلت دی ہے اس مہلت کی بنیاد پر اے اولاد آدم شیطان اور اس کا کنبہ تم کو دیکھ رہا ہے
مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ
اے انسانو! جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔
گویا وہ شیطان تمہیں ہر طرف سے برابر دیکھ رہا ہے یہ دیکھنے اور گمراہ کرنے کی جو قوت اس کو ملی وہ صرف مہلت کے طور پر ملی اللہ تعالیٰ  نے گمراہی کا کوئی منصب مقرر نہیں کیا کہ شیطان کو اس منصب پرفائز کیا ہو بلکہ اللہ تعالیٰ  نے اپنی حکمت کو پورا کرنے کے لئے اسے مہلت دے دی اور فرمایا اے شیطان! جتنی تیری طاقت ہے وہ صرف کرلے مگر
اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ۔ (الحجر: ۴۲)
یعنی میرے بندوں کو تو گمراہ نہیں کرسکتا ۔ میرے بندے تیرے جال میں نہیں آسکتے تو اللہ تعالیٰ  نے انسان کی عظمت، انسان کی قوت اور بزرگی اور انسان کے شرف کو ظاہر کرنے کے لئے شیطان کو یہ مہلت دی تھی۔ آج کل ہو کیا رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ  کی حکمت تو اپنے مقام پر ہے وہ پوری ہوئی اور ہو کر رہے گی اور قیامت تک وہ حکمت جاری رہے گی لیکن ہم اپنے حال پر غور کریں کہ ہم نے اب تک کیا کیا؟ ہم نے اپنے آپ پر شیطان کو غلبہ دے دیا۔ شیطان نے ہمیں ہر طرف سے دیکھا اور ہم پر حملہ کیا اور ہمیں اپنی راہ پر لگایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم سے گناہ اور بے پناہ غلیظ کام کرائے کہ اس نے ہمیں جہنم کے کنارے تک پہنچا دیا حالانکہ یہ وہ شیطان ہے جو صرف گمراہ کرنے کے لئے مہلت مانگ کر آیا تھا۔ اب کیا آپ کی عقل مانتی ہے کہ جس کو صرف گمراہ کرنے کی مہلت ملی ہو اور اس کو اتنی طاقت مل جائے کہ تمام انسانوں کو جہاں سے جس وقت چاہے دیکھے اور یہ جانے کہ فلاں انسان کس حال میں ہے۔ اس پر حملہ کروں تو کامیاب ہوجائوں گا یا نہیں اور اس کی قوت اور اختیار کا یہ حال ہے کہ بخاری اور مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا
ان الشیطان یجری من الانسان مجری الدم (۱)
کہ شیطان جسم انسانی میں خون میں دوڑتا ہے۔
جب شیطان راندہ درگاہ ہوا تو اس نے کہا کہ میں بنی آدم کو گمراہ کرنا چاہتا ہوں مجھے مہلت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جا ہم نے تجھ کو مہلت دے دی اور اس مہلت کی بنیاد پر تو بنی آدم کو ہر طرف سے دیکھ سکتا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور اسے یہ اختیار بھی دے دیا کہ
ان الشیطن یجری من ابن آدم مجری الدم (۲)
بے شک شیطان تو انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ سکتا ہے۔
وہ خونِ انسانی میں اپنا (گمراہ کرنے کا) عمل برابر جاری رکھے ہوئے ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کے لئے اس کی رگ و پے میں برابر دوڑ رہا ہے۔ اس کو فقط گمراہ کرنے کی مہلت ملی تھی اس کو تو اتنی قوت دی کہ وہ ہر انسان کے رگ و ریشے میں دوڑ بھی سکتا ہے اور ہر وقت دیکھ بھی سکتا ہے۔
اختیارات نبی ﷺ
