بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکریْمِ
تمہید

اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی نشانیاں اور اس کے نام سے نسبت کی بزرگی اور شرف رکھنے والی تمام چیزیں جن کے تصور سے اللّٰہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہو جائے "شعائر اللّٰہ" اور "حرمات اللّٰہ" کے عموم میں شامل ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ" اور جو تعظیم بجا لایا اللّٰہ کی حرمتوں کی تو وہ بہتر ہے اس کے لئے اس کے رب کے نزدیک حرام چیزوں کی اہمیت کا احساس کر کے انہیں چھوڑ دینا اور اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ کی محترم قرار دی ہوئی چیزوں کا ادب و احترام قائم رکھنا اور ان کی تعظیم بجا لانا یہ سب کچھ حرمات اللّٰہ کی تعظیم میں شامل ہے۔
دوسری جگہ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
"وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ" اور جو ادب بجا لائے اللّٰہ کے دین کی نشانیوں اور اس کے نام کی نسبت سے بزرگی رکھنے والی چیزوں کا تو وہ دل کی پرہیز گاری سے ہے یعنی اللّٰہ تعالیٰ سے نسبت اور تعلق رکھنے والی کسی چیز کا ادب و احترام بجا لانا اور اس کی تعظیم کرنا شرک میں داخل نہیں بلکہ عین توحید کی نشانیوں میں سے ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والے لوگ ہی ان چیزوں کی قدر کرتے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف بالواسطہ یا بلا واسطہ منسوب ہیں۔
غلافِ کعبہ بھی بلاشبہ ان چیزوں میں داخل ہے جن کا ادب و احترام ملحوظ رکھنا اللّٰہ تعالیٰ کی محبت اور ایمان کی نشانی ہے بلکہ وہ تمام چیزیں جو مقربین بارگاہِ ایزدی کے ساتھ شرف نسبت رکھنے والی ہیں سب اسی حکم میں شامل ہیں کہ ان کا ادب و احترام ایمان اور تقویٰ کی علامت ہے۔
ایک شبہ کا ازالہ
ممکن ہے کہ بعض دوستوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ یہ غلاف جب تک کعبہ شریف پہنچ کر بیت اللّٰہ الحرام کو پہنایا نہ جائے اُس وقت تک کیونکر قابل احترام ہو سکتا ہے تو اس کا ازالہ یہ ہے کہ حرمات اللّٰہ اور شعائر اللّٰہ کا جو مفہوم ہم نے مختصراً بیان کیا ہے اس میں اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ ہر وہ چیز جو اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی نشانی ہو اور اللّٰہ تعالیٰ کے نام سے منسوب ہو کر بالواسطہ یا بلاواسطہ نسبت کی وجہ سے بزرگی اور شرف حاصل کر لے وہ ادب و احترام کے لائق ہے۔ غلافِ کعبہ کعبے کی طرف منسوب ہے اور کعبے کی نسبت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ اور یہ نسبت یقیناً شرف اور بزرگی کا موجب ہے جس میں احترام کے معنی پائے جاتے ہیں۔اسی لیے کعبہ مطہرہ کو بیت اللّٰہ الحرام کہا گیا جس کے معنیٰ ہیں اللّٰہ تعالیٰ کی حرمت والا گھر۔ لہٰذا کعبہ کو پہنانے کی نیت سے جب غلاف بنایا گیا تو اسے کعبۃ اللّٰہ کے ساتھ ایک خصوصیت حاصل ہو گئی جو یقیناً عزت و شرف کا موجب ہے۔
مثال کے طور پر ہدی کے جانوروں کو لے لیجیے کہ آپ قربانی کے قابل کسی جانور کو حرم کعبہ میں قربانی کے لیے بھیجتے ہیں اور اس کے گلے میں بطور نشانی قلادہ وغیرہ ڈال کر اسے کعبہ کی طرف روانہ کر دیتے ہیں وہ جانور ابھی تک اپنے محل پر نہیں پہنچا اور حرم کعبہ میں پہنچنے کا ظاہری شرف اسے حاصل نہیں ہوا مگر چونکہ اس کی نسبت حرم کعبہ کی طرف ہو چکی اور وہ اس واسطے سے اللّٰہ کے نام سے منسوب ہو گیا اب وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک محترم قرار پا گیا اور اس جانور سے جو ظاہری منافع اس کو ہدی قرار دینے سے پہلے حاصل کرنا جائز تھے ان کا حاصل کرنا (بجز ضرورت شدیدہ کے) محض ادب و احترام کی بنا پر جائز نہ رہا اور اس قسم کے جانوروں پر سوار ہونا، ان کی اون تراشنا، دودھ دوہنا یا ان کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنا ان کے ادب و احترام کے خلاف قرار پایا۔ معلوم ہوا کہ کعبہ کی طرف منسوب ہونے والی چیزوں کا ادب و احترام کعبہ پہنچنے پر موقوف نہیں بلکہ محض نسبت اور ان کی شہرت و علامت ہی ان چیزوں کے لائق ادب و احترام ہونے کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا غلافِ کعبہ اپنی اس نسبتِ شریفہ کی وجہ سے حرم کعبہ میں پہنچنے سے پہلے بھی لائق احترام ہے۔
پاکستان میں غلافِ کعبہ کی تیاری ہمارے ملک کے لیے آنے والی خوش حالیوں، برکتوں اور رحمتوں کے لیے نیک فال ہے۔ ہم اس سلسلہ میں سب سے پہلے عالی جناب سفیر مملکت سعودیہ عربیہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اجازت مرحمت فرما کر پاکستان کے عامۃ المسلمین کو زیارتِ غلافِ کعبہ سے مشرف ہونے کا موقع مرحمت فرمایا۔ اس کے بعد حضرت مولانا عبد الحامد قادری بدایونی صدر مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان و رکن اسلامی مشاورتی کونسل پاکستان اور روزنامہ جنگ کے منیجنگ ایڈیٹر کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کی مساعی جمیلہ سے زیارتِ غلافِ کعبہ کے انتظامات مکمل ہوئے اور آخر میں ریلوے حکام کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنے دینی و مذہبی جذبات سے کام لے کر کراچی سے پشاور تک کے لیے غلافِ کعبہ کی زیارت کرانے کے لیے ریل کا ایک پورا ڈبہ بلامعاوضہ مرحمت فرمایا۔ ساتھ ہی ہم ان تمام معزز حضرات کے بھی شکر گزار ہیں جو غلافِ کعبہ کی معیت میں یہ دورہ کر رہے ہیں اور ملت پاکستانیہ کو ان کی وجہ سے غلافِ کعبہ کی زیارت کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔


غلافِ کعبہ اور اس کی ابتداء

غلافِ کعبہ کی رسم کوئی نئی رسم نہیں بلکہ قبل البعثت تبابعہ یمن سے اس کا آغاز ہوا اور شاہانِ یمن میں سے اسعد نامی ایک بادشاہ نے جو تبع الحمیری کے لقب سے مشہور تھا سب سے پہلے کعبہ مطہرہ کو غلاف  پہنایا۔ہم سب سے پہلے اس بادشاہِ یمن کے متعلق کچھ تاریخی معلومات ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ اس کے بعد عہد جاہلیت میں غلاف کعبہ کا دوسرا دور تاریخ کی روشنی میں بیان کریں گے۔ پھر عہد رسالت میں عہد خلافت راشدہ میں کعبہ کو لباس پہنانے کا تذکرہ تاریخی اعتبار سے کریں گے۔ خلافت راشدہ کے بعد آنے والے ادوار میں مثلاً خلفاء عباسیہ، ان کے بعد سلاطین مصر اور سلاطین آل عثمان کے عہد میں غلاف کعبہ کی تاریخ اختصار کے ساتھ پیش کریں گے۔
نہایت مختصر وقت بلکہ چند گھنٹوں میں ہم نے یہ مواد شائقین کرام کے لیے زیارت غلاف کعبہ کی تقریب سعید کے موقعہ پر مہیا کیا ہے۔اگر بالغ نظر حضرات اس میں کوئی کمی محسوس کریں تو ہم اس کے لیے پہلے سے معذرت خواہ ہیں۔


