بارہواں اعتراض اور اسکا جواب
حضور کو معشوق کہنا جائز نہیں
٭ پھلواروی صاحب فرماتے ہیں حضور کو معشوق کہنا انتہائی بدتمیزی ہے پس جب حضورﷺ معشوق نہیں تو راحتہ العاشقین کس طرح ہوسکتے ہیں؟ انتہیٰ
٭ بجا فرمایا کوئی صاحب ہوش و حواس حضورﷺ کے حق میں یہ لفظ نہیں کہہ سکتا۔ اگر کہے گا تو یقیناً بد تمیز قرار پائے گا مگر صاحب درود تاج نے حضورﷺ کے حق میں یہ لفظ نہیں کہا۔
٭ اس مقام پر پھلواروی صاحب کا یہ کہنا کہ جب حضورﷺ معشوق نہیں تو
راحۃ العاشقین کیسے ہوسکتے ہیں؟ انتہائی مضحکہ خیز ہے حکم اور اطلاق کا فرق بھی پھلواروی صاحب نہیں سمجھ سکے۔ عشق کے معنی کمال محبت کے اعتبار سے اَلْعَاشِقِیْنَ کے معنی محبین کاملین ہیں جس کا مفادیہ ہے کہ حضورﷺ محبوب اکمل ہیں محبوب اکمل اپنے محب کامل کی راحت ہوتا ہے۔
٭ خلاصہ یہ ہے کہ درود تاج میں حضورﷺ کی ذات مقدسہ پر محبوب اکمل ہونے کا حکم ہے۔ لفظ معشوق کا اطلاق نہیں۔
٭ صاحب درودتاج نے حضورﷺ کو راحۃ العاشقین کہا ہے معشوق نہیں کہا پھلواروی صاحب کا ان پر یہ الزام کہ انہوں نے راحۃ العاشقین کہہ کر حضورﷺ کو معشوق کہہ دیا۔ اگر حضورﷺ معشوق نہیں تو راحۃ العاشقین کیسے ہوسکتے ہیں۔بالکل ایسا ہے جیسے شد کو
خَالِقُ کُلِّ شَیْیٍٔ کہنے والے پر یہ الزام لگا دیاجائے کہ معاذ اللہ اس نے شد کو خَالِقُ الْخَنَازِیْر کہہ کر شان الوہیت میں گستاخی کی ہے کیونکہ اگر شد خالق الخنازیر نہیں تو خالق کل شیٔ کیسے ہوسکتا ہے؟ جس طرح یہ الزام قطعاً غلط اور لغو ہے اسی طرح راحۃ العاشقین کہنے کی بنیاد پر مؤلف دروردتاج پر حضورﷺ کومعشوق کہنے کا الزام بھی غلط بیہودہ اور لایعنی ہے۔


رَاحَۃِ الَعَاشِقِیْنَ پر اعتراض کا خمیازہ
٭ اگر پھلواروی صاحب
رَاحَۃِ الْعَاشِقِیْنَ کے الفاظ سے یہ الزام لگاتے ہیں کہ درودتاج میں حضورﷺ کومعشوق کہا گیا ہے تو اپنے اوپر بھی اس الزام کو قبول کرلیں کہ انہوں نے ماں بہن اور بیٹی کو محبوبہ کہا ہے جبکہ ماں بہن اور بیٹی کو اس کے بیٹے بھائی اور باپ کی محبوبہ کہنا انتہائی معیوب ہے۔ ہم ابھی پھلواروی صاحب کا کلام نقل کر چکے ہیں کہ انسان کو اپنے والدین بھائی بہن سے دختر و فرزند سے کمال درجہ محبت ہوتی ہے ۔ پھلواروی نے یہی کہہ کر ماں بہن اور بیٹی کو محبوبہ کہدیا کیونکہ اگر وہ محبوبہ نہیں تو ان کے ساتھ کمال درجہ کی محبت کیسے ہوسکتی ہے؟
٭ اگر پھلواروی صاحب اپنے اوپر یہ الزام قبول کرنے کو تیار نہیں تو درودتاج کے مؤلف پر یہ الزام رکھنا سراسرناانصافی نہیں تو کیا ہے؟


