انسان اور تخلیق کائنات

حضرات محترم! میں نے ایک آیت کریمہ آپ حضرات کے سامنے تلاوت کی ہے۔ اس کو موضوعِ سخن بنانا اور اس پر کلام کرنا میرے لئے ممکن نہیں اور نہ ہی اتنا وقت ہے البتہ حضرت وقار الملت و الدین مولانا وقار الدین اور حضرت محترم شوکت میاں کی فرمائش کے پیش نظر چند کلمات عرض کروں گا۔
حضرات محترم! اللہ تعالیٰ  نے انسان کو اپنی خلقت اور صفت کا وہ شاہکار بنایا کہ پوری کائنات کی لطیف حقیقتوں کو اس میں سمیٹ کر رکھ دیا۔ ایک عالم خلق ہے اور ایک عالم امر۔ ایک عالم تحت اور ایک عالم فوق ہے یایوں کہتے ہیں کہ ایک عالم جسمانیات ہے اور ایک عالم روحانیت۔ اللہ تعالیٰ  نے عالم جسمانیات کی تمام حقیقتوں کو سمیٹا اور انسان کے جسم میں رکھ دیا اور عالم بالا کی تمام حقیقتوں کو سمیٹا اور انسان کی روح میں رکھ دیا اور فرمایا
سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقّ
اب اللہ تعالیٰ  نے اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ تمام آیات اور نشانیاں جو آفاق عالم میں پھیلی ہوئی ہیں وہ خدا کی معرفت اور قدرت کی دلیلیں ہیں۔ ان سب کو اجمالی طورپر انسان میں جمع فرما دیا اور کہا کہ اے انسان! اگر تو میری معرفت کی تفصیلی نشانیاں دیکھنا چاہتا ہے تو اپنے اندر دیکھ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کا جسم عناصر سے مرکب ہے جو حواس خمسہ پر مشتمل ہے اور ان کی تمام حقیقتیں انسان کے اندر موجود ہیں یعنی انسان کا جسم تمام جواہر و اعراض و موالید اور حقائق جسمانیات کا حامل ہے اور تمام آفاقی عالم کی حقیقتوں کو انسان کی روح میں رکھدیا ہے اور روح کو جسم کے اندر ڈال کر بتا دیا کہ اے انسان! ہم نے تیرے اندر عالم خلق اور عالم امر کو رکھ دیا اور انسان فقط حقائق کائنات کا مجموعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ  کے دلائل معرفت کا بھی مجسمہ ہے اور خدا نے جوہر معرفت انسان میں رکھ کر فرمایا
فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ (الروم: ۳۰)
اے لوگو! اپنے اوپر لازم کرلو اللہ کی بنائی ہوئی سرشت، دین اسلام کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی سرشت میں کچھ ردوبدل نہیں ہوسکتا۔
انسان کا فطری دین اسلام اور اللہ کی معرفت اس کی روح ہے
اللہ تعالیٰ  نے انسان کی ساکھ، انسان خلقت، انسان کی فطرت کی بنیاد اپنی معرفت اور اپنی محبت کو قرار دیا ہے اور یہی دین اسلام کی روح ہے۔ اس لئے فطرت کی تفسیر دین اسلام سے کی گئی ہے۔ تمام مفسرین نے متفقہ طورپر یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ  نے فطرت کے اندر اسلام کو رکھ دیا ہے یعنی اپنی معرفت اور محبت نہ ہو تو انسان کب خدا کے سامنے جھکے گا ؟ اور اسلام اسی جھکنے کا نام ہے اسلام گردن نہادن بطاعت طاعت میں گردن جھکا نا اسلام ہے اور اس کا جوہر معرفت اور محبت خداوندی ہے جو ہر انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ  نے رکھ دیا ہے۔ اس لئے ہر پیدا ہونے والا، اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے زبان نبوت نے فرمایا
کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھود انہ او ینصرانہ او یمجسانہ (۱)
ہر بچہ اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے ماں باپ اسے یہودی بنالیں یا نصرانی یا مجوسی۔
یعنی اسلام ہمارا پیدائشی دین ہے اور اس کی حقیقت خدا کی معرفت اور محبت ہے اور وہ ہماری فطرت میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالم ارواح میں جب اللہ   نے تمام ارواح بنی آدم کو مخاطب فرما کر فرمایا
اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کیا میں تمہارا رب نہیں۔ سب روحوں نے کہا بَلٰی کیوں نہیں۔ ضرور تو ہمارا رب ہے۔ سب روحوں نے روح پاک محمدی کے نعرہ بَلٰی پر بالترتیب تمام انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین، مومنین، اغواث، اقطاب، ابدال، نجبا، نقبا کے بعد تمام فاسقین، فاجرین، کافرین، مشرکین ا ور منافقین نے بَلٰی کہا۔ کیوں نہیں ضرور تو ہمارا رب ہے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ تھی۔
اللہ تعالیٰ  نے اس وقت اپنی معرفت اور اپنی محبت کا جوہر ہر روح کے اندر رکھ دیا تھا وہ روحیں جب اس دنیا میں آئیں تو ہر روح نے اس عالم میں آکر اس رب کو تلاش کیا تو کسی نے اجرام فلکی ا ور آفتاب و مہتاب کو رب کہا اور کسی نے نباتا ت و جمادات کو رب کہا۔ گویا انسان نے مظاہر کائنات کو رب مانا۔ لیکن یہ غلطی ایک حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے مگر یہ دلیل ہے کہ وہ کسی رب کی تلاش میں ضرور لگے ہوئے ہیں۔ اگر رب کی تلاش نہ ہوتی تو وہ اجرام فلکی، آفتاب و مہتاب، نباتات و جمادات اور اس دھر کو موثر حقیقی نہ کہتا۔ یہ تو گویا ایسا ہے جیسے مجھے کسی دوست کے گھر کی تلاش ہو اور میں لوگوں سے پوچھتا پھروں کہ میرے دوست کا گھر کہاں ہے؟ مگر میں تلاش کرتے کرتے دشمن کے گھر پہنچ جاتا ہوں اور اس کو دوست سمجھ لیتا ہوں ۔ یہ میری اپنی غلطی ہے کہ کسی صحیح جاننے والے سے صحیح رہنمائی حاصل نہیں کی مگر کسی کو دوست قرار دینا یہ دلیل ہے کہ مجھے کسی دوست کی تلاش ضرور ہے۔ مظاہر کائنات کو رب کہنے والوں نے جو رب کہا یہ دلیل ہے کہ انہیں کسی رب کی تلاش ضرور تھی مگر جب تلاش کا ذریعہ غلط ہو تو مقصود ہاتھ نہیں آتا۔ کیونکہ تلاش کی صحیح رہنمائی صحیح ذریعے سے ہوتی ہے دیکھنے کی چیزوں کو آنکھ سے دیکھا جائے گا سننے کی چیزوں کو کان کی قوت سے تلاش کیا جائے گا چکھنے کی چیزوں کو زبان کی قوت ذائقہ سے تلاش کیا جائے گا مگر لوگوں نے رب کی تلاش کا ذریعہ غلط اپنایا کسی نے عقل کو کسی نے حواس کو رب کی تلاش کا ذریعہ بنایا اور سب ناکام ہوگئے کیونکہ عقل اور حواس محدود ہیں اور رب لا محدود۔ اے لوگو! اگر تم خدا کو ڈھونڈنا چاہتے ہو تو خدا کو خدا کے نور میں ڈھونڈو اور وہ خدا کا نور کیا ہے؟ وہ نور، نورِ نبوت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ (المائدہ: ۱۱۱)
تمہارے پاس نور آیا اور روشن کتاب آئی۔
وہ نور کون ہے؟ وہ نور ، جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تمام انبیاء و رسل، نبی اور رسول ہیں۔ مگر یہ نبوت و رسالت بواسطہ رسالت محمدی ہے ہر نبی کے کمالات کی اصل جناب محمدﷺ ہیں۔ اس لئے سرکار مدینہ ﷺ فرماتے ہیں
انا اولھم خلقاً و آخرہم بعثا
میں پیدا ہونے میں سب سے پہلے ہوں اور تشریف لانے میں سب کے بعد ہوں۔
اور قاعدہ ہے جو اول ہوتا ہے آخر وہی ہوتا ہے ۔ جیسے آم کے پودے کے لئے آم کی گٹھلی پہلے زمین میں بوتے ہیں۔ نرم و نازک پودے کے بعد وہ بڑھتا بڑھتا ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ اس پر پتے پھول اور پھر پھل آتے ہیں۔ پھل آنے کے بعد اور کوئی چیز نہیں آتی۔ وہ (پھل) ایک آخری چیز ہے۔ آم کا پھل پختہ ہونے کے بعد کھایا جاتا ہے اور آخر میں جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ وہی گٹھلی ہے جو اول تھی۔ تو گویا جو چیز اول ہوتی ہے وہی آخر ہوتی ہے اور پھر یاد رکھو جب کوئی دائرہ شروع کیاجاتا ہے تو جس ابتدائی نکتہ سے دائرہ کی ابتدا کی جاتی ہے وہی دائرہ کا انتہائی نکتہ ہوتا ہے اور درمیان میں کوئی جگہ چھوڑ دی جائے تو دائرہ مکمل نہیں ہوگا اس لئے میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دائرہ نبوت کا ابتدائی نکتہ بھی آپ ہیں اور آخری نکتہ بھی آپ ہیں۔ لہٰذا میرے آقاﷺ خاتم النبیین ہیں اور جب میرے آقاﷺ اول اور آخر ہیں اور دائرہ ان سے شروع ہوا اور ان پر ہی ختم ہوا تو دائرہ میں جو کچھ ہے ان کے دامن میں ہے۔ اس لئے کسی نے خوب کہا

