السعید کے ظل نمبر

عدم سایہ وحسی وحقیقی نورانیت سرکار دو عالم ﷺ کے مسئلہ پر
عامر عثمانی صاحب کے تعاقب کا جواب


نگاہ نور کی حامل نہ ہو تو کیا کہئے
فروغ گیر کوئی دل نہ ہو تو کیا کہئے
یہ زندگی، یہ حرارت، یہ معرفت، یہ نگاہ
کسی میں جوہر قابل نہ ہو تو کیا کہئے


حضور سیّد عالم ﷺ کے سایہ کا مسئلہ ضروریات دین سے نہ تھا بلکہ مسائل ظنیہ میں بھی اس کی حیثیت فضائل ومناقب سے زیادہ نہ تھی، ایسے مسائل پر ہنگامہ آرائی اور طول نگاری ایک بے معنی سی بات تھی۔
لیکن ذاتِ انور ﷺ کی نورانیت کے منکروں نے نامعلوم اسباب کی بناء پر حضور کی ذات مقدسہ کے لئے مادی ظلمت وکثافت اور جسمانی نجاست وغلاظت ثابت کرنے اور جسم اقدس کا تاریک سایہ زبردستی منوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا اور اس موضوع پر متعدد رسائل وجرائد میں پے درپے مضامین آنے شروع ہوگئے۔
فقیر اس غوغہ آرائی سے بالکل بے خبر تھا، اچانک احباب کے کئی خطوط جن میں مخالفین اور منکرینِ کمالاتِ نبوت کے دلائل ومضامین کے چند مختصر نوٹ درج تھے، چونکہ جواب کے لئے شدید اصرار کیا گیا تھا، اس لئے وہی مختصر نوٹ سامنے رکھ کر جواب لکھا گیا، اور طویل ہوجانے کے باعث"السعید" کے دو پرچوں(بابت ماہ اپریل ومئی ۱۹۶۰ء) کا مجموعہ قرار دے کر اسے اواخر اپریل میں"ظل نمبر" کے نام سے شائع کردیا گیا، اور محض نیک نیتی کی بنا ء پر ان لوگوں کو خاص طور پر بھیجا گیا جنہوں نے حضور سیّد عالم نور مجسم ﷺ کی نورانیت کا انکار کرکے جسم اقدس کے لئے معاذ اﷲ تاریک سایہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، میرا مقصد یہ تھا کہ نفی واثبات کے تمام دلائل اور اپنا جائزہ ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ ان پر بھی حق واضح ہوجائے اور شاید وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز آکر حق کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور قائلین نورانیت حضور مزید روشنی قلب حاصل کریں، مگر بمصداق
یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا، منکرین کی ضلالت میں مزید تاریکی وظلمت پیدا ہوئی اور معتقدین کے قلوب روشن ومنور ہوگئے۔
دیوبند میں کوئی عامر صاحب ہیں، اس سے پہلے کبھی ان کا نام تک سننے میں نہ آیا تھا مگر اس وقت وہ اپنی مخصوص جارحانہ طرزِ نگارش کے آئینہ میں ہمارے سامنے بے حجاب ہو کر آرہے ہیں، اور آہستہ آہستہ ناظرین کے سامنے بھی بے نقاب ہوتے چلے جائیں گے۔
جیسا کہ ابھی عرض کیا جاچکا ہے حقیقت یہ ہے کہ نورانیت نبی اکرم ﷺ کے منکرین اور جسم اقدس کے لئے تاریک سایہ ماننے والوں کا کوئی رسالہ یا اخبار"رسالہ ظل نبی" کے سوا فقیر کی نظر سے نہیں گزرا بلکہ احباب کے خطوط میں ان کے بعض اقتباسات سامنے آئے جن کا جواب میں نے لکھا تھا اور آغازِ مضمون میں اس کا اظہار بھی کردیا تھا، لیکن عامر صاحب نے بفحوائے "
المرٔیقیس علی نفسہٖ" اس اظہار حقیقت کو میری بددیانتی پر محمول کیا، چنانچہ میری عبارت نقل کرکے اس پر تعاقب کرتے ہوئے جون ۱۹۶۰ء کے پرچہ میں رقمطراز ہیں:
"سایہ نہ ہونے کے فتوے پر نقد فروری ومارچ ۱۹۵۹ء کے تجلی میں شائع ہوا تھا، گویا ایک سال سے بھی زیادہ گزرا، اس کے بعد اگر کبھی تجلی میں اس موضوع کا ذکر آیا ہے تو محض ضمناً اور سرسری، اَب سوا سال بعد اپریل ومئی ۶۰ء میں کاظمی صاحب کا یہ ظاہر کرنا کہ احباب نے بس تقریباً ایک ہی مہینے سے توجہ دلائی اس قدر عجیب ہے کہ قیاس ودرایت کا کلیجہ منہ کو آتا ہے، اس اظہار سے شاید یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ سایہ نہ ہونے کے بارے میں تجلی یا کسی اور نے جو دلائل سامنے رکھے ہیں ان کی کمزوری واضح کرنے میں ہمیں کسی طویل فکروتلاش کی احتیاج نہیں ہوئی بلکہ ہم تو اطلاع ملتے ہی انہیں اُدھیڑکر پھینکے دے رہے ہیں اور اپنے عقیدہ ومسلک کے اثبات میں بے شمار دلائل قاطعہ کا انبار چشمِ زدن میں آگے رکھ رہے ہیں، یہ تاثر ہے شاندار معلوم نہیں فقہ اسے گناہ وثواب کے کس خانہ میں رکھے گی"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۵)

جوابا گزارش ہے کہ آپ نے محض سوء ظن کی بنا پر جس تاثر دینے کو میری طرف منسوب کیا ہے اور اس کے لئے فقہ کے گناہ وثواب کے خانے ٹٹولے ہیں بفضلہٖ تعالیٰ میرے ذہن کے کسی گوشہ میں اس کا تصور تک نہیں البتہ اس بدگمانی کی وجہ سے بمقتضائے "اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ" کتاب اﷲ نے آپ کے اس تاثر کو یقیناً گناہ کے خانے میں رکھ دیا ہے، اے کاش آپ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرتے تو آپ کا قیاس مع الفارق اور درایت بے بصیرت کا کلیجہ منہ کو نہ آتا، اس کے بعد آپ نے میرے ایک اور فقرے پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے :
"سب جانتے ہیں اعلیٰ حضرت احمد رضا خان صاحب بریلوی کو اپنا مقتدا ماننے والوں کی تعداد ہندوپاک میں آٹے میں نمک کے برابر ہوگی، یا چلئے آٹے میں بھوسی کے برابر کہہ لیجئے"۔ الخ

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۵)

جی صحیح فرمایا، اعلیٰ حضرت کو اپنا مقتدیٰ ماننے والوں کی تعداد آٹے میں بھوسی کے برابر سہی، لیکن حضور ﷺ کے جسم اقدس کا تاریک سایہ ماننے والوں کی تعداد تو ساری دنیا میں زیادہ سے زیادہ آٹے میں گھُن کے برابر ہوگی یا چلئے آٹے میں چوہوں کی مینگنیوں کے برابر کہہ لیجئے، پھر آپ کی یہ تعلیاں کس بل بوتے پر ؟
عامر صاحب خود ستائی نہیں بلکہ تحدیثِ نعمت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ:
"ہمارے نقد نے بفضلہٖ تعالیٰ ایک خلاف واقعہ عقیدے کی بیخ کنی اس مضبوطی کے ساتھ کی تھی کہ کسی غیر جانبدار اور انصاف پسند قاری کے لئے ریب وشک کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی"۔ الخ

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۳)

جس نقد میں کسی قاری کے لئے ریب وشک کی گنجائش نہ رہ گئی ہو اگر آپ اسے"لاریب فیہ" بھی کہہ دیں تو ہم اس کہنے سے بھی اس کو خود ستائی نہیں بلکہ تحدیث نعمت پر ہی محمول کرلیتے، لیکن سوال یہ ہے کہ "ریب وشک" کیفیات قلبیہ سے ہے اور قلبی کیفیات امور غیبیہ سے ہیں، یہ غیب دانی کا مال غنیمت آپ کو کہاں سے ہاتھ لگ گیا جس پر تحدیث نعمت فرمائی جارہی ہے، مگر نہیں، الفاظ کو چھوڑئیے آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہم نے جو رسول اﷲ ﷺ کے جسم اقدس کے لئے مادی کثافتیں ثابت کیں اور حسّی نورانیت کی نفی کرکے حضور کا تاریک سایہ ثابت کیا، ہمارا یہ کارنامہ ایک نعمت ہے جس کا شکریہ ہم تحدیثِ نعمت کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔
اُف رے بیباکی اور دریدہ د ہنی ان گستاخوں کو ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ"نعمت اﷲ" خود حضرت محمد رسول اﷲ ﷺ ہیں جن کی نورانیت لطافت اور پاکیزگی درحقیقت ان کے معجزات، معالم نبوت اور دلائل رسالت ہیں جن کا انکار نعمت اﷲ کو بدلنا اور
الَّذِیْنَ بَدَّ لُوْا نِعْمَۃَ اللہِ کُفْرًاکا مصداق بننا ہے۔
عامر صاحب نے اپنی طویل تمہید میں طعن وتشنیع کی بھرمار کرتے ہوئے جس طنزوتمسخر کے ساتھ اپنی ذہنیت کا اظہار کیا ہے ہمیں اس کا شکوہ نہیں۔