تیرھواں اعتراض اور اسکا جواب
مَحْبُوْبِ رَبِّ الْمَشْرِقَیْنِ
٭ پھلواروی صاحب فرماتے ہیں کہ محبوب کا لفظ لغتہً تو غلط نہیں ہوسکتا لیکن حضورﷺ کیلئے یہ لفظ میری ناقص نگاہوں سے نہیں گزرا۔ صحابہ کرام
خَلِیْلِیْ یا حَبِیْبِیْ تو کہتے تھے لیکنمَحْبُوْبِی و َمَعْشُوْقِیْ کبھی نہ کہا۔ انتہیٰ کلامہٗ
٭ پھلواروی صاحب کے آخری جملے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حضورﷺ کومحبوب کہنا اور معشوق کہنا دونوں کا حکم ایک ہے لفظ معشوق کے متعلق تو ہم ابھی کہہ چکے ہیں کہ حضورﷺ کے حق میں یہ لفظ کہنا انتہائی بد تمیزی ہے بجز کسی بے حواس کے کوئی مسلمان حضورﷺ کو معشوق نہیں کہہ سکتا لیکن لفظ محبوب کو بھی اس کے ساتھ ملا دینا انتہائی جسارت ہے کیا پھلواروی صاحب نے یہ سمجھ لیا ہے کہ رسول اللہ کی ثناء میں کوئی ایسا لفظ جائز نہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نہ کہا ہو؟


عدم ورود دلیل عدم جواز نہیں
٭ اگر واقعی وہ یہ سمجھتے ہیں تو بہت بڑی غلطی میں مبتلا ہیں متقدمین و متاخرین علماء و صلحاء امت نے حضورﷺ کی مدح وثناء میں بے شمار ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں مثلاً
وَسِیْلَتِیْ مُحْسِنِ اَعْظَمْ اِمَامُ الْاَنْبِیَائِ جن پر آج تک کسی نے انکار نہیں کیا اور وہ بلاشبہ جائز ہیں ہاں! ایسا کوئی لفظ جو حضورﷺ کے شایان شان نہ ہوکسی کے نزدیک جائز نہیں نہ درورد تاج میں کوئی ایسا لفظ وارد ہوا۔
٭ پھلواروی صاحب کے اس آخری جملے سے کچھ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے محبوب ہونے کا تصور ان کیلئے معاذ اللہ سوہان روح ہے۔


