آنحضرت ﷺ کا سا یہ نہ تھا


سوال
۱۴۶۴ 
"وہ کون سی حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ رسول مقبول ﷺ کا سایہ زمین پر واقع نہیں ہوتا تھا۔
الجواب۔ " امام سیوطی نے خصائص کبریٰ میں آنحضرت ﷺ کا سایہ زمین پر واقع نہ ہونے کے بارے میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے،
اخرج الحکیم الترمذی عن ذکوان ان رسول ﷲ ﷺ لم یکن یُریٰ لہٗ ظل فی الشمس والقمر الخ اور تواریخ حبیب اِ لہٰ میں مفتی عنایت احمد صاحب کاکوروی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں کہ آپ کا بدن نور تھا اسی وجہ سے آپ کا سایہ نہ تھا۔الخ 
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ عزیز الرحمن عفی عنہ
کیوں عامر صاحب! کیا کہتے ہیں آپ؟ کیا ان سب کو وہم کی بیماری ہوگئی تھی ؟ یا ان کا قدرتی سسٹم بگڑ گیا تھا، یا یہ سب لوگ شدت بخار میں بڑبڑارہے ہیں۔
ہاں جناب! کچھ پتہ چلا آپ کو؟ آپ کے دونوں پیشوائوں گنگوہی و تھانوی صاحبان نے مل کر آپ کا بیڑا غرق فرمادیا۔
سایہ کے مسئلہ میں آپ نے اپنی بحث کی بنیادیں قائم کرنے کے لئے جو پاپڑ بیلے تھے وہ آپ کو یاد ہی ہوں گے، تو سنئے حضور! آپ کی وہ سب محنت اکارت ہوگئی، آپ کے ان دونوں بزرگوں نے انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کی مستحکم بنیادوں کو اکھاڑ کر پھینک دیا، "ثبوت ظل" کی پوری عمارت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی، پریشانی میں شاید آپ کو یاد نہیں آرہا ہے، لیجئے میں عرض کرتا ہوں، سایہ کی بحث میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ حسب ذیل چار بنیادی اصولوں پر مشتمل تھا۔
(۱) بشری کثافتوں سے حضور ﷺ پاک نہ تھے۔
(۲) حضور ﷺ کا ایسا نورِ خالص ہونا جس کا سایہ نہ ہو، باطل ہے، اگر آپ کے لئے کہیں لفظ نور آیا ہے تو وہ بطورِ استعارہ ہے۔
(۳) حضور ﷺ کا سایہ نہ ہونا غلط افواہ ہے۔
(۴) سایہ نہ ہونے کی حدیثیں جھوٹی ہیں اور قابل تمسک نہیں۔
آپ کے ان اصول اربعہ کے ردّ وابطال میں جو کچھ ہم عرض کریں گے ان شاء اﷲ وہ تو آپ آئندہ صفحات میں ملاحظہ کر ہی لیں گے، سرِ دست اتنا دیکھتے چلئے کہ آپ کے پہلے تین بنیادی نكتوں کو تو گنگوہی صاحب نے اُڑا دیا اور چوتھے کا صفایا تھانوی صاحب کرگئے۔
گنگوہی صاحب کی منقولہ بالا عبارت میں ابھی آپ نے پڑھا کہ:
(۱) حضور ﷺ تمام کثافتوں سے مطہر ہوکر نورِ خالص ہوگئے۔
 قرآن کریم م
یں قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ اور سِرَاجًا مُّنِیْرًا دونوں جگہ نور ومنیر سے حضور ﷺ ہی مراد ہیں اور حضور ﷺ ایسے "نور و منیر" ہیں جس کا سایہ نہ ہو۔
(۳) حضور ﷺ کا سایہ نہ ہونا غلط افواہ نہیں بلکہ تواتر سے ثابت ہے۔