دشنام اگر دہد

 چارہ نبود بجز شنیدن


ہمیں ان کے اندازِ نگارش سے بخوبی اندازہ ہوگیا کہ تکبر وتعلّی، نخوت وغرور، سب وشتم، طعن وتشنیع ان کی طبیعت ثانیہ ہے۔ ع


"مقتضائے طبیعتش ایں است"


البتہ افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے اپنی تمہید میں حقائق کو توہمات، ہدایت کو ضلالت، علم وعقل کو جہالت، استدلال کو تک بندی کہہ کر ایک حقیقت کو جھٹلانے کی مذموم کوشش کی ہے اور اہل سنت کے مسلک کے ساتھ شدید تمسخر ہی نہیں بلکہ انتہائی بددیانتی کے ساتھ نہایت مکروہ صورت میں مسخ کرکے پیش کیا ہے اور حضور ﷺ کو جسم اقدس کے تاریک سایہ سے مبرا ماننے والوں کے حق میں نہایت نازیبا الفاظ لکھے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ حضور سیّد عالم ﷺ کی ذات مقدسہ کے لئے عوام کی طرح جسمانی ظلمتوں، نجاستوں اور غلاظتوں کو ثابت کرنے کے لئے پیشاب، پاخانہ، تھوک اور منی کا ذکر انتہائی بے حیائی، بے باکی اور دریدہ دہنی کے ساتھ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی نورانیت ولطافت اور تاریک سایہ سے جسم اقدس کے مبرا ہونے کے مسئلہ کو اسلامی اور مذہبی نظر سے نہیں بلکہ خالص مادہ پرستی کی آنکھ سے دیکھا ہے۔
انہوں نے ہمارے تعاقب میں بے راہ روی کے باعث ٹھوکریں بھی ایسی کھائی ہیں کہ انشاء اﷲ عمر بھر کراہتے رہیں گے۔
ان ٹھوکرں کی اصل وجہ یہ ہے کہ جس مقصد کے لئے قدرت نے جو طریقِ کار مقرر کیا ہے اس کی خلاف ورزی ہمیشہ ایسے ہی مہلک نتائج پر منتج ہوا کرتی ہے، برائی کی راہوں پر چل کر اچھائی نہیں ملا کرتی، شمال کی طرف رُخ کرکے چلنے والا کبھی مشرق نہیں پہنچ سکتا، اسلامی مسائل کو جاہلیت کے اصول پر نہیں پرکھا جاسکتا، حضور ﷺ کی بشریت مطہرہ کا مادی کثافتوں اور تاریک سایہ سے پاک ہونا خالص دینی اور مذہبی مسئلہ تھا، مگر عامر صاحب نے مذہبیات سے ہٹ کر لامذہبیات کی دنیا میں اس کا جائزہ لیا اور اسلامی مسئلہ کو خالص غیر اسلامی نظر سے دیکھا اس میدان میں ان کا اندازِ فکر قطعاً لادینی طرز کا ہے۔ ؎


ترسم نرسی بہ کعبہ اے اعرابی
ایں رہ کہ میروی بہ ترکستان است


عامر صاحب نے اکمل واحسنِ کائنات ﷺ کا قیاس دیگر ظلماتی مادیات پر کیا، اور اس فاسد بنیاد پر فساد کی عمارت کھڑی کردی، انہوں نے شرعیات واسلامیات سے منہ پھیر کر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے سایہ نہ ہونے کے معجزے اور دلیل نبوت کو مادیات وطبعیات کی تاریکیوں میں تلاش کرنا شروع کردیا، دیکھئے وہ لکھتے ہیں:
"ٹھوس اشیاء کا روشنی کے پھیلاؤ میں حائل ہوکر سایہ دینا طبعیات کا مسئلہ ہے، اس سے آیات الٰہیہ کا کوئی رابطہ نہیں"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۵۳)