چود ھواں اعتراض اور اسکا جواب
جَدِّالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ حسنین کریمین بلکہ جمیع امت مسلمہ باعث فخر
٭ پھلواروی صاحب فرماتے ہیںرسم دنیا کے مطابق چھوٹا اپنے بڑوں کیلئے باعث فخر ہوسکتا ہے لیکن صرف اس وقت جبکہ وہ مجموعی حیثیت سے یا کسی خاص امتیازی کارگزاری میں اپنے بزرگوں سے آگے نکل جائے یا کم ازکم ان کے برابر ہوجائے یا کسی ایسے وصف کا مالک ہوجائے جو اس کے بڑوں کو حاصل ہی نہ ہوا ہو۔ نواسہ رسول ہونا حضرات حسنین کریمین کیلئے باعث فخر ہوسکتا ہے لیکن حضورﷺ کیلئے حسنین کانانا ہونا قطعاً کوئی شرف ۔ مہاجرین و انصار کو چھوڑ کر کسی ایسے کو باعث فخر بنانا جو نہ مہاجر ہے نہ انصار۔ یقیناً ایک ایسی غالیانہ ذہنیت کا غماز ہے جس کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں (ملحضاً)
٭ پھلواروی صاحب نے رسم دنیا کا سہارا لے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ دین کے کسی گوشے میں انہیں پناہ نہیں ملی۔ ذرا دین کے میدان میں آئیے ہم آپ کو بتائیں گے کہ کسی کا باعث فخر ہونا ہرگز اس بات کو مستلزم نہیں کہ جس شخص کے باعث فخر کیاجائے وہ فخر کرنیوالے سے افضل یا اس کے برابر ہو۔ دیکھیئے حدیث میں واردہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو مخاطب فرماکر ارشاد فرمایا
اِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمْ الْاَنْبِیَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
ترجمہ٭ میں تمہارے باعث قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام پر فخر کروں گا۔(مسند احمدج۳ص۲۴۵ طبع بیروت)
٭ اور ترمذی شریف میں ہے
اِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمْ
ترجمہ٭ میں تمہارے باعث فخر کروں گا(ترمذی ج۱ص۳ طبع دہلی)
٭ اور ابو دائود میں ہے
فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمْ
ترجمہ٭ بیشک میں تمہارے سبب فخر کروں گا(ابودائود ج۱ص۲۸۰ طبع اصح المطابع کراچی)
٭ یہی الفاظ نسانی میں بھی ہیں(ج۲ ص۵۹ طبع دہلی) اور مسند احمد میں ایک دوسری جگہ وارد ہے
وَمُکَاثِرٌ بِکُمْ
ترجمہ٭ میں تمہاری وجہ سے فخر کروں گا۔(ے۳۵۱ج۴طبع بیروت)
٭ اور ابن ماجہ میں ہے
وَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمْ الْاُمَمَ
ترجمہ٭ اور بے شک میں تمہارے باعث دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔(ابن ماجہ ج۲ ص۲۹۱طبع المطابع کراچی)
٭ کتب احادیث میں روایات منقولہ بتفاوت یسیر متعدد مقامات پر مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً وارد ہیں جن کی دلالت قطعیہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضورﷺ کی امت حضورﷺ کیلئے باعث فخر ہے۔ حسنین کریمین حضورﷺ کی امت ہونے کے علاوہ حضورﷺ کے صحابی بھی ہیں۔ صرف صحابی نہیں بلکہ حضورﷺ کی اولاد امجاد اور اہل بیت اطہار ہونے کا شرف بھی انہیں حاصل ہے۔ جب حضورﷺ کی امت حضورﷺ کیلئے باعث فخر ہے تو حسنین کریمین حضورﷺ کیلئے بطریق اولی باعث فخر ہیں جبکہ امت کے کسی ایک فرد کا حضورﷺ سے افضل یا حضورﷺ کے برابر ہونا بھی ممکن نہیں بلکہ حضورﷺ مطلقاً افضل الخلق ہیں۔
٭ ثابت ہوا کہ حسنین کریمین کا حضورﷺ کیلئے باعث فخر ہونا ہرگز اس بات کو مستلزم نہیں کہ معاذ اللہ وہ حضورﷺ سے افضل یا حضورﷺ کے برابر ہوں۔ پھلواروی صاحب کی غلط فہمی یہ ہے کہ انہوں نے حسنین کریمین کا حضورﷺ کے لئے باعث فخر ہونا حضورﷺ سے ان کے افضل ہونے کو مستلزم سمجھ لیا اور یہ قطعاً غلط ہے۔ دیکھیئے حدیث شریف میں وارد ہے
اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُبَاھِیْ بِکُمُ الْمَلٰئِکَۃَ
ترجمہ٭ حضورﷺ نے فرمایا اے میرے صحابہ بیشک اللہ عزوجل تمہارے باعث ملائکہ پر فخر فرماتا ہے۔
٭ یہ حدیث مسلم شریف ج ۲ ص۳۴۶ طبع اصح المطابق کراچی اور مسند امام احمد ج۲ ص ۱۸۶ ۱۸۷طبع بیروت پر وارد ہے۔ نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ امت محمدیہ شد کیلئے بھی باعث فخر ہے کیا پھلواروی صاحب معاذ اللہ یہاں بھی اس استلزام کو تسلیم کریں گے؟(العیاذ باللہ) ذرا غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آئیگی کہ حضورﷺ کی امت پر شد کا فخر فرمانا شد ہی کی علوِ شان کی دلیل ہے کہ حق سبحانہ و تعالی نے امت محمدیہ کو یہ فضل و شرف عطا فرمایا کہ شد ان کے باعث ملائکہ پر فخر فرماتا ہے معلوم ہوا کہ حسنین کریمین اور حضورﷺ کی باقی امت کا حضورﷺ کیلئے باعث فخر ہونا حضورﷺ سے افضل ہونے کو مستلزم نہیں بلکہ خود حضورﷺ کی افضلیت کو مستلزم ہے کیونکہ ان حضرات کا حضورﷺ کیلئے باعث فخر ہونا حضورﷺ ہی کے فیض اور نسبت کی وجہ سے ہے اگر امت کی اضافت حضورﷺکیطرف نہ ہوتی یا حسنین کریمین کو حضورﷺ کا نواسہ ہونے کی نسبت حاصل نہ ہوتی اور وہ حضورﷺ کے فیض سے محروم ہوتے تو ان میں سے کوئی بھی حضورﷺ کیلئے باعث فخر نہ ہوسکتا تھا۔ جس سے ظاہر ہوا کہ درحقیقت یہ حضورﷺ ہی کی فضیلت ہے اور حضورﷺ کی ہر فضیلت شد کی عظمت شان کی دلیل ہے کہ اسی نے اپنے محبوب کو یہ فضیلت عطا فرمائی۔
٭ علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں
جِدِّالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنکے الفاظ محض بطور لقب اور تعریف استعمال ہوئے ہیں جیسے حضورﷺ کا قول مبارک اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ(صحیح بخاری ج۲ ص۶۱۷) طبع اصح المطالع کراچی۔ صحیح مسلم ج۲ ص ۱۰۰طبع اصح المطابع کراچی
٭
جِدِّالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنکے الفاظ ہوں یا اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِکے نوری کلمات حضورﷺ کیلئے حصول فضل و شرف کے معنی کا ان سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
٭ اس کے بعد آگے چل کر
جِدِّالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنکے الفاظ کو پھلواروی صاحب غالیانہ ذہنیت کا غماز قراردے رہے ہیں جبکہ حسنین کریمین کے تمام فضائل و مناقب کو نظر انداز کرکے ان کے مہاجر و انصار نہ ہونے کا ذکر جس انداز میں پھلواروی صاحب نے کیا ہے وہ خود اہل بیت اطہار کے حق میں ان کی متعصبانہ ذہنیت کی غمازی کررہا ہے۔ فیاللعجب
 

ہوم پیج