پہلا اعتراض اور اسکا جواب
اِسْمُہٗ مَشْفُوُعٌ
٭ پہلا اعتراض یہ کیا گیا کہ عربی میں
مَشْفُوُعٌاسے کہتے ہیں جو مجنون ہو یا اسے نظر بد لگی ہو یا وہ طاق سے جنت کیا گیا ہو۔ یہ سارے معنی یہاں بے محل ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ لفظ مَشْفُوُعٌ لَّہٗہو لیکن یہاں یہ معنی لینا بھی صحیح نہیں حضورﷺ شَافِعْ ہیں شَفِیْعْ ہیں اور مُشَفَّعْ ہیں۔یعنی شفاعت کرنیوالے مقبول الشفاعت ہیں۔ مَشْفُوُعٌ لَّہٗنہیں۔ نعوذ باللہ حضورﷺ کی کون شفاعت کرسکتا ہے۔ انتہٰی کلامخہٗ
٭ پھلواروی صاحب کا یہ اعتراض پڑھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔
٭ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے۔ انہوں نے لفظ
مَشْفُوْعٌ سے حضورﷺ کی ذات پاک کے معنی سمجھ لئے حالانکہ درود تاج میں ذات مقدسہ کیلئے نہیں بلکہ لفظ مَشْفُوْعٌ حضورﷺ کے اسم مبارک کیلئے استعمال ہوا ہے۔ ذات مقدسہ یقینا مَشْفُوْعٌ لَّہٗ نہیں۔ نہ حضورﷺ نظر بد لگے ہوئے ہیں۔ نہ ذات مقدسہ کے حق میں مجنون کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ جب یہ معانی یہاں متصور ہی نہیں تو پھر ان کے ذکر کی یہاں کیا ضرورت پیش آئی؟ صاحب درود تاج نے رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدسہ کو نہیں بلکہ اسم مبارک کو مشفوع کہا ہے۔ جو اَلشَّفْعُ سے ماخوذ ہے۔ اَلشَّفْعُ کے معنی ہیں کسی چیز کی طرف اسکی مثل کو ملانا اور طاق کو جفت کرنا ک کی سورہ والفجر میں ہے وَالشَّفِعُ وَالُوَتُرِ(پ۳۰) قسم ہے جفت کی اور قسم ہے طاق کی۔
٭ المنجد میں
شَفَعَ شَفْعًا کے تحت مرقوم ہے۔اَلشَّیْیَٔ صَیَّرَہٗ شَفْعًا اَیٰ زَوْجًابِاَنْ یُّضِیْفَ اِلَیْہِ مِثْلَہٗ۔ انتہیٰ(المنجد ص ۳۹۵ طبع بیروت)یعنی شَفَعَ الشَّیْیَٔ کے معنی ہیں۔ اس نے شے کو شفع یعنی جفت کردیا۔ باایں طور کہ ایک شے کی طرف اس کی مثل کو ملا دیا۔
٭ اسی طرح اقرب الموارد میں ہے
شَفَعَ ۔۔۔۔۔شَفْعًاَ صَیَّرَہٗ شَفْعًا اَیٰ زَوْجًااَیْ اَضَافَ اِلَی الْوَاحِدِثَانِیًا۔۔۔۔ یُقَالُ کَانَ وَتْرًا فَشَفَعَہٗ بِاٰخَرَ اَیْ قَرَنَہٗ بِہٖ۔ انتہٰی(اقرب الموارد ج۱ ص ۵۹۹) یعنی شَفَعَ شَفْعًا کے معنی ہیں اس نے کسی چیز کو شفع کردیا۔ یعنی اسے جفت بنادیا یعنی ایک کی طرف دوسرے کو ملا دیا۔اہل عرب کا مقولہ ہے کہ وہ طاق تھا اس نے دوسرے کو اسکے ساتھ ملا کر اسے جفت کردیا یعنی ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا دیا۔
٭ نیزتاج العروسمیں ہے۔
اَلشَّفْعُ خِلَافُ الْوَتْرِوَھُوَ الزَّوْجُ تَقُوْلُ کَانَ وَتُرًا فَشَفَعْتُہٗ شَفْعًا وَشَفَعَ الْوَنْرَمِنَ الْعَدَدِ شَفْیًا صَیَّرَہٗ زَوْجًا۔ یعنی شفع وتر کے خلاف ہے اور شفع جفت کو کہتے ہیں۔ اہل عرب کا قول ہے کہ وہ طاق تھا میں نے اسے جفت کردیا اور اس نے طاق عدد کو جفت بنا دیا۔(تاج العروس ج ۵ ص ۳۹۹)
٭ درود تاج میں لفظ
مَشْفُوْعُ اَلشَّفْعُ سے ماخوذ ہے اور اَلشَّفْعُ متعدی ہے۔اس کا اسم مفعول مَشْفُوْعٌ ہے جو مَقُرون اور جفت کے معنی میں ہے اور اِسْمُہٗ مَشْفُوْعٌ کے معنی یہ ہیں کہ شد نے کلمہ میں اذان میں تکبیر میں اپنے اسم مبارک کے ساتھ اپنے حبیب ﷺ کا مبارک نام ملایا۔ یہ مقرون کے معنی ہیں اور اذان و اقامت میں اسے وتر یعنی طاق نہیں رکھا گیا۔ بلکہ اسے جفت بنا دیا۔ مؤذن اور مکبر اذان و تکبیر میں حضورﷺ کانام ایک بار نہیں بلکہ دو بار پکارتا ہے اور یہی طاق کو جفت بنانا ہے۔
٭ اسم الہی کے ساتھ حضورﷺ کے نام کا متصل ہونااوراذان و تکبیر میں حضورﷺ کے نام کا دوبار پکارنا
اِسْمُہٗ مَشْفُوْعٌ کے معنی ہیں اور یہ بالکل واضح برمحل اور مناسب ہیں۔ انہیں نامناسب اور بے محل قرار دینا کج فہمی اور نادانی ہے۔
٭ مخفی نہ رہے کہ امام قسطلانی نے حضورﷺ کے اسماء مبارکہ کے ضمن میں ارقام فرمایا
اَلْمُشَفَّعُ اَلْمَشْفُوْعُ(مواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۱۸۴ طبع بیروت) یعنی مُشَفَّعٌ اورمَشْفُوْعٌ دونوں حضور اکرم ﷺ کے مبارک نام ہیں جس کے بعد صاحب درود تاج کی عبارت قطعًا بے غبار ہوگئی اور پھلواروی صاحب کی لا علمی بھی بے نقاب ہو کر سامنے آگئی ہے۔


پھلواروی صاحب کی ایک علمی خیانت
٭ پھلواروی صاحب یہ تو کہہ گئے کہ
مَشْفُوْعٌ کے معنی مجنوں بھی ہیں جیسا کہ المنجد میں ہے۔ مگر اس حقیقت کو چھپا گئے کہ اس معنی کا ماخذ اَلشَّفْعُ نہیں علماء لغت میں سے کسی نے آج تک اَلشَّفْعُ کے تحت مَشْفُوْعٌ کے معنی مجنوں نہیں لکھے بلکہ اَلشُّفُعَۃُ کے مادہ پر کلام کرتے ہوئے اہل لغت نے لکھا ہے کہ اس لفظ اَلشُّفْعَۃُ کے شرعی معنی کے علاوہ ایک معنی جنون بھی ہیں دیکھئے اقرب الموارد میں ہے۔اَلشُّفْعَۃُ اَیْضًا اَلْجُنُوْنُ یعنی لفظ شفعہ کے معنی جنون بھی ہیں۔(ج ۱ ص ۵۹۹)
٭ اور المنجد میں ہے
اَلشُّفْعَۃُ جَمْعُمَا شُفَعٌ اَلجُنُوْنُ یعنی لفظ شفعہ کی جمع شُفَعٌ ہے اور اس کے معنی جنون بھی ہیں۔
٭ لسان العرب میں
اَلشُّفْعَۃُ کے تحت مرقوم ہے وَیُقَالُ لِلْمَجُنُوْنِ مَشْفُوْعٌ و َ مَسْفُوْعٌ(بِالسِّیْنِ الْمُہْمَلَۃِ)(لسان العرب ج ۸ ص ۱۸۴)قاموس میں اَلشُّفْعَۃُ کے تحت لکھا ہے اَلشُّفْعَۃُ اَیْضْاُاَلْجُنُوْنُ اور اسی کے تحت ارقام فرمایا اَلْمَشْفُوْعُ اَلْمَجْنُوْنُ(قاموس ج ۳ ص ۴۶)
٭ ان عبارات سے واضح ہوگیا ہے کہ لفظ
مَشْفُوْعٌ بمعنی مجنون کا ماخذ شَفْعٌ نہیں بلکہ وہ لفظ اَلشُّفْعَۃُ ہے جو جنون کے معنی میں آتا ہے درود تاج کے لفظ مَشْفُوْع کو اس سے دور کا بھی تعلق نہیں جو لوگ اسے مجنون کے معنی پرحمل کرتے ہیں وہ خود مبتلائے جنون ہیں ایسے لوگوں نے اَلشَّفْعُ اور اَلشُّفْعَۃُ کے فرق کو بھی نہیں سمجھا پھر درود تاج کے سیاق میں اس امر کو بھی نظر انداز کردیا کہ اس کا سوق کلام رسول اللہ ﷺ کی تعریف و توصیف اور مدح و ثناء پر مشتمل ہے جس میں مجنون کے معنی کا تصور مجنون کے سوا کوئی عاقل نہیں کرسکتا۔
 

ہوم پیج