کیا آپ کی عقل اس بات کو تسلیم کرے گی کہ جو گمراہی کے لئے مہلت لے کر آیا تھا۔ اس کو تو اس قدر وسیع نظر اور قوی قوت مل جائے کہ ہر انسان کو جہاں کہیں وہ ہواس کو دیکھ کر گمراہ بھی کرسکے۔لیکن جن کو اللہ تعالیٰ  نے ہدایت کا منصب دیکر مقرر فرمایا اور فرمایا
وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ
٭ اور ارشاد ہوا
ہُوَالَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِالْہُدٰی۔ (توبہ: ۳۳)
اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کا منصب عطا فرما کر بھیجا۔
تو ان کو دیوار کے پیچھے کا علم بھی نہ ہو۔ وہ انبیاء علیہم السلام کوئی قوت اور طاقت نہ رکھتے ہوں۔ ان کے پاس کوئی علمی اور عملی قوت نہ ہو۔ نہ وہ ہمیں دیکھتے ہوں اور نہ ہمیں کوئی نفع پہنچا سکتے ہوں تو جو منصب ہدایت لے کر آیا اس کے پاس کچھ بھی علم اور قوت نہ ہو اور جو گمراہی کی مہلت لے کر آیا اس کے پاس سب کچھ ہو اور اگر ایسا ہو تو ہر شخص کہے گا کہ ہمارا کیا قصور ہے؟ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ  نے انبیاء علیہم السلام کو منصب ہدایت کی بنا پر وہ قوت عطا فرمائی ہے کہ وہاں شیطان کی طاقت کا کوئی تصور بھی قائم نہیں ہوسکتا کیسے؟
سنیئے شیطان کے لئے تو یہ ہوا کہ
اِنَّہٗ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ۔
یعنی شیطان تمہیں ہر طرف سے دیکھ رہا ہے۔ مگر انبیاء علیہم السلام کو کیا نظر عطا فرمائی ارشاد ہوا
وَکَذٰلِکَ نُـرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ۔ (انعام: ۷۵)
اور اسی طرح ہم نے دکھائی۔ ابراہیم علیہ السلام کو ساری بادشاہی(کل مخلوقات) آسمانوں اور زمینوں کی اور اس لئے کہ (علم الیقین کے ساتھ) عین الیقین والوں میں سے(بھی) ہو جائیں۔
ارے شیطان تو فقط بنی آدم کو دیکھ رہا ہے مگر نبی کی نظر
مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کو بھی دیکھ رہی ہے اور نبی کریم ﷺ کو ہادی ہونے کے لئے یہ منصب عطا فرمایا۔
فَتَجَلّٰی لِیْ کُلُّ شَیْئٍ وَعَرَفْتُ (۱)
فرمایا کہ ہر چیز مجھ پر روشن کردی گئی اور میں ہر چیز کو دیکھ رہا ہوں۔
اِنَّ اللّٰہَ رَفَعَ لِیَ الدُّنْیَا فَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْھَا وَاِلٰی مَاھُوَ کَائِنٌ فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلٰی کَفِّیْ ہٰذِہٖ (۱)
بے شک اللہ تعالیٰ  نے ساری دنیا کو اپنے محبوب ﷺ کی نگاہ کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے اور حضورﷺ  دنیا کی ہر چیز کو، جو کچھ اس میں ہورہا ہے دیکھ رہے ہیں سب کچھ اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہو۔
ارے شیطان! تو فقط بنی آدم کو دیکھتا ہے مگر انبیاء علیہم السلام حقائق کائنات کو دیکھتے ہیں اور ہم بھی حقیقت کائنات میں شامل ہیں لہٰذا نبی کی قوت علمیہ وہی ہے کہ کوئی قوت علمی نبی کی قوت علمی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
محترم حضرات! سب سے بڑھ کر قابل غور بات یہ ہے کہ اس عقیدے کے ساتھ نماز پڑھ لینا کہ حضور نبی کریم ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں تو یہ کوئی نماز نہیں۔
دعوت اسلامی کا مقصد
