آدم


(146146فریدی و جدی145145 مع تعاقب از مدیر مسئول)
اعتقادی دنیا کا عقیدہ ہے کہ آدم ابو البشر ہیں اور آج سے تقریباً چھ ہزار سال قبل پیدا ہوئے۔ مذہب عیسوی کی کتابوں میں طوفانِ نوح اور ولادتِ عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان ۲۳۰۸ سال کا فاصلہ اور حضرت عیسیٰ و حضرت آدم علیہما السلام کے درمیان ۴۰۰۴ سال کا فاصلہ بتایا گیا ہے۔ اس حساب سے ہمارے اور حضرت آدم علیہ السلام کے مابین ۵۹۱۴ سال سے زیادہ کا فصل نہیں ہوتا۔
فلاسفہ ۱؎ اس حساب کو غلط قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چھ ہزار سال کے عرصہ میں نوعِ انسانی اور ان کی زبانوں، مذہبوں اور جسموں میں ایسا عظیم اور نمایاں اختلاف و تغیر نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ تحقیق و تفتیش سے ثابت ہوتا ہے۔
قدیم ترین مصری آثار جو آج سے چار ہزار سال قبل کے بنے ہوئے ہیں۔ ان میں ہم کو افریقہ اور سویز کے درمیانی علاقہ میں مختلف قوموں کے مجسمے اور شکلیں ایسی نظر آتی ہیں جن کی شکل، کھوپڑی، ناک، کان، بال اور رنگ وغیرہ زمانہ موجودہ کے انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ اس لئے یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ طوفانِ نوح علیہ السلام اور مصر کے آثارِ قدیمہ کے مابین جو قلیل مدت بتائی جاتی ہے وہ قوموں کے درمیان اس حد تک اختلاف و انقلاب جسمانی کے لئے کافی ہو۔ لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم وجود انسان کو چھ ہزار سال سے دسیوں ہزار سال پہلے فرض کریں جو ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والی قوموں کے اس حد تک اختلاف جسمانی کے لئے کافی ہوسکے۔
وجود انسانی کی تاریخ پر ہر زمانہ میں کافی بحث ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس باب میں آج تک جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ ظنی و تخمینی ہے۔ مصر قدیم کے ایک بادشاہ نے نیتوں کے مشہور عالم ہیئت بطلیموس پلاؤلف کو دو سو برس قبل مسیح حکم دیا تھا کہ قدماء مصر کے قدیم ترین زمانو ںکا حساب لگا کر حدود قائم کرو تو اس نے تقریباً ۳۵۰۰۰ سال مقرر کئے۔ ایك دوسرے یونانی مؤرخ "دیودور" صقلی نے جو عین ولادتِ مسیح کی صدی میں ہوا ہے تقریباً ۲۲۵۰۰۰ سال کا اندازہ کیا ہے۔ مؤرخ کلدانی "بیرور" جو تیسری صدی قبل مسیح میں تھا اس نے کلدانی قبائل کی مدت کو ۴۳۰۰۰۰ سال بتایا ہے اور طوفانِ نوح اور ملکۂ بابل "سمیرا میس" کے مابین ۳۵۰۰۰ سال کا فاصلہ قرار دیا ہے۔ لیکن عصر حاضر کے محققین و مؤرخین انسان اول کے وجود کی تاریخ کو علم طبقات الارض (جیلوجیا) کے ذریعہ مقرر کرنے پر اعتماد کرتے ہیں۔
ماہرین طبقات الارض کی تحقیقات کیا ہیں؟ مسٹر "ہارنر" اپنی تحقیقات و قیاسات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ فرش زمین پر انسان کا وجود اب سے ۳۰۰۰۰ سال پہلے سے ہے۔
امریکہ کے ایک ماہر طبقات الارض مسٹر "بونیٹ ڈالڈن" نے ایک قدیم ترین کھوپڑی کو دیکھ کر جو زمین کی تہ سے برآمد ہوئی تھی اندازہ کیا ہے کہ وہ ۱۵۸۴۰۰ سال سے کم کی نہیں۔