آپ کے حضرت گنگوہی صاحب کے ان تینوں ارشادات نے آپ کے پہلے تینوں اصول کی پوری طرح بیخ کنی فرمادی اور حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کو تواتر سے ثابت شدہ کہنے کے بعد گنگوہی صاحب کا آخری جملہ "وظاہر است کہ بجز نور ہمہ اجسام ظل میدارند" (ظاہر ہے کہ نور کے سوا ہر جسم سایہ رکھتا ہے)۔
استعارہ کی بحث میں حرف آخر ہے، جس نے آپ کی استعارہ والی بحث کی تمام کدوکاوش کو خاک میں ملا کررکھ دیا۔
اَب آئیے تھانوی صاحب کی طرف، انہوں نے آپ کے چوتھے بنیادی اصول کا خاتمہ کردیا، وہ فرماتے ہیں کہ :
"حضور کا سایہ نہ ہونا بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، گو وہ ضعیف ہیں، مگر فضائل میں متمسک بہ ہوسکتی ہیں"۔
کہئے عامر صاحب ! تھانوی صاحب نے آپ کا بیڑا غرق فرمانے میں کوئی کسر باقی رکھی، جن روایتوں کو جھوٹی کہتے کہتے آپ کی زبان سوکھ گئی، تھانوی صاحب ان کو متمسک بہ کہہ رہے ہیں۔
کیا فرماتے ہیں آپ ؟ آپ سچے یا تھانوی صاحب ؟
کَذٰلِکَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُم لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔
اَب عامر صاحب کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ سایہ کی اس پوری بحث میں جو انہوں نے ہم پر طعن وتشنیع کی بھرمار کی ہے اور بار بار "منکرینِ ظل" کہہ کر مذاق اُڑایا ہے، بلکہ بدعتی، گمراہ، یہودی، نصرانی تک کہنے سے نہیں چوکے، یہ سب کچھ انہوں نے ہمیں نہیں کہا، ہم تو محض ناقل ہیں، بلکہ ان اعلامِ اُمت کو کہا ہے جن کی طویل فہرست ہم ابھی پیش کرچکے ہیں، اور ان کے علاوہ اپنے مقتدائوں جناب گنگوہی وتھانوی صاحبان کی تواضع فرمائی ہے، جن کے ارشادات سایہ کے مسئلہ میں عامر صاحب کے خلاف ہم نے ابھی نقل کئے ہیں، آئندہ چل کر سب وشتم کے ہر مرحلہ پر عامر صاحب کو یہ امر پوری طرح ملحوظ رکھنا چاہئے۔
ہاں عامر صاحب! آپ نے فرمایا تھا!
"ہزاروں ہزار علماء وائمہ میں شاید گنے چنے ایسے نکلیں جنہوں نے " رسول اﷲ کا سایہ نہ ہونے کو واقعہ گمان کرلیا ہو، باقی جملہ اکابرین کے عقیدہ ومسلک کی فہرست اس عقیدہ سے یکسر خالی ہے"۔
جن گنے چنے علماء وائمہ نے  رسول ﷲ ﷺ کا سایہ نہ ہونا (بقول آپ کے) گمان کرلیا ہو، ہم نے تو ان کی طویل فہرست حوالجات کے ساتھ پیش کردی، اَب باقی جملہ اکابرین کی فہرست جو اس عقیدہ سے یکسر خالی ہے آپ پیش کردیں۔
ھَا تُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔
کتاب وسنت اور علم واستدلال کے الفاظ کو نمائشی طور پر استعمال کرنے والو! اگر اپنے دعوے میں اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو تو ایک دلیل پیش کرکے دکھائو جس سے  رسول ﷲ ﷺ کے جسم اقدس کا تاریک سایہ ثابت ہوجائے، یا اکابر اُمت سلف صالحین میں سے کسی ایک کا قول پیش کردو، تو ہم جانیں کہ واقعی تم اپنے زعم میں سچے ہو، لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں ؎


نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں


شاید آپ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں کہ زمین پر سایہ پڑنا کوئی تعجب کی بات نہیں، جسے روایت کیا جانا ضروری ہو، البتہ کسی انسان کا سایہ نہ پڑنا ضرور تعجب کی بات ہے، جس کا روایت کیا جانا ضروری ہے۔
لہٰذا حضور ﷺ کا سایہ نہ ہونے کی روایت کا نہ ہونا سایہ نہ ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ سایہ نہ ہونے کی روایاتِ صحیحہ کا نہ ہونا سایہ ہونے کی دلیل ہے۔
میں عرض کروں گا کہ جب واقعہ میں کسی کے پاس دلیل نہ ہو تو پھر اُسے ایسی دلیلیں سوجھا کرتی ہیں۔
اِن عقل کے اندھوں کو اتنا نہیں سوجھتا کہ ٹوٹے پھوٹے طنزیہ فقروں سے چند حواریوں کو اُلو بنایا جاسکتا ہے مگر ساری دنیا اس طرح بے وقوف نہیں بن سکتی۔
میں پوچھتا ہوں کہ جس طرح "سایہ" جسمانی اوصاف سے ہے اسی طرح بیماری تندرستی، بھوک، پیاس، پسینہ، موئے مبارک، قدوقامت، حلیۂ اقدس وغیرہ امور بھی جسمانی لوازم سے ہیں یا نہیں ؟ پھر یہ کہ جس طرح سایہ تعجب کا باعث نہیں، ایسے ہی تندرستی بیماری، پسینہ، موئے مبارک، قدوقامت وغیرہ بے شمار اوصاف بھی تعجب کے پہلو سے خالی ہیں یا نہیں؟ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ جسم اقدس کے باقی تمام اوصاف مروی ہوں اور سایہ مروی نہ ہو۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ایسی صورت میں سایہ مروی نہ ہونے کو سایہ نہ ہونے کی دلیل مان لیا جائے تو بعید از قیاس نہ ہوگا، رہا یہ امر کہ اگر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا سایہ نہ ہوتا تو اس کا نہ ہونا صحیح روایت کے ساتھ ضرور مروی ہوتا، اس کا جواب یہ ہے کہ صحتِ روایت کی ذمہ داری سایہ نہ ہونے کے واقعہ پر تو کسی طرح عائد نہیں ہوسکتی، اس کا تعلق تو محض روایت سے ہے، ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ صحتِ روایت کے بغیر سایہ نہ ہونے کا اعتقاد کیسے صحیح ہوگا؟ تو اس کا جواب بارہا عرض کرچکا ہوں، اور تھانوی صاحب بھی ارقام فرماگئے ہیں کہ باب فضائل میں ضعاف بھی متمسک بہ ہیں، لہٰذا صحت کی قید بے معنی ہے۔
مسئلہ زیر بحث کی وضاحت کرتے ہوئے"اہل سنت" کا لفظ میں نے لکھ دیا تھا جس پر عامر صاحب بہت بگڑے ہیں اور اپنی عادت کے مطابق طعن وتشنیع کی بھر مار کردی ہے، چنانچہ ہم لوگوں کو اہل بدعت اور اپنے آپ کو حقیقی اہل سنت کہا ہے اور ساتھ ہی اہل حق کا مذاق اُڑاتے ہوئے کئی پھبتیاں کسی ہیں۔
حقائق ومعانی کی دنیا سے دُور، الفاظ کی دنیا میں رہنے والے طنزوتمسخر سے مرعوب اور برا فروختہ ہوسکتے ہیں، لیکن مطالب ومعارف سے سروکار رکھنے والے دل ودماغ ایسی اوچھی باتوں سے رعب میں نہیں آیا کرتے۔
عامر صاحب ! جن بدعات مزعومہ کی بنا پر آپ ہمیں مطعون کررہے ہیں، ذرا اپنے اکابر کی کتابیں اُٹھا کر دیکھیں وہ سب کی سب آپ کو وہاں نظر آئیں گی اور ان کے علاوہ ایسے امور بھی ملیں گے جو فی الواقع بدعات مزعومہ ہیں۔