تبع ابو کرب تبان اسعد، ملک الیمن
شاہانِ یمن میں ایک بادشاہ تبع ابو کرم تبان اسعد گزرا ہے۔یمن کا ہر بادشاہ تبع كہلاتا تھا جیسے زمانہ ماقبل میں فارس کے ہر بادشاہ کو کسریٰ اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔ فراعنہ مصر کی طرح تبابعۂ یمن تبابان ملک یمن ہوتے تھے۔اسعد نامی بادشاہ یمن قبیلہ حمیری سے تھا اسی لیے اسے تبع الحمیری سے یاد کیا جاتا ہے۔ابن اسحاق نے کہا ہے کہ قبیلہ بنی عدی بن نجار کے کسی یہوی مذہب رکھنے والے شخص نے جو مدینہ کا باشندہ تھا اصحابِ تبع میں سے کسی آدمی پر زیادتی کیاور اسے معمولی سی بات پر قتل کر دیا۔ اس بنا پر تبع ان یہودیوں سے قتال کرتا رہا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ تبع ابھی یہودیوں کے قتال میں مصروف تھا کہ اس کے پاس بنی قریظہ کے احبار یہود میں سے دو حبر (یعنی عالم) آئے جو اپنے علم میں بڑے راسخ تھے۔ انہوں نے سنا تھا کہ تبع مدینہ اور مدین کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے کے در پے ہیں۔ان دونوں نے اس سے کہا کہ اے بادشاہ! تو ایسا نہ کر۔ اگر تو اپنے اس ارادہ سے باز نہ آیا تو ہمیں خوف ہے کہ تیرے اس ارادہ فاسدہ کے بروئے کار آنے سے پہلے کہیں تجھ پر سخت عذاب نہ آ جائے۔ تبع نے کہا یہ کیوں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ شہر مدینہ اس نبی آخر الزمان کا مقام ہجرت ہے جو اس حرم سے قبیلہ قریش سے پیدا ہو گا اور مدینہ اس کا دار اور جائے قرار رہے گا۔ تبع یہ سن کر اپنے ارادہ سے باز آ گیا اور اس نے سوچا کہ یہ دونوں اہل علم ہیں۔ ان دونوں کی باتیں بھی اسے بہت پسند آئیں اور وہ ان دونوں کا دین اختیار کر کے مدینہ سے واپس چلا گیا۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ تبع اور اس کی ساری قوم بتوں کے پجاری تھے۔ تبع مدینہ سے یمن کی طرف جاتے ہوئے مکہ کی طرف متوجہ ہوا۔ کیونکہ اس کا راستہ ہی مکہ کی طرف سے تھا جب وہ عسفان اور امج کے درمیان پہنچا تو اس کے پاس ہزیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن سعد بن عدنان کے قبیلے کے چند افراد آئے اور وہ کہنے لگے کہ اے بادشاہ! کیا ہم ایک ایسے گھر کی طرف تیری رہنمائی نہ کریں جو اموال کثیرہ کا مخزن ہے۔ آپ سے پہلے تمام بادشاہ اس کی طرف سے غافل رہے۔ اس میں موتی، زبرجذ، یاقوت اور سونا چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ تبع نے کہا کیوں نہیں! آپ ضرور میری راہنمائی کیجیے۔ انہوں نے کہا وہ ایک گھر ہے مکہ میں،مکے والے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے قریب اپنے مذہب کے مطابق عبادت کے طریقے بجا لاتے ہیں۔ قبیلہ بنی ہزیل کے جن لوگوں نے اسے یہ مشورہ دیا تھا وہ چاہتے یہ تھے کہ تبع کسی طرح ہلاک ہو جائے کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ جس بادشاہ نے بھی بیت اللّٰہ شریف پر لشکر کشی کی وہ ضرور ہلاک ہو گیا۔ تبع ان لوگوں کے مشورہ کے مطابق عمل کرنے کے لیے جب تیار ہو گیا تو اس نے ان دونوں یہودی عالموں کے پاس پیغام بھیجا اور اس بارے میں ان سے دریافت کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جن لوگوں نے آپ کو یہ مشورہ دیا ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا تمام لشکر ہلاک ہو جائے۔ خدا کی قسم! ہم تمام روئے زمین میں اس کے سوا کوئی ایسا گھر نہیں جانتے جسے اللّٰہ عزوجل نے اپنی ذات پاک کی طرف منسوب ہونے کا شرف بخشا ہو۔ اگر آپ نے ان کے مشورہ پر عمل کیا تو یقیناً آپ اور آپ کے تمام ساتھی ہلاک ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر تبع نے ان یہودی عالموں سے دوبارہ سوال کیا کہ اگر بالفرض میں بیت اللّٰہ پر حاضر ہوں تو مجھے وہاں کیا کرنا چاہیے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ وہی کام کریں جو وہاں جا کر بیت اللّٰہ کے آداب بجا لانے والے کرتے ہیں۔ آپ وہاں طوافِ کعبہ کریں۔ اس کی تعظیم و تکریم بجا لائیں اور اپنا سر منڈائیں۔ اور وہاں سے واپس آنے تک برابر عاجزی کرتے رہیں۔ اس کے بعد تبع نے ان دونوں یہودی عالموں سے پوچھا کہ آپ خود ایسا کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خدا کی قسم وہ بے شک ہمارے جَدِّ امجد ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا گھر ہے اور وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم نے آپ کو بتایا۔ مگر بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں جن لوگوں کا وہاں قبضہ ہے وہ ہمارے اور اس بیت اللّٰہ کے درمیان حائل ہیں۔ انہوں نے کعبہ کے گرد و پیش بت نصب کئے ہوئے ہیں اور وہ خدا کے گھر کے نزدیک ان بتوں کے لیے جانوروں کا خون بہاتے ہیں۔ وہ لوگ اکثر اہل شرک ہیں اور شرک کی نجاست میں مبتلا ہیں۔ تبع ان کی نصیحت کو خوب سمجھا اور اسے ان کی باتوں کا پورا یقین ہو گیا۔ قبیلہ بنی ہزیل کے اس گروہ کو بلا کر اس نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے۔ پھر کعبہ کی حاضری دی۔ طواف کعبہ کیا اور حرم کعبہ کے نزدیک قربانی کی۔ اپنا سر منڈایا اور چھ دن مکہ میں قیام کیا۔ان ایام میں وہ بہت سے جانور ذبح کر کے مکہ والوں کو کھلاتا رہا اور شہد وغیرہ پلا کر ان کی خاطر مدارات کرتا رہا۔ انہی دنوں اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کو غلاف پہنا رہا ہے۔ پہلے اس نے چمڑے کا موٹا غلاف پہنایا۔ پھر اس نے خواب دیکھا کہ وہ اچھا لباس پہنا رہا ہے۔ تو اس نے معافر کے کپڑوں کا بنا ہوا پہلے سے اچھا لباس خانہ کعبہ کو پہنایا۔ پھر تیسری مرتبہ اس نے خواب میں دیکھا کہ میں اس سے بھی اچھا لباس خانہ کعبہ کو پہنا رہا ہوں۔ چنانچہ اس نے بیدار ہونے کے بعد ایک خاص قسم کا قیمتی کپڑا جو اس زمانہ میں رانوں پر پہنا جاتا تھا جس کو ملاء کہتے ہیں اور بہترین یمنی چادروں کا لباس پہنایا۔ اور تبع لوگوں کے گمان کے موافق وہ پہلا شخص ہے جس نے خانہ کعبہ کو غلاف پہنایا اور اپنے حکام کو اس کی وصیت کی جو قبیلہ بنی جرہم سے تھے اور ان سب کو امر کیا کہ وہ خانہ کعبہ کو ہمیشہ پاک صاف رکھیں۔ کسی قسم کا خون اور مردار اور کسی قسم کی آلائش و نجاست اس کے قریب نہ آنے پائے۔ تبع نے خانہ کعبہ کا ایک دروازہ بھی تعمیر کر دیا اور اس کی ایک کنجی بھی بنوا دی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ملک تبع یہ سب کام کر کے اپنے ساتھیوں، تمام لشکروں اور دونوں یہودی عالموں کو ساتھ لے کر اپنے ملک یمن کی طرف متوجہ ہوا۔ جب اس میں داخل ہوا تو اس نے اپنی قوم کو بھی اپنے دین میں داخل ہونے کی دعوت دی۔ سب نے انکار کر دیا اور وہ آگ کی طرف اپنا مقدمہ لے گئے۔ ابراہیم بن محمد بن طلحہ کا بیان ہے کہ تبع جب یمن کے قریب آیا اور اس نے اپنے ملک میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو قبیلہ حمیر اس کی راہ میں حائل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تم نے ہمارے دین کو چھوڑ دیا تو اب تم ہم پر داخل نہیں ہو سکتے۔ تبع نے ان کو اپنے دین کی طرف بلایا اور کہا کہ یہ تمہارے دین سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آگ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ تبع راضی ہو گیا۔ یمن میں ایک آگ تھی جس کے متعلق اہل یمن کا اعتقاد تھا کہ وہ باہمی اختلافات اور مقدمات کا فیصلہ کر دیتی ہے۔ ظالم کو پکڑ لیتی ہے اور مظلوم کو نقصان نہیں دیتی۔ قوم حمیر کے لوگ اپنے بتوں اور باطل معبودوں کے ساتھ میدان میں آئے اور وہ دونوں یہودی عالم بھی اپنے مصاحف کو اپنی گردنوں میں لٹکائے ہوئے حاضر ہو گئے۔ سب لوگ اس جگہ بیٹھ گئے جہاں سے آگ باہر نکلتی تھی۔ اچانک آگ نکلی جب لوگوں کی طرف بڑھی تو لوگ بھاگنے لگے۔ تبع نے تمام لوگوں کو جھڑکا اور کہا کہ سب ٹھہرے رہیں۔ لوگ ٹھہر گئے۔ یہاں تک کہ آگ نے سب لوگوں کو ڈھانک لیا۔ بتوں کو اور تمام باطل معبودوں کو ان سب لوگوں کو جو بت لے کر آئے تھے، آگ نے جلا دیا اور وہ دونوں یہودی عالم اپنی گردنوں میں اپنے صحیفے لٹکائے ہوئے اس آگ کی لپیٹ سے باہر نکل آئے۔ ان کی پیشانیاں عرق آلود تھیں مگر آگ نے انہیں کسی قسم کا ضرر نہیں پہنچایا تھا۔ یہ واقعہ دیکھ کر قبیلہ حمیر کے تمام لوگوں نے ان یہودی عالموں کا مذہب اختیار کر لیا۔ اسی وجہ سے یمن میں یہودیت نے جڑ پکڑی۔ ہم نے اس حدیث کی تفسیر میں جو نبی ﷺ سے وارد ہوئی "لا تسبوا تبعا فانہ قد کان اسلم" ہم نے ذکر کیا کہ سُہیلی فرماتے ہیں کہ معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی۔ وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا "لا تسبوا اسعد الحمیری فانہٗ اول من كسا الکعبۃ" "تم اسعد حمیری کو برا نہ کہو کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے کعبہ کو غلاف پہنایا۔"
سُہیلی فرماتے ہیں کہ جب ان دونوں یہودی عالموں نے ملک تبع کو رسول اللّٰہ ﷺ کے تشریف لانے کی خوشخبری سنائی تو ملک تبع نے یہ شعر کہے
۱۔
شھد ت علی احمد انہٗ رسول من اللہ باری النسم
۱۔ "میں اس بات پر شاہد ہوں کہ احمد مجتبیٰ ﷺ اس اللّٰہ کے رسول ہیں جو تمام جانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔"
۲۔
فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیر الہ وابن عم
۲۔ "اگر میری عمر رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانہ تک دراز ہوئی تو میں ان کا بوجھ اُٹھاؤں گا اور چچا زادوں کی طرف ان کی مدد کروں گا۔"
۳۔
وجاھدت بالسیف اعدائہ وخرجت عن صد رہ كل ھم
۳۔ "اور تلوار لے کر میں ان کے دشمنوں سے لڑوں گا اور ان کے سینے سے ہر قسم کے رنج و الم کو دُور کر دوں گا۔"
سُہیلی کہتے ہی کہ انصار توارث کے ساتھ ان اشعار کو محفوظ کرتے چلے آئے اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ کے پاس یہ شعر تھے۔"سُہیلی نے کہا کہ ابن ابی الدنیا محدث کتاب القبور میں لکھتے ہیں کہ صنعاء میں ایک قبر کھودی گئی۔"اس میں دو عورتیں پائی گئیں۔ ان کے ساتھ چاندی کی ایک تختی تھی جس پر سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا یہ یہ قبر لمیس اور حَبّی کی ہے جو دونوں ملک تبع کی بیٹیاں ہیں۔ وہ دونوں اس حال میں مری ہیں کہ وہ شہادت دیتی تھیں اس بات کی کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔اور اسی شہادت پر ان سے پہلے نیک لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ (البدایہ والنہایہ مصری)
 

