اسلاف کی ہڈیاں


از مولوی نور احمد خاں فریدی مع تعاقب (از مدیر مسئول)
محترم فاضل دوست مولانا نور احمد خان صاحب فریدی کا یہ مضمون دِلی شکریہ کے ساتھ ہم "قائد" میں درج کر رہے ہیں۔ لیکن دو جگہ تعاقب کرنا پڑا جس کی وجہ سے ہم اپنے فاضل دوست سے شرمندہ بھی ہیں۔ مولانا محترم کے اخلاق کریمانہ سے امید ہے کہ ہمارے اس تطفل سے کوئی ملال محسوس نہ فرمائیں گے اور اگر انہیں ہماری تحقیق سے اختلاف ہو تو ہمیں اس سے مطلع فرماکر ممنون فرمائیں۔
پچھلے دِنوں بیک وقت رسالہ عالمگیر لاہور، پرچم لائل پور، زمیندار لاہور، الفرید چاچڑاں شریف، خیام لاہور اور صبح امید بمبئی میں نیاز مند کا سفر نامہ حجاز شائع ہوا ہے۔ ان میں جنت المعلّٰی اور جنت البقیع کے عنوان سے ارضِ مقدس کے دو مشہور قبرستانوں کا بھی حال درج تھا۔
حکومت سعودیہ کی طرف سے ان قبرستانوں سے جو سلوک ہوا ہے اس کا بھی ضمناً ذِکر آیا۔ اس پر سلطان مسقط کے چیف سیکرٹری علامہ احمد شبیلی کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے جھنجھلا کر اپنا مراسلہ صبح امید بمبئی میں شائع کرنے کو بھیجا۔ اس میں لکھا کہ حاجی صاحب مکہ مکرمہ حج کرنے گئے تھے یا قبروں پر فاتحہ پڑھنے؟
شبیلی صاحب کے اس فقرہ سے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ قبروں پر فاتحہ پڑھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اگر ان کے نزدیک قبرستان میں جانا اور فاتحہ پڑھنا روا نہیں ہے تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ حضرت رسالت پناہی ﷺ نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع کے موقع پر اُم المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کی قبر مبارک پر فاتحہ نہیں پڑھی تھی؟ کیا آنحضرت ﷺ راتوں کو اٹھ اٹھ کر جنت البقیع میں تشریف نہیں لے جاتے تھے؟ اگر نبوت قبرستان میں تشریف لے جاتی تھی تو علامہ شبیلی کو مجھ پر طنز کرنے کا کیا حق ہے؟ اور اگر کوئی حاجی حج کے ساتھ رسول اللہ ﷺکی ذریات كی قبروں پر فاتحہ پڑھ دیتا ہے تو اس سے حاجی کا حج کس طرح ساقط ہوجاتا ہے؟
آگے چل کر شبیلی صاحب نے قبروں کے جواز و عدم جواز پر بحث کی ہے اور بمبئی کے سیٹھوں پر خوب خوب برسے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین کی قبر پر گریہ کیوں کیا؟ اور ٹوٹی پھوٹی قبروں کے روڑے کنکر کو سر آنکھوں سے کیوں لگایا؟
دنیا میں دو قسم کے آدمی ملتے ہیں۔ بعض کی عقل پر محبت غالب ہوتی ہے اور بعض کی محبت پر عقل کا تسلط ہوتا ہے۔ جیسا کہ عہد رسالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ عمر بھر بلا ضرورت ایک درخت کی شاخ سے جھک کر گزرتے رہے کہ حضور رسولِ خدا ﷺ اس کے نیچے سے جھک کر گزرتے تھے۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قد لمبا نہ تھا اور انہیں جھک کر گزرنے کی ضرورت نہ تھی۔ ان کے مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل دیکھئے کہ انہوں ۱ ؎ نے شجر بیعت الرضوان کو یہ کہہ کر کٹوادیا تھا کہ اس سے شرک پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے جو لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سی طبیعت رکھتے ہیں وہ شخصی محبت سے زیادہ اصول کو پسند کرتے ہیں اور اپنی محبت کی معراج محبوب کے مقاصد کی ترویج میں سمجھتے ہیں۔ لیکن جنہیں اپنے محبوب سے والہانہ محبت ہو انہیں محبوب کی ہر شے مرغوب نظر آتی ہے۔ ان کا دِل یہ چاہتا ہے کہ محبوب کی ایک ایک ادا پر جان نچھاور کردیں۔ اس لئے اگر بمبئی کے سیٹھوں نے ام المؤمنین کی قبر پر گریہ کیا یا میں نے قبر مبارک کے شکستہ پتھروں کو سر آنکھوں سے لگایا تو اس میں علامہ شبیلی کو بُرا منانے کا کیا حق ہے؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آنسو:
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے عمل سے بھی سرکار دو عالم ﷺ کی قبر مبارک پر گریہ کرنا اور خاک مبارک کو چومنا و سونگھنا ثابت ہے۔ امام نویدی کے الفاظ یہ ہیں۔