دیکھا آپ نے! عامر صاحب کے چلتروں نے بیک جنبشِ قلم ایک شرعی مسئلہ کو طبعیاتی مسئلہ بنا دینے اور آیات الٰہیہ سے اس کا ربط توڑ پھوڑ کر رکھ دینے کی کتنی بیباکانہ جسارت کی ہے، حالانکہ قرآن مجید کی کئی آیتوں سے یہی لوگ سایہ ہونے پر دلیل لایا کرتے ہیں، معلوم ہوا کہ وہ استدلال باطل ہے یا وہ قرآنی آیات معاذ اﷲ آیات الٰہیہ نہیں، بالفرض اگر آپ کے نزدیک واقعی اس مسئلہ کو آیات الٰہیہ سے کوئی رابطہ نہیں تو پھر ہمارے تعاقب میں آپ کا پوری بائیس آیتیں لکھنا قرآن مجید کے ساتھ تمسخر نہیں تو کیا ہے ؟ طبعیاتی مسائل کو سامنے رکھ کر آیات الٰہیہ سے کھیلنا خدا ورسول کے ساتھ مذاق کرنا ہے، کوئی شخص جس کے دل میں ادنیٰ درجہ کا خوف خدا ہو وہ ایسی جرأت نہیں کرسکتا۔
شرعیات کو طبعیات والٰہیات اور اسی طرح ریاضیات کے سانچے میں ڈھالنا ہی وہ اندازِ فکر ہے جس کی بنا پر ملاحدہ نے وجودِ صانع، توحید باری، نبوت ورسالت، ملائکہ کرام، معجزات وخوارق انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا اور معاذاﷲ معظماتِ دینیہ کا مذاق اُڑایا۔
نیچریوں نے تمام معجزات وخوارق انبیاء علیہم السلام بالخصوص معراج جسمانی کا انکار ان طبعیات کے ظلمات میں کھوئے جانے کے باعث کیا، مادہ پرستوں نے قیامت، حشر ونشر، جزا وسزا، دوزخ وجنت وغیرہ حقائق غیبیہ پر ایمان رکھنے کو فرضی مزعومات، باطل وفاسد توہمات کہہ دیا، مرزائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اُٹھائے جانے اور اَب تک وہاں زندہ رہنے اور قرب قیامت میں نازل ہونے کے اعتقاد کو اسی طبعیات کی دلدل میں پھنس کر معاذاﷲ لغو اور بیہودہ تخیلات، اوہام پرستی، جہالت وحماقت قرار دے دیا۔
آج اسی طبعیات ومادیات کے سہارے پر بالکل وہی اندازِ فکر لے کر آپ بھی اُٹھے ہیں اور آپ نے اسی طرح مسائل شرعیہ اور کمالات نبویہ کے ساتھ تمسخر شروع کیا ہے جس طرح معتقداتِ اسلامیہ کے ساتھ آپ کے پیش رو جاہلیت اور مادہ پرستی کی تاریکیوں میں مبتلا رہنے کے باعث اَب تک تمسخر کرتے چلے آئے ہیں۔
جاہلی نظریات اور مادہ پرستی کی ظلمت ہی کا نتیجہ ہے کہ حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے پر قرآن وحدیث کے سورج سے زیادہ چمکتے ہوئے دلائل، ائمہ سلف کی واضح عبارات موجود ہوتے ہوئے ملاحدہ کی اتباع میں حضور ﷺ کی بشریت اور جسمانیت کو حضور ﷺ کے سایہ ہونے کی اٹل دلیل سمجھ لیا گیا، اور دلائل شرعیہ کو یہ کہہ کر پس پشت ڈال دیا گیا کہ"روشنی" میں ٹھوس مادی چیزوں کا سایہ ہونا طبعیاتی مسئلہ ہے آیات الٰہیہ سے اس کا کوئی رابطہ نہیں۔
جو لوگ اپنے سینہ میں ایمان وایقان کے جلوے رکھتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی ذات وصفات، اس کی قدرت وحکمت پر ان کا ایمان ہے ان کے نزدیک قدرتِ خداوندی سے یہ امر ہر گز بعید نہیں کہ اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کی بشریت اور جسمانیت کو اتنا منور اور لطیف کر دے کہ جسمانی کثافتیں بالکل دُور ہوجائیں، حتیٰ کہ تاریک سایہ بھی باقی نہ رہے۔
افسوس ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ معاذاﷲ ظلم وکذب جیسے بد ترین عیوب ونقائص کو اﷲ تعالیٰ کے لئے ممکن مان کر ان کا تحتِ قدرت ہونا تسلیم کرلیتے ہیں، لیکن جسمانیت وبشریتِ محمد مصطفیٰ ﷺ کا سایہ سے پاک ہونا ان کے نزدیک ایسا امرِ محال ہے جس پر ان کے نزدیک اﷲ تعالیٰ قادر ہی نہیں، معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ۔ عامر صاحب کی اخلاقی پستی اور کم حوصلگی قابل دید ہے کہ اپنے جس پرچہ میں ہمارے مضمون پر تعاقب کیا تھا، اس کی ایک کاپی تک ہمیں نہ بھیجی حالانکہ ہم نے "ظل نمبر" ان کے پاس دیوبند بھیج دیا تھا، انہوں نے جون کے پرچہ میں ظل نمبر پر تعاقب کیا تھا جس کا ہمیں کچھ علم نہ ہوسکا، حسن اتفاق سے ایک محترم دوست نے بذریعہ خط اطلاع دی کہ السعید کے ظل نمبر پر تعاقب کیا گیا ہے، ساتھ ہی اس خط میں یہ اصرار تھا کہ اس کا جواب السعید ہی کے صفحات پر آنا چاہئے، تعاقب کی اطلاع پانے کے بعد کئی دن تک وہ پرچہ ہمیں نہ مل سکا بالآخر مرزا ریاض احمد صاحب حافظ آبادی نے لاہور سے وہ رسالہ ہمیں بھیجا۔
جس کے دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ عامر صاحب ہمارے تعاقب میں اتنے بے تحاشا دوڑے ہیں کہ ٹھوکریں کھانے، گرنے پڑنے کا بھی انہیں احساس نہ ہوا اور ہانپتے کانپتے ہماری پیش کردہ دو آیتوں میں سے صرف ایک آیت کے جواب میں پورے اٹھارہ صفحے سیاہ کرڈالے ہیں مگر جو لوگ محض طعن وتشنیع اور الفاظ کے اُتار چڑھائو سے مرعوب ہونے والے نہیں وہ ان کا مضمون پڑھ کر اندازہ کر سکتے ہیں کہ عامر صاحب نے چند بے تکے سوقیانہ اور طنزیہ فقرے بول کر آفتاب سے زیادہ روشن اور پہاڑ سے زیادہ وزنی حقیقتوں کا منہ چڑایا ہے، جن لوگوں نے"ظل نمبر" میں میرے مضمون کو بغور پڑھا ہے وہ خوب سمجھتے کہ عامر صاحب کے تعاقب کا کوئی جز ایسا نہیں جس کا جواب دفع دخل مقدر کے طور پر میرے مضمون میں نہ آگیا ہو اور اسی وجہ سے ان کا تعاقب قطعاً لائق التفات نہ تھا مگر صرف اس لئے اس کی طرف توجہ کی گئی کہ عامر صاحب یا ان کے حواری کہیں اس خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ ہم نے ظلمت وکثافت کی جن بنیادوں پر حضور ﷺ کے لئے سایہ ثابت کیا تھا انہیں کوئی ہلا نہ سکا، اس لئے مجبوراً ہمیں کچھ لکھنا پڑا، اور ان شاء اﷲ آگے چل کر ناظرین کرام دیکھ لیں گے کہ عامر صاحب کا تعاقب علم و استدلال کے سمندر کی موجوں میں خس وخاشاک سے بھی زیادہ بے وقعت ہے۔
اہم ترین مسائلِ دینیہ میں بحث وتمحیص کے لئے پختہ کاری اور مضبوط علمی قابلیت کی ضرورت ہے، اہل علم سے مخفی نہیں کہ عامر صاحب نے اپنے علم واستدلال اور قابلیت کے بڑے لمبے چوڑے دعوے کئے ہیں، آئیے! اصل مقصد سے پہلے لگے ہاتھوں ذرا ان کی علمی قابلیت کا تھوڑا سا جائزہ لیتے چلیں۔
عامر صاحب "السعید" سے میری ایک عبارت نقل کرنے کے بعد اس پر جرح کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں :
"آپ معمولی سا دعویٰ کریں تو معمولی دلیل بھی چل سکتی ہے، لیکن بہت بڑا دعویٰ کرنے کی صورت میں بہت مضبوط دلیل دینی ہوگی، آپ کہتے ہیں کہ فلاں شخص پر میرا ایک روپیہ قرض ہے تو اس قول کو بہت معمولی سی دلیل پر بھی قبول کیا جاسکتا ہے، لیکن آپ کہیں کہ زید پر میرے بیس ہزار روپئے قرض ہیں تو اس کے لئے معمولی شواہد اور دلائل کافی نہ ہوں گے بلکہ آپ کو صریح ومحکم طور پر ثبوت لانا ہوگا اور اگر ذرا سی بھی شک کی گنجائش نکل آئی تو اس کا فائدہ مدعا علیہ کو پہنچے گا اور آپ کا دعویٰ منہ پر مار دیا جائے گا

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۸)

دعوے کے مطابق دلیل کا ہونا تو مسلمات میں سے ہے، آپ کی اس فضول اور اول جلول جرح سے آپ کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے نہ ہمارے مضبوط ومستحکم دلائل میں ضعف آسکتا ہے، میں نے اپنے مضمون میں نہایت تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ کی وضاحت کردی تھی، اگر کوئی شپرہ چشم نہ دیکھے تو ہمارا کیا گناہ؟ دعوے کے مطابق دلیل نہ ہونے کی جو مثال آپ نے لکھی ہے چشم بددور! وہ آپ کی علمی قابلیت کا قابل دید شاہکار ہے۔
اس کی مثال میں اگر آپ کہہ دیتے کہ مثلاً ایک شخص ضب(گوہ) کی حرمتِ قطعیہ کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی دلیل میں کوئی محتمل اور ظنی دلیل قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ دعویٰ قطعیت کا ہے اس کی دلیل بھی قطعی ہونی چاہئے، مگر آپ نے یہ مثال صرف اس لئے نہیں لکھی کہ میں نے اپنے مضمون میں یہ سب کچھ بیان کردیا تھا، اور یہ مثال بجائے آپ کے میرے حق میں مفید رہتی، لہٰذا آپ نے اس قسم کی مثال سے قصداً اعراض کیا اور اس کی بجائے ایک روپیہ اور بیس ہزار روپئے کی مثال کے چکر میں پھنس کر لکھ ڈالا کہ:
"آپ کہتے ہیں کہ فلاں شخص پر میرا ایک روپیہ قرض ہے تو اس قول کو بہت معمولی سی دلیل پر بھی قبول کیا جاسکتا ہے، لیکن آپ کہیں کہ زید پر میرے بیس ہزار روپئے قرض ہیں تو اس کے لئے معمولی شواہد اور دلائل کافی نہ ہوں گے"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۸)