غلافِ کعبہ کا ایک دُوسرا دَور

علامہ ارزقی فرماتے ہیں کہ سعید ابن ابی سالب ابن ملکیہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ کعبہ کے لیے مختلف لباس بطور ہدایا بھیجے جاتے تھے۔ جب لباس بوسیدہ ہو جاتا تھا تو اسے اتارنے کے بجائے اس پر دوسرا غلاف چڑھا دیا جاتا تھا اور زمانہ جاہلیت میں (عہد رسالت سے قبل تمام قریش قصی ابن کلاب کے وقت سے لے کر ابو ربیعہ بن مغیرہ بن عبد اللّٰہ بن محزومہ کے زمانہ تک) خانہ کعبہ کی غلاف پوشی کے سلسلہ میں باہمی تعاون کرتے تھے۔اور ہر قبیلہ پر اس کی حسب استطاعت ایک رقم مقرر کر دیتے تھے۔ جب ابو ربیعہ کا دور آیا تو چونکہ وہ ایک متمول اور بہت بڑا تاجر تھا۔اس نے قریش سے کہا کہ ایک سال صرف تنہا میں غلافِ کعبہ بناؤں گا اور ایک سال تمام قریش مشترکہ طور پر یہ خدمت انجام دیتے رہیں۔ ابو ربیعہ کی حیات تک یہی دستور جاری رہا۔ چنانچہ قریش نے اس کا نام العدل رکھ دیا۔ عدل کے معنی برابری کے ہیں یعنی لباس پوشانی کعبہ کے بارہ میں اس نے اپنی ایک ذات کو تمام قریش کے برابر قرار دیا۔ اس لیے اس کی اولاد کو بنو العدل کہا جاتا تھا۔


