وَالْمَطْلُوْبُ مَقْصُوْدُہٗ کا مطلب
٭ جس عبارت کے معنی انہوں نے پوچھے ہیں وہ اپنے معنی میں بالکل واضح ہے کہ
قَابَ قَوْسَیْنِیعنی کمال قرب حضور کا مطلوب ہے اور مطلوب وہی چیز ہوتی ہے جو کسی کا مقصود ہو۔ حضور کا مقصود ایسا نہیں جسے حضور نے نہ پایا ہو بلکہ وہ پایا ہوا ہے۔ لہذامَوجُوْدُہٗکی ترکیب کو عجیب سی ترکیب کہنا عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔


ساتواں اعتراض اور اسکا جواب
اَنِیْسِ الْغَرِیْبِیْنَ
٭ پھلواروی صاحب نے
اَنِیْسِ الْغَرِیْبِیْنَ پر بھی اعتراض کیا ہے فرماتے ہیںکس عربی دان کو نہیں معلوم کہ غَرِیْبٌکی جمع غُرَبَائُہے نہ کہ غَرِیْبِیْن آگے خود ہی اس درود کے مصنف نے مُحِبِّ الْفُقَرَائِ والْغُرَبَائِ وَالْمَسَاکِیْنَلکھا ہے(انتہیٰ)
٭ یہ اعتراض بھی ان کی علمی کمزوری کا نتیجہ ہے انہوں نے اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کردیا کہ
فَعِیْلٌ کے ہم وزن جس صیغے کی جمع سالم نہیں آتی وہ وہی صیغہ ہے جو مفعول کے معنی میں ہو۔ جاربروی شرح شافیہ میں ہے۔ثُمَّ مُذَکَّرُھٰذٰا الْجَمْعِ لَا یُجْمَعُ بِالْوَاوِوَالنُّوْنِ فَرْقًا بَیْنَدٗ وَبَیْنَ فَعِیْلِ بِمَعْنٰی فَاعِلٍ کَکَرِیْمٍ یعنی فعل بمعنی مفعول کی جمع سالم نہیں آتی تاکہ فعل بمعنی مفعول اور فعل بمعنی فاعل کے درمیان امتیاز باقی رہے جیسے کَرِیْمٌ۔(انتہیٰ)(جاربردی ص ۹۸ طبع سیٹم پریس لاہور) یعنی کَرِیْمٌ چونکہ فاعل کے معنی میں ہے اس لئے یہ اس قانون کے ماتحت نہیں بلکہ اس کی جمع کَرِیْمُوْنَ آتی ہے جیسا کہ رضی شرح شافیہ میں ہے۔وَالَّذِیْ بِمَعْنَے الْفَاعِلِ یُجْمَعُ فَلَمْ یُجْمَعِ الَّذِیْ بِمَعْنَے الْمَفْیُوْلِ جَمْعَ السَّلَامَۃِ فَرْقًا بَیْنَھُمَا یعنی فَعِیْل کے وزن پر جو صیغہ فاعل کے معنی میں آئے اس کی جمع سالم آتی ہے۔ جیسے رَحِیْمٌ کی جمع رَحِیْمُوْنَ اوررَحِیْمَۃٌ کی جمع رَحِیْماتٌ اور کَرِیْمٌ کی جمع کَریْمُوْنَ اورکَرِیْمَۃٌ کی جمع کَرِیْمَاتٌ ہے تو فعل کے وزن پر جو صیغہ کہ مفعول کے معنی میں ہو اس کی جمع سالم نہیں آتی تاکہ دونوں کے درمیان فرق باقی رہے۔ (انتہیٰ) (رضی شرح شافیہ ص۱۴۸ ج ۲ طبع بیروت)۔ لفظ غَرِیْبٌ فعل کے وزن پر صرف فاعل کے معنی میں آتا ہے لہذا اس کی جمع غَرِیْبِیْنَ اسی طرح جائز ہے جس طرح رَحِیْمٌ اورکَرِیْمٌ کی جمع کَرِیْمُوْنَ جائز ہے۔
٭ صاحب درود تاج نے
غَرِیْبِیْنَ کے بعد غُرَبَاء کا لفظ وارد کرکے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ اس کی جمع سالم اور مکسر دونوں جائز ہیں۔ جیسے رَحِیْمٌ اورکَرِیْمٌ کی جمع سالم اور جمع مکسر یعنی رُحَمَائُ اور کُرَمَائُ دونوں بلاشبہ جائز ہیں۔