عامر صاحب! سبحان اﷲ کیا مہاجنی ذہنیت کا اظہار کیا ہے آپ نے اس مثال میں، غالباً آپ فاضل دیوبند تو ہوں گے؟ فقہ پڑھنے والا ایک معمولی طالب علم بھی جانتا ہے کہ حقوقِ مالیہ کے ثبوت میں جو شہادت شرعاً معتبر ہے وہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت ہے، مال تھوڑا ہو یا بہت، ایک روپیہ ہو یا بیس ہزار، نصاب ِ شہادت ہر صورت میں یہی رہے گا، ذرا دار العلوم کے کتب خانہ سے ہدایہ جلد ثالث نکلوا کر سامنے رکھئے اور تصور شیخ کی نوعیت سے ہمارا تصور کرکے یہ صریح عبارت پڑھئے۔
وما سویٰ ذٰلک من الحقوق یقبل فیھا شہادۃ رجلین او رجلٍ وامرأتین سواء کان الحق مالًا او غیر مالٍ مثل النکاح والطلاق والوکالۃ والوصیۃ ونحو ذلک"۔ انتھٰی
"اور اس کے سوا باقی حقوق میں دو مردوں کی شہادت قبول کی جاتی ہے، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی، برابر ہے کہ حق مال ہو یا غیر مال، جیسے نکاح، طلاق، وکالہ، وصیۃ"۔
پھر اسی ہدایہ جلد ثالث میں یہ عبارت بھی دیکھئے :
"
ویقبل قولہ فی القلیل و الکثیر لا بل ذلک مال فانہ اسم لما یتمول بہ الا انہ لا یصدق فی اقل من درھم لانہ لا یعد مالًا عرفً"۔ انتھٰی
"اس کا قول قلیل وکثیر میں مقبول ہوگا، اس لئے کہ یہ سب مال ہے تو جس چیز سے تمول کیا جائے وہی مال ہے، مگر ایک درہم سے کم پر وہ صادق نہ آئے گا، کیونکہ عرفاً وہ مال شمار نہیں کیا جات"۔
غور کیجئے، یہ عبارت اس مفہوم کو کس وضاحت کے ساتھ ادا کررہی ہے کہ جو چیز مال ہو اس کا قلیل وکثیر ہونا شہادت واقرار کی قبولیت وعدم قبولیت میں کوئی فرق پیدا نہیں کرتا، ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ عرفاً مال ہو جیسے ایک روپیہ اور بیس ہزار روپئے، یہ دونوں عرفاً مال ہیں، کیا عامر صاحب کتاب وسنت کی روشنی میں مجھے بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سی معمولی دلیل ہے جس سے کسی پر ایک روپیہ کے قرضے کا دعویٰ ثابت ہوجائے اور بیس ہزار کا دعویٰ ثابت نہ ہوسکے، شرعیات اور مذہبیات کی روشنی میں تو انشاء اﷲ وہ قیامت تک نہ بتا سکیں گے، البتہ موجودہ دور کے لادینی اور بھارت کے مہاجنی طور طریقوں کو پیش نظر رکھ کر ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ کہہ بھاگیں، جس پر کوئی مذہبی آدمی کان نہیں دھر سکتا نہ کوئی مسلمان بحیثیت مسلمان ہونے کے اسے قبول کرسکتا ہے۔
عامر صاحب کی اس علمی مثال کے شاہکار کو دیکھ کر ناظرین کرام نے ان کی ٹھوس قابلیت اور علم واستدلال کا پوری طرح جائزہ لے لیا ہوگا اور اس حقیقت کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہوگا کہ وہ دینی مسائل کو لادینی دلائل سے ثابت کرنے کی تلبیس میں کتنے ماہر ہیں، جس کی طرف اس سے پہلے بھی ہم اپنے ناظرین کرام کو متوجہ کرچکے ہیں۔
اَب اصل مقصد کی طرف آئیے اور دیکھئے کہ عامر صاحب نے ہمارے تعاقب میں کیسے پاپڑ بیلے ہیں۔
حضور ﷺ کا سایہ نہ ہونے کے عقیدہ کی شرعی حیثیت جو عامر صاحب کے نظریات کی روشنی میں ظاہر ہوئی ہے وہ ان کی حسب ذیل عبارت سے واضح ہے۔
"سایہ ہونا نہ ہونا بظاہر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن عملی زندگی جن داخلی افکار وعقائد کے سہارے آگے بڑھتی ہے ان سے اس مسئلہ کا گہرا ربط ہے، بدعات وخرافات نے توحید ورسالت کے تصور کو جس قدر غبار آلود بنادیا ہے وہ ایک تاریخی ٹریجڈی ہے جس کی کسک ہر درد مند مومن بری طرح محسوس کرتا ہے، دیو مالائی انداز کے تصورات عامۃ المسلمین کے ذہنوں پر چھاگئے ہیں، واہی عقائد نے دل ودماغ کی بنیادیں کھوکھلی کرکے رکھ دی ہیں، اور گمراہی وبے دانشی کا ایسا نقشہ فضائے ایمان پر چھاگیا ہے کہ عملی زندگی اور حقائق سے آنکھیں چار کرنے کا یارا ہی باقی نہیں رہ گیا، ایسے عالم میں کسی ایک بھی گمراہ کن عقیدہ کو اکھاڑ پھینکنا اور توحید ورسالت کے عارض سے جتنی بھی گرد ہوسکے جھاڑ دینا ہمارے نزدیک بہت مفید اور نتیجہ خیز ہے، پھر یہ بھی ملحوظ رکھئے کہ سایہ نہ ہونے کے لئے بے بنیاد عقیدہ کی تصدیق آج کے دارالعلوم (دیوبند) نے کی ہے اور دارالعلوم (دیوبند) اپنی مرکزیت کے باعث بڑے دُور رس اثرات رکھتا ہے، جو گمراہی یہاں سے چلے گی وہ آندھی اور طوفان کی طرح پھیلے گی، اسی لئے ہم نے مفتی دارالعلوم کے فتوے پر پہلے ہی سخت گرفت کی تھی، اور اَب بھی ہماری طول نگاری زیادہ تر اسی لئے ہے، آج کے دارالعلوم کی حیثیت عوام الناس پر واضح ہوجائے"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴)

اس کے بعد عامر صاحب اسی سایہ کی بحث کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ:
"بہر حال سایہ کی بحث سے ہمیں ایک ضرر رساں عقیدہ کی تردید کے ساتھ ساتھ یہ بھی دکھانا مقصود ہے کہ آج کے مفتی دارالعلوم علم ودیانت کے تقاضوں سے کس درجہ بے نیاز ہیں"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۵)

اِن عبارات سے یہ ترشح ہورہا ہے کہ عامر صاحب معدومیت ظل النبی کی مخالفت کے پردہ میں صرف مفتی دارالعلوم ہی کے نہیں بلکہ ایک اہتمام وانتظام وارکانِ ادارہ کے اخراج وانقطاعِ اختیارات کے درپے ہیں، اور کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت دارالعلوم میں کوئی تازہ انقلاب لا کر اپنے اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں، خیر ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں اس امر کی طرف توجہ کرنا ارکانِ دارالعلوم کا کام ہے۔
چند سطور کے بعد اسی معدومیتِ سایہ کے عقیدہ کے متعلق گلفشانی کرتے ہیں:
"ہم نے پہلے بھی کہا تھا اور اَب بھی اعلانیہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ کا سایہ نہ ہونا ایک بے بنیاد طبع زاد عقیدہ ہے"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۵)

اِن تینوں عبارتوں سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کا سایہ نہ ہونے کا عقیدہ ان کے نزدیک بدعت، خرافات، تصور توحید ورسالت پر غبار، صریح گمراہی اور بے دانشی ہے، نہ صرف یہ بلکہ یہ عقیدہ نہایت ضرر رساں بے بنیاد اور طبع زاد ہے۔
اِس مفہوم کو ذہن نشین کرنے کے بعد یہ دیکھئے کہ عامر صاحب نے رسول اﷲ ﷺ کا سایہ نہ ہونے کا عقیدہ رکھنے والوں کی شرعی حیثیت کیا بیان کی ہے، وہ رقمطراز ہیں :
"ہمیں پہلے بھی یقین تھا اور اب بھی یقین ہے کہ رسول اﷲ کا سایہ نہ ہونے کی بے اساس بات صرف ایسے ذہنوں کو ہضم ہوسکتی ہے جو یا تو طبعاً وہم پرست، مبالغہ کیش اور عجائب پسند ہوں یا پھر جذباتی مغلوبیت نے ایک حادثے اور اُفتاد کے طور پر ان کے قدرتی سسٹم پر کوئی ایسا ہی اثر ڈالا ہو، جیسا بخار آدمی کے نظامِ کان ودہن پرڈالا کرتا ہے"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۴)

نیز اسی عقیدہ رکھنے والوں کے متعلق آگے چل کر عامر صاحب وضاحت کے ساتھ لکھتے ہیں :
"جو فرد یا گروہ شعر کی زبان میں نہیں بلکہ حقیقی معنی میں اہل سنت ہوگا " وہ قیامت تک ایسی بے سروپا اور فتنہ انگیز حرکت نہیں کرے گا کہ جس پیغمبر ؈ کی بشریت کے اثبات میں اﷲ جل شانہٗ متعدد صریح ومحکم آیات نازل فرمارہے ہیں اور جس کی بشریت عین مشاہدہ اور تمام عالم کے نزدیک حقیقت ثابتہ ہے اسے حدودِ بشریت سے باہر لاکر مادی وطبعی اوصاف ولوازم سے بالا تر ثابت کرنے کی کوشش کرے وہ سایہ نہ ہونے کی بات سن کر جھومے گا نہیں کہ میرے نبی کی شان بڑھ رہی ہے، بلکہ خطرہ کی آہٹ پاکر چونک پڑے گا کہ یہ تو قصرِ نبوت میں وہی چور دروازہ کھولا جارہا ہے جس کی راہ سے مسیح ابن مریم اﷲ کے بیٹے بنائے گئے"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۶)

