توحید

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

میں ہمیشہ دستور کے مطابق مدرسہ انوار العلوم کے سالانہ اجلاس کی پہلی تقریر کیا کرتا تھا لیکن اس سال میں پہلی تقریر نہیں کرسکا۔ مدرسہ انوار العلوم کے کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن پر تبصرہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ مدرسہ انوار العلوم ہماری قدیمی دینی درس گاہ ہے جس کا پہلا سالانہ اجلاس1944ء میں ہوا تھا اور اب اس کا چالیسواں سالانہ اجلاس شروع ہوچکا ہے۔
 الحمد للّٰہ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہزاروں طلباء دورہ حدیث کی نعمت سے ملتان و بیرون ملتان حتی کی بیرون ملک سے اس ایک چھوٹے سے مدرسہ سے مستفید ہوچکے ہیں اور بہت سے قاری اور حفاظ بھی۔
 میں ایک اجنبی تھا یہ آپ حضرات کی نوازش ہے کہ آپ نے مجھے اپنا لیا ورنہ میں ایک ادنیٰ قسم کا انسان کہ جس میں نہ کوئی خوبی ہے اور نہ کوئی کمال۔ البتہ اللہ  تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے دین کی خدمت اور مدد کے لئے مجھ جیسے ادنیٰ اور عاجز انسان کو منتخب فرمالیا اگر اللہ  تعالیٰ میری اس ادنیٰ خدمت کو قبول کرلے تو یہ میرے لیے دونوں جہاں کی خوش نصیبی اور ابدی سعادت ہے۔ بہر حال میں تو کچھ بھی نہیں ہوں یہ سب کچھ آپ حضرات کی کوششوں کا نتیجہ ہے میں اللہ  تعالیٰ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ ! یہ سنی مسلمان تیرے دین کی خدمت کرنے والے ہیں تو ان کو زندہ سلامت رکھ۔ (آمین)
 چند گزارشات
 عزیزان محترم! میں چند وہ گزارشات پیش کروں گا جن کا پیش کرنا نہایت ضروری ہے وہ یہ ہیں کہ یہ جلسہ خالصتاً مذہبی، تبلیغی و دینی ہے اور اس کا تعلق نہ کبھی تفرقہ سے رہا ہے اور نہ سیاست سے۔ آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان 14 اگست 1947ء میں قائم ہوا۔
 28/29 مارچ 1948ء میں، مَیں نے جمعیت علماء پاکستان کی بنیاد مدرسہ انوار العلوم میں رکھی۔ خالصتاً مذہبی، تبلیغی اور دینی بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے پشاور سے لے کرکراچی تک کے زعماء ملت کو بلایا اور خود اس میں کافی عرصہ تک کام کرتا رہا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد سنیوں کو سیاست میں دخل دینے کی ضرورت پیش آئی اور پھر سیاسی بصیرت رکھے والے سنیوں نے محسوس کیا کہ اگر ہم سیاست میں نہ آئے تو ہمارا باقی کچھ بھی نہ رہے گا۔ جب کہ میرا ذہن سیاسی نہیں تھا اس لئے میں عملاً جمعیت علماء پاکستان سے علیحدہ ہوگیا مگر میرے تمام جذبات اور توجہات جمعیت علماء پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں کہ اللہ  تعالیٰ جمعیت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیاب رکھے۔(آمین)
 دین نہیں تو کچھ بھی نہیں
 اور میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم دین کے علم بردار ہیں دین ہمارا سب کچھ ہے دین نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لئے ہم نے سب کام دین ہی کی بنیادوں پر کیے ہیں۔ ہم کبھی ایسی سیاست کو نہیں اپنائیں گے جو ہمیں دین سے الگ کردے۔
 اور الحمد للّٰہ! جمعیت علماء پاکستان بے دینی کی راہوں پر نہیں جارہی بلکہ وہ دین کی راہوں پر جارہی ہے۔ اس لئے میری تمام ہمدردیاں جمعیت علماء پاکستان کے ساتھ ہیں اگرچہ میں اس کا نہ عملاً رکن ہوں اور نہ اس میں شامل ہوں۔ اب تو وہ کالعدم بھی ہوگئی ہے۔ (۱)
 شبہ کا ازالہ
 آپ شاید یہ کہیں کہ مذہب اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں۔ تو میں یہ عرض کروں گا کہ جہاں تک سیاست کا تعلق مذہب کے ساتھ ہے، میں اس کو سیاست نہیں سمجھتا بلکہ میں اس کو مذہب سمجھتا ہوں بہرحال آج میں ان شاء اللہ ایسے مسائل عرض کروں گا کہ جن کا تعلق ملکی امور سے نہیں ہوگا بلکہ مذہبی امور سے ہوگا کیوں کہ یہ جلسہ خالصتاً مذہبی، دینی اور تبلیغی ہے۔
 حقیقت توحید