دعوت اسلامی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے عقائد اور دل کو ہر گندگی، ہر نجاست اور ہر بدعقیدگی سے پاک کرے۔ جب تمہارا دل پاک اور صاف ہوجائے تو پھر تمہاری نماز تمہاری نماز ہے۔
عزیزان محترم! شیطان تو انسانوں کی رگوں میں دوڑتا ہے جیسے خون لیکن نبی کو ہم سے (اللہ تعالیٰ  نے) اتنا قریب کیا ہے کہ
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْ مِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ (الاحزاب: آیت۶)
یعنی تمہاری جانیں اتنی تم سے قریب نہیں ہیں مگر نبی تم سے قریب ہے۔
شبہ کا ازالہ
اگر آپ یہ کہیں کہ
نبی کا قرب ہمیں سمجھ نہیں آتا اور نہ ہی محسوس ہوتا ہے تو میں کہوں گا کہ جو چیز تمہاری سمجھ میں نہ آئے اور محسوس نہ ہوتو کیا تم حقیقت کا انکار کردو گے؟ ہرگز نہیں کیونکہ اگر کسی نے ایک آدمی کے سر پر پتھر مارا اور اس کے سر میں درد ہوا مگر تمہیں نہ درد نظر آیا اور نہ درد محسوس ہوا یا میں یہ کہوں گا کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ نیکی اور بدی کے لکھنے والے فرشتے اور دوسرے محافظ فرشتے ہمارے ساتھ ہیں لیکن ہمیں نظر نہیں آتے اور نہ ہی محسوس ہوتے ہیں مگر ہم ان کا انکار نہیں کرسکتے۔
اللہ تعالیٰ  کے نبی ﷺ کے فرمان کو ماننا پڑے گا کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون تک رہتا ہے مگر ہمارے آقا ﷺ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ شیطان نے گمراہی کا منصب نہیں مانگا فقط مہلت مانگی تھی تو اس پر اسے اتنا قرب نصیب ہوگیا کہ ہماری رگوں تک آگیا ہمارے دل و دماغ میں وسوسے پیدا کرنے لگا اور دل کے اندر اس کے اثرات ہوئے ہمارے دلوں میں وسوسوں کے ذریعے بری بری خواہشات اور گناہوں کے ارادے پیدا کرنے میں کامیاب ہوا جس کو فقط گمراہی کی مہلت ملی تھی اس کو تو انسان کا اتنا قرب مل گیا اور جن کو خدا نے منصب ہدایت دیکر بھیجا ان کو ہمارے ساتھ کوئی بھی قرب نہ ہو تو ہماری عقل کہاں گئی؟ کیا ایک مومن کی عقل اس بات کو تسلیم کرسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اے مسلمانو! یاد رکھو شیطان تو فقط بنی آدم کو دیکھ رہا ہے مگر نبی کی نگاہ
تحت الثرٰی سے لے کر عرش علی تک حقائق کائنات کو دیکھ رہی ہے۔
اے مسلمانو! خوب سمجھ لو وہ گمراہی کی مہلت مانگ کر آیا اور انبیاء علیہم السلام کو ہدایت کا منصب دیا گیا اس لئے ہمارا یقین ہے کہ شیطان کسی حالت میں بھی ہو وہ ہمارے ساتھ موجود ہے اور اس کا عمل جاری اور ساری ہے تو میں کیسے مان لوں کہ نبی ﷺ ہمارے ساتھ موجود نہیں اور میں کیسے کہہ دوں کہ نبی ﷺ کا عمل ہدایت جاری نہیں۔
ارے نبی تو نبوت اور رسالت کا منصب لے کر آتا ہے اور وہ ہر آن نبی اور رسول ہوتا ہے اس لئے ہمیں یہ کہنا اور ماننا پڑے گا کہ نبی ہر آن اپنے فیض نبوت اور فیض رسالت سے ہمیں نواز رہا ہے۔ اگر ہم نبی کو زندہ نہیں مانتے تو فیض نبوت سے مستفیض ہونے کے کیا معنے؟ ان لوگوں نے نبیوں کو قبروں میں مردہ بناکر سلا دیا تو فیض نبوت اور فیض رسالت کو کون سی عقل تسلیم کرے گی؟
عزیزان محترم! شیطان کی زندگی تو موت سے بھی بد تر ہے مگر خدا کی قسم نبی قبر کے اندر کروڑوں زندگیوں سے بھی اعلیٰ درجہ کی زندگی رکھتا ہے۔
