خلقتِ محمدی بے نظیر ہے


چونکہ حضور سیّد عالم ﷺ کی خلقت تمام کائنات میں کسی سے مناسبت نہیں رکھتی اس لئے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حوائج و ضروریات کو بھی کسی کے حوائج وضروریات سے قطعاً کوئی مناسبت نہیں، دیکھئے حضرت مجدد الف ثانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، مکتوبات شریف، جلد سوم،مکتوب صد و دوم، مطبوعہ نول کشور لکھنؤ، ص۱۸۷ میں فرماتے ہیں:
باید دانست کہ خلق محمدی دررنگ خلق سائر افراد انسانی نیست بلکہ بخلق ہیچ فردے از افراد عالم مناسبت ندارد کہ اُو ﷺ با وجود منشا ٔ عنصری از نور حق جل وعلی مخلوق گشتہ است کما قال علیہ الصلٰوۃ والسلام خلقت من نور ﷲ۔
جاننا چاہئے کہ پیدائش محمدی دیگر افراد انسانی کے پید ائش کے رنگ میں نہیں ہے بلکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خلقت افراد عالم میں سے کسی فرد کی خلقت کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتی اس لئے کہ حضور ﷺ نے فرمایا
"خلقت من نور ﷲ" میں ﷲ کے نور سے پیدا کیا گیا۔
عامر صاحب ذرا بتائیں کہ مجدد صاحب کے اس بیان میں کہیں عیسائیت کے لئے کوئی چور دروازہ تو نظر نہیں آتا۔