لفظ غَرِیْبِیْنَ کا استعمال
٭ امام لغت حدیث علامہ محمد طاہر نے اپنی مشہور و معروف تصنیف مجمع بحارالانوارکے مقدمہ میں اپنے مآخذ کا ذکر کرتے ہوئے کتاب ناظر عین الغریبینکا ذکر فرمایا اور
غَرِیْبِیْنَ کی مناسبت سے حرف غ اس کیلئے رمز قرار دیا اور متعدد مقامات پر ناظر عین الغریبین سے حدیث کے مطالب و فوائد اخذ کئے۔ علامہ محمد طاہر جو کچھ نھایہ سے اخذ کرتے ہیں بعض اوقات اسکے ساتھ ان فوائد کو بھی شامل کردیتے ہیں جو ناظر عین الغریبین سے اخذ فرماتے ہیں۔ جیسا کہ علامہ موصوف نے آغاز کتاب میں فرمایا۔وَاَضُمُّ اِلٰی ذٰلِکَ مَا فِیْ نَاظِرِ عَیْنِ الْغَرِیْبِیْنَ مِنَ الفَوَائِدِ۔(مجمع بحارالانوار ج۱ص۳ طبع نولکشور)یہ کتاب میری نظر سے نہیں گذری لیکن اس کے ملتقطات اور فوائد ماخوذہ عظیم و جلیل کتاب ہے جس کے نام ناظر عین الغریبین لغت حدیث میں ہے کہ اہل علم نے لفظ غَرِیْبِیْن استعمال کیا ہے۔پھلواروی صاحب نے لفظ غریبین کو غلط قرار دے کر اپنی لا علمی کا مظاہرہ فرمایا۔
٭ علاوہ ازیں اگر ہمارے پیش کردہ حوالہ جات اور علماء صرف و نحو کی واضح عبارت سے قطع نظر بھی کرلیا جائے۔ تب بھی لفظ غریبین کے استعمال کو غلط کہنا صحیح نہیں کیونکہ اس قسم کا استعمال آخر کلمات میں رعایت تناسب کی صورت میں بلاشبہ جائز ہے۔ ایسے استعمال کی مثال ک میں سورۃ دھر میں
سَلَا سِلاً اور تَوَارِ یْرًا کو تنوین کیساتھ پڑھنا ہے۔ جو خلاف قاعدہ ہے اور اہل عرب کے استعمالات اور محاورات کے خلاف ہے کیونکہ یہ دونوں لفظ غیر منصرف ہیں اور غیر منصرف پر تنوین جائز نہیں۔ مگر علماء نے سجع یا فاصلہ کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ متصلاً استعمال ہونے والے کلمات کے آخر میں تناسب کی رعایت کی بناء پر بلاشبہ اسے جائز کہا۔(ملحضًا)(النحو الوافی ج ۴ ص ۲۷۰ں۲۷۱) سَلَا سِلًا(بالتنوین) نافع کسائی ابوبکر اور ہشام کی قرات ہے(تفسیر مظہری ج۱۰ ص۱۴۹) اور قَوَارِیْرًا(بالتنوین) ابن کثیر کی قرات ہے(مظہری ج۱۰ص۱۵۷) یہ دونوں قراتیں مرعات تناسب کی وجہ سے جائز ہیں۔ قرات متواترہ کی بناء پر ان کے جائز ہونے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ درودتاج میں لفظ غَرِیْبِیْن بھی بصورت سجع کلمات متجاورہ کے آخر میں تناسب کی رعایت کی بناء پر بلا شبہ جائز ہے بلکہ حسب تصریح صاحب النحو الوافی ج ۴ ص ۲۷۰ آخر کلمات کا یہ تناسب مخاطب کی سمع کو لذت بخشتا ہے اور سننے والے کے کان کو شیرینی فراہم کرتا ہے تقویت معنی میں نہایت موثر ہے۔ قاری اور سامع دونوں کی روح میں ان کلمات کو پیوست کردیتا ہے۔(انتہیٰ)
٭ پورا درود تاج اسی نوعیت کا ہے بالخصوص انہی کلمات متجاورہ مختومہ بالسجع کو ایک مرتبہ اسی خیال سے پڑھیں اور اندازہ فرمائیں کہ مراعات تناسب نے ان کلمات کو کس قدر موثر کردیا ہے بشرط محبت آپ یقینا محسوس کرینگے کہ دل کی گہرائیوں میں یہ کلمات اترتے جلے جارہے ہیں۔ سامعہ لطف اندوز ہے اور روح کو غذا میسر ہورہی ہے۔ درود تاج کے وہ کلمات مبارکہ حسب ذیل ہیں۔
سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ شَفِیْعِ الْمُذْنِبِیْنَ اَنِیْسِ الْغَرِیْبِیْنَ رَ حْمَۃٍ لِّلْعٰلَمِیْنَ رَاحَۃِ الْعَاشِقِیْنَ مُرَادِ الْمُشْتَاقِیْْنَ شَمْسِ الْعَارِفِیْنَ سِرَاجِ السَّالِکِیْنَ مِصْبَاحِ الْمُقَرَّبِیْنَ
٭ اگر اس مقام پر یہ شبہ وارد کیا جائے کہ آخر کلمات میں رعایت تناسب کا حکم النحوالوافی میں غیر منصرف سے متعلق ہے اور ہمارے پیش نظر لفظ
غَرِیْبِیْنَ ہے تواسکا ازالہ یہ ہے کہ خلاف قاعدہ اور محاورات اہل عرب کے خلاف ہونے میں غیر منصرف پر تنوین داخل کرنا اور بزعم فاضل مخاطب غَرِیْبٌ کی جمع غَرِیْبِیْنَ لانا دونوں یکساں ہے۔ لہذا آخر کلمات میں رعایت تناسب کا حکم بھی دونوں کیلئے یکساں ہوگا۔