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

حسن مصطفی اور مردانِ عرب
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا! ان کے حسن کا کون انکار کرسکتا ہے مگر میرے آقاﷺ کے حسن کا کون مقابلہ کرسکتا ہے؟ حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کے بارے میں قرآن کریم میں واقعہ ہے کہ جب حضرت زلیخا کو طعنہ زنی کی گئی تو حضرت زلیخا نے مصر کی عورتوں کو بلایا اور ہر ایک کے ہاتھ میں پھل اور چُھری دے کر دید جمال یوسف علیہ السلام کو کہا تو قرآن کریم کہتا ہے
قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاہٰذَا بَشَرًا اِنْ ہٰذَا اِلاَّ مَلَکٌ کَرِیْمٌ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ عورتیں اگر میرے محبوب ﷺ کی پیشانی کی چمک دیکھ لیتیں تو دلوں کو کاٹ لیتیں۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے خوب فرمایا

حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں
اور سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردانِ عرب

صنعت تقابل ذرا ملاحظہ فرمایئے
ادھر یوسف علیہ السلام ہیں                   ادھر حضرت محمدﷺ ہیں
ادھر حسن ہے                                     ادھر ناز ہے
ادھر عورتیں ہیں                                 ادھر مرد ہیں
ادھر مصر ہے                                     ادھر عرب ہے
وہاں انگلیاں ہیں                                  یہاں سر ہیں