عہدِ رسالت میں غلافِ کعبہ

علامہ ارزقی کا دوسرا بیان ہے کہ مجھے محمد بن یحییٰ نے بروایت مؤرخ واقدی خبر دی وہ اسمٰعیل بن ابراہیم بن ابی حبشہ سے روایت کرتے ہیں اور اسمٰعیل بن ابراہیم اپنے والد سے راوی ہیں کہ نبی کرم ﷺ نے خانہ کعبہ کو یمانی چادروں کا غلاف پہنایا۔


خلافتِ راشدہ یعنی
عہدِ فاروقی و عثمانی میں غلافِ کعبہ

اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے خانہ کعبہ کو کتان سے بنے ہوئے مصری ساخت کے قباطی کپڑے کا غلاف پہنایا اور دورِ عثمانی میں ہر سال دو غلاف پہنائے جاتے تھے۔ پہلے لباس کا بالائی حصہ بغیر سیا ہوا یوم ترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ کو لٹکا دیا جاتا تھا وار حصہ زیریں چھوڑ دیا جاتا تھا تکہ ہجومِ حجاج کے چھونے اور چومنے سے پھٹ نہ جائے۔ پھر یوم عاشورا کو حصہ زیریں کا لباس بالائی حصہ کے ریشمی لباس کے ساتھ ملا کر آویزاں کر دیا جاتا تھا اور یہ مکمل لباسِ کعبہ ۲۷ رمضان المبارک تک آویزاں رہتا اور ۲۷ رمضان کو یہ لباس بدل کر مذکورہ بالا قباطی کپڑے کا لباس پہنا دیا جاتا تھا۔

عہد مامون الرشید میں
ملبوسی کعبہ کی نوعیت

مامون الرشید عباسی نے اپنے دورِ حکومت میں کعبہ شریف کو سال میں تین مرتبہ لباس پہنانے کا حکم جاری کیا جس کی ترتیب یہ تھی کہ یوم ترویہ ۸ ذی الحجہ کو سرخ ریشمی لباس پہنایا جاتا اور یکم رجب کو قباطی، پھر عید الفطر کو سفید ریشمی۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔پھر مامون الرشید کو معلوم ہوا کہ یوم عاشورہ میں جو چادر یوم ترویہ والی اوپر کی سرخ ریشمی چادر کے ساتھ ملا کر پہنائی جاتی ہے وہ پورے سال تک نہیں ٹھہرتی اور عید الفطر کے موقع پر عید والی سفید ریشمی چادر بالائی کے ساتھ نیچے کی نئی چادر پہنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس نے حکم دیا کہ عید رمضان میں بالائی حصہ کی نئی چادر پہنائی جاتی رہے۔

خلیفہ متوکل کے عہد میں
اس ترتیب کی تبدیلی

خلیفہ متوکل کو اپنے عہد حکومت میں اس بات کا علم ہوا کہ کعبہ مطہرہ کے حصہ زیریں کی چادر ہجوم حجاج کے چھونے اور چومنے کی وجہ سے ماہ رجب سے پہلے ہی بوسیدہ ہو جاتی ہے تو اس نے حصہ زیریں کے لیے ایک اور چادر کا اضافہ کر دیا اور حکم دیا کہ اوپر کی سرخ ریشمی چادر زمین تک لٹکا دی جائے اور پھر ہر دو مہینے کے بعد اس کے اوپر ایک اور چادر پہنا دی جائے۔ یہ واقعہ ۲۴۰ھ؁ کا ہے۔