سب سے پہلے تو آپ اپنے حقیقی اہل سنت کے سرگروہ مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی اور اپنے حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے پیرو مرشد حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی ؒ کے ملفوظات یعنی شمائم امدادیہ مصدقہ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی اور فتاویٰ رشیدیہ کو سامنے رکھ لیجئے اور "چشم بددور دین مردہ پرستی کے ان شہ سواروں سے قبوری شریعت" کے مسائل جانئے، وہ فرماتے ہیں :
۱۔ بزرگوں کی نذر ونیاز جائز ہے۔ (شمائم امدادیہ، صفحہ ۱۳۵)
۲۔ عرس کی تاریخ مقرر کرنا درست ہے۔(شمائم امدادیہ، صفحہ ۱۳۰)
۳۔ (زاغ معروفہ) مشہور کوّا کھانا ثواب ہے۔
(فتاویٰ رشیدیہ، جلد دوم، صفحہ۱۳۰)
۴۔ صحیح بخاری کا ختم پڑھنا جائز ہے۔(فتاویٰ رشیدیہ، جلداوّل، صفحہ ۸۴)
یہ تو عملیات کا ایک مختصر نمونہ ہے، اس کے بعد چمنِ اعتقادیات کی سیر کیجئے، اسی شمائم کے صفحہ ۷۱ پر مرقوم ہے :
"جب اس مراقبہ میں "ہمہ از اوست"سے اغماض نظر کرکے "ہمہ اوست" کو پیش نظر رکھے تو اس استغراق میں فیض باطنی وجذبۂ غیبی مدد فرماتا ہے"۔
کہئے عامر صاحب ! کیسی رہی ؟ یہ وہی "ہمہ اوست" ہے نہ جسے آپ کے مودودی صاحب "جاہلیت اور اسلام" کے ص ۲۴ پر مشرکانہ نظریہ لکھ چکے ہیں ؟
غالباً اس عبارت میں کوئی بات عقیدۂ توحید ورسالت کے خلاف نہ ہوگی ؟
اور لیجئے! آپ کے حضرت مولانا قاسم العلوم والخیرات صاحب "آب حیات" میں فرماتے ہیں:
"حیاتِ نبوی بوجہ ذاتیت قابلِ زوال نہیں"۔
(آب حیات، طبع مطبع قدیمی دہلی، ص۱۰۷)
کیوں جناب ؟ یہاں تو کوئی چور دروازہ آپ کو نظر نہ آیا ہوگا ؎


اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ


عامر صاحب فرماتے ہیں:
"گنے چنے ائمہ وعلمائے دین کے سوا باقی جملہ اکابرین کے عقیدے ومسلک کی فہرست اس عقیدے سے یکسر خالی ہے"۔
گویا عامر صاحب نے تمام اکابر اُمت کے جملہ عقائد اور پورے مسلک کی مکمل فہرست مرتب کرکے ہمارے سامنے رکھ دی ہے اور بڑے فخریہ انداز سے کہہ رہے ہیں کہ دیکھئے اس فہرست میں جملہ اکابر کے تمام عقائد درج ہیں، لیکن حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کا عقیدہ اس میں کہیں موجود نہیں۔
بجا فرمایا! توہمات کی تاریک وادیوں میں گھومنے والے اسی طرح بھٹکتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کی زبان میں تحکم اور ڈھٹائی کو علم واستدلال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