اخذت تربۃ من تراب رسول اللہﷺ فشمتہ ثم انشاء ت تقول؎
ماذا علی من شم تربۃ احمد ان لا یشم مد الزمان نوالیا
صبت علی مصائب ہوانہا ان صبت علی الایام صرف لیالیا


الشیخ سمہودی المدنی اپنی شہرہ آفاق تصنیف وفاء الوفاء میں بروایت امام طبرانی و ابن شیبۃ تحریر فرماتے ہیں ہیں کہ جب جنابہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کی قبر پر حاضر ہوئیں اور سرہانے بیٹھ کر رونے لگیں۔ آں حضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو فوراً بقیع میں تشریف لے آئے اور معصومہ کے دوپٹہ کے دامن سے معصومہ کے آنسو پونچھے اور پیار سے صبر کی تلقین فرمائی۔ امام کی اصل عبارت یہ ہے۔
لما ماتت رقیۃ بنت رسول اللہ ﷺ بکت فاطمۃ رضی اللہ عنہا علی شفیر القبر فجعل النبی ﷺ یمسح الدموع عن عینہا بطرف ثوبۃ
اگر یہ صحیح ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی بہنوں کی قبروں پر گریہ کیا ہے اور اگر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبر مبارک پر رونا اور خاک مبارک سے اپنے چہرے کو آلودہ کرنا ثابت ہے تو شبیلی صاحب کو یہ حق کہاں سے پہنچتا ہے کہ وہ ام المؤمنین کی قبر پر گریہ کرنے کے جرم میں ہمیں موردِ الزام ٹھہرائیں۔ آنسو خوشی سے بھی نکل پڑتے ہیں۔ وفورِ محبت سے آنسو ٹپک پڑتے ہیں۔ اگر مدتوں کے بچھڑے ہوئے بچے کو یوں اچانک اپنی والدہ محترمہ کا شرف نیاز حاصل ہوجائے تو اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو کیوں نہ ٹپکیں اور اگر کوئی اپنی ماں کی قبر پر کھڑے ہوکر اس کی یاد میں آنکھوں سے چند گرم گرم قطرے ٹپکادے تو اس میںکسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے اور شبیلی صاحب کو اس سے شرک کی بو کیسے آنے لگتی ہے۔