 الحمدللّٰہ! ہم مسلمان ہیں اور کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں کہ
لَـآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ (نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے، محمد اللہ کے سچے رسول ہیں) اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک حضرت محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں)
 یہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے اور ہم اس کو اپنے دین کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ لیکن آج کل تو توحید کو ایسے انداز میں پیش کیاجاتا ہے کہ جیسے توحید ان پر نازل ہوئی ہے۔ الحمد للّٰہ! ہم توحید پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس اعتبار سے نہیں کہ توحید ہم پر نازل ہوئی بلکہ اس اعتبار سے کہ وہ توحید جو ہمارے آقا پرنازل ہوئی ہو اور حضورﷺ  نے ہمیں سکھائی اور سمجھائی ہے۔
 ہمیں حبیب ﷺلرحمن والی توحید چاہئے۔ شیطان والی نہیں
 ورنہ شیطان توحید کا عقیدہ رکھتا تھا اور رکھتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس نے لوگوں کو شرک، کفر اور نفاق کا مسئلہ دیا لیکن خودموحد رہا اور اس کے موحد ہونے کا یہ عالم رہا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ تعظیمی تک بھی نہ کیا ہمیں ایسی توحید نہیں چاہیے۔ ہمیں ایسی توحید چاہیے جو اللہ  تعالیٰ کے حبیب نے اللہ  تعالیٰ کے حکم سے ہمیں تعلیم فرمائی۔ اللہ  تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ سے فرماتا ہے
 قُلْ ہُوَاللّٰہُ اَحَدٌ
 اے حبیب !تو کہہ دے کہ میں ازل سے ایک ہوں اور ابد تک ایک رہوں گا۔
 اور یہی ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم حضورﷺ  کی سکھائی اور بتائی ہوئی توحید تو مانتے اور جانتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ توحید کے معنی اور مسائل ہمیںسرکار ہی سے یہی ملے ہیں اور جب تک زبان نبوت پر ہمارا اعتماد نہ ہوتو توحید کا پورا اعتبار نہیں ہوسکتا۔ کیوں؟
 حضورﷺ  کو اپنے جیسا بشر کہنے والے کا توحید پر بھی ایمان نہیں
 اس لیے کہ اگر حضورﷺ  کو ہم اپنے جیسا بشر مانیں تو جو توحید حضورﷺ  نے ہمیں بتائی ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہوسکتی اس لیے کہ ہم جیسے بشر کی زبان پر حق و ناحق جاری ہوسکتا ہے۔
 مگر مجھے وہ ایک حدیث بار بار یاد آتی ہے جس کے راویوں پر نہ کسی نے کلام کیا ہے اور نہ ہوسکتا ہے اور اس حدیث کے صحیح اور صادق ہونے میں کسی کو شک و شبہ بھی نہیں ہے وہ حدیث یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ  کی ہر حدیث لکھ لیا کرتا تھا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے آکر کہا کہ
 انہ بشر یتکلم فی الغضب والرضا (۱)
 وہ تو بشر ہیں کبھی غصے میں بات کرتے ہیں اور کبھی راضی ہوکر۔
 بشر کی ہر بات واجب التعمیل نہیں ہوتی تم ہر حدیث کیوں لکھتے ہو؟حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضورﷺ  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگیا اور عرض کیا
 یارسول اللہ جو حدیث بھی آپ کی ہوتی تھی میں لکھ لیا کرتا تھا
فنہتنی قریش قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے روک دیا وقالوا اور انہوں نے کہا وہ تو بشر ہیں کبھی غصے میں بات کرتے ہیں اور کبھی راضی ہو کر تم ہر حدیث کیوں لکھتے ہو؟
 مطلب یہ تھا کہ انسان اور بشر جب غصے میں بات کرتا ہے تو وہ قابل اعتبار نہیں ہوتی ہاں البتہ اگر وہ سوچ سمجھ کر بات کرے تو وہ قابل اعتبار ہوسکتی ہے۔ بشریت کا یہ عیب ہے کہ جب کوئی غصے میں بات کرے تو وہ قابل اعتبار نہیں ہوسکتی۔
 حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے بارگاہ اقدس میں عرض کیا میرے آقا اب میں کیا کروں؟ کیا میں آپ کی ہر حدیث لکھا کروں یا نہ لکھا کروں تو حضورﷺ  نے کیا جواب دیا؟ حضورﷺ  نے یہ نہیں فرمایا کہ میں بشر نہیں ہوں سرکار نے فرمایا