ان دونوں عبارتوں کے خط کشیدہ الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ عامر صاحب کے نزدیک رسول اﷲ ﷺ کے سایہ نہ ہونے کا عقیدہ رکھنے والے وہم پرست، مبالغہ کیش، عجائب پسند ہیں اور جذباتی مغلوبیت نے ان کے قدرتی سسٹم پر ایسا اثر ڈال دیا ہے، جیسا بخار آدمی کے تمام جسمانی نظام پر اثر ڈال دیتا ہے، نیز ایسا عقیدہ رکھنے والے ان کے نزدیک اہل سنت سے خارج ہیں، اور ان کا یہ عقیدہ فتنہ انگیز اور قرآن کریم کی صریح ومحکم آیات کے خلاف ہے، نہ صرف یہ بلکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے سایہ نہ ہونے کا عقیدہ قصرِ نبوت میں ایک ایسا چور دروازہ ہے جس کی راہ سے مسیح ابن مریم اﷲ کے بیٹے بنائے گئے۔
تمام عباراتِ منقولۂ بالا کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ عامر صاحب کے نزدیک رسول اﷲ ﷺ کا سایہ نہ ہونے کا اعتقاد از قبیل بدعات وخرافات، ضلالت وگمراہی، عیسائیت ونصرانیت اور عقیدۂ توحید ورسالت کے منافی بلکہ قصرِ نبوت میں معاذ اﷲ حضور کی الوہیت کا ایک چور دروازہ ہے۔
عامر صاحب نے رسول اﷲ ﷺ کے سایہ سے پاک ہونے کے عقیدہ کو بدعت، گمراہی اور عیسائیت ونصرانیت قرار دیا، حالانکہ اسلاف کرام اور ائمہ دین میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ہے، چونکہ عامر صاحب خود مَرے دل اور دبی زبان سے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
"ہزاروں ہزار علماء اور ائمہ میں شاید گنے چنے ایسے نکلیں جنہوں نے اپنے خاص احوال یا جذباتی مغلوبیت یا اپنی افتاد طبع، یا کسی ہنگامی ترغیبِ ذہنی کے تحت رسول اﷲ کا سایہ نہ ہونے کو واقعہ گمان کرلیا ہو"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۶)

عامر صاحب نے اپنی افتاد طبع سے مجبور ہوکر یہ بے جا قیود حق گو ائمہ پر لگا ڈالیں مگر اس کے باوجود اس حقیقت کا انہیں اقرار کرنا ہی پڑا کہ علمائے اُمت وائمہ دین میں ایسے حضرات ضرور پائے جاتے ہیں جن کے نزدیک رسول اﷲ ﷺ کا سایہ نہ ہونا امر واقع ہے، اسی بحث میں ایک اور جگہ رقمطراز ہیں :
"بجا کہ اسلاف میں بعض ایسے بزرگ بھی سایہ نہ ہونے کی بے اصل بات کے فریب میں آگئے ہیں جن کے علم وفضل پر اُنگلی مشکل ہی سے اُٹھائی جاسکتی ہے، جن کے ذہنوں کو فاسد وکاسد کہنا بے جا جسارت ہوگی اور جن کی عام قدر ومنزلت شبہ سے بالا تر ہے، لیکن شکر ہے کہ وہ انبیاء نہیں تھے، صحابی بھی نہیں تھے، تابعی بھی نہیں تھے، بلکہ ہمارے ہی جیسے اُمتی تھے جو زہدوعبادت کے ذریعہ امام وقطب اور شیخ ومرشد بن سکتے ہیں لیکن خطاونسیان سے بالا تر نہیں ہوسکتے"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۴)

اس عبارت میں بھی عامر صاحب نے مَرے دل سے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اسلاف کرام میں ایسے بزرگ ہوئے ہیں جو حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے معتقد تھے، جن کے علم وفضل پر اُنگلی اُٹھانا مشکل ہے اور ان کے ذہنوں کو فاسد وکاسد کہنا جسارت بے جا ہے جن کی قدرومنزلت شبہ سے بالا تر ہے، جو عابدوزاہد، امام وقطب، شیخ ومرشد کا مقام رکھتے تھے، البتہ وہ نبی، صحابی اور تابعی نہ تھے جو خطا ونسیان سے بالا تر ہوں، (ماشاء اﷲ کیا توجیہ متکلمانہ ہے)۔
عدمِ سایہ رسول اﷲ ﷺ کے اعتقاد کو معاذ اﷲ گمراہی بدعت اور عیسائیت قرار دینے والے عامر صاحب ذرا یہ تو بتائیں کہ اس گمراہی اور نصرانیت میں مبتلا ہونے والے لوگ! اسلاف، بزرگ، اہل علم ودانش، صاحبان فضل وکمال، صحیح الذہن، شبہات سے بالا تر، امام، قطب اور شیخ ومرشد بھی بن سکتے ہیں، یا للعجب
آپ کے انقلابی ذہن کی داد نہیں دی جاسکتی، جو عقیدہ آپ کے نزدیک ضلالت وگمراہی، بدعت وجہالت، عیسائیت ونصرانیت کا حکم رکھتا تھا وہ بیک جنبش قلم خطاونسیان کی صورت میں تبدیل ہوکر رہ گیا، کیا کہنا آپ کی جرأت وجسارت کا، مذہبیات میں یہ تغیر وتبدل؟ دین کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر کیا سادگی سے فرماتے ہیں:
"لیکن شکر ہے کہ وہ انبیاء نہیں تھے، صحابی بھی نہیں تھے، تابعی بھی نہیں تھے بلکہ ہمارے ہی جیسے اُمتی تھے جو زہدوعبادت کے ذریعہ امام وقطب اور شیخ ومرشد تو بن سکتے ہیں لیکن خطاو نسیان سے بالا تر نہیں ہوسکتے"۔
بولئے! آپ کی یہ عبارت پڑھنے والا کیا سمجھے گا؟ یہی ناکہ آپ نبی، صحابی، تابعی کو خطاونسیان سے بالا تر سمجھتے ہیں، پھر کیا یہ سچ ہے؟ کیا واقعی آپ کا یہی اعتقاد ہے؟ اپنے اسی پرچہ میں وہ اقتباس ہی دیکھ لیا ہوتا جو صفحہ ۶۴ پر ترجمان القرآن سے آپ نے لیا ہے۔
"دراصل کوئی انسان خطا اور لغزش سے پاک نہیں"۔
کیوں جناب کیا انبیاء، صحابہ اور تابعین آپ کے نزدیک انسان نہیں ہوتے؟ جب وہ سب انسان ہیں اور کوئی انسان خطا سے پاک نہیں تو کیا اس شکلِ اوّل کا یہ منطقی نتیجہ نہیں نکلا کہ نبی، صحابی، تابعی کوئی خطا سے پاک نہیں، پھر یہ اسلاف اگر معاذ اﷲ نبی بھی ہوتے تو کیونکر خطاونسیان سے بالا تر ہوسکتے تھے۔ کیا تلبیس اور مغالطے کی اس سے بڑھ کر کوئی مثال ہوسکتی ہے؟
عامر صاحب! آپ اس اوریجنل افسانہ نگاری کے وقت کس موڈ میں تھے کہ آپ اپنے ابن تیمیہ صاحب کا ارشاد بھی بھول گئے، وہ فرماتے ہیں:
"
وعمر بن الخطاب رضی ﷲ عنہ قل خطأ من علی رضی ﷲ عنہ"
(منہاج السنۃ، جلد۲، ص۱۵۴)
ترجمہ۔ حضرت عمر کی خطائیں حضرت علی سے کم ہیں۔
جب عمروعلی جیسے جلیل القدر حضرات صحابی ہوکر خطا سے نہ بچ سکے تو بیچارے اسلاف صحابی ہوکر کیونکر خطا سے بالا تر رہ سکتے تھے؟
ہاں آپ کو مودودی صاحب کا فرمان بھی شاید یاد نہیں رہا، وہ فرماگئے ہیں :
"نبی ہونے سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ایک بہت بڑا گناہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے ایک انسان کو قتل کردیا تھا

(رسائل ومسائل، ص۳۱)