آٹھواں اعتراض اور اسکا جواب
لفظ
غَرِیْب کا معنی
٭ اس کے بعد پھلواروی صاحب فرماتے ہیں کہ درود تاج میں دونوں جگہ لفظ غریب کا وہ مفہوم لیاگیا ہے جو ہماری اردو زبان میں ہے یعنی محتاج بے مایہ(انتہیٰ)
٭ ان کا یہ دعوی محض بلا دلیل ہے۔ درودتاج میں
اِنِیْسِ الْغَرِیْبِیْنِ اور مُحِبِّ الْفُقَرَائِ دونوں جگہ پر لفظ غِرِیْب سے اجنبی مراد ہے اجنبی اور پردیسی کا کوئی انیس اور محب نہیں ہوتا۔ رسول کریم ہر پردیسی اور اجنبی کے انیس اور محب ہیں۔ اَنِیْسِ الْغَرِیْبِیْنَ اور مُحِبِّ الْفُقَرَائِِ وَالْغُرَبَائِ کا یہی مفہوم ہے انیس اور محب اس مفہوم کیلئے واضح قرینہ ہیں۔
٭ شاید پھلواروی صاحب نے
غُرَبَائِ کے ساتھ فَُِرَائِ اور مَسَاکِیْن کے الفاظ دیکھ کریہ سمجھ لیا کہ فقراء اور مساکین محتاج ہوتے ہیں۔ اسلئے غُرَبَائِ سے بھی محتاج لوگ مراد ہیں مگر انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ لفظ فُقَرَاء کا معطوف ہے اور مَسَاکِیْن کا معطوف علیہ۔ عطف مغایرت کو چاہتا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں دونوں میں سے کسی ایک جگہ بھی لفظ غَرِیْب کا مفہوم محتاج و بے مایہ نہیں لیاگیا بلکہ دونوں جگہ وہ اجنبی ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے پھلواروی صاحب کا یہ اعتراض ۔ راصل اظہار عناد کے سوا کچھ نہیں۔

نواں اعتراض اور اسکا جواب
رَاحَۃِ الْعَاشِقِیْنَ
٭ پھلواروی صاحب نے درودتاج کے الفاظ
رَاحَۃِ الْعَاشِقِیْنَ میں لفظ عاشقین پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے محبت ایک لطیف میلان قلب کا نام ہے مگر عشق محض زورِ گندم ہوتا ہے جس کا سارا تعلق حسن و شباب سے ہے مولانا روم نے صحیح کہا ہے

عشق نہ بود آنکہ در مردم بود
ایں خمار از خوردن گندم بود

٭ لفظ عشق اتنا گرا ہوا گھٹیا اور سخیف لفظ ہے کہ قرآن اور احادیث صحیحہ نے اس لفظ کے استعمال سے مکمل احتراز کیا ہے(انتہیٰ)
 

ہوم پیج