 اکتب یا عبداللّٰہ
 اے عبداللہ میری ہر حدیث لکھ لیا کر۔
 کیوں؟ اس لئے کہ
 فوالذی نفسی بیدہ مایخرج منہ الاحق واشار الی فمہ
 فرمایا! جس ذات پاک کے قبضہ قدرت میں میری جان پاک ہے میں اس اللہ  کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس دہن پاک پر حق کے سوا کچھ جاری نہیں ہوتا۔
 ہم حضورﷺ  کی بشریت کے منکر نہیں لیکن
 جو لوگ ہم پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ تم رسول کی بشریت کے منکر ہو یہ بالکل غلط ہے کیوں کہ ہم رسول کی بشریت کے منکر نہیں ہیں لیکن ہم اس بشریت کے قائل بھی نہیں جس بشریت کے وہ قائل ہیں کیونکہ وہ حضورسیدعالم کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں اس لئے کہ بشر سے تو غلطیاں اور خطائیں ہوتی ہیں اور بشر کی زبان پر حق و ناحق جاری ہوتا ہے اگر حضورﷺ  ہم جیسے بشر ہوں تو حضورﷺ  کی زبان پر حق و ناحق جاری ہوسکتا ہے لیکن حضورﷺ  فرماتے ہیں ۔ میں تو بشر ہوں، مگر میری زبان پر حق کے سوا کچھ جاری ہی نہیں ہوتا۔ تو پتہ چلا کہ حق کے ساتھ ناحق کا جاری ہونا عیب ہے مگر حضورﷺ  ایسی بشریت کے عیب سے پاک ہیں۔
 خدا کی قسم! حضورﷺ  کی بشریت کا انکار نہیں کرتے مگر ہم حضورﷺ  کی بشریت کا عیب بھی ثابت نہیں کرتے اگر ہم حضورﷺ  کی بشریت کا عیب بھی ثابت کریں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ حضورﷺ  کی زبان اقدس سے حق نا حق جاری ہوسکتا ہے اور اگر یہ مان لیں تو توحید کے صحیح ہونے کی ضمانت کہاں سے لائیں گے؟ پھر تو یہ کہنا ہوگا کہ اللہ  تعالیٰ نے ان پر توحید نازل نہیں فرمائی اور نہ ان سے کلام کیا ہے اور نہ ہی جبرائیل امین علیہ السلام کو ان کے پاس بھیجا ہے جب کہ اللہ  تعالیٰ نے بلاواسطہ اپنے نبیوں اور رسولوں سے کلام فرمایا ہے ہمیں جو کچھ بھی ملا ہے وہ زبان نبوت سے ملا ہے۔ اگر زبان نبوت پر اعتماد ہی نہ ہوتو توحید کبھی بھی قابل اعتبار نہیں ہوسکتی۔
 موحد ہم ہیں
 ہم پر اعتراض ہوتا ہے کہ تم توحید پرست نہیں ہو لیکن الحمدللّٰہ! ہم توحید پرست ہیں اور دل کے یقین کے ساتھ اللہ  تعالیٰ کو اس کی صفات میں
وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک مانتے ہیں۔ اگر وہ یہ کہیں کہ اللہ  تعالیٰ کی صفتوں کو رسولوں، نبیوں، شہیدوں اور ولیوں پر کیوں ثابت کرتے ہو؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ  تعالیٰ کی کوئی صفت غیر اللہ  کے لئے ثابت نہیں کی۔ اللہ  تعالیٰ کا کوئی بندہ اللہ  تعالیٰ کا شریک نہیں ہوتا۔ اللہ  تعالیٰ ہر شرک سے پاک ہے۔ مگر یاد رکھو اللہ  تعالیٰ کا نہ کوئی بندہ اللہ ہوتا ہے اور نہ اللہ  تعالیٰ کا شریک۔ مگر وہ مظہر اللہ یعنی اللہ کا مظہر ہوتا ہے۔ اللہ  تعالیٰ اپنے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کو شریک نہیں بناتا۔ بلکہ اپنے کمالات الوہیت اور صفات الوہیت کا آئینہ بنا دیتا ہے ان آئینوں میں کمالات الوہیت کے جلوے نظر آتے ہیں بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ پوری کائنات میں اللہ  تعالیٰ کے حسن کے سوا کسی کا حسن ہے ہی نہیں اگر میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کو خدا کے حسن کا آئینہ کہہ دوں تو مجھ پر کفر کا فتویٰ؟ مگر حقائق کائنات میں جہاں جہاں بھی حسن ہے وہ اللہ  تعالیٰ ہی کا تو حسن ہے ارے کہیں علم اور کہیں عمل ، کہیں نکہت ہو اور کہیں نزاکت ، کہیں اچھائی ہو اور کہیں کوئی خوبی، عالم کے ذرے ذرے میں جہاں جہاں بھی جو حسن پایا جاتا ہے وہ اللہ  تعالیٰ ہی کا حسن ہے، چاند ، سورج اور ستاروں میں کس نے روشنی پیدا کی اور آسمان کو خوبصورت ستاروں سے کس نے مزین کیا؟ اور زمین کو خوبصورت طرح طرح کے پودوں سے کس نے زینت بخشی اور پھر ان خوب صورت پودوں میں خوشبو اور طرح طرح کے رنگ کس نے بھرے اور ان تمام اشیاء میں خوبصورتی اور حسن حقیقتاً کس کا ہے؟ حسن و جمال، جمادات اور نباتات میں کس کا حسن ہے؟ ان کے اندر جو حسن ہے صرف اورصرف میرے اللہ  ہی کا ہے اور تعریف کس کی ہے؟ سب تعریفیں اللہ  تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو پرورش فرمانے والا ہے سب جہانوں کا۔ تم جس چیز کی بھی حمد کرو گے تو جب حسن اللہ  تعالیٰ ہی کا ہے تو تعریف بھی اللہ  تعالیٰ ہی کی ہے اور اگر تم کسی عالم دین کے علم کی۔ عابد کی عبادت کی۔زاہد کے زہد کی تعریف کرو گے تو وہ حمد و تعریف بھی اللہ  تعالیٰ کے لئے ہوگی۔ یہی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کے معنی ہیں گویا جو حسن جہاں جہاں ہے وہ اللہ  تعالیٰ ہی کا ہے۔