عامر صاحب! اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جن علماء نے حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کا واضح بیان نہیں کیا وہ حضور ﷺ کے لئے تاریک سایہ مانتے ہیں تو ایسی سمجھ پر آپ کو اپنا سر پیٹ لینا چاہئے، کیونکہ آپ اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ دوسری صدی ہجری کے اواخر یا تیسری صدی کے اوائل سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے تاریک سایہ سے پاک ہونے کا مسئلہ اکابر علماء محدثین وائمہ دین نے اپنی کتابوں میں لکھنا شروع کیا، جسے حکیم ترمذی متوفی ۲۵۵ھ اور سند المحدثین علامہ ابن جوزی متوفی ۹۷ ۵ھ اور ان کے علاوہ ہر دَور میں اکابر اُمت حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کا عقیدہ اپنی مستند اور مشہور تصانیفِ جلیلہ میں برابر لکھتے چلے آئے ہیں، حتیٰ کہ ہماری اس چودھویں صدی میں اسی نقلِ مسلسل کے ساتھ یہ عقیدہ منقول ہوکر ہم تک پہنچا ہے، جیسا کہ پچھلے صفحات میں عبارات وحوالجات اور مکمل دلائل کے ساتھ اکابر اُمت کی وہ طویل فہرست ہم اپنے ناظرین کرام کے سامنے پیش کرچکے ہیں، ایسی صورت میں کسی دشمنِ دین ودانش کا آنکھیں بند کرکے یہ کہہ دینا کہ رسول اﷲ کا سایہ نہ ہونے کا عقیدہ بدعت وگمراہی، توحید ورسالت کے منافی ہے، بلکہ حضور کی الوہیت کے لئے (معاذ ﷲ) چور دروازہ کھولنا ہے، کتنی بڑی جسارت اور دین ودیانت کے ساتھ عداوت وبغاوت ہے۔
بفرضِ محال اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ عقیدہ (معاذ ﷲ) ایسا ہی ہے، جیسا کہ آپ نے بیان کیا تو پھر یہ فرمائیے کہ ایسے جاہلانہ اور مشرکانہ عقیدے کے لئے کسی مسلمان کے دل ودماغ کے کسی گوشہ میں جگہ مل سکتی ہے ؟ جب نہیں مل سکتی تو ان تمام اکابرین دین وملت کے دل ودماغ میں یہ عقیدہ اسلامی ہونے کی حیثیت سے کیونکر قائم رہا ؟ اگر ان کی غلطی پر محمول کیا جائے تو چودہ سو برس تک کسی کو اس غلطی کا احساس نہ ہوا ؟ جن لوگوں کے عقائد کی فہرست عدمِ ظل کے عقیدہ سے یکسر خالی تھی کم از کم ان کا تو فرضِ اولین تھا کہ وہ اس گمراہ کن عقیدہ کو جڑ، بنیاد سے اُکھاڑ کر پھینک دیتے اور اسلام میں حضور ﷺ کی الوہیت کے اس چور دروازہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرجاتے بلکہ پوری قوت کے ساتھ اس عقیدہ کی تردید کردیتے، جیسا کہ ہمیشہ عقائد باطلہ کا ردّ بلیغ کرتے رہے، اس چودہ سو سال کے طویل عرصہ میں عامر صاحب کے سوال133 آج تک کسی نے حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے اعتقاد کو ضلالت وگمراہی نہیں کہا نہ کسی نے اس عقیدے کا ابطال کیا، اس سے ثابت ہوا کہ سکوت اختیار کرنے والے حضرات بھی حضور کے سایہ نہ ہونے کے اعتقاد کو ضلالت وجہالت نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ اسے حق سمجھ کر خاموش رہے ہیں ایسے موقعوں پر اہل حق کی خاموشی بھی دلیلِ رضا ہوتی ہے۔
