لفظ مشفوع کلام علماء میں
٭ صرف یہ نہیں بلکہ پھلواروی صاحب کے حاشیہ برداروں کا دعوی ہے کہ
مَشْفُوْعٌ کا لفظ مجنون کے سوا اور کسی معنی میں کسی نے استعمال نہیں کیا حالانکہ انکا یہ قول خود پھلواروی صاحب کے قول کی تکذیب کے مترادف ہے۔ کیونکہ وہ تسلیم فرما چکے ہیں کہ طاق سے جفت کیا ہوا بھی مَشْفُوْعٌ کے معنی ہیں تاہم مزید وضاحت کیلئے ہم بتانا چاہتے ہیں کہ لفظ مَشْفُوْعٌ مقرون کے معنی میں مستعمل ہوا ہے دیکھئے آیت کریمہ سَنُعَذِّ بُھُمْ مَّرَّ تَیْنِ کے تحت روح المعانی میں گیارہویں پارے کے ص ۱۱ پر مرقوم ہےوَلََعَلَّ تَکْرِیْرِ عَذَابِھِمْ لِمَا فِیْھِمْ مِنَ الْکُفْرِ الْمَشْفُوْع بِالنِّفَاق یعنی منافقین کے عذاب کے مقرر ہونے کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان کا کفر ان کے نفاق کے ساتھ مقرون ہے۔
٭ یہاں
مَشْفُوْعْ مقرون کے معنی میں ہے۔ اسے مجنون کے معنی میں وہی سمجھے گا جو خود مجنون ہوگا یہ بات بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص کہہ دے کہ حق شُفعہ جنون کے سوا کچھ نہیں اور جب اس سے پوچھا جائے تو لغت کی کتاب کا حوالہ دے دے کہ یہاں شُفعہ کے معنی جنون لکھے ہیں۔کیا کسی عاقل کے نزدیک یہ بات قابل قبول ہوسکتی ہے؟
٭ قارئین کرام نے دیکھ لیا کہ پھلواروی صاحب درود تاج کے جملے کے ایک جزء کو بھی سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔


دوسرا اعتراض اور اس کا جواب
مَنْقُوْشٖ فِی اللَّوْحِ وَ الْقَلَمِ
٭ پھلواروی صاحب فرماتے ہیں پھر نام مبارک (
اِسْمُہٗ)کا منقوش فی اللوح ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن منقوش فی العلم ہونا نرالی سی بات ہے اگر مَنْقُوْشٌ فِی اللَّوْحِ بِالْقَلَمِ ہوتا پھر بھی بات واضح ہوجاتی(انتہیٰ)
٭ پھلواروی صاحب نے یہاں بھی ٹھوکر کھائی کہ اس لوح وقلم کا قیاس دنیا کی قلم اور تختی پر کرلیا اسلئے وہ فرمارہے ہیں کہ نام مبارک
اِسْمُہٗ کا منقوش وی اللوح ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن منقوش فی القلم ہونا نرالی سی بات ہے
٭ الحمد للہ! لوح میں اسم مبارک کا منقوش ہونا آپ کی سمجھ میں آگیا البتہ قلم میں منقوش ہونا صرف اسلئے آپ کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ نے قیاس مع الفارق سے کام لے کر یہ سوچا کہ قلم لکھنا ہے۔ اس پر لکھا نہیں جاتا مگر آپ کی یہ سوچ اس عالم بالا تک نہیں پہنچ سکتی جہاں لوح و قلم تو درکنار ساق عرش پر بھی رسول اللہ کا اسم مبارک منقوش ہے جبکہ حضور کے اسم مبارک کے متعلق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی ہے۔
کَانَ مَکْتُوْبًا عَلٰی سَاقِ الْعَرْشِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
٭ اس حدیث کو طبرانی حاکم ابو نعیم اور بیہقی نے روایت کیا حوالہ کیلئے دیکھئے(تفسیر فتح العزیزپ۱ص۱۸۳ طبع نولکشور۔ روح المعانی ج۱ جز۱ ص۲۳۷۔ روح البیان ج۱ ص ۱۱۳طبع بیروت خلاصتہ التفاسیر ج۱ص۲۹طبع انوار محمدی لکھنؤ) اسیطرح درنشور میں بھی ہے(بحوالہ خلاصتہ التفاسیر) ایسی صورت میں حضور کے اسم گرامی کے قلم میں منقوش ہونے کو نرالی سی بات کہنا بجائے خود نرالی سی بات ہے۔
٭ علاوہ ازیں یہاں بھی قلم پر نام منقوش ہونے کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں پھر اسکو نرالا سمجھنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ اسم مبارک کا لوح میں مکتوب ہونا حضور کیلئے کوئی وجہ فضیلت نہیں۔ لوح میں تو ہرچیز مکتوب ہے حضور کی فضیلت عظمی اور اہم ترین خصوصیت تو یہ ہے کہ نشان عظمت کے طورپر صرف لوح پر نہیں قلم پر بھی اسم مبارک مثبت و منقوش ہے بلکہ سیاق عرش پر بھی حضور کا نام مبارک لکھا ہوا ہے۔ یہ حضور کی اس رفعت شان کی ایک جھلک ہے جس کا بیان شد نے
وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَ کَ میں فرمایااگر پھلواروی صاحب اس کا انکار کریں توہمارے نزدیک ان کا یہ انکار پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتا جبکہ آیت قرآنیہ اور اس کی مطابقت میں حدیث مذکور بھی حبیب کبریا علیہ التحیتہ والثناء کی عظمت و رفعت شان کا اعلان کر رہی ہے۔صاحب درودتاج نے حضور کے اسم مبارک کے منقوش فی اللوح والقلم ہونے کا ذکر اسی نشان عظمت و رفعت کے طورپر کیا ہے جسے پھلواروی صاحب نہیں سمجھ سکے۔