 انبیاء و اولیاء حسن الوہیت کا آئینہ ہیں
 میرے دوستو اور عزیزو! جب جمادات و نباتات، زمین و آسمان، چرند و پرند اور حیوان و انسان حتی کہ کائنات کے ذرہ ذرہ میں اللہ  تعالیٰ ہی کا حسن اگر ہوسکتا ہے اور یہ سب چیزیں اللہ  تعالیٰ کے حسن کا آئینہ ہوسکتی ہیں؟ تو اللہ  تعالیٰ کے نبیوں اور ولیوں نے کیا قصور کیا ہے کہ وہ اللہ  تعالیٰ کے حسن کا آئینہ نہیں ہوسکتے۔ اگر انبیاء کرام اور اولیاء عظام کے اندر خدا کا حسن الوہیت ، جمال الوہیت اور صفات الوہیت کے انوار کا پایاجانا شرک ہے تو ان چیزوں کے اندر اللہ  تعالیٰ کے حسن کے سوا کس کا حسن ہے؟ اور اگران اشیاء میں اللہ  تعالیٰ ہی کا حسن ہے تو یہاں بھی شرک ہوگا اگر شرک یہاں نہیں تو وہاں بھی نہیں۔
 اب وہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ  تعالیٰ کی کچھ صفات خاص ہیں۔ ان کو اگر کسی مخلوق میں مانو گے تو مشرک بن جائو گے اور جو صفات خاصہ نہیں ہیں ان کو اگر مخلوق میں مانو گے تو مشرک نہیں بنو گے تو میں کہتا ہوں کہ یہ بات تمہاری طرف سے قطعاً غلط ہے۔ تم نے دین کے اندر ایسی بات کہہ دی ہے جو دین سے بالکل نہیں ہے۔ قرآن کریم نے کب کہا کہ یہ میری صفات خاصہ ہیں اگر غیر اللہ کے لئے ثابت کرو گے تو مشرک بن جائو گے اور فلاں صفات میری مخلوق کے لئے ثابت کرو گے تو مشرک نہیں بنو گے۔ ارے اللہ  تعالیٰ اپنی ہر صفت میں
وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک ہے اگر وہ رازق ہونے میں علیم ہونے میں خالق ہونے میں لاشریک ہے تو وہ سمیع وبصیر اور رؤف رحیم ہونے میں بھی لا شریک ہے تو اس لئے اللہ  تعالیٰ کی صفت رافت اور صفت رحمت کا جلوہ اگر حضورﷺ  میں پایا جائے تو شرک نہیں ہے کیوں؟ اس لئے کہ اللہ  تعالیٰ خود فرماتا ہے
 عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ (توبۃ: ۱۲۸)
 ان پر گراں ہے تمہارا مشقت میں پڑنا، بہت چاہنے والے ہیں تمہاری بھلائی کو ایمان والوں پر نہایت مہربان بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔
 حالانکہ
رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ اللہ  تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مگر اللہ  تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کے غلاموں کو رُحَمَائُ بَیْنَھُمْ فرمایایعنی (آپس میں بڑے رحم دل ہیں) مصطفی کے غلاموں کی شان یہ ہے کہ وہ آپس میں بڑے رحیم ہیں اور اللہ  تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو رُحَمَائُ کا خطاب فرمایا توکیا رحمت خدا کی صفت نہیں ہے؟ اگر اللہ  تعالیٰ اپنے صفت علم غیب کا جلوہ کسی نبی کی ذات میں پیدا کر دے تو بھی شرک نہیں ہے۔ ہم ذاتی علم غیب کسی نبی میں ایک ساعت کے لئے بھی نہیں مانتے اور پھر اللہ  تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے فرمایا فَجْعَلْنٰـہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا (تو ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا) اور سمیع و بصیر اللہ  تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں تو جب عام انسان اللہ  تعالیٰ کی صفت سمیع و بصیر کا مظہر بنتا ہے تو شرک نہیں ہے۔ اگر اولیاء اللہ صفت سمیع و بصیر کا مظہر بن جائیں تو شرک ہے؟ ارے کائنات کے ہر ذرے میں اللہ  تعالیٰ کا حسن و جمال مانو گے تو یہ توحید ہوگی اور اگر اللہ  تعالیٰ کے سوا کسی اور کا حسن مانو گے تو یہ شرک ہوجائے گا۔ صفات کا مظہر ہونا شرک نہیں۔ اس لئے الحمد للّٰہ! ہم موحد ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ  تعالیٰ ہر صفت میں شرک سے پاک ہے ۔ خواہ وہ صفت عامہ ہو یا صفت خاصہ۔ وہ ہر صفت میں شرک سے پاک ہے۔ پاک ہے، پاک ہے۔ لیکن اللہ  تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہونا شرک نہیں ہے۔ ہاں البتہ جیسی مستقل صفت اللہ تعالیٰ کی ہے ویسی کسی میں ثابت کرنا شرک ہے۔ہمارے اندر سماع، بصر اور علم ہے یہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے مستقل نہیں ہے اس لئے انبیاء علیہم السلام کا علم غیب اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے مستقل نہیں ہے اگر صفت خلق اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو دی ہوئی ہے تو وہ بھی عطائی ہے مستقل نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے کہیں تمہیں کہیں فرشتوں کو اور کہیں رسولوں کو کریم فرمایا اور قرآن کریم نے اعلان فرما دیا ہے کہ اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ (وہ تو قول ہے رسول کریم کا) تو پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت کرم اور رحمت کا آئینہ اپنے رسولوں کو بنایا ہے جس کے اندر رحمت کا جذبہ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صفت رحمت کا مظہر ہے غرض یہ کہ حقائق کائنات میں جو حسن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حسن کا ظہور ہے مگر وہ خدا کے حسن کے جزوی جلوے ہیں اور انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام میں تو اللہ تعالیٰ کا حسن اتم ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے قوی اور کثیر جلوہ ہائے حسن کو انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کے اندر پیدا کردیا گویا انبیاء علیہم السلام اور اولیاء عظام مظہر اللہ ہیں۔
 اہل قبور اپنی قبروں میں زندہ ہیں
 دوسری گزارش جو عرض کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اہل قبور اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ہمارا سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں۔ اس لئے حضورﷺ  نے فرمایا، جب تم مسلمانوں کے قبور کے قریب سے گزرو تو اس طرح سلام کہو
السلام علیکم دار قوم مومنین واتاکم ماتوعدون غدامؤ جلون وانا انشاء اللّٰہ بکم لاحقون سلامتی ہو تم پر اے قوم مومنین اور تمہارے پاس وہ چیز آئی جس کا تم سے وعدہ کیاگیا تھا اور تم کو مہلت دی گئی ایک مدت معین تک اور ہم بھی اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تمہارے پاس آنے والے ہیں
 امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اگر قبروں والے موجود نہیں ہیں اور وہ سن نہیں رہے تو حضورﷺ  نے تمہیں ویسے ہی کہہ دیا کہ تم وہاں جائو اور سلام کہو اور وہ تمہیں جواب دیں گے اور تم نہیں سنو گے اور تمہارا نہ سننا اور بات ہے مگر صاحب قبور تمہارا سلام سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں۔ اس لئے اے میرے غلامو! جب تم قبروں پر جائو تو وہاں جاکر کہو
السلام علیکم اہل الدیار من المؤمنین والمسلمین وانا ان شاء اللّٰہ بکم لاحقون ویرحم اللّٰہ المستقدمین والمستاخرین نسال اللّٰہ لنا ولکم العافیۃ (۱) اے گھر والو! مومنو اور مسلمانو تم پر سلامتی ہو اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آکر ملیں گے اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے اور بعد والوں پر رحم فرمائے اور ہم اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے اور اپنے لیے عافیت کی دعا مانگتے ہیں ابن کثیر نے اپنے تفسیر میں کہا کہ حضورﷺ  کا یہ تعلیم اور تلقین فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ اپنی قبروں میں زندہ موجود ہیں ہماری آواز سنتے ہیں اور ہمارے سلاموں کا جواب بھی دیتے ہیں۔ یہ بات علامہ احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ نے نہیں کہی بلکہ علامہ ابن کثیر نے کہی ہے تو ایک مرتبہ میں نے کہیں عید الاضحی کے موقع پر یہ حوالہ بیان کردیا تو لوگ میرے پیچھے پڑ گئے اور کہنے لگے یہ ہو ہی نہیں سکتا میں نے کہا مدرسہ انوار العلوم میں آجائو۔ اگر میں حوالہ نہ دکھا سکوں تو پھر مجھے جھوٹا کہنا چنانچہ ان کے کئی معتبر آدمی میرے پاس آگئے میں اس وقت ان کا نام نہیں لیتا۔ نام لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں حوالہ دیکھائیں میں نے کہا اگر حوالہ دکھا دوں تو کیا ہوگا؟ تو بس آپ حوالہ دکھائیں میں نے کہا اگر میں حوالہ دکھا دوں تو کیا آپ مان لیں گے؟ تو انہوں نے ماننے کا وعدہ نہیں کیا۔ میں نے پھر بھی حوالہ دکھا دیا جب میں نے حوالہ دکھادیا تو وہ حیران و پریشان ہوگئے۔
 عزیزان محترم! امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اگر وہ نہیں سنتے اور جواب نہیں دیتے اور قبر والے وہاں ہیں ہی نہیں تو حضورﷺ  نے ہمیں کیسے حکم دے دیا؟ تو پتہ چلا کہ وہ قبروں میں موجود ہیں۔ سنتے بھی ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں۔ یہ تو میں نے فقط حدیثوں کا حوالہ دیا ہے اور ابن کثیر کا حوالہ میں نے اس لیے دیا کہ ان سے لوگوں کے جذبات میں ٹھنڈ پڑ جائے گی ورنہ وہ اور حدیث ہے اور ان پر حدیثوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہاں البتہ ان کے کسی بزرگ کا نام آجائے تو پھر ان کو ذرہ سوچنے کا موقع مل جاتا ہے۔
 عقیدہ اہلسنّت کی وضاحت حدیث قدسی سے
 ہم پر یہ ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفت کو نبیوں اور ولیوں میں مانتے ہیں۔ ہم ہرگز اللہ تعالیٰ کی صفات کو کسی نبی اور ولی میں نہیں مانتے ہاں خدا کی صفات کا جلوہ ان میں ضرورپایا جاتا ہے اور اس کے لئے میں بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھتا ہوں تاکہ اہلسنّت کا عقیدہ واضح ہوجائے یہ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
 
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول ان اللّٰہ قال من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشیء احب الی مما افترضت علیہ ولا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احببتہ فاذا احببتہ فکنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ ویدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھاوان سالنی لاعطینہ ولئن استعاذنی لا عیذنہ وماترددت عن شیء انا فاعلہ ترددی عن نفس المؤمن یکرہ الموت وانا اکرہ مسائتـہ (۱)
 میں نے پوری حدیث اس لیے پڑھی ہے کہ اگر کوئی لکھنا چاہے تو لکھ لے اور یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں یہ بخاری شریف کی حدیث ہے بخاری شریف کی اپنی ایک ہیبت ہے اس لئے بعض لوگوں نے کہا اگر بخاری شریف کی ہیبت ہم پر طاری نہ ہوتی تو ہم اس حدیث کا انکار کردیتے جو ہمیں برداشت نہیں ہوتی مگر صحیح بخاری کی ہیبت نے ہمیں انکار کرنے کی جرأت نہیں دی۔
 بہر حال یہ حدیث سن لو اور خوب یاد کرلو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کی زبان اقدس پر فرماتا ہے کہ
 من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب
 جس نے میرے ولی سے عداوت کی میرا اس سے اعلان جنگ ہے۔
 وما تقرب الی عبدی بشی ء احب الی مما افترضت علیہ
 اور جن چیزوں کے ذریعے بندہ میرے قریب ہوتا ہے ان میں سب سے زیادہ اہم چیز میرے نزدیک فرائض ہیں۔
 یعنی سب سے زیادہ محبوب ترین میری قربت کا ذریعہ یہ ہے کہ میرا بندہ میرے فرائض بجالاتا رہے اگر میرا بندہ جسماً، روحاً، سراً، ظاہراً، باطناً اور حقیقتاً ہر طریقہ کے علیٰ وجہ الاتم میرے فرائض کو پورا کرتا رہے تو میرے پاس اس کو وہ قرب حاصل ہوگا جو سب سے اعلیٰ درجے کا ہوگا آگے فرماتا ہے
 
ولا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل
 میرا بندہ نوافل کے ذریعے بھی میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔
 
حتّٰی احببتہ فاذا احببتہ
 یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں جب میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں۔
 تو کیا ہوتا ہے؟ ہوتا یہ ہے کہ
 
فکنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ ویدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا
 کہ میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور میں اس کے پائوں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔
 اور ایک روایت میں یوں آتا ہے کہ میں اپنے بندے کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ (یہ قرب نوافل فنافی الصفا صفات کا مرتبہ ہے) پھر فرماتا ہے۔
 وان سالنی لاعطینہ
 اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں۔
 ولئن استعاذنی لا عیذنہ
 اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگ کر کسی بری چیز سے بچنا چاہے تو میں اسے ضرور بچاتا ہوں۔
 اور فرمایا
 وماترددت عن شی ء انا فاعلہ
 میں نے کبھی کسی بات میں اس قدر تردد نہیں کیا۔
 تردد کے معنی اگرچہ تحیر کے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تحیر سے پاک ہے۔ اس کے لازم معنی مراد ہیں کیونکہ جب کسی بات میں تردد یا تحیر ہو تو پھر لازم معنی پر تعبیر ہوجاتی ہے۔ یہاں تحیر کے معنی لازم مراد ہیں کیونکہ تردد کے معنی تاخیر دائمی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ملزوم بول کر لازم مرادلیا ہے اور فرمایا ہے
 وماترددت عن شی ء انا فاعلہ ترددی عن نفس المؤمن یکرہ الموت
 میں کسی بات میں وہ تاخیر نہیں کرتا جو مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں۔
 کیا مقصد ؟ مقصد یہ کہ جب تک میرا بندہ موت پر راضی نہیں ہوتا قضائے معلق کے اعتبار سے اس کی عمر اور آگے بڑھا دیتا ہوں جب تک وہ میرا بندہ موت کو ناپسند کرتا رہتا ہے میں تقدیر معلق کے اعتبار سے اس کی عمر کو آگے بڑھاتا رہتا ہوں کیونکہ میں اپنے بندے کو غمگین نہیں دیکھنا چاہتا اور جس بات کو مومن پسند نہ کرے میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ موت سے فرار تو نہیں مرنا تو ضرور ہے لہٰذا
 وانا اکرہ مسا ء تہ ولا بدلہ منہ
 میں مومن کے لئے ایسا منظر پیش کروں گا کہ اس کا دل اس دنیا سے جانے کے لئے بے تاب ہوجائے گااور پھر اس کی روح قبض کرلی جائے گی ۔
 تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ یہ معاملہ فرماتا ہے۔ عزیزان محترم! اللہ تعالیٰ کے کسی بندے کا سمع اور بصر ہونا یہ کیا ہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کسی اپنے بندے کے اندر سما جاتا ہے یا کیا بندہ خدا بن جاتا ہے؟ ہمارا یہ ایمان ہے اور نہ عقیدہ۔ یہ بندہ نہ خدا بنتا ہے اور نہ خدا بندے کے اندر سمایا ہے۔ خدا ، خدا ہے اور بندہ، بندہ ہے۔ مگر بات کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت سمع کی تجلی اس کی صفت سمع پر چھا گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت کا حکم اس کی صفت قدرت میں داخل ہوگیا یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ ہاں، اس کی صفات کا جلوہ اس کے اندر پیدا ہوگیا(گویا) یہ بندہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا آئینہ ہوگیا۔ یہ خدا نہیں ہوگا بلکہ مظہر خدا ہوگا اگر یہ شرک ہے تو پھر کائنات کے ذرے ذرے سے شرک ٹپکتا ہے کیونکہ کائنات کے ہر ذرے سے خدا ہی کا حسن ٹپکتا ہے اگر پھول کی ایک پتی سے خدا کا حسن چمکے تو یہ شرک نہیں ہے اور اگر ولی کے اندر خدا کا حسن چمکے تو وہ کیسے شرک ہوگا؟
 عزیزان محترم! اس لیے میں عرض کر رہا تھا کہ وہ خواہ مخواہ ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ تم مشرک ہوگئے۔ فلاں ہوگئے، یہ ہوگئے وہ ہوگئے اور پھر یہ کہنا کہ تم غیر اللہ کو مختار مانتے ہو۔ ارے بے شک ہم غیر اللہ کو مختار مانتے ہیں لیکن اس درجہ میں کہ جس درجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اختیار دیا ہے حدیث میں کیا ہے؟ حدیث میں یہ ہے