شاید کوئی بول اُٹھے کہ جب حضور کا سایہ نہ ہونے کی روایتیں موضوع تھیں تو کسی کو بولنے کی ضرورت ہی نہ تھی، تو میں کہوں گا کہ وہ روایتیں جیسی پہلے تھیں آج بھی ویسی ہی ہیں تو عامر صاحب یا ان کے کسی ہم نوا کو اس غوغا آرائی کی کیا ضرورت پیش آگئی ؟ اور اس بے وقت کی بے سُری راگنی سے کیا حاصل ؟ رہا روایات کا موضوع یا ضعیف ہونا، تو اس کے متعلق تو آپ کے حکیم الامت تھانوی صاحب کا حتمی فیصلہ پہلے ہی نقل کیا جاچکا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ روایات موضوع نہیں، ہاں ضعیف ہیں، مگر باب فضائل میں ان سے استدلال کیا جاسکتا ہے، اگر آپ کو ایسی ہی ضد اور جسم اقدس کی نورانیت سے بغض وعناد ہے تو عثمانی ہوکر سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی روایت کو ردّ کردیجئے، حضرت عبداﷲ ابن عباس، ذکوان، ابن مبارک، ابن جوزی رحمہم اﷲ کی روایتوں کو پسِ پشت ڈال دیجئے۔
لیکن اتنا بتادیجئے کہ دوسری صدی ہجری سے لے کر آج تک اُمت محمدیہ ﷺ نے حضور پر نور کے جسم اقدس کے سایہ نہ ہونے کے مسئلے کو مانا اور تسلیم کیا یا نہیں؟ اگر آپ انکار کریں تو منقولۂ بالا فہرست آپ پر حجت ہوگی، اور اگر اقرار کرلیں تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ اکابر علما اُمت کی اہم جماعت نے آنحضرت ﷺ کو سایہ سے اعتقاداً اور قولاً پاک ومبرا مانا ہے اور دوسری جماعت جو خاموش رہی اس کی خاموشی دلیل رضا ہے، فثبت المدعا بالاتفاق۔
اَب اگر کسی میں کچھ ہمت ہے تو ایک دلیل ہی پیش کرے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ فلاں موقع پر فلاں مسلمہ فریقین ہستی نے حضور کا سایہ نہ ماننے والوں پر انکار کیا یا خود حضور کے لئے سایہ کا قول کیا ؟ جب ایسی کوئی ایک دلیل بھی نہیں پیش کی جاسکتی تو لازم ہے کہ حضور اکرم نور مجسم ﷺ کے جسم انور کا سایہ نہ ہونے کو اُمت محمدیہ کا اجماعی اور اتفاقی مسئلہ تسلیم کرلیں جیسا کہ آ پ کے مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نے حضور کے سایہ نہ ہونے کو تواتر سے ثابت مانا ہے، ورنہ یاد رکھئے عامر صاحب کہ آپ اپنی کور باطنی اور تاریک خیالی کے ظلمت کدہ میں ٹکریں کھاتے رہیں گے اور اس دائرہ ضلالت سے باہر نکلنے کے لئے کوئی راہ اور روشنی آپ کو نہ مل سکے گی۔
وَاللہُ شَدِیْدُ الْعَذَابِ۔
حضور نبی کریم ﷺ کے سایہ کے مسئلہ میں تمہید سے فارغ ہوکر عامر صاحب نے محلِ نزاع نقل کرتے ہوئے ارقام فرمایا :
سب سے پہلے "محلِ نزاع" کو کاظمی صاحب کے الفاظ میں دیکھ لیجئے:
"اہلسنّت" (؟) کا مسلک یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بشری جسم اقدس کو ایسا لطیف ونظیف اور پاکیزہ ومطہر کردیا تھا کہ اس میں کسی قسم کی عنصری اور مادی کثافت باقی نہ رہی تھی، اس لئے چاند، سورج، چراغ وغیرہ کی روشنی میں جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوتے تھے تو جسم اقدس اس روشنی کے لئے حائل نہ ہوتا تھا، اور دیگر اجسام کثیفہ کی طرح حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے جسم پاک کا کوئی تاریک سایہ نہ پڑتا تھا

(ماہنامہ تجلی، دیوبند، بابت جون ۱۹۶۰ء، ص۴۷)

اس کے بعد میری اسی منقولہ عبارت پر تعاقب کرتے ہوئے عامر صاحب رقمطراز ہیں کہ:
