بعد از رحلت

٭ بعد از رحلت مبارکہ کے جمعۃ المبارک ۲۷ رمضان ۱۴۰۶ھ بمطابق ۶ جون ۱۹۸۶ء کے اخبار امروز سے چند اہم شخصیات کے تعزیتی بیانات پیش خدمت ہیں۔
٭ ہم ایسی شخصیت سے محروم ہوگئے جو مشکل وقت میں ہماری رہنمائی کرتی تھی(شاہ احمد نورانی)
٭ ملتان ایک شفیق سرپرست سے محروم ہوگیا۔(گورنر پنجاب مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم)
٭ قوم ممتاز مفکراور مذہبی رہنما سے محروم ہوگئی(سابق وزیر اعظم نوازشریف)
٭ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا آسانی سے پر نہیں ہوسکے گا(صدر ضیاء الحق مرحوم)
٭ مجھے جو کچھ ملا ہے حضرت علامہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کا فیضان نظر ہے۔(وفاقی وزیر حنیف طیب کراچی)
٭ علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کے تلامذہ لاکھوں کی تعداد میں اطراف و اکناف میں پھیلے ہوئے ہیں۔
۲۲ مئی ۱۹۸۸ء امروز سے
٭ غزالی زماں رحمتہ اللہ علیہ ایک دور اندیش سیاست دان تھے۔
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرقہ ورانہ کشیدگی کو ملک و ملت کیلئے زہر قاتل سمجھتے تھے۔
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے وطن عزیز کے قیام اور استحکام کیلئے عمر بھر جدوجہد کی۔
٭ محدث العصر حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ سلف صالحین کے علوم و حکمت اور اخلاص و تقویٰ کی زندہ یادگار تھے۔
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ اس دور میں اسلام کیلئے متاع عزیز تھے۔(صدیق خان قادری)
٭ بلاشبہ وہ ہمارے دور کے عظیم مفسر محدث فقیہ عالم متکلم منطقی اور روحانی رہنما تھے۔(خواجہ عابد نظامی)
٭ قبلہ کاظمی صاحب ہمیشہ پیار اور محبت سے گفتگو فرماتے تھے۔(خواجہ عابد نظامی)
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عشق رسول کا درس دیا۔(پروفیسر منشاعلی خان)
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ جمال نبوی کا انکار جمال الہی کے انکار کے مترادف ہے۔(پروفیسر منشا علی خان)
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کو جان سے زیادہ عزیز نہ جانے وہ مومن نہیں۔ (پروفیسر منشا علی خان)
٭ علامہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پر ہونا مشکل ہے(سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم سابق وزیر اعظم)
٭ حسن دو قسم کا ہوتا ہے علامہ کاظمی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت دونوں قسم کے حسن سے مزین تھی اور انکی آنکھوں میں روحانیت کی خاص چمک تھی۔(جنرل ریٹائرڈ ایم ایچ انصاری)
٭ تحریک پاکستان تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیﷺ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمات جلیلہ بے نظیر و بے عدیل ہیں۔(جنرل ریٹائرڈ کے ایم اظہر)
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام خوبیوں کے جامع ہونے کے باوجود ہر خوبی میں درجہ کمال پر فائز تھے۔( حضرت مولانا مفتی عبدالقیوم ہزاروی)
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا اساسی اور بنیادی موضوع حب رسول ﷺ ہی تھا۔(جسٹس مفتی شجاعت علی قادری)
٭ اہلسنت کے تحفظ و بقا کا خیال جس قدر انہیں رہتا تھا اسکی مثال ملنا مشکل ہے ہم شریعت اور طریقت کے اہم عظیم رہنما سے محروم ہوگئے ہیں۔(حضرت صاحبزادہ میاں منیر صاحب منگھیر وی)
٭ اگرچہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق اہلسنت والجماعت سے تھا لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ کی عظمت علمی بلندی افکار اور درویشانہ بودوباش کی وجہ سےآپ رحمتہ اللہ علیہ کو تمام دینی اور علمی حلقوں میں عزت و تکریم کا بلند مقام حاصل تھا۔(حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی لاہور)
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فیضان علم و عرفان سے لاکھوں افراد سیراب ہوئے۔(ڈاکٹر محمد طاہر القادری)
٭ پوری دنیائے اسلام اس محبت آشنا اور علم افروز شخصیت سے محروم ہوگئی۔ (صاحبزادہ فضل کریم)
٭ الحمدللہ ایسی ہستی کا جنازہ پڑھنا نصیب ہوا تو سراسر فائدہ ہے مجھ جیسے گنہگار پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی کہ مجھے جنازہ کی حاضری نصیب ہوگئی۔(حضرت خواجہ غلام معین الدین تونسوی)
٭ بیعت و رشد وہدایت میں بالخصوص طریقہ چشتیہ کے پیر اور تمام ہی طریق کے جامع تھے۔ انکی وفات سے درحقیقت موت العالم موت العالم کا منظر سامنے آگیا۔ (حضرت علامہ عبدالمصطفی الازہری)
٭ آپ رحمتہ اللہ علیہ اسقدر پابند صوم و صلواۃ تھے کہ ڈاکٹروں کے مشورے کے باوجودآپ رحمتہ اللہ علیہ نے روزے رکھے جو انکی عمر اور صحت کے اعتبار سے قابل قضا تھا۔ لیکن تقویٰ اور طہارت اور اللہ کے حبیب ا سے وابستگی ہمیشہ ان کے سامنے رہی اور اس مرد حق نے روزے کے افطار کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔(سید شمیم حسین قادری ریٹائرڈ جسٹس پنجاب ہائی کورٹ لاہور)
٭ سید غضنفر مہدی اور سید علی نواز گردیزی ممتاز شیعہ رہنمائوں کا کہنا ہے کہ آپ عہدحاضر میں مدینۃ الاولیاء کے روحانی تاجدار اور محب اہل بیت تھے۔ علم و عمل کے پیر طریقت علامہ کاظمی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو ان کی اتحاد بین المسلمین کی وجہ سے امام اہلسنت نہیں امام امت مسلمہ کہنا چاہیئے انہیں صرف امام اہلسنت کہہ کر آپ ہم اہل تشیع کو ان کے قائدانہ استفاضہ سے کیوں محروم کرتے ہیں۔
٭ مسلکی اختلافات کے باوجود میں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کی دل سے قدر کرتا ہوں انکے علم کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل خاص سے عطا کیا تھا۔ آپ نکتہ رس عالم دین تھے اور علم و فضل زہد تقویٰ اور قوت بیانی میں اپنی مثال آپ تھے۔ علامہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کی رحلت سے نہ صرف اہل سنت کا بلکہ پوری دنیائے اسلام کا نقصان عظیم ہوا ہے۔(مولانا معین الدین لکھوی امیر جماعت اہل حدیث)
٭ علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ نے علم کا جو خزانہ اپنی تصانیف اور شاگروں کی صورت میں چھوڑا ہے وہ ہمارے لئے گراں بہا اثاثہ ہے وہ راسخ فی العلم تھے۔ علامہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیشہ وجوہ اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے امت مسلمہ کی وحدت و اتحاد اور صحیح العقیدہ افراد کو منظم کرنے کیلئے علامہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ کی تقلید کرنا ہوگی۔(مولانا وصی مظہر ندوی حیدرآباد)
٭ علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ معروف عالم دین اور روحانی شخصیت تھے۔ آپ کے دینی اور علمی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہ ان علماء میں شامل تھے جو عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے۔ (میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی پاکستان)
٭ آپ رحمتہ
اللہ علیہ کے علمی کمالات اور دینی وفکری صلاحیتوں کے پیش نظر میں انہیں خاتم المحققین و المحدثین کہنے میں ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتا۔ گستاخان رسول ﷺ کیلئے آپ دُرہ فار وقی تھے ملت مرحومہ کیلئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت سراج منیر تھی۔(حضرت صاحبزادہ محمد امین سیالوی)
٭ حضرت علامہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ جیسے شفیق رہبر اور روحانی پیشوا کا نعم البدل بہت ہی مشکل ہے۔(علامہ مفتی مختار احمد نعیمی)
٭ حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ بیک وقت نامور محدث مفسر قرآن اور علوم فنون کے امام تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہکے پایہ کا علامہ دنیائے اسلام میں دکھائی نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی باطنی برکات سے ہمیں تادیر مستفید رکھے۔ حضور قبلہ عالم کے آستانہ عالیہ سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو والہانہ عقیدت اور محبت تھی۔ وفات سے کچھ عرصہ پہلے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حاضری دی۔ شاید نور بصیرت سے الوداعی سلام کیلئے آئے ہوں گے۔