وہاں تو حسن دیکھ کر انگلیاں کٹیں اور یہاں نام سن کر سر کٹ گئے۔ انگلیاں کٹیں مصر کی عورتوں کی اور سر کٹے عرب کے مردوں کے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خوب فرمایا، میرے آقاﷺ تمام انبیاء ورسل کے کمالات کی اصل ہیں۔ اس لئے فرمایا
کنت نبیا وآدم بین الروح والجسد
ہم نبی تھے جب آدم جسم اور روح کے درمیان تھے۔
لوگ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کو ضعیف کہنے والا خود ضعیف ہے۔ حدیث ضعیف نہیں ہے تمہارا عقیدہ ضعیف ہے امام ترمذی رضی اللہ عنہ اس حدیث کو روایت کرکے جامع ترمذی میں فرماتے ہیں کہ
ھٰذا حدیث حسن یہ حدیث حسن ہے۔
اہل علم کو معلوم ہے کہ امام ترمذی رضی اللہ عنہ کی اصطلاحیں بہت سی ہیں۔ ہٰذا حدیث حسن صحیح ۔ ہٰذا حدیث صحیح، غریب۔ لیکن جب وہ کسی حدیث کو ہٰذا حدیث حسن کہیں تو وہ حدیث حدیث حسن سے زیادہ قوی ہوتی ہے۔
حضرات محترم! میں عرض کر رہا تھا کہ ہر نبی کی نبوت کی اصل میرے نبی کی نبوت ہے لہٰذا وہ نور نبوت جس کی روشنی میں خدا کو تلاش کرنا ہے وہ وہی نور ہے کہ
قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ۔ (المائدہ: ۱۵)
بے شک جلوہ گر ہوا تمہارے پاس اللہ   تعالیٰ کی طرف سے نور اور روشن کتاب۔
خدا کی قسم! ہر نبی نور نبوت لے کر آیا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء علیہم السلام کے انوار کا مرکزی نور، نور محمدی ہے اور حضورﷺ کے نور کو خدا نے اپنا نور قرار دیا ہے۔ اس لئے تمہیں یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے نور میں محسوسات کو، عقل کے نور میں معقولات کو اور خدا کے نور میں خدا کو ڈھونڈا جاتا ہے اور جو لوگ خدا کے نور سے بے تعلق رہے وہ خدا کو تلاش کرنے میں ناکام رہے اور پھر نور کے ساتھ کتاب مبین کاذکر بھی آیا ہے۔ کتاب مبین یعنی قرآن کریم بھی نور ہے اور میرے آقاﷺ بھی نور ہیں۔
نورِ مصطفی کے بغیر قرآن مجید سمجھ نہیں آتا
آپ کہیں گے کہ ایک نور کافی تھا دو نوروںکا ذکر کیوں آیا؟
میں کہوں گا کہ دو نوروں کے بغیر تیسری چیز کا منکشف ہونا ممکن ہی نہیں۔ دیکھئے یہاں نور ہی نور نظر آرہا ہے تمام بلب روشن ہیں اگر کسی میں آنکھ کا نور نہ ہو تو اسے کچھ دکھائی نہیں دیکھا اور اگر آنکھ کا نور ہو اور یہاں اندھیرا ہوجائے تو بھی کچھ نظر نہیں آئیگا تو ضرورت کس بات کی ہے؟ اس لئے میں کہتا ہوں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے نور کو دل میں رکھ لو اور قرآن کریم کے نور کو سامنے رکھ لو اور اگر خالی سامنے خدا کا نور ہو اور اندر کا نور نہ ہو تو کچھ نظر نہیں آئیگا اور یہی وجہ ہے جنہوں نے قرآن کریم کا نور آگے رکھا مگر دل میں مصطفی ﷺ کا نور نہیں تھا بھٹک گئے کیالکھنا تھا اور کیا لکھ گئے تو جس دل میں مصطفی ﷺ کا نور نہیں ہے اسے پتہ نہیں چلے گا کہ قرآن کریم میں کیا ہے؟
حضرات محترم!یوں تو میرے آقاﷺ کا نور مبارک کائنات کے ذرہ ذرہ میں موجود ہے اور کائنات کے ہر ذرہ پہ حاوی ہے اور کائنات کا کوئی ذرہ نور مصطفی ﷺ کے بغیر نہیں ہے المختصر یہ کہ میرے آقاﷺ کو اللہ تعالیٰ  نے اپنی معرفت کا سب سے بڑا وسیلہ بناکر بھیجا اور ہمیں بتایا کہ اے میرے بندو! تم ہر چیز کو تلاش کرتے ہو اس میں جو اس کا ذریعہ ہے اور مجھے تلاش کرنا ہے تو میرے محبوب ﷺ کے ذریعے کرو اور نور کے بغیر کوئی چیز ملتی نہیں ہے۔ خدا کے نور کے بغیر خدا ملتا نہیں ہے اور جس دل میں مصطفی ﷺ جلوہ گر ہیں خدا کی قسم اس کا دل خدا کے نور کی روشنی سے جلوہ گر ہے اور وہ خدا کی معرفت حاصل کرنے والا ہے اور وہ خدا کے قریب ہے اور بس میرے کہنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ جناب محمد مصطفیٰﷺ  کے بغیر خدا کی بارگاہ ہاتھ نہیں آتی اور نہ خدا کا قرب نصیب ہوتا ہے۔
اطاعت رسول کی برکتیں
اور آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ میرے آقاﷺ کی جتنی مقدس ادائیں ہیں اور جو ان کے ارشادات و فرمودات اور کردار و گفتار ہیں یہ سب میرے آقاﷺ کی نورانی شعاعیں ہیں اور ہم نے ان نورانی شعاعوں میں اپنے آپ کو رنگنا ہے اور ان ارشادات و فرامین پر عمل کرنا ہے اور اخلاص کے ساتھ اپنے آقاﷺ کا فرمانبردار ہونا ہے اگر ہم اخلاص کے ساتھ اپنے آقاﷺ کے فرمانبردار ہوگئے تو یقین کیجئے کہ کائنات ہماری فرمانبردار ہوجائے گی۔ قرآن کریم بار بار کہتا ہے
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے ہمیں اپنی اطاعت کے لئے پیدا کیا اور کائنات کو ہماری خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔
کرامات اولیا کا فلسفہ
بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب کائنات ہمارے لئے ہے تو وہ ہماری فرمانبردار کیوں نہیں؟ آگ، پانی، آفتاب کی گرمی ا ور بجلی وغیرہ۔ آگ کا کام جلانا ہے، پانی کا کام ڈبونا ہے، گرمی کاکام جھلسانا ہے اور بجلی کاکام جان سے ماردینا ہے یہ کیوں؟
میں اتنی بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم خدا کی بات مان لیں تو کائنات ہماری بات مان لے گی اور یقین کیجئے کہ حضرات اولیاء کرام کے تصرفات ، ان کی کرامات، ان کے برکات کا فلسفہ ہی یہی تھا کہ اولیاء اللہ نے خدا کی بات کو نہیں ٹالا اور کائنات نے اولیاء اللہ کی بات کو نہیں ٹالا۔ وہ خدا کے فرمانبردار ہیں اور کائنات ان کی فرمانبردار ہے۔ آپ کو یاد نہیں مولانا سعدی رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا؟ فرماتے ہیں

یکے دیدم از عرصہ رودبار
کہ پیش آمدم برپلنگے سوار

میں نے دیکھا رودبار کے میدان میں ایک آنے والے بزرگ چیتے پر سوار ہوکے آرہے ہیں۔

چناں ہول از آنحال برمن نشست
کہ ترسید نم پائے رفتن بہ بست

میرا حال یہ ہوا کہ خوف کے مارے میں چل نہ سکا۔
تبسم کناں دست برلب گرفت
کہ سعدی مدار ایں چہ دیدی شگفت

وہ بزرگ مسکرائے جو چیتے پر سوار تھے فرمایا سعدی تعجب کیا کرتا ہے۔
تو ہم گردن از حکم داور مپیچ
کہ گردن نہ پیچد ز حکم تو ہیچ

تو خدا کا حکم نہ ٹال۔ کائنات تیرا حکم نہ ٹالے گی۔ (۱)


جو خدا کا ہوجائے کائنات اس کی ہوجاتی ہے
اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم خدا کے ہوجائیں تو کائنات ہماری ہوجائے۔ میں نہیں کہتا خدائے قدوس خود کہتا ہے۔ حدیث قدسی ہے، اے زبان نبوت تجھ پر کروڑوں درود و سلام
مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ
جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اس کا ہوجاتا ہے۔
اور پھر خدا کی ساری کائنات اس کی ہوجاتی ہے اس لئے ہماری تمام مصیبتوں کا حل اور ہماری تمام مشکلوں کا حل اسی میں ہے کہ ہم سرکار ﷺ کے ہوجائیں اور جوسرکارﷺ کا ہوگیا وہ خدا کا ہوگا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ (الفتح: ۱۰)
جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
آج اگر رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدسہ کے ساتھ ہمیں وہ نسبت پیدا ہوجائے جو ہونی چاہیے۔ یہی روح کی غذا ہے یہی روح کا تقاضا ہے اور اسی کو روح تلاش کر رہی ہے اور اسی جذبہ کی بناء پر روح نے
بَلٰی کا نعرہ لگایا اور اسی جذبہ کو لے کر روح نے خدا کو ڈھونڈا۔ مصطفیٰﷺ  کے نور کی روشنی جس کو نصیب ہوگئی اس نے خدا کو پالیا اور اس کے بغیر کوئی دائرہ کار ہی نہیں ہے۔ میں اللہ تعالیٰ  سے دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ ہمارے اس جذبہ کو بیدا ر کردے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین
 

پچھلا صفحہ                              اگلا صفحہ

ہوم پیج