"سلیم الطبع اور عدل پسند حضرات کے لئے تو اس نام نہاد مسلک کی لغویت کسی لمبی گفتگو کی محتا ج نہیں، اِن سالکین سے کوئی پوچھے، بول وبراز، منی، تھوک وغیرہ عنصری اور مادی کثافتیں ہیں یا نورانی لطافتیں؟ کیا آپ یوں بھی کہیں گے کہ  رسول ﷲ ﷺ حوائج ضروریہ سے مبرا تھے ؟ ہر گز یہ نہیں کہہ سکتے، پھر یہ کیا بات ہوئی کہ:
"کسی قسم کی عنصری اور مادی کثافت باقی نہیں رہی تھی"۔
"سلیم الطبع" کی ترکیب میں اگر آپ نے لفظ "سلیم" "سلمتہ الحیۃ" سے اخذ فرمایا ہے یا بطور "تفاؤل بالسلامۃ" لکھا ہے تو بالکل صحیح ہے، یقیناً لدیغ الطبع لوگوں کے نزدیک اس نورانی، پاکیزہ اور مقدس مسلک کی لغویت کسی لمبی گفتگو کی محتاج نہیں، لیکن جو لوگ گمراہی اور بدعقیدگی کے سانپوں کے ڈسے ہوئے نہیں اور ان کے طبائع اس قسم کے ناپاک زہریلے اثرات سے پاک ہیں وہ اسی کو حق سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ حضور نبی اکرم نور مجسم ﷺ ہر قسم کی کثافتوں اور نجاستوں سے قطعاً پاک اور مبرا ہیں۔
عامر صاحب نے ہمارے مسلک کو صرف ایک بنیادی نقطہ پر لغو قرار دیا ہے، اور وہ یہ کہ حضور ﷺ مادی کثافتوں اور بشری نجاستوں سے پاک نہ تھے اور اس دعوے کو انہوں نے بول وبراز، تھوک ومنی وغیرہ سے ثابت کرنے کی ناپاک کو شش کی ہے، اور جس طرح فقیر نے حضور ﷺ کی نورانیت ثابت کرکے سایہ نہ ہونے کو لوازمات سے قرار دیا تھا، اسی طرح عامر صاحب حضور ﷺ کی بشریت مطہرہ کو سامنے رکھ کر سایہ ہونے کو لوازم بشریت سے قرار دے رہے ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ سایہ ہونا مطلق بشریت کے لوازم سے نہیں بلکہ کثیف بشریت کے لوازم سے ہے، عامر صاحب نے حضور ﷺ کی بشریت منورہ کو معاذ اﷲ اپنی گندی، کثیف اور غلیظ بشریت پر قیاس کرلیا، حالانکہ حضور ﷺ کی ذات مقدسہ باوجود اتصاف بالبشریہ کے جمیع عیوب ونقائص بشریت اور تمام مادی کثافتوں اور غلاظتوں سے پاک ہے، تاریک سایہ کثافت کے بغیر نہیں ہوتا، جب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کثافت سے پاک ہیں تو تاریک سایہ سے بھی پاک ہیں، رہے حوائج بشریہ وفضلات مقدسہ تو یاد رکھئے حضور ﷺ کی ہر حاجت وضرورت کثافت سے پاک تھی، حتیٰ کہ فضلات شریفہ بھی طیب وطاہر، لطیف ونظیف تھے، اور بدن اقدس اپنی پاکی وطہارت، لطافت ونظافت میں بے مثل وبے نظیر تھا۔
حوائج بشریہ ضروریہ سے ہم حضور سیّد عالم ﷺ کو مستثنیٰ نہیں سمجھتے، مگر اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ حضور کی ذات مقدسہ میں عنصری اور مادی کثافتیں بھی موجود تھیں، ہر ایک کے حوائج وضروریات اس کے حسب حال ہوتے ہیں،، کثیف اور غلیظ موجودات کے حوائج وضروریات کثیف وغلیظ ہوں گے اور جس وجود اقدس کو اﷲ تعالیٰ نے کثافت وغلاظت سے پاک کرکے لطیف ونظیف بنادیا ہو اس کے حوائج ضروریہ بھی کثافت وغلاظت سے پاک اور لطیف ونظیف ہوں گے۔