 ان سالنی لاعطینہ
 اگر میرا ولی مجھ سے مانگے تو میں اس کو ضرور دوں گا۔
 تو ایمان سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو مانگنے کا اختیار دیا کہ نہیں دیا؟ اگر اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو مانگنے کا اختیار نہ دے تو کوئی کیسے مانگ سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندے کومانگنے کا اختیار دیا ہے تبھی تو وہ مانگتا ہے، مانگنے کا اختیار اپنے مقرب بندے کو دیا مگر دینے کا اختیار اپنے پاس رکھا۔

ایک اعتراض کا جواب
آپ کہیں گے کہ جب دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے بندے کا تو کچھ نہ بنا ارے بے شک دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے مگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو دیکھا وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ اگر بندہ میرے دیئے ہوئے اختیار سے مانگ لے تو ہوگا کیا؟ ہوگا یہ کہ
ان سالنی لاعطینہ
میں اس کو ضرور دوں گا۔
تو اب اگر بندہ اپنے رب سے مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو دے گا کہ نہیں دے گا۔ بے شک دینا اس کا اختیار ہے مگر اس دینے کا جب وعدہ کرلیا اور وہ وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ لہٰذا جب کوئی ولی اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ سے کوئی ایسی چیز طلب کرے گا جس کا طلب کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے منافی نہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائے گا۔ دعا مانگنا اولیاء اللہ کا اختیار ہے اور دعا قبول کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے مگر جب خدا نے وعدہ کرلیا تو پھر یہ بتائو۔ تمہیں خدا کے وعدہ پر ایمان ہے کہ نہیں ہے۔ جب خدا نے وعدہ کرلیا کہ اگر تو نے مانگا تو میں ضرور دوں گا۔
وان سالنی لا عطینہ ل تاکید کا ہے اور ن ثقیلہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دو تاکیدیں فرمائیں ان دو تاکیدوں کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ صوفی تو انکار نہیں کرے گا مگر وہ تو ضرور انکار کریں گے اور تاکید انکار کی وجہ سے ہوتی ہے لہٰذا ان کے انکار کی وجہ سے دو تاکیدیں فرما دیں کہ اے انکار کرنے والو لا عطینہ کہ میں اسے ضرور دوں گا ضرور دوں گا۔ تم لاکھ انکار کرتے رہو میں تو ضرور دوں گا۔ تو پتہ چلا کہ ہم پر یہ شرک کا الزام بے بنیاد اور باطل ہے ہم اللہ تعالیٰ کو وَحْدَہٗ لَا شَرِیْک مانتے ہیں قُلْ ہُوَاللّٰہُ اَحَدُ پر ہمارا ایمان ہے مگر یہ تعلیم وہ جو بے داغ اور بے خطا زبانِ نبوت نے ہمیں تعلیم فرمائی۔ اس لئے ہم زبانِ نبوت کو بشریت کے ہر عیب سے بے عیب اور پاک سمجھتے ہیں۔ ہماری توحید یہ ہے کہ ہمارے آقا ﷺ یقینا بشر ہیں مگر بشریت کے ہر عیب سے پاک ہیں۔
مقام حیرت
مجھے حیرت ہے کہ یہ لوگ ان کے پیچھے نہیں پڑتے جو واقعی توحید کا انکار کرنے والے ہیں اور یہ لوگ ہمارے سر پر سوار ہیں کہ تم موحد نہیں تم مشرک ہو آپ کو علم ہے کہ کب سے ان دہریوں کا اعتراض لوگوں کے سامنے چکر کاٹ رہا ہے کہ اگر تمہارا خدا واقعی ہے تو وہ ہمارا مجرم ہے۔ اسے ہماری عدالت میں پیش کرو۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ امیر کا بھی خدا ہے اور غریب کا بھی، تندرست کا بھی خدا ہے اور بیمار کا بھی، وہ طاقت ور کا بھی خدا ہے اور کمزور کا بھی تو کیا وجہ ہے؟ کہ طاقت ور کو طاقت ور کردے اور کمزور کو کمزور کردے اور امیر جب چاہے غریب کو کچل کر رکھ دے اور اگر واقعی وہ سب کا مالک ہے تو کسی کو امیر اور کسی کو غریب کردینا عدل کے خلاف ہے اور جو عدل کے خلاف کرے وہ ظالم ہے اور جو ظالم ہے وہ مجرم ہے اور جو مجرم ہے اسے ہماری عدالت میں پیش کرو۔

وما علینا الا البلاغ
 

اگلا صفحہ

ہوم پیج