شاہانِ مصر و یمن کے دَور میں
غلافِ کعبہ کا اہتمام

جب خلفائے عباسیہ کی شوكت و قوت کا دور ختم ہوا تو کعبہ شریفہ کا غلاف کبھی شاہانِ مصر کی طرف سے اور کبھی ملوکِ یمن کی طرف سے آتا رہا۔ آخر میں یہ سعادت مستقل طور پر سلاطین مصر کے حصہ میں آ گئی اور سلطان مصر ملک صالح ابن سلطان ملک ناصر قلاودل نے مصر میں دو مواضع بیسوس اور سندنیس خرید کر سال بسال غلاف کعبہ کی تیاری اور مصارفِ روانگی کے لیے وقف کر دیئے اور یہ سلسلہ مستقل طور پر جاری رہا۔ سلاطین مصر کا ایک طریقہ یہ بھی رہا کہ ہر نئے بادشاہ کے تخت نشین ہونے کے موقع پر اس سیاہ غلافِ کعبہ کے ساتھ جو خانہ کعبہ کے ظاہری حصہ کو پہنایا جاتا تھابیت اللّٰہ شریف کے اندرونی حصہ کے لیے سرخ رنگ کا غلاف اور اس کے علاوہ مدینہ منور میں حجرہ شریفہ نبویہ کے لیے سبز رنگ کا غلاف بھیجتے رہے۔ ان تینوں سیاہ، سرخ، سبز غلافوں پر "لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ" لکھا ہوتا تھا۔ اور ان کے حاشیوں پر مناسب آیاتِ قرآنیہ یا اسماءِ اصحابِ رسول اللّٰہ ﷺ تحریر ہوتے تھے۔ کبھی یہ حاشیے سادہ بھی چھوڑ دِئیے جاتے تھے۔

سلاطین آلِ عثمان کا دَور اور
اس دستور کا استمرار

گزشتہ ادوار کے بعد جب مملک عربیہ سلاطین آلِ عثمان کے قبضہ میں آ گئے تو سلطان سلیم خاں ابن سلطان بایزید خاں مرحوم نے سیاہ غلاف ہائے کعبہ اور سبز غلاف مدینہ منورہ حسب دستور مستقل طور پر جاری رکھے۔ اس کے بعد سلطان سلیمان خاں کے عہد حکومت میں یہ سلسلہ حسب سابق جاری رہا۔ ایک زمانہ کے بعد موضع بیسوس اور موضع سندنیس جو غلافِ کعبہ کی تیاری و روانگی کے اہتمام کے لیے وقف تھے، ویران ہو گئے اور ان کی آمدنی اس مصرف مبارک کے لیے کافی نہ ہو سکتی تو سلطان سلیمان خاں نے حکم دیا کہ مصر کے شاہی خزانے سے یہ مصارف پورے کیے جائیں اور اس کے بعد ان دونوں دیہات کے علاوہ چند مزید دیہات بھی غلافِ کعبہ کے مصارف کے لیے وقف کر دیئے اور یہ وقف دوامی قرار پایا۔ (تاریخ قطبی طبع مصر)

پاکستان میں غلافِ کعبہ کی تیاری

غلافِ کعبہ اب تک مصر سے آتا رہا۔ حتیٰ کہ امسال یعنی ۱۳۸۲؁ھ میں یہ سعادت ہمیں نصیب ہوئی کہ خدائے قدوس کے پاک گھر کا مقدس غلاف سرزمین پاکستان میں کمال اعزاز و کرام کے ساتھ تیار کیا گیا اور اب لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانی مسلمان انتہائی عقیدت و محبت اور کمال عزت و عظمت کے جذبات اپنے دلوں میں لئے ہوئے اس کی زیارت سے مشرف ہو رہے ہیں۔ ہمیں اپنے رب کعبہ کے لطف و کرم سے اُمید ہے کہ ہمارے دلوں کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دُعائیں غلافِ کعبہ کے دامن سے لپٹی ہوئی عنقریب حرم کعبہ میں پہنچ کر بارگاہِ ایزدی میں شرف قبولیت حاصل کریں گی۔

 

سید احمد سعید کاظمی امروہی           
ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان
مہتمم مدرسہ عربیہ انوار العلوم، ملتان