حضرات انبیاء کرام اور قانون موت
بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ جب نبی قبر کے اندر دفن ہوگئے تو قبر میں دفن ہونے کے بعد کیا کوئی زندہ رہ سکتا ہے ؟ اور اگر کوئی زندہ رہ سکتا ہے تو مجھے کہا گیا کہ کاظمی صاحب آپ کو دس گھنٹے کے لئے قبر میں دفن کردیتے ہیں اگر آپ دس گھنٹے کے بعد زندہ نکل آئے تو ہم مان لیں گے کہ نبی بھی قبر میں زندہ ہے اگر آپ دس گھنٹے کے لئے زندہ نہیں رہ سکتے تو چودہ سو سال سے نبی ا اپنی قبر میں کیسے زندہ ہیں؟ یہ ایک ڈاکٹر کا اعتراض تھا۔
اعتراض کا جواب
اس ڈاکٹر کی دکان کے باہر ایک حاملہ اونٹنی کھڑی تھی۔ میں نے کہا، اس اونٹنی کے پیٹ میں بچہ دس ماہ تک زندہ رہا ہے۔ اب اس کا پیٹ خالی ہوا ہے۔ اے ڈاکٹر صاحب! اگر تمہیں اس اونٹنی کے پیٹ میں دس گھنٹے کے لئے رکھ دیاجائے تو کیا آپ زندہ رہ سکیں گے؟ اس نے کہا، نہیں کیونکہ وہ اور نظام ہے تو میں نے کہا تو یہ بھی اور نظام ہے۔ اگر دس مہینے تک اللہ تعالیٰ  اس بچہ کو ماں کے پیٹ میں زندہ رکھ سکتا ہے تو کی اللہ تعالیٰ  اس بات سے عاجز ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو اپنی قبروں میں زندہ رکھے (نعوذ باللہ) اگر اللہ تعالیٰ  کی قدرت اس بات سے عاجز ہے تو حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں کیسے زندہ رکھا؟ جو ش مچھلی کے پیٹ میں اپنے نبی کو زندہ رکھ سکتا ہے وہ انبیاء علیہم السلام کو اپنی قبروں میں بھی زندہ رکھ سکتا ہے۔
ایک اور اعتراض
مجھے یہ کہا گیا ہے کہ تم لوگوں نے انبیاء علیہم السلام کو قبروں میں زندہ درگور کردیا ہے۔
اعتراض کا جواب
میں نے کہا، ارے بڑے افسوس کا مقام ہے۔ انبیاء علیہم السلام پر موت کا قانون طاری ہوا، اس لئے کہ عبدو معبود کا فرق واضح ہوجائے کیونکہ لوگ نبیوں کو خدا اور خدا کا بیٹا سمجھتے رہے۔ حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کابیٹا ماننے والوں کو پتا چل جائے کہ نبی خدا نہیں ہوسکتا اور نہ خدا کا بیٹا۔ کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اللہ تعالیٰ  پر ایک آن کے لئے بھی موت کا قانون طاری ہو اور یہ موت کا قانون انبیاء علیہم السلام  پر اس لئے طاری ہوا کہ عبدو معبود کا فرق واضح ہوجائے اور الوہیت کی نفی ہوجائے اور یہ موت کا قانون عیسٰی علیہ السلام پر جو آسمان میں زندہ جلوہ افروز ہیں طاری ہوگا۔
عن عبداللّٰہ ابن عمر وقال قال رسول اللّٰہ ا ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فتیزوج ویولدلہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت ویدفن عند فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبرو احدبین ابی بکر وعمر (۱)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم زمین کی طرف نازل ہوں گے پس شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال رہ کر وفات پائیں گے وہ میرے ساتھ میری قبر میں دفن کئے جائیں گے پس میں اور عیسیٰ ابن مریم دونوں ایک ہی قبر سے ابوبکر اور عمر کے درمیان اٹھیں گے۔