تیسرا اعتراض اور اسکا جواب
سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی مَقَامُہٗ
٭ تیسرا اعتراض کرتے ہوئے پھلواروی صاحب لکھتے ہیں
سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی مَقَامُہواقعہ یہ ہے کہ سدرۃ المنتھٰی جبریل کا مقام ہے جہاں جاکر وہ ٹھہر گئے اور آگے نہ جاسکے۔ حضور کی یہ گذرگاہ تھی۔ مقام نہ تھا۔انتہی کلامہٗ
٭ محترم نے اس جملے کو سمجھنے میں بھی غلطی کی حقیقت یہ ہے کہ سدرہ المنتہیٰ کے مقام جبریل ہونے کے جو معنی ہیں وہ یہاں مراد نہیں بلکہ یہاں حضور کی خصوصی رفعت شان کا بیان مقصود ہے وہ یہ کہ سدرۃ المنتہیٰ تک کوئی بشر نہیں پہنچا مگر حضور اپنی بشریت مطہرہ کے ساتھ وہاں پہنچے۔
٭
مَقَامَہٗ سے یہاں صرف پہنچنے کی جگہ مرا دہے۔ مَقَامُ اِبْرَاھِیْمَکا ذکر ک میں وارد ہے اور صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ نے اپنے منر شریف کو اپنامقام فرمایا۔ حدیث کے الفاظ ہیں مادُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا(بخاری ج ۱ ص۷۷ مسلم ج۲ ص۲۶۳) جس کے معنی پہنچنے اور کھڑے ہونے کی جگہ کے سوا کچھ نہیں۔ درود تاج کے اس جملے میں مَقَامُہٗ کایہی مفہوم ہے مقام جبریل پر مقام مصطفی کا قیاس ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت مصطفی کا قیاس جبریل پر۔