موسیٰ علیہ السلام سے بہت بڑا گناہ ہوسکتا ہے تو اسلاف کا خطاونسیان سے بالا تر رہنا کیسے ممکن ہوگا؟ شاید آپ کہہ دیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا گناہ نبوت سے پہلے ہوا تھا اس لئے اعتراض کی بات نہیں، بحث یہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام بڑے گناہ سے نہ بچ سکے تو اسلاف نبی، صحابی یا تابعی ہوکر خطا سے بالا تر کیسے رہ سکتے ہیں؟ آخر موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ نبوت سے قبل صحابہ اور تابعین کے مرتبہ سے تو بہر حال اونچا تھا، جب صحابی اور تابعی سے اونچے درجہ والے کا یہ حال ہے تو اسلاف بیچارے صحابی یا تابعی ہو کر کس گنتی میں رہتے ہیں۔
رہا اصل مسئلہ تو حق واضح کرنے کے لئے مختصراً اتنا عرض کردینا کا فی ہوگا کہ اگرچہ متکلمین کا ایک گروہ قبل البعثۃ انبیاء سے صدور ذنب کا قائل ہے لیکن محققین اہل اﷲ کا مسلک یہی ہے کہ نبوت سے پہلے اور بعد ہر زمانہ میں انبیاء علیہ السلام عمداً تمام صغائر وکبائر سے پاک ہیں، علامہ بحرالعلوم فرماتے ہیں:
"
واما قبل النبوۃ فالتحقیق وعلیہ اھل ﷲ من الصوفیۃ الکرام انہم معصومون ایضاً من الکبائر والصغائر عمدً" (ملتقط از حاشیہ نبراس، ص۴۵۳)
اور شارح مواقف نے بھی اسی مسلک کی تائید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فعلِ قتل پر وارد کئے ہوئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے"
الجواب انہ قبل النبوۃ" لکھ کر صاف ارقام فرمایا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا فعلِ قتل بلا قصد بھی ہوسکتا ہے اور انہوں نے اس فعل پر جو اقوال صادر فرمائے وہ سب(معصیت اور گناہ کی بجائے) تواضع اور کسر نفسی پر محمول ہوسکتے ہیں، شرح مواقف کی حسب ذیل عبارت ملاحظہ کیجئے :
"وایضًا جازان یکون قتلہٗ خطاءً وما صدر عنہ من اقوالہٖ محمولًا علی التواضع وھضم النفس" انتہیٰ
(شرح مواقف، جلد ۸، ص۲۷۱)
عامر صاحب نے حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے عقیدہ کو جو بزرگان دین وسلف صالحین کا عقیدہ رہا ہے، مسلمانوں کے ذہن میں بے وقعت اور خفیف کرنے کے لئے لکھ مارا کہ خاص احوال یا جذباتی مغلوبیت یا افتاد ِ طبع یا کسی ہنگامی ترغیب ذہنی کے تحت بزرگوں کا یہ عقیدہ رہا ہے، ان عقل کے دشمنوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کوئی نیکی یا بدی جس سے سرزد ہوتی ہے وہ ان ہی چار اسباب ووجود کے تحت سرزد ہوتی ہے، کوئی شخص کسی نیکی یا بدی کو جن احوال میں ادا کرتا ہے یقیناً وہ خاص احوال ہوتے ہیں، اسی طرح کوئی اچھائی یا برائی نیکی اور بدی کے جذبے سے متاثر اور مغلوب ہوئے بغیر واقع نہیں ہوسکتی، نیز ہر شخص کی افتادِ طبع کو اس کے افعال واعمال، عقائد وخیالات میں پورا پورا دخل ہوتا ہے، اور یہ امر بھی واضح ہے کہ وقتی اور ہنگامی طور پر ذہنی ترغیبات انسان کے افعال واعمال، خیالات ومعتقدات کے لئے ضرور مؤثر ثابت ہوتی ہیں اور ان وجوہ کے تحت کسی عقیدہ یا عمل کا صدور وظہور اس عقیدہ یا عمل کے بے وزن وبے وقعت اور خفیف ہونے کا موجب ہر گز نہیں ہوسکتا، ایسی صورت میں بزرگانِ دین کے اس عقیدہ کو ان وجوہ کے تحت لانے سے کیا فائدہ پہنچا، محض الفاظ کے ہیر پھیر سے پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ اثر پیدا کرنا مقصود ہے کہ اسلاف کا یہ عقیدہ کہ حضور ﷺ کا سایہ نہ تھا کوئی وزن نہیں رکھتا، لیکن یاد رکھئے جس طرح پہاڑ کو تنکاکہہ دینے سے اس کا وزن کم نہیں ہوسکتا، اسی طرح بزرگانِ دین کے اس عقیدہ کو اس نوعیت سے لکھ دینا اس کو ہلکا اور بے وقعت نہیں بنا سکتا، سلف کے مقدس حضرات اور اپنے مقتدائوں کو جو لاریب منکرین ظل ہیں کہاں چھپا سکتے تھے، لیکن اس سلسلہ میں جو ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی ہے وہ ایسی ہے کہ اس کے سامنے اس فن کے بڑے بڑے فن کار بھی مات کھاگئے ہوں گے، عامر صاحب رقمطراز ہیں:
"ہزاروں ہزار علماء اور ائمہ میں شاید گنے چنے ایسے نکلیں جنہوں نے رسول اﷲ (ﷺ) کا سایہ نہ ہونے کو واقعہ گمان کرلیا ہو"۔

(ماہنامہ تجلی،دیوبند، جون ۱۹۶۰ء، ص۴۶)