غرض مذہبی، لوگوں اور فلسفیوں کے درمیان زمین پر وجودِ آدم کی تاریخ میں بڑا کافی اختلاف ہے۔ ہمیں اس کا حل اس صورت میں کرنا لازمی ہے کہ روح اسلام سے مطابق ہوسکے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ قرآنِ حکیم اور احادیث صحیحہ زمین پر وجودِ آدم کی تاریخ سے متعلق کوئی خاص تصریح نہیں کی گئی ہے۔ بعض مفسرین نے جو تصریحات بیان کی ہیں وہ سب اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ اسلامی محققین و مؤرخین کی کتابوں میں جو تفصیلات دی گئیں ہیں وہ علوم عصری اور کم از کم موجودہ محققین کے دعووں سے اتفاق کی گنجائش رکھتی ہیں۔ علاؤ الدین علی البسوی اپنی کتاب "محاضرۃ الاوائل" مؤلفہ ۹۸۸ھ میں بیان کرتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے کہ جب آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی تو زمین نے ان سے کہا کہ اے آدم! تو مجھ پر کب آیا؟ جبکہ میری نئی بہار، تازگی اور جوانی رخصت ہوگئی اور میں پرانی یعنی قریب الفنا ہوچکی۔
پھر کہتے ہیں کہ بعض تاریخوں میں آیا ہے کہ زمین پر تخلیق آدم علیہ السلام سے پہلے گوشت خون والی ایک مخلوق موجود تھی جس کی شہادت قرآن مجید کی اس آیت سے ملتی ہے۔
قَالُوْآ اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآءَ الخ
فرشتوں ۱؎ نے یہ بات اپنے عینی مشاہدہ کی بناء پر کہی ہوگی؟
پھر کہتے ہیں کہ تاریخ میں یہ بھی مذکور ہے کہ یہ لوگ اگلوں کے خلاف تھے، خدا نے ان میں یوسف نام کے ایک نبی کو بھیجا تو ان لوگوں نے ان کو قتل کرڈالا۔ پھر محقق ۱؎ موصوف لکھتے ہیں کہ فتوحات مكیہ میں شیخ محی الدین اکبر رحمۃ اللہ علیہ نے حدوث عالم کے باب میں کیا خوب کہا ہے کہ
میں نے ایک مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف ایک ایسی جماعت کے ساتھ کیا جنہیں میں شناخت نہیں کرسکتا تھا۔ اس جماعت میں سے کسی نے دو شعر پڑھے۔ جن میں سے مجھے ایک یاد رہ گیا اور دوسرا فراموش ہوگیا۔ وہ شعر یہ ہے۔
لقد طفتم کما طفنا سینسینا بہذا البیت طرا اجمعونا
میں نے ان میں سے ایک شخص سے دریافت کیا۔ آپ کون لوگ ہیں؟ اُس نے جواب دیا ہم تمہارے اجداد اولین میں سے ہیں۔
میں نے پھر سوال کیا۔ آپ کس زمانہ کے لوگ ہیں؟ اس نے جواب دیا۔ کچھ اوپر چالیس ہزار سال پہلے کے۔ میں نے کہا۔ آدم تو اس سے بہت قریب زمانہ کے ہیں۔ تو اس نے کہا تم کس آدم کی بات کہتے ہو؟ یہ آدم جو تم سے بہت قریب زمانہ کے ہیں یا دوسرے آدم کے متعلق؟ یہ سن کر میں فکر میں پڑ گیا اور مجھ پر ایک وحشت سی طاری ہوگئی۔ لیکن فوراً ہی مجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث یاد آگئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے پہلے جن کا حال ہمیں معلوم ہے ایک لاکھ آدم اور پیدا کئے ہیں۔
ایسی ہی ایک روایت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ پھر شیخ اکبر نے فتوحات میں بیان فرمایا ہے کہ "میں نے ایک مرتبہ عالم ارواح میں ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی اور ان سے اپنے اس کشف اور اس سے متعلق اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا۔ اس لئے کہ ہر ایک وہ کشف جس کی تائید حدیث صحیح سے نہ ہو محققین کے نزدیک قابل توجہ نہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا "یہ حدیث بھی صحیح ہے اور اس کی بابت تمہارا مکاشفہ و مشاہدہ بھی درست ہے۔ ہم انبیاء کی جماعت حدوث عالم پر ایمان رکھتی ہے اور تعینات و تکوینیات کے مبداء سے ہمارا علم انقطاعی ہے۔