چوتھا اعتراض اور اس کا جواب
قَابَ قَوْسَیْنِ کا اعراب
٭ پھلواروی صاحب کا یہ فرمانا بھی غلط ہے کہ یہاں
قَابَکو مرفوع پڑھنا چاہئیے۔انتہیٰ
٭ انہوں نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ قرآن کے الفاظ
قَابَ قَوْسَیْنِ کو بطور حکایت درودتاج میں شامل کیاگیا ہے اور درودتاج میں قَابَکا نصب اعراب حکائی ہے۔ اعراب حکائی کی بحث میں صاحب معجم النحو نے لکھا ہے۔اَلْحِکَایَۃُ لُغَۃً اَلخمُمَا ثَلَۃُ وَاصْطِلَا حًا اِیْرَادُ اللَّفْظِ الْمَسْمُوْعِ عَلٰی ھَیْئَتِہٖ کَمَنْ مُّحَمَّدًا اِذَا قِیْلَ رَائَ یْتُ مُحَمَّدًایعنی حکایت لغتہً مماثلت ہے اور اصطلاح میں کسی لفظ مسموع کو اس کی ہیئت پر وارد کرناحکایت ہے۔ جیسے مَنْ مُّحَمَّدًا؟ جب کہا جائے رَأَیْتُ مُحَمَّدًا(ص۱۷۶طبع مصر)
٭ آیت قرآنیہ میں لفظ
قَابَنصب کے ساتھ مسموع ہے۔ اس کی ہیئت پر درود تاج میں حکایتہ وارد کیاگیا۔ کس اہل علم کے نزدیک اعراب حکائی ناجائز ہے؟


پا نچواں اعتراض اور اسکا جواب
قَابَ قَوْسَیْنِ کا معنی
٭ اس کے بعد وہ تحریر فرماتے ہیں کہ
قَابَ قَوْسَیْنِ کو حضور کا مطلوب و مقصودکہہ دینا اس وقت تک محل نظر رہے گا۔ جب تک کتاب اللہ سنت رسول اللہ سے اس کی تصدیق نہ ہوجائے(انتہیٰ)
٭ میں عرض کردوں گا کہ اسے محل نظر کہنا خود محل نظر ہے۔ شائد
قَابَ قَوْسَیْنِ کے مرادی معنی پھلواروی صاحب نے سمجھے۔ اس سے مراد کمال قرب الہی ہے اور یہ کمال قرب اپنے حسب حال ہر مومن کا مطلوب و مقصود ہے کتاب و سنت کی تعلیم کا خلاصہ یہی ہے کہ بندے کو کمال قرب نصیب ہوجوکمال عہدیت کا معیار ہے۔ ک میں بے شمار مقامات پر یہ مضمون وارد ہے مثلاوَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُونَoاُولٰئِکَ الْمُقَرَّبُوْنَo(پ۲۷ الواقعہ ۱۰۔۱۱) اور جو سبقت کرنیوالے ہیں وہ تو سبقت ہی کرنیوالے ہیں۔ وہی شد کے مقرب ہیں۔اور بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ فَتَدَ لّٰے حَتّٰی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوٓاَدْنٰیاورجَبّارربّ العزّۃ
٭ قریب ہوا۔ پھر اور زیادہ قریب ہوا یہاں تک کہ وہ اس(عبد مقدس) سے دوکمانوں کی مقدار تھا یا اس سے زیادہ قریب۔(بخاری ج ۲ص۱۱۲۰)
٭ اب تو پھلواروی صاحب سمجھ گئے ہوں گے کہ
قَابَ قَوْسَیْنِکے معنی کمال قرب ہیں جو یقینا حضور کامطلوب و مقصود ہے۔


چھٹا اعتراض اور اسکا جواب
درودتاج کی عربیت بے غبار ہے
٭ اس کے بعد پھلواروی صاحب فرماتے ہیںعلاوہ ازیں یہ پوری عبارت ہی عجمی قسم کی عربی عبارت ہے
مَوجودہٗکی ترکیب اضافی کچھ عجیب سی ہے۔ مقصودہٗاس کا موجود ہے کیا مطلب ہوا؟(انتہیٰ)
٭ اس عبارت کو عربی عبارت کہہ کر بلا دلیل عجمی قسم کی عربی عبارت کہنا ہماری فہم سے بالا تر ہے۔

ہوم پیج