واہ جناب آپ کی کارستانی قابل داد ہے، حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کے معتقد ہزاروں ہزارمیں سے گنے چنے چند اور وہ بھی شاید، کیا کہنا ہے آپ کی فنکاری کا، مثل مشہور ہے کہ نکٹی ناک والے کو نکّو بتائے، آپ کی طرح حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے ظلمت بھرا کا لا سایہ ثابت کرنے والا تو ان ائمہ اعلام میں کیا ساری اُمت مسلمہ میں ڈھونڈے سے بھی کوئی نہ ملے گا، اور ہمارے ہم عقیدہ یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو تاریک سائے سے پاک ماننے والے علمائے اعلام وائمہ دین متقدمین ومتاخرین اتنی کثیر تعداد میں ہیں کہ آپ ان کی تفصیل پڑھ کر گھبراجائیں گے، جن حضرات نے"السعید" ملتان کا "ظل نمبر" نہیں پڑھا ان کی خصوصی رعایت ملحوظ رکھ کر ان حضرات کے اسمائے گرامی کی فہرست پہلے سے زیادہ مکمل کرکے پیش کی جارہی ہے جو حضور ﷺ کو تاریک سایہ سے پاک مانتے تھے۔
(۱) سیّدنا عثمان غنی رضی ﷲ تعالیٰ عنہٗ، صحابی(متوفی۳۵ھ)
(۲) حضرت عبداﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما، صحابی(متوفی۶۸ھ)
(۳) حضرت ذکوان، تابعی (متوفی۱۰۱ھ)
(۴) حضرت ابن المبارک،تابعی (متوفی۱۸۱ھ)
(۵) حکیم ترمذی، (متوفی ۲۵۵ھ)
(۶) حافظ رزین محدّث (متوفی۵۲۰ھ)
(۷) محدّث ابن سبع (متوفی133)
(۸) محدّث ابن جوزی (متوفی ۵۹۷ھ)
(۹) قاضی عیاض امام المحدثین(۵۴۴ھ)
(۱۰) امام راغب اصفہانی (متوفی ۵۰۲ھ)
(۱۱) امام نسفی (متوفی ۷۰۱ھ)
(۱۲) امام قسطلانی (متوفی ۹۲۳ھ)
(۱۳) علامہ امام سبکی (متوفی۷۵۶ ھ)
(۱۴) علامہ حسین بن محمد دیار بکری (متوفی۹۶۶ھ)
(۱۵) امام زرقانی (متوفی ۱۱۲۲ھ)
(۱۶) امام مناوی (متوفی۸۹۱ ھ)
(۱۷) امام جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ)
(۱۸) صاحب سیرۃ شامی (امام محمد بن یوسف صالحی شامی،متوفی ۹۴۲ھ)
(۱۹) علامہ شہاب الدین خفاجی (متوفی ۱۰۶۹ ھ)
(۲۰) علامہ ابراہیم بیجوری (۱۲۷۷ھ)
(۲۱) علامہ ملا علی قاری (متوفی ۱۰۱۴ ھ)
(۲۲) علامہ سلیمان جمل (متوفی۱۲۰۴ھ)
(۲۳) علامہ ابن حجر مکی(متوفی ۹۷۳ھ)
(۲۴) علامہ برہان الدین حلبی (متوفی ۱۰۴۴ھ)
(۲۵) علامہ شیخ محمد طاہر صاحب مجمع بحار الانوار(۹۸۶ھ)
(۲۶) علامہ جلال الدین رومی (متوفی ۶۷۰ھ)
(۲۷) حضرت شیخ عبدالحق محدّث دہلوی (متوفی ۱۰۵۲ھ)
(۲۸) مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی (متوفی ۱۰۳۴ھ)
(۲۹) علامہ بحر العلوم لکھنوی (متوفی ۱۲۳۵ھ)
(۳۰) مولانا عبدالرحمن جامی (متوفی ۸۹۸ ھ)
(۳۱) علامہ اسماعیل حقی صاحبِ روح البیان(متوفی ۱۱۳۷ھ)
(۳۲) مفتی عنایت احمد کاکوروی صاحبِ علم صیغہ(متوفی ۱۲۷۹ھ)
(۳۳) شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی (متوفی۱۲۳۹ھ)
ان اسلاف کرام کے علاوہ عامر صاحب کے مقتدا مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی، مولوی اشرف علی صاحب تھانوی اور ان کے بعد مفتی عزیز الرحمن صاحب دیوبندی کے اسماء بھی قابل ذکر ہیں۔
اَب تفصیل وار ان بزرگانِ سلف کے اس اعتقاد پر کہ حضور ﷺ کا سایہ نہ تھا تصریحات وعبارات وحوالہ جات ملاحظہ فرمائیے۔
(۱تا ۲) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ وامام نسفی ؒ
تفسیر مدارک التنزیل مؤلفہ امام نسفی، مطبوعہ مصر، جلد۳، ص۱۰۳
"
وقال عثمان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ان ﷲ ما اوقع ظلک علی الارض لئلا یضع انسان قدمہٗ علی ذلک"۔ انتہیٰ
"امام نسفی فرماتے ہیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حضور اﷲ تعالیٰ نے آپ کا سایہ زمین پر نہ ڈالا تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی آدمی اپنا پاؤں حضور ﷺ کے سایہ پر رکھ دے"۔
(۳تا۱۰) حضرت عبداﷲ بن عباس صحابی رضی اللہ عنہ، حضرت ذکوان تابعی رضی اللہ عنہ، حکیم ترمذی، ابن المبارک تابعی، ابن جوزی، ابن سبع، امام زرقانی، حافظ رزین محدّث۔
امام زرقانی شرح مواہب، جلد۴، ص۲۲۰ پر فرماتے ہیں:
"(
ولم یکن لہٗ ﷺ ظل فی شمسٍ ولا قمرٍ) لأ نہٗ کان نورًا، کما قال ابن سبع، وقال رزین: لغلبۃ أنوارہ، قیل وحکمۃ ذلک صیانتہٗ عن أن یطأ کافر علی ظلہٖ
"اور نہ تھا حضور ﷺ کے لئے سایہ سورج میں نہ چاند میں اس لئے کہ حضور ﷺ نور تھے جیسا کہ ابن سبع(محدّث) نے کہا، اور امام رزین فرماتے ہیں کہ سایہ نہ ہونا حضور کے غلبہ ٔ انوار کی وجہ سے تھا، بعض علماء نے کہا کہ اس کی حکمت حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس بات سے بچانا ہے کہ کسی کافر کا پاؤں حضور ﷺ کے سایہ پر نہ پڑے"۔
آگے چل کر یہی امام زرقانی فرماتے ہیں:
(
رواہ الترمذی الحکیم عن ذکوان) ابی صالح السمان، الزیّات المدنی، أ و أبی عمر والمدنی مولیٰ عائشۃ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا، وکل منھما ثقۃ من التابعین، فھو مرسل، لکن روی ابن المبارک، وابن جوزی،، عن ابن عباس : لم یکن للنبی ﷺ ظل، ولم یقم مع الشمس قط، الا غلب ضوءہ ضوء الشمس، ولم یقم مع سراج قط الا غلب ضوءہ ضوء السراج (وقال ابن سبع: کان ﷺ نورا، فکان اذا مشی فی الشمس، أو القمر، لا یظھر لہ ظل) لأ ن النور، لا ظل لہ، (قال غیرہ: ویشھد لہ، قولہ ﷺ فی دعائہ،) لما سأل ﷲ تعالیٰ أن یجعل فی جمیع اعضائہ، وجھاتہ نورا ختم، بقولہ: (واجعلنی نورا،) أی: والنور، لا ظل لہ، وبہ یتم الاستشھاد۔ انتھٰی
"حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کی اس حدیث کو ترمذی حکیم نے ذکوان سے روایت کیا، یہ ذکوان ابو صالح السمان(روغن فروش) مدنی ہیں، یا ابو عمرو مدنی جو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں(ان میں سے کوئی بھی ہو بہر حال) یہ دونوں ثقہ ہیں تابعین سے، لہٰذا حدیث مرسل ہوگی(چونکہ اس میں صحابہ کا ذکر نہیں) لیکن حضرت ابن المبارک اور علامہ ابن جوزی نے حضرت ابن عباس (صحابی)رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضور ﷺ کا سایہ نہ تھا، اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سورج کے سامنے کبھی کھڑے نہ ہوئے لیکن حضور کی روشنی سورج کی روشنی پر غالب ہوجاتی تھی اور حضور ﷺ کبھی چراغ کی روشنی کے سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے مگر حضور کی روشنی چراغ کی روشنی پر غالب ہوجاتی تھی، اور ابن سبع (محدّث) نے کہا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نور ہیں اس لئے جب حضور ﷺ سورج یا چاند کی روشنی میں چلتے تو حضور کا سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا کیونکہ نور کا سایہ نہیں ہوتا اور ان کے علاوہ دیگر علماء ومحدثین نے فرمایا ہے کہ گواہی دیتا ہے حضور کا سایہ نہ ہونے پر حضور کا وہ قولِ مبارک جو حضور کی دُعا میں ہے، جب حضور ﷺ نے اﷲ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اﷲ تعالیٰ آپ کے جمیع اعضاء وجہات میں نور کردے تو آپ نے اپنی دُعا کو اس قول پر ختم فرمادیا (واجعلنی نورًا) یعنی نور کا سایہ نہیں ہوتا، اور اسی کے ساتھ یہ استشہاد تمام اور پورا ہوجاتا ہے"۔
(۱۱) ذکوان کی مذکورہ بالا روایت امام جلال الدین سیوطی نے خصائص کبریٰ، جلد۱، صفحہ ۶۸ میں نقل فرمائی۔
(۱۲) مواہب اللدنیہ، جلد۱، صفحہ ۲۸۰ پر امام قسطلانی نے یہی مضمون ارقام فرمایا۔
(۱۳) مفردات امام راغب صفحہ ۲۱۷ میں امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں:
"روی ان النبی ﷺ کان اذا مشیٰ لم یکن لہٗ ظلٌ"۔
"مروی ہے کہ جب رسول اﷲ ﷺ چلتے تھے تو حضور ﷺ کا سایہ نہ ہوتا تھ"۔
(۱۴) شفاء شریف، جلد۱، صفحہ ۲۴۲،۲۴۳ میں امام المحدثین قاضی عیاض ؒ فرماتے ہیں:
"وما ذکر من انہ لا ظل لشخصہ فی شمس ولا قمر لانہ کان نورً"۔
"اور یہ بات جو مذکور ہوئی کہ حضور ﷺ کے وجود اقدس کا سایہ نہ تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور ﷺ نور تھے"۔
(۱۵) نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض، جلد۳، صفحہ ۳۱۹ پر ہے :
"(لا ظل شخصہ) ای جسدہ الشریف اللطیف الخ "
"حضور ﷺ کے جسم شریف کا سایہ نہیں"۔
(۱۶) سیرۃ حلبیہ، جلد۲، صفحہ ۴۲۲ پر علامہ برہان الدین حلبی فرماتے ہیں :
"وانہٗ ﷺ اذا مشیٰ فی الشمس اوفی القمر لا یکون لہٗ ﷺ ظلٌ لانہٗ کان نورً"۔ الخ
"بے شک حضور ﷺ جب سورج یا چاند کی روشنی میں چلتے تھے تو حضور ﷺ کا سایہ نہ ہوتا تھا اس لئے کہ حضور ﷺ نور تھے"۔
(۱۷) افضل القریٰ، صفحہ ۷۲ پر علامہ ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
مما یؤیدانہٗ ﷺ صار نورًا انہٗ کان اذا مشیٰ فی الشمس والقمر لا یظہر لہٗ ظل لانہٗ لایظہرالا للکثیف وھو ﷺ قد خلصہ ﷲ من سائر الکثافات الجسمانیۃ وصیرہٗ نورًا صرفًا فلا یظہر لہٗ ظلٌ اصلً"۔ الخ
"حضور ﷺ کے نور ہونے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ حضور ﷺ نور ہوگئے، بے شک حضور ﷺ جب چاند سورج کی روشنی میں چلتے تھے تو آپ کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا مگر کثیف کے لئے اور حضور ﷺ کو تو اﷲ تعالیٰ نے تمام جسمانی کثافتوں سے پاک کردیا تھا اور آپ کو نور خالص بنادیا تھا، اس لئے حضور ﷺ کا سایہ بالکل ظاہر نہ ہوتا تھا
(۱۸) مجمع بحارالانوار، جلد۳، صفحہ۴۰۵ پر علامہ شیخ محمد طاہر پٹنی فرماتے ہیں :
"لا یظھر لہٗ ظلٌ"
"حضور ﷺ کا سایہ نہ تھ"
(۱۹) فتوحات احمدیہ شرح ہمزیہ، صفحہ ۵ پر علامہ سلیمان جمل فرماتے ہیں:
"لم یکن لہٗ ﷺ ظلٌ یظھرفی شمس ولا فی قمر"۔ انتہیٰ
"حضور ﷺ کا سایہ نہ سورج کی روشنی میں تھا نہ چاند کی روشنی میں"۔
(۲۰) کتاب تاریخ الخمیس میں علامہ حسین بن محمد دیار البکری فرماتے ہیں:
"لم یقع ظلہٗ علی الارض ولا رؤی لہٗ ظل فی شمس ولاقمرٍ"۔ الخ
"حضور ﷺ کا سایہ کبھی زمین پر نہیں پڑا نہ کبھی چاند سورج کی روشنی میں دیکھا گی"۔
(۲۱) شرح شمائل للمناوی، مطبوعہ مصر، جلد۱، صفحہ۴۷پر امام عبدالرؤف مناوی (متوفی۸۹۱ھ)نے حضور ﷺ کے سایہ نہ ہونے کی طویل حدیث ارقام فرمائی جس میں یہ الفاظ بھی ہیں:
" لم یکن للنبی ﷺ ظلٌ"
"حضور ﷺ کا سایہ نہ تھا
(۲۲) سیرۃ حلبیہ، جلد۲، صفحہ ۹۴ پر علامہ امام تقی الدین سبکی کا یہ شعر منقول ہے:


لقد نزّہ الرحمن ظلک ان یریٰ
علی الارض ملقی فانطویٰ لمزیۃ


ترجمہ۔ "رحمٰن نے آپ کے سایہ کو زمین پر پڑا ہوا نظر آنے سے پاک کردیا اور پائمالی سے محفوظ رکھنے کے لئے آپ کی عظمت وفضیلت کی بناء پر اسے لپیٹ دی"۔
(۲۳) جمع الوسائل بشرح الشمائل، جلد۱، صفحہ ۱۷۶، مطبوعہ مصر پر ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ ارقام فرماتے ہیں :
"عن ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما لم یکن لہٗ ﷺ ظلٌ"
"حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور سیّد عالم ﷺ کاسا یہ نہ تھ"۔
(۲۴) سیرۃ شامی، (سبل الہدیٰ والرشادفی سیرۃ خیرالعباد)، مطبوعہ قاہرہ،صفحہ ۱۲۳، ۱۲۴ پر ارقام فرماتے ہیں۔
لم یُرَ لرسول ﷲ ﷺ ظلٌ فی شمس ولا قمر
رواہ الحکیم الترمذی، وقال معناہ لئلا یطأ علیہ کافرٌ فیکون مذ لۃً لہٗ۔
وقال ابن سبع رحمہ ﷲ تعالٰی: فی خصائصہ: ان ظلہ ﷺکان لا یقع علی الارض وانہ کان نورا وکان اذا مشی فی الشمس أو القمر لا یظھر لہ ظل۔

(۲۵) تفسیر روح البیان، جلد۶، صفحہ ۱۲۵ پر صاحب روح البیان، حضرت عثمان غنی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی حدیث منقولہ امام نسفی سے ارقام فرماتے ہیں:
(۲۶) المواہب علی الشمائل، صفحہ ۳۰ پر علامہ ابراہیم بیجوری، علامہ ابن جوزی کی روایت
لم یکن لہٗ ظلٌ نقل فرماتے ہیں۔
(۲۷) مثنوی شریف دفتر پنجم صفحہ ۱۹ طبع نول کشور، پر مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں:


چون فنائش از فقر پیرایہ شود
او محمد وار بے سایہ شود


"جب اس کی فنا پیرایۂ فقر سے ہوگی تو وہ حضرت محمد ﷺ کی طرح بے سایہ ہوجائے گا
(۲۸) شرح مثنوی شریف بحرالعلوم میں علامہ بحرالعلوم لکھنوی شعرِ سابق کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:


"مصرع ثانی اشارۂ معجزہ آں سرور است کہ آں سرور سایہ نمی افتاد"


"دوسرے مصرع میں آں سرور ؈ کے معجزہ کی طرف اشارہ ہے کہ حضور ﷺ کا سایہ نہ پڑتا تھا
(۲۹) عزیزالفتاویٰ، جلد ہشتم، صفحہ ۲۰۲ پر مولانا عبدالرحمن جامی کے یہ شعر مرقوم ہیں :


پیغمبر ما نداشت سایہ
تاشک بدلِ یقیں نیفتد
یعنی ہرکس پیرو اوست
پیداست کہ پا زمین نیفتد


"ہمارے پیغمبر ﷺ سایہ نہ رکھتے تھے ہرگز یقیناً کہ دل میں شک نہ پڑے یعنی جو شخص بھی حضور ﷺ کے قدم بقدم ہے، ظاہر ہے کہ اس کا قدم بھی زمین پر نہیں پڑتا
(۳۰) "تاریخ حبیب اِلٰہ" صفحہ ۱۳۷ میں مفتی عنایت احمدصاحب کاکوروی صاحب "علم الصیغہ" تحریر فرماتے ہیں کہ :
"آپ کا بدن نور تھا، اسی وجہ سے آپ کا سایہ نہ تھا
(۳۱) مدارج النبوۃ جلد۱، صفحہ ۱۱۸ پر شاہ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ ارقام فرماتے ہیں :

"چوں آنحضرت ﷺ عین نور باشد نور را سایہ نمی باشد"۔
"جب آنحضرت ﷺ عین نور ہیں تو نور کا سایہ نہیں ہوت"۔

(۳۲) تفسیر عزیزی پارۂ عم، صفحہ ۲۱۹ پر شاہ عبدالعزیز صاحب محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"از خصوصیات کہ آنحضرت ﷺ رادر بدن مبارکش دادہ بودند کہ سایہ ایشاں بر زمین نمی افتاد"۔
"جوخصوصیتیں حضور ﷺ کے بدن مبارک میں عطا کی گئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ حضور ﷺ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا
(۳۳) مکتوبات شریف، جلد سوم، صفحہ ۱۸۷، مطبوعہ نول کشور لکھنؤ پر حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :
"ونیز در عالم شہادت سایہ شخص از شخص لطیف تر است چوں لطیف تر ازوے درعالم نباشد او را سایہ چہ صورت دارد"۔
"نیز عالم شہادت میں ہر شخص کا سایہ اس کے جسم سے زیادہ لطیف ہوتا ہے، جب حضور ﷺ سے زیادہ لطیف چیز عالم میں نہیں ہے تو آپ کا سایہ کس صورت سے ہوسکتا ہے؟"۔
عامر صاحب! خدا لگتی کہنا، کیا حضرت عثمان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے لے کر حضرت مجدد الف ثانی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تک مرقومہ بالا تمام صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین، محدثین، علماء متبحرین اور بزرگان دین کو معاذ اﷲ بدعتی، گمراہ، توحید ورسالت کے مخالف عیسائی اور نصرانی سمجھتے ہیں۔
اچھا! ان سب کے بعد اپنے مقتدائوں کی طرف آئیے:
(۱) مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی "امدادالسلوک"، صفحہ ۸۵، ۸۶ پر تحریر فرماتے ہیں :
"ازین جا است کہ حق تعالیٰ درشان حبیب خود ﷺ فرمود کہ آمدہ نزدِ شما از طرف حق تعالیٰ نوروکتابِ مبین ومراد از نورِ ذات پاک حبیب خدا ﷺ است ونیز اُو تعالیٰ فرماید کہ اے نبی ﷺ ترا شاہد مبشر ونذیر وداعی الی اﷲ وسراجِ منیر فرستادہ ایم ومنیر روشن کنندہ و نور دہندہ را گویند، پس اگر کسے راروشن کردن از انسانان محال بودے آں ذات پاک ﷺ راہم ایں امر میسر نیامدے کہ آں ذات پاک ﷺ از جملہ اولادِ آدم ؈ آند مگر آنحضرت ﷺ ذات خود را چناں مطہر فرمود کہ نور خالص گشتند وحق تعالیٰ آنجناب سلامہٗ علیہ رانور فرمود وبتواتر ثابت شد کہ آنحضرت عالی ﷺ سایہ ندانشتند وظاہر است کہ بجز نور ہمہ اجسام ظل میدارند"۔ انتہیٰ
ترجمہ۔ "اور اسی جگہ سے یہ ثابت ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی شان میں فرمایا، تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے نور آیا اور کتاب مبین آئی، اور نور سے مراد حبیب خدا ﷺ کی ذات پاک ہے، نیز اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو شاہد ومبشرو نذیر وداعی الی اﷲ تعالیٰ، اور سراج منیر بنا کر بھیجا ہے، اور "منیر" روشن کرنے والے اور نور دینے والے کو کہتے ہیں، پس اگر انسانوں میں سے کسی کو روشن کرنا محال ہوتا تو آنحضرت ﷺ کی ذات پاک کے لئے یہ امر میسر نہ ہوتا کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات پاک بھی جملہ اولاد آدم ؈ سے ہے مگر آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات کو ایسا مطہر فرمالیا کہ نور خالص ہوگئے اور حق تعالیٰ نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نور فرمایا اور تواتر سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ سایہ نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں"۔
(۲) نیز آپ کے مولوی اشرف علی صاحب تھانوی، میلاد النبی، جلد ۴، المریع فی الربیع، صفحہ ۵۷۲ پر رقمطراز ہیں :
"یہ جو مشہور ہے کہ سایہ نہ تھا حضور ﷺ کا تو یہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، گو وہ ضعیف ہیں مگر فضائل میں متمسک بہ ہوسکتی ہیں"۔
(۳) مقتدائوں سے فارغ ہوکر ذرا مفتی اعظم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن صاحب کا فتویٰ بھی ملاحظہ فرماتے جائیے، بعد کو چاہے اس کی تردید کردیں لیکن سردست تو ایک نظر دیکھ ہی لیجئے، وہ عزیز الفتاویٰ، جلد ہشتم، صفحہ ۲۰۲ پر تحریر فرماتے ہیں