شیخ اکبر قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ حدوث عالم کے باوجود ابتداء تاریخ عالم کا علم باتفاق انبیاء و اولیاء و مجتہدین مجہول ۱؎ ہے، اگرچہ متقدمین و متاخرین فلاسفہ اس کے خلاف نہیں لیکن ان باتوں پر توجہ نہیں کرتے جو محض جاہل مورخین نے بیان کی ہیں۔ واللہ اعلم اتم۔
اس موضوع پر یہ چند روایات ہیں جن سے نظریہ اسلام کی اتنی وسعت ثابت ہوتی ہے کہ جدید بحثیں اس کے اندر سما سکتی ہیں۔ ۱؎
تخلیق آدم کے باب میں اہل مذاہب اور فلاسفۂ عصر کا اختلاف ہے اور یہ مسئلہ ایک حیثیت سے زمین پر وجود آدم کی تاریخ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
اہل مذہب تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مستقل طور پر آدم علیہ السلام کو مٹی سے اس کی اپنی صورت اصلی پر بنایا اور پھر اس کے قالب میں اپنی روح پھونک کر مکمل بشر بنادیا۔ فلاسفۂ عصر کہتے ہیں کہ یہ بات عقل اور عادت خالق دونوں کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ابتداء ً زمین پر بہت چھوٹی سی شکل کا ایک ادنیٰ حیوان تھا پھر بعض موثرات طبعی سے اس کی ہیئت جسمانی میں تغیر ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ اضطراری طور پر اس کی طرز معیشت میں تغیر واقع ہوکر طول زمانہ اور مختلف موثرات کے باعث اس کی صفات میں تغیر و تبدل پیدا ہوگیا اور اس تغیر و تبدل نے اس کی جنس میں امتیاز اور ترقی پیدا کردی اور وہ اپنے دوسرے زیرِ اثر حیوانات پر غلبہ و تسلط حاصل کرتا گیا ہو اور حیوانات غیراختیاری طور پر ان ہزاروں سال کے عرصہ میں اُس کے زیرِ اثر اور محکوم ہوتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ اُس نے بند ر کی شکل ۲؎ اختیار کرلی اور اُسی سے حیوان کی ایک ایسی ترقی یافتہ قسم پیدا ہوئی جو بندر اور انسان کی درمیانی حالت میں تھی اور پھر اُس سے موجودہ شکل و صورت کا انسان عالمِ وجود میں آیا۔
یہ خلاصہ ہے ڈاروین کی تھیوری کا جس کو ہم نے لفظ "ڈاروین" کی تشریح کے سلسلہ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فلسفیوں اور مذہبی لوگوں کا اس مسئلہ میں بڑا بھاری ا ختلاف ہے۔ ہم یہاں اس کی صراحت کئے دیتے ہیں کہ یہ عقیدہ موجودہ علمی و رسمی عقیدہ ہے۔ دنیا کا رجحان زیادہ تر اسی نظریہ کی طرف ہے اور دوسرے نظریہ کے ماننے والوں کی تعداد کم ہے۔ لیکن یہ رائے آج تک ظنی ہی رہی مرتبۂ تحقیق تک نہیں پہنچ سکی۔ اس لئے کہ بندر اور انسان کے درمیان کی متوسط مخلوق مفقود ہے، روئے زمین پر اس کا کہیں پتہ نہیں مل سکا اور جب تک ایسی مخلوق کا وجود ثابت نہ ہوجائے اس نظریہ کی صحت پر کوئی عقلی دلیل قائم نہیں ہوسکتی۔ لیکن پھر بھی فلاسفہ نے دوسرے نظریات و آراء کو نظر انداز کرکے راز تخلیق کے اسباب کی سہولت کے پیش نظر اسی نظریہ اور رائے کو پسند کرلیا ہے۔
کیا یہ عقیدہ دین ۱؎ کے منافی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ عہد حاضر میں اس کا جواب دینا کوئی آسان بات نہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس اہم موضوع پر ہم کافی غور و خوض کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے یقینی ۲؎ علم کا دروازہ کھول دے۔
اگر یہ ڈاروینی تھیوری صحیح ثابت ہوجائے تو خلقت آدم علیہ السلام کے متعلق جو آیات قرآن وارد ہوئی ہیں ان کے ظاہر معانی ۲؎ کی تاویل کرنا آسان ہوجائے گا۔
اور اس کی صحت ثابت نہ ہوسکی تو ہمیں اُسی مذہبی نظریہ کی طرف مائل ہونا چاہئے جو دلیل قطعی سے ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے کہ حقیقت مسلمان کی گمشدہ چیز ہے جہاں بھی وہ ملے گی اُسے لے لے گا۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اُن تمام علمی رایوں پر بحث کریں جو ہم پر اور دوسروں پر وزن و ثبات سے ظاہر ہوں۔ ہم صرف اپنی مخصوص رائے کی جانبداری نہ کریں کہ یہ ایک بہت بڑی اور کثیر الوجود حقیقت ہے۔ عقلمند کا یہی کام ہے کہ وہ کسی حقیقت ۱؎ کی انتہاء تک پہنچے بغیر رُک نہ جائے۔
قرآن حکیم میں خلقت آدم سے متعلق جو آیات ہیں اُن کا لفظی ترجمہ یہ ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں تو فرشتے کہنے لگے خدایا کیا تو زمین پر ایسی مخلوق بنانا چاہتا ہے جو زمین میں فساد پھیلائے اور خون بہائے؟ حالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ خدا نے کہا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیںجانتے۔ پھر خدا نے آدم علیہ السلام کو تمام اسماء سکھادیئے۔ پھر انہیں ملائکہ کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا۔ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان تمام اشیاء کائنات کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے عرض کیا "اے پروردگار! ہمیں تو صرف انہیں چیزوں کا علم ہے جو تونے ہمیں بتادی ہیں۔ بے شک تو علیم و حکیم ہے۔" (اب) خدا نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ اے آدم! تم ان چیزوں کے اسماء ظاہر کرو۔ جب انہوں نے اُن اسماء کو ظاہر کیا تو خدا نے کہا (اے فرشتو!) کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں زمینوں اور آسمانوں کے پوشیدہ راز کو خوب جانتا ہوں اور ان باتوں کو بھی جنہیں تم ظاہر کرتے اورچھپاتے ہو۔ پھر جب ہم نے فرشتوں سے کہا (اچھا) اب آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو سب نے اسے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار و تکبر کیا۔ کیونکہ وہ منکر کافر نعمت ناشکر گزار تھا۔ پھر ہم نے کہا اے آدم! تم اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہو، بسو اور جہاں سے اور جس طرح تمہارا جی چاہے جنت کی نعمتیں کھاکر عیش کرو۔ ہاں! اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ تم اپنے اوپر (خود ہی) ظلم کرو گے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد شیطان نے ان کو اُس ثابت قدمی سے ڈگمگایا اور اُس عیش و عشرت، عزت و راحت کے مقام یعنی جنت سے نکلوادیا۔ ہم نے کہا اتر جاؤ تم اس اعلیٰ مقام (جنت) سے پست زمین میں۔ اب تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بنتے رہو گے۔ اب تمہارا ٹھکانا اور نفع اُٹھانا ایک وقت مقررہ تک زمین میں ہے۔
پھر آدم علیہ السلامکو منجانب اللہ کچھ کلمات القاء ہوئے اور خدا نے ان کی توبہ قبول کی۔ بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحیم ہے۔ ہم نے کہا تم سب کے سب اس جنت ِ اعلیٰ سے پست زمین میں اتر جاؤ۔ پھر جب ہماری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت پہنچے تو جو لوگ ہماری ہدایت پر چلیں گے انہیں کوئی خوف و غم نہ ہوگا اور جو کفر و سرکشی کرکے ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ دوزخی ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ اس میں بہت کچھ تفصیل و بیان کی گنجائش ہے۔ ان کے ضمن میں چند اہم مسائل ہیں جن کا جاننا قرآن کریم پر بحث کرنے والے کے لئے ضروری ہے۔ وہ مسائل یہ ہیں۔
(۱) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے اس بابت میں خطاب کیا کہ وہ عنقریب زمین میں ایک خلیفہ بنائے گا اور فرشتوں نے اس کی طرف رجوع کیا۔ پس ایک جویائے حقیقت اس مکالمہ کی حقیقت سمجھنا چاہتا ہے۔
(۲) آدم علیہ السلام نے تمام اسماء کو سیکھ لیا۔ یہ اسماء کیا ہیں؟ اور فرشتوں کے سجدہ کا کیا مطلب ہے؟
(۳) اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا کو ساکن جنت بنایا تو کیا وہ جنت آسمان میں ہے یا زمین میں؟
(۴) یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت سے اُتارا۔
(۵) یہ کہ آدم علیہ السلام كو خدا کی طرف سے چند کلمات تلقین ہوئے۔ یہ کلمات کیا تھے؟
پہلی بات کے متعلق ہم کہتے ہیںکہ آیت کے ظاہری الفاظ اس امر کو بتاتے ہیں کہ آدم علیہ السلام و ذریت آدم کی تخلیق کے باب میں اللہ اور فرشتوں کے مابین گفتگو ہوئی۔ لیکن اہل دین و دیانت اس معنی کو قبول نہیں کرسکتے۔
اس لئے نبی علیہ السلام کی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ عقول سے بھی اس طرح پنہاں ہے جس طرح نگاہوں سے اور ملاء اعلیٰ بھی اسی طرح اس کی جستجو میں ہیں جیسے تم، اور جیسا کہ واقعۂ معراج میں وارد ہے کہ جبرئیل علیہ السلام جب اپنی حد پرواز یعنی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور نبی علیہ السلام نے اُن سے کہا "اے رفیق کیوں رُک گئے؟" تو انہو ںنے جواب دیا "اگر میں ایک بال برابر بھی آگے بڑھوں تو جل کر خاکستر ہوجاؤں"


اگر یک سرِ موئے برتر پرم
فروغِ تجلی بسوزد پرم


چنانچہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم انہیں یہیں چھوڑ کر تنہا بلندی پر چڑھے۔ اس اُوپر چڑھنے کے معنی میں ہماری ایک خاص رائے ہے جسے ہم نے لفظ اسراء کے ذیل میں بیان کیا ہے۔ (وہاں دیکھو) پھر یہ حقیقت ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز ہے نہ اس سے بڑی۔ "
لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْء" اس لئے ازروئے عقل یہ جائز نہیں ہوسکتا ہے کہ خدا کی پیدا کردہ مخلوق اس کی حکمت کے اقتضاء اور ارادہ سے متعلق امر کی بابت اُس سے کوئی حجت اور گفتگو کرسکے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ اس گفتگو کو فرشتوں کے حال سے متعلق ایک تمثیل قرار ۱؎ دیا جائے کہ جب اُنہیں اس امر کا علم ہوا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب زمین میں ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہے اور ان کو یہ علم ہوا کیسے؟ یا تو اس لئے کہ ان میں حدوث امور سے پہلے "حدوث پذیر امور" کو سمجھ لینے کی استعداد و قابلیت پائی جاتی ہے۔ یا ان کے ظاہری آثار اور اپنے حالات کی مماثلت کے باعث وہ اِس ارادۂِ الٰہی کو جان گئے اور اس دوران میں اُن کے وجدان میں اِس قسم کے اعتراضات متحرک ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی یا الہام کے ذریعہ یہ بتایا کہ میں اُن باتوں کو جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔
رہی دوسری بات یعنی اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو اسماء کی تعلیم کرنا۔ سو مفسرین کہتے ہیں کہ وہ تمام حادث مخلوقات کے نامو ںکی تعلیم تھی جو تمام مختلف لغات والسنہ میں آدم علیہ السلام کو سکھادی اور پھر اُنہیں حکم دیا کہ ملائکہ کے سامنے نغمہ سرائی کریں۔
ان الفاظ کو ظاہری معنی پر محمول کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ بیان بھی اس بات کی ایک تمثیلی تعبیر ہے کہ آدم علیہ السلام کا تمام شرور کی قابلیت سے متصف ہوکر پیدا ہونے سے فرشتوں پر خاص اثر ہوا اور انہوں نے زمین میں اس کی تخلیق کو بہت اہم سمجھا۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ فرشتے اگرچہ حکم الٰہی کو تسلیم کرتے تھے لیکن وہ اپنے دِل میں ایک اعتراض مخفی کئے ہوئے تھے مگر جب آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوگئی اور اس کے اولین اطوار ہی سے یہ ظاہر ہونے لگا کہ اس میں تمام ممکنات کے ادراک کی قابلیت و صلاحیت ہے اور اپنی علمی زندگی میں اقصی الغایات تک پہنچنے کی اہلیت رکھتا ہے تو انہو ں نے سمجھ لیا کہ یہ ایک بزرگ اور عظیم الشان مخلوق ہے اور اُس کے شرف موہبت کی بناء پر اُس کی تعظیم و تکریم کرنا واجب ہے تو انہوں نے اس کی تعظیم و تکریم کی اور اکرام و احترام سے پیش آئے۔ یہ معنی ہیں آدم علیہ السلام کے لئے فرشتوں کے سجدہ کے۔ ورنہ اس بات کو تو عقلِ سلیم قبول نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے سامنے ۱؎ کھڑا کرکے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ہو۔ اس لئے کہ بے مثل خدائے ذوالجلال کی ذاتِ مقدس اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ آدم اور فرشتوں کے ساتھ مجتمع ہو۔ جیسا کہ آیت کے ظاہری الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ دراں حالیکہ
"لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْء" ایک حقیقت ثابتہ ہے۔
تیسری بات کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا کو ساکن جنت بنایا۔ اس کے متعلق بعض مفسرین جن میں ابوالقاسم بلخی اور ابو مسلم اصفہانی بھی شامل ہیں اس طرف گئے ہیں کہ جنت زمین پر ہے۔ ہم بھی اسی رائے کو پسند کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کرکے ایک پراشجار و پر اثمار اور شاداب انہار قطعۂ زمین میں بھیج دیا تاکہ اُس سے روزی حاصل کریں لیکن وہ درخت جس کا پھل کھانے سے منع کیا تھا اور وہ جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے گیہوں یا انگور کا یا کوئی اور درخت تھا۔ بہر کیف وہ کوئی ایسا ضرر رساں درخت تھا جس کا پھل کھانے سے ان کو دائمی تکلیف لاحق ہوئی۔ جیسا کہ آئندہ آیت میں آتا ہے کہ اس کا پھل کھاتے ہی یہ ضرر پہنچا کہ ان کا ستر یعنی شرمگاہیں جو اس سے پہلے کسی غشاء یا پردہ سے چھپی ہوئی تھیں نمایاں ہوگئیں۔
(ماہنامہ قائد ملتان ماہ جون ۱۹۵۰ء جلد ۲ شمارہ ۵ ص ۲۰ تا ۲۴)