عذر گناہ بدتراز گناہ
سلطان ابن سعود نے قبروں کو گراکر اسلام کی جو خدمت انجام دی ہے اس کی داد شبیلی صاحب جیسے معدودے چند آدمیوں کے سوا کسی نے نہیں دی۔ بلکہ غیر اسلامی دنیا نے بھی اسے بری طرح محسوس کیا ہے۔ کوئی زندہ قوم اپنے بزرگوں کی یاد گاروں کو مٹایا نہیں کرتی۔ اسلامی تاریخ سلطان ابن سعود کے سوا اور کوئی بادشاہ ایسا پیش نہیں کرسکتی جس نے اپنے بزرگوں کی قبروں پر ہل چلائے ہوں۔ شبیلی صاحب لکھتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے سیدنا علی کرم اللہ وجہہٗ کو قبروں کو پاٹنے اور مورتیوں کو توڑنے کے لئے روانہ فرمایا تھا۔
لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبریں مسلمانوں ہی کی تھیں۔ "روانہ" کا لفظ صاف دلالت کرتا ہے کہ جو قبریں گرانی مقصود تھیں وہ مدینہ شریف کے باہر تھیں اور یہ چھوٹی موٹی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی اچھی طرح سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ مسلمانوں کی قبریں عہد رسالت میں مدینہ عالیہ تک محدود تھیں، یا اُحد اور بدر کے مقامات پر شہداء دفن تھے۔ اگر شارع علیہ السلام  ان کی قبریں گراتے تو بنواتے ہی کیوں؟ حالانکہ تاریخ سے تو یہ ثابت ہے کہ حضرت نے نہ صرف قبریں بنوائیں بلکہ کتبے بھی لگوائے۔ علامہ امام سمہودی رحمۃ اللہ علیہ "وفاء الوفاء" میں لکھتے ہیں کہ جب ۱؎ حضرت نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو دفن فرمایا تو اس کی قبر کے سرہانے سنگین کتبہ لگوایا۔ امام کے اصل الفاظ یہ ہیں۔
لما دفن النبی ﷺ عثمان بن مظعون امر بحجر فوضع عند رأسہ الی اخرہٖ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدینہ سے روانگی ہی اس امر کی قوی دلیل ہے کہ جن قبروں کے پاٹنے کا انہیں حکم ہوا تھا وہ کفار اور یہود کی قبریں تھیں۔ اگر مسلم قبور کا گرانا مقصود ہوتا تو انہیں پہلے سے تعمیر ہی نہ کیا جاتا۔ کیونکہ اکثر و بیشتر قبریں حضرت کی موجودگی ہی میں تعمیر ہوئی تھیں۔ کیا شبیلی صاحب بتا سکتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کس موقعہ پر یہ حکم صادر فرمایا۔
(۲) حضرت علی رضی اللہ عنہ کس جانب تشریف لے گئے او رکن کن قبروں کو منہدم کرکے زمین کے برابر کیا۔
اگر شبیلی صاحب نے نیاز مند کی گزارشات پر ٹھنڈے دِل سے غور فرمایا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ عہد نبوی میں سوائے چند صحابیوں کے اور کوئی فوت ہوا ہی نہیں۔ زیادہ تر وہ قبریں وجود میں آئیں جو جنت البقیع اور بدر و اُحد کے مقامات پر لڑائیوں کے سبب بن گئی تھیں اور یہ حقیقت ہے کہ عہد رسالت اور خلاف راشدہ کے دور میں ان قبروں میں سے کسی قبر کو زخم نہیں پہنچا۔


ریاض کی قبریں
جب اُحد کی تلہٹی سے امیر معاویہ نہر نکالنے لگے تو اس موقع پر شہدائے اُحد کی چند لاشوں کو منتقل کیا گیا تھا جس کا ذِکر صاحب وفا نے تفصیل سے کیا ہے۔ اگر زمانۂ نبوت یا خلافت میں کوئی قبر گرائی جاتی تو اس کا ذِکر صحا ح ستہ میں ضرور ہوتا۔ تعجب اس امر کا ہے کہ سلطان کے پایۂ تخت ریاض میں جو شاہی قبرستان ہے اس میں اونٹوں کے کوہان کی ماند قبریں دندنا رہی ہیں، ان پر تو سلطان کی اسلامی حمیت کو جوش نہیں آتا۔ لیکن قبرستان بقیع و معلات تہس نہس کر دئیے گئے۔ کیا ان کا مرتبہ ریاض کے قبرستان سے کم تھا؟
۵؍دسمبر کا "زمیندار" لاہور اس خبر کا ذمہ دار ہے کہ ۳؍دسمبر ۱۹۴۹ء بروز جمعرات سہ پہر کے قریب سلطان مسقط قائد اعظم کے مزار پر گئے اور مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد پھول چڑھائے۔ یہ علامہ شبیلی کے سلطان المعظم کا فعل ہے۔ اگر مزارات پر پھولوں