تو میں عرض کررہا تھا کہ قانونِ موت ہر ایک کے لئے مقرر ہے انبیاء علیہم السلام بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں تاکہ عبدو معبود کے درمیان امتیاز ہوجائے اور شرک کی جڑیں اور بنیادیں ختم ہوجائیں۔ انبیاء علیہم السلام پر موت کا قانون طاری ہوا اور قانون موت کے طاری ہونے کے بعد ان نفوس قدسیہ کو ان کی قبور میں دفن کیاگیا۔ یہ دفن ہونا، قانون موت کے طاری ہونے کا نتیجہ تھا اور قانون موت کے طاری ہونے کے احکام میں سے ایک حکم تھا، جس پر عمل کیاگیا ہاں یہ سوال تم تب کر سکتے تھے جب ہم یہ کہتے کہ نبی پر کوئی موت کا قانون طاری نہیں ہوا، نبی پر موت کا قانون طاری ہوا مگر پھر کیا ہوا؟

؎ انبیاء کو بھی اجل آنی ہے مگر ایسی کہ فقظ آنی ہے
پھر اسی آن کے بعد ان کی حیات مثل سابق وہی جسمانی ہے

اللہ تعالیٰ  قبض روح اور قانون موت کے طاری ہونے کے بعد انبیاء علیہم السلام کو حیات عطا فرماتاہے۔ جو مکمل اور اعلیٰ ہوتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ قبر میں کوئی اسباب حیات نہیں ہیں یعنی وہاں نہ ہوا ہے اور نہ غذا تو میں کہتا ہوں کہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں کیسے زندہ رہے؟ وہاں بھی تو اسباب حیات نہیں تھے اگر حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہ سکتے ہیں تو انبیاء علیہم السلام بھی اپنی قبور میں زندہ رہ سکتے ہیں اور پھر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اسی دنیاوی بدن کے ساتھ زندہ ہیں اور وہاں زمینی اسباب حیات نہیں ہیں تو معلوم ہوا کہ جس عالم میں خدا حیات دیتا ہے اسی عالم کے اسباب حیات بھی پیدا کردیتا ہے اور برزخ میں انبیاء علیہم السلام کی حیات بالکل حقیقی اور بلکہ جسمانی بھی ہوتی ہے اور یہ میں نہیں کہتا اے زبان نبوت آپ پر کروڑوں سلام حضورﷺ  نے فرمایا
رأیت موسیٰ قائم یصلی فی قبرہ (۱)
معراج کی رات کثیب الاحمر کے قریب میں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنا حیات حقیقی اور جسمانی کی دلیل ہے اور یہ دیکھنے والا اور فرمانے والا کون ہے؟ ہماری آنکھ غلط دیکھ سکتی ہے اور ہماری زبان پر غلط الفاظ جاری ہوسکتے ہیں مگر زبان رسالت اللہ اکبر کبھی غلط نہیں ہوسکتی اس لئے میرے آقا ﷺ نے دیکھا
رأیت موسیٰ موسیٰ کو میں نے دیکھا قائم یصلی فی قبرہ (اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں۔)
یہ حضورﷺ  نے خود دیکھا اور خود ہی اپنی زبان مبارک سے فرمایا اور جو لوگ زبان نبوت پر اعتماد نہیں رکھتے ان کا نبوت پر ایمان ہو سکتا ہے؟ اللہ اللہ مجھے وہ حدیث مبارک یاد آتی ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ حضورﷺ  کے صحابی، حضورﷺ  کی ہر مجلس کی ہر حدیث لکھ لیتے تھے۔ ایک دفعہ قریش مکہ نے کہا کہ اے عبداللہ بن عمروبن عاص تم حضورﷺ  کی ہر حدیث کیوں لکھ لیتے ہو؟ کیونکہ وہ تو بشر ہیں کبھی غصے میں یا بھول کر بات کہہ دیتے ہیں تو ہر بات لکھنے کے قابل نہیں ہوتی۔ لہٰذا ہر حدیث مت لکھا کرو تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ حضورﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے آقا ﷺ میرا حال تو یہ تھا
