بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ابتدائیہ

٭ پھلواروی صاحب نے اپنے اس رسالے کے آغاز میں لکھا ہے کہ درود تاج کی عبارت پر میں اور طالب علمانہ استفسارکرنے کی جسارت کررہا ہوں اور مجھے اپنی علمی بے بضاعتی کا اقرار بھی ہے اسکے باوجود پورے رسالے کی عبارت میں کہیں بھی حقیقت کی جستجو کا شائبہ نظر نہیں آتااور طلب ہدایت کی کاوش دکھائی نہیں دیتی۔ انداز تحریر بتاتا ہے کہ استفسار کا اصل مقصد اپنے علم و فضل کا غلط تاثر دینا اور درود تاج اور اس جیسے دیگر وظائف کا مذاق اڑا کر صلحاء امت اور ان کے معمولات سے عامتہ المسلمین کو متنفر کرنا ہے۔ انہوں نے درود تاج کی عبارت کو بے سروپا اوربھونڈا قراردیا ہے۔ الفاظ کا یہ انتخاب بتا رہا ہے کہ یہ محض طالب علمانہ استفسار نہیں ہے بلکہ انتہائی سوقیانہ اور غیر مہذب انداز میں مذاق اڑانا ہے۔ درحقیقت درود تاج کے الفاظ کو مشرکانہ قرار دے کر اپنے قلبی عناد کا مظاہرہ کیاگیا ہے۔


تخطئہ فی الواقع خطا کو مستلزم نہیں
٭ اسمیں شک نہیں کہ خطا خواہ کسی سے بھی سرزد ہو اسے صواب نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ضروری نہیں کہ جس چیز کو کوئی شخص خطا سمجھے وہ درحقیقت بھی خطا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ایک بات کسی کی رائے میں خطا ہو لیکن واقعہ اسکے خلاف ہو۔
٭ دیکھئے حدیبیہ میں جن شرائط پر صلح ہوئی مسلمان ان پر راضی نہ تھے بالخصوص سہیل بن عمرو کی یہ شرط کہ اے محمدﷺ ہمارا کوئی آدمی خواہ مسلمان ہو کر آپ کے پاس پہنچے آپ ﷺ اسے ضرور ہماری طرف واپس کردیں گے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا
سُبْحَانَ اللّٰہِ کَیْفَ یُرَدُّ اِلیَ الْمُشْرِکِیْنَ وَقَدْ جَاء مُسْلِماً
ترجمہ٭ سبحان اللہ! جو مسلمان ہوکر آیا وہ مشرکین کی طرف کیسے لوٹا یاجائے گا۔(صحیح بخاری ج اول ص۳۸۰)
٭ یہ شرط مسلمانوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور ناپسندیدہ تھی۔ بخاری میں ہے
فَکَرِہَ الْمُوْمِنُوْنَ ڈٰلِکَ وَاٰمْتَعَضُوْا مِنْہُ
ترجمہ٭ مسلمانوں نے اس شرط کو نہایت ناپسند کیا اور اس سے غضب ناک ہوئے۔(صحیح بخاری ج اول ص ۳۷۴)
٭ سہیل بن عمرو کے بیٹے ابو جندل مسلمان ہوکر لوہے میں جکڑے ہوئے بیڑیاں پہنے ہوئے بڑی مشقت و تکلیف کی حالت میں کہ سے حضورﷺ کے پاس حدیبیہ پہنچے تھے اور ایمان کی خاطر انہوں نے مشرکین کی سخت ایذائیں برداشت کی تھیں مگر اس شرط کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھی واپس جانے کا حکم دیا۔ ابوجندل اس وقت آہ وزاری کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ
ترجمہ٭ مجھے اس حال میں مشرکین کی طرف واپس کیاجارہا ہے حالانکہ میں مسلمان ہوکر آیا ہوں ۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے میں کیسے شدائد میں مبتلا ہوں۔(بخاری ج ۱ ص ۳۸۰)
٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے صاتب الرائے انسان کی نظر میں بھی مسلمانوں کے حق میں وہ شرائظ انتہائی ذلت کا موجب تھیں انہوں نے کہا
فَلِمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِیْ دِیْنِنَا
ترجمہ٭ جب ہم حق پر ہیں تو اپنے دین میں کیوں پست ہوں۔(صحیح بخاری ج اول ص ۳۸۰)
٭ جب حضورﷺ نے ان شرائط کو مان لیا تو سہیل بن حنیف جیسے عظیم و جلیل صحابی نے کہا
لَوْاَسْتَطِیْعُ اَنْ اَرُدَّ اَمْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُّہٗ
ترجمہ٭ اگر میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کو رد کرنے کی طاقت رکھتا تو ضرور اسے رد کردیتا۔
٭ لیکن جب نتائج سامنے آئے تو انہیں کہنا پڑا
وَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ
ترجمہ٭ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔(بخاری ج ۱ ص ۴۵۱ ج ۲ ص ۶۰۲)
٭ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا
وَعَسٰی اَنْ تَکُرَہُوْا شَیْئاً وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وعَسٰی اَنْتُحِبُّوْا شَیْئاً وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ
ترجمہ٭ اور قریب ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور قریب ہے تم کسی چیزکو پسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر نہ ہو۔(پ۲ البقرہ آیت ۲۱۶)
٭ لہذا کسی چیز کو خطا سمجھنے سے لازم نہیں آتا کہ وہ فی الواقع بھی خطا ہو۔ رسالہ زیر نظر میں پھلواروی صاحب نے جن چیزوں کو غلطی قراردیا ہے وہ دراصل انکے اپنے ذہن کی غلطی ہے۔ اگر ایک بھینگے کو ایک کے دو اور دو کے چار دکھائی دیں تو یہ اسکی اپنی نظر کی غلطی ہوگی۔ اسیطرح اگر کوئی یک چشم دو طرفہ بازار میں سے گزرنے کے باوجود یہ کہے کہ شہر تو خوبصورت ہے مگر بازار ایک ہی طرف ہے تو اس سے یہی کہا جائے گا کہ بازار تو دونوں طرف ہے تیرا ہی ایک بازار بند ہے۔ پھلواروی صاحب کو درود تاج میں جو غلطیاں نظر آئیں۔ وہ ان کی اپنی ناسمجھی کا شاہکار ہیں۔ درود تاج ان اغلاط سے پاک ہے۔
٭ پھلواروی صاحب کے تمام اعتراضات کا خلاصہ ان کے رسالہ کو سامنے رکھ کر ہم قارئین کرام کے سامنے رکھتے ہیں۔ ان سب اعتراضات کے ترتیب وار جوابات حاضر ہیں۔ انہیں پڑھئے اور پھلواروی صاحب کی علمی لیاقت پر سردُھنیے۔


ہوم پیج