؎ولی را ولی می شناسد

(حضرت میاں نور جہانیاں صاحب چشتی محمودی سجادہ نشین دربار قبلہ عالم)

٭ میاں طفیل محمد سابق امیر جماعت اسلامی مولاناشاہ تراب الحق مولانا سید سعید چشتی ہاشمی قاری محمد میاں سجادہ نشین حامدیہ ملتانعلامہ مرزا یوسف حسین نوابزادہ نصراللہ خان سابق وفاقی وزیر مخدوم زادہ سید یوسف رضا گیلانی ڈاکٹر حافظ محمد سلیم سید قسور گردیزی جنرل سیکریٹری نیشنل پارٹی شیخ محمد ارشد سالار تحریک خاکسار خواجہ خان محمد صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستانحضرت خواجہ عبدالمناف سلیمانی مسٹر جسٹس شیخ خضر حیات جج لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عبدالجبار خانسعید احمد قریشی سابق صوبائی وزیر حکومت پنجاب سید سرفراز حسین کمشنر ملتان ڈویژن صاحبزادہ صلاح الدین عباسی جناب ڈاکٹر سعید اختر جناب محمد قاسم خان ایڈووکیٹ وغیرہ نے اپنے اپنے مخصوص انداز میں مدحیہ کلمات کہے جنکی تفصیل مزیدتاثرات از ڈاکٹر محمد تسلیم قریشی میں ہے۔

 

ہوم پیج