کنت اکتب کل شیء اسمعہ یا رسول اللّٰہ (۲)
یا رسول اللہ ﷺ اب تک میرا طرز عمل یہ رہا ہے کہ آپ ﷺ کی ہر مجلس کی ہر حدیث لکھ لیا کرتا تھا۔
قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے روکا
وقالوا اور انہوں نے کہا انہ بشر یتکلم فی الغضب والرضا کہ وہ تو بشر ہیں کبھی غصے میں بات کر جاتے ہیں اور کبھی راضی ہوکر۔ حضور اب میں کیا کروں؟ کیا میں آپ ﷺ کی ہر حدیث لکھ لیا کروں۔ تو حضورﷺ  نے فرمایا اکتب یا عبد اللّٰہ اے عبداللہ! میری ہر حدیث لکھ لیا کرو۔ کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا فوالذی نفسی بیدہ مایخرج منہ الاحق واشار الی فمہ (جس خدا کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے میں اس اللہ تعالیٰ  کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس دہن سے حق کے سوا کچھ نکلتا ہی نہیں)
اے زبان رسالت! تجھ پر کروڑوں سلام ہوں۔ تو میرے آقا ﷺ نے فرمایا
ان اللّٰہ حرم علی الارض ان تا کل اجساد الانبیاء فنبی اللّٰہ حَیٌّ یرزق
زمین پر حرام ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے اللہ کا نبی اپنی قبر میں زندہ ہوتا ہے اور اس کو رزق دیا جاتا ہے۔ (۱)
میرے آقا ﷺ تو تمام انبیاء علیہم السلام کے سردار ہیں آپ ﷺ زندہ ہیں۔ اگر آپ ﷺ زندہ نہ ہوں تو ہدایت کا منصب ختم ہوجائے اور ہدایت کا سلسلہ جاری نہ رہے۔ شیطان جو گمراہ کرنے پر لگا ہوا ہے وہ تو زندہ ہے اور وہ اپنا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور جن کو ہدایت کا منصب دیکر بھیجا گیا ہے وہ موت کی نذر ہوجائیں اور ان کی ہدایت کا عمل جاری نہ رہے تو عقل سلیم اس بات کو کیسے تسلیم کرے؟ تو جو بات عقل سلیم کے خلاف ہو اور نقل کے بھی خلاف ہو قرآن و حدیث کے بھی خلاف ہو ہم اس کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں؟
تزکیۂ نفوس سرکار کا ایک عظیم منصب ہے
عزیزان محترم! میں آپ کو بتادوں کہ سرکار ﷺ کا ایک عظیم منصب قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے قرآن کریم نے کہا کہ
یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ (آل عمران: ۱۶۴)
جو تلاوت کرتا ہے ان پر اس کی آیتیں اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔
یعنی میرے محبوب کا یہ منصب ہے کہ ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ  کی آیتیں تلاوت فرماکر ان کو پاک کرے اور جب تک باطن پاک نہ ہو نہ ظاہری گناہ چھوٹتا ہے اور نہ باطنی۔ انسان کا باطن پاک ہو تو تب گناہوں سے پاک ہوسکتا ہے جب تک باطن پاک نہ ہو بات نہیں بنتی بلاشبہ اللہ تعالیٰ  ہی پاک فرماتا ہے لیکن یہ پاک کرنے کا منصب اللہ تعالیٰ  نے اپنے محبوب ا کوعطا فرمایا ہے اور قرآن کریم نے اعلان فرمایا
یُزَکِّیْھِمْ ایمان والو! رسول تم کو پاک کرتا ہے۔ یہاں ایک بات قابل غور یہ ہے کہ جب کوئی پاک کرنے والا پاک ہونے والے سے دور ہو تو کبھی نہ وہ پاک کرسکتا ہے اور نہ کوئی پاک ہوسکتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اگر میرا کپڑا ناپاک ہوجائے تو اسے پانی پاک کرے گا اور اگر پانی دور ہو اور آپ ناپاک کپڑے کو برسوں پانی کے سامنے دور لے کر کھڑے رہیں تو کپڑا کبھی پاک نہیں ہوگا۔ ہمارے باطن کو پاک کرنے والے محمد ﷺ ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مصطفیٰﷺ  وہاں ہوں اور ہم یہاں دور رہ کر پاک ہوجائیں۔ دور رہ کر پاک نہیں رہ سکتے تو اس لئے مصطفیٰﷺ  ہمارے قریب ہیں۔ قرآن کریم نے کہا
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْ مِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ۔ (الاحزاب: ۶)
ایمان والو! میں نے رسول ﷺ کو اس لئے بھیجا ہے کہ وہ تمہیں پاک کردیں۔ آپ ﷺ پاک جبھی کرسکتے ہیں اور تم بھی پاک جبھی ہوسکتے ہو جب آپ ﷺ تمہارے قریب ہوں اور تم بھی ان کے قریب ہو۔ میں نے ان کوتمہارے اتنا قریب بنا کر بھیجا ہے کہ تمہاری جانیں بھی تم سے دور ہوسکتی ہیں مگر میرا محبوب ﷺتم سے دور نہیں ہوسکتا۔
عزیزان محترم! یہ تو ممکن ہے کہ ہم مصطفیٰﷺ  سے دور ہوں لیکن مصطفیٰﷺ  ہم سے دور نہیں ہیں۔ میں آپ سے پوچھتاہوں کہ دن کا وقت ہو اور آپ شامیانے لگا کر شامیانے کے نیچے بیٹھے ہوئے ہوں تو آفتاب کی دھوپ آپ تک نہیں پہنچے گی تو کیا اب آفتاب کی دھوپ آپ سے دور ہوگی؟ ہرگز نہیں بلکہ آپ نے شامیانہ لگا کر اپنے آپ کو آفتاب کی روشنی سے دور کرلیا اور خود روشنی سے دور ہوگئے اگر آپ شامیانہ ہٹا دیں تو سورج کی دھوپ آپ تک پہنچ جائے گی اسی طرح میرے آقا ﷺ ہم تک پہنچے ہوئے ہیں مگر ہم نے معصیت کا حجاب ڈال کر اپنے آپ کو مصطفیٰﷺ  سے دور کیا ہوا ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم معصیت کے حجاب کو چاک کردیں اور ہم اس دوری کے پردے کو پھاڑ دیں اور اپنے دل میں حضورﷺ  کی محبت اور عشق کمال درجے کا پیدا کرلیں میں نہیں کہتا خودحضورﷺ  نے فرمایا
اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ
اور تم محبت پیدا کرلو ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو دور نہیں۔ بلکہ تم ہم سے محبت نہ کرکے دور ہوگئے ہو۔
دعوتِ اسلامی کی ذمہ داری
لہٰذا دعوت اسلامی کی تحریک کا مقصد یہ ہے کہ حضورﷺ  کی محبت کی بنیادوں پر نیک کاموں کی تلقین کی جائے اور جہاں محبت کا نام بھی نہ ہو ادب و احترام کا تصور بھی نہ ہو وہاں نیک کاموں کی طرف بلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب تک عشق رسول ﷺ نہ ہوہمارے دلوں میں حضورﷺ  کا ادب حضورﷺ  کا احترام، حضورﷺ  کی عظمت و تعظیم نہ ہوگی ہماری نیکی، نیکی نہ ہوگی۔ حضورﷺ  کی محبت کی بنیاد پر عبادات کی تلقین کرنا، لوگوں کو گناہوں سے روکنا، دین کی بنیادوں کو استوار کرنا اور دین قبول کرنا دین کے رنگ میں رنگ جانا یہ اس دعوت اسلامی کی تحریک کا مقصد ہے۔
عزیزان محترم! اور یہ ایک عظیم مقصد ہے کیونکہ آپ کے کانوں میں نمازوں کی تلقین کی آواز آئے گی مگر عشق رسول ﷺ کی بھنک کان میں نہیں پڑے گی۔ اسلام کے احکام کی آوازیں آپ کے کانوں میں پڑیں گی مگر آداب تعظیم مصطفیٰﷺ  سے کان ناآشنا ہوں گے۔ اس لئے ہم اس دعوت عمل، دعوت صلواۃ، دعوت ذکر اور دعوت فکر کو اہمیت نہیں دیتے کہ جو حضورﷺ  کی محبت و عشق کے بغیر ہو۔ میرا ایمان ہے کہ میں نماز اس لئے پڑھتا ہوں کہ میرے آقاﷺ  کی ادا ہے میں نے کچھ سنت پر عمل کیا اس لئے کیا کہ یہ میرے آقاﷺ  کی نوارانی ادائیں ہیں۔ اگر حضورﷺ  کی محبت اور عشق نہ ہوتو میری نماز بے کار ہے۔
اگر آپ نماز پر نظر ڈالیں تو آپ کو قیام، رکوع، سجود اور قعود نظر آئے گا ۔ قیام میں آدمی(الف) کی صورت میں دکھائی دیتا ہے اور رکوع میں(ح) کی شکل، سجدہ میں(م) اور التحیات میں(د) کی شکل میں نظر آتا ہے اگر ان کو ملالیں تو نمازی لفظاحمد کی تصویر نظر آتا ہے گویا نمازی لفظ احمد کے رنگ میں رنگا ہوا نظر آتا ہے اور جب تک آدمی کا حضورﷺ  سے یہ تعلق یہ نیت اور یہ لگائو نہ ہوتو فقط ارکان اسلام سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
عزیزان محترم! میں آپ حضرات کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ دعوت اسلامی کی دعوت پر اس قدر لوگ جمع ہیں یہ غالباً پہلا سالانہ اجتماع ہے۔ لوگ بڑے بڑے جلسے منعقد کرتے ہیں، اشتہار لگاتے ہیں، پمفلٹ شائع کرتے ہیں، دوسرے شہروں میں دعوت نامے بھیجے جاتے ہیں، مگر یہاں دعوت ناموں کے بغیر اتنا بڑا اجتماع موجود ہے یہ کیا ہے؟ یہ دعوت اسلامی کی ایک وہ کشش ہے جو ہر مسلمان کو کھینچ کر لائی ہے۔ آج تو یہ اجتماع میرے سامنے ہے۔ آئندہ سال اس سے دو گنا تین گنا آئندہ سے آئندہ سال اس سے چوگنا اور آٹھ گنا ہوگا۔ ان شاء اللہ وہ وقت آئے گا کہ یہ دعوت اسلامی جو عشق مصطفیٰﷺ  کی بنیادوں پر سامنے آئی ہے ملک گیر ثابت ہوگی اور ملک سے باہر ان شاء اللہ عالمگیر ثابت ہوگی مگر شرط یہ ہے کہ آپ حضرات اس پر استواری کے ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ اپنی تحریک میں مضبوط رہیں۔ میں مولانا الیاس قادری کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ ان کی جدوجہد کامیاب ہوئی۔ ان شاء اللہ کامیاب رہے گی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ  ان کی قوت عمل کو اور زیادہ مستحکم فرمائے اور ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم دعوت اسلامی کو عام کرنے میں آگے آگے بڑھیں اور پیش پیش رہیں اللہ تعالیٰ  ہمیں ان بدعقیدہ لوگوں سے بچائے جو فقط نماز کا نقشہ دکھاتے ہیں مگر دل حُب رسول ﷺ سے خالی ہیں۔
عزیزان محترم!میں ان دعائیہ کلمات پر ہی اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں اور پھر آپ سے بار بار یہی عرض کروں گا رسول کریم ﷺ کی سنت کریمہ کو اختیار کیجئے حضورﷺ  کے عشق و محبت کی بنیادوں پر عبادات کی عمارت قائم کیجئے اگر آپ کی عبادت کی بنیاد محبت رسول ﷺ نہیں ہے تو گویا وہ عمارت ہوا پر قائم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہماری دنیا اور ہمارا دین عشق مصطفیٰﷺ  پر قائم ہے یہی ایک حقیقت ہے کہ ایمان کی جان، ایمان کی روح اور ایمان کی حقیقت صرف اور صرف عشق مصطفیٰﷺ  ہے اسی عشق مصطفیٰﷺ  کو لے کر اٹھو اور دعوت اسلام کی لے کر عام کردو۔ اللہ تعالیٰ  تمہارا حامی و مددگار ہوگا۔

وما علینا الا البلاغ
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج