سبب تالیف

٭ میرے ایک شاگرد مولانا حبیب اللہ اویسی ایم اے نے پچھلے دنوں لیاقت پور سے کسی صاحب کا یہ اعتراض بھیجا تھا کہ درود تاج میں اِسْمُہٗ مَشْفُوْعٌ کے الفاظ ہیں اور مَشْفُوْعٌ کے معنی لغت میں مجنوں کے لکھے ہیں۔ میں نے اسکا مفصل جواب لکھا۔ اس کے بعد ایک دوسرا اعتراض پہنچا کہ درود تاج میں غَرِیْبِیْنَ کا لفظ ہے جو غلط ہے۔ اسلئے کہ غَرِیْبٌ کی جمع غُرَبَا ئُ آتی ہے۔ اسکا مفصل جواب بھی میں نے لکھا۔اسکے بعد مجھے کراچی جانے کا اتفاق ہوا دارالعلوم نعیمیہ کراچی کے بعض علماء نے مجھے بتایا کہ یہ دونوں اعتراض لیاقت پور کے کسی باشندے کے نہیں بلکہ یہ اور انکے علاوہ بعض دیگر اعتراضات بھی درود تاج وغیرہ وظائف صوفیہ پر جعفر شاہ پھلواروی نے کئے تھے جو مودودیوں کے رسالہ فاران میں بڑے طمطراق کیساتھ شائع ہوئے۔ پھر عام لوگوں تک پہنچانے کیلئے وہ ایک پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کئے گئے جولیاقت پور میں کسی شخص کے ہاتھ آگیا اور اسکی مزعومہ لیاقت کی تشہیر کا سامان اسے مفت میں مہیا ہوگیا۔ حُسن اتفاق سے وہ پمفلٹ مجھ تک بھی پہنچ گیا۔ جسکا عنوان ہےادعیہ پر تحقیقی نظر اور مؤلف کا نام لکھا ہےامام الصوفیہ مجتہد العصر علامہ حضرت شاہ محمد جعفر پھلواروی۔
٭ اس مضمون پر بعض لوگوں کے سوالات اور پھلواروی صاحب کیطرف سے انکے جوابات بھی اس پمفلٹ میں شامل ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ پمفلٹ اب اتنے عرصے کے بعد یکم جنوری1986ء کو مجھے ملا۔ اے کاش یہ مضمون اسیوقت میرے سامنے آجاتا تو اس تحقیقی نظر کا جواب فوری طورپر بروقت لکھ کر میں شائع کردیتا۔ بہرحال میرے اس مضمون کو پڑھ کر اہل علم پر واضح ہوجائے گا کہ پھلواروی صاحب کی یہ تحقیقی نظربرعکس نہند نام زنگی کافور کا مصداق اور علمی اعظلاط کا پلندہ ہے۔ اگرچہ دواعتراضوں کے جواب مختصراً میں پہلے لکھ چکا ہوں لیکن اب پورا مضمون سامنے آنے کے بعد مناسب سمجھتا ہوں کہ اسے سامنے رکھ کر پھلواروی صاحب کے سب اعتراضات کے جوابات تفصیل سے یکجا قلم بند کردوں۔

وما توفیقی الا باللہ
سید احمد سعید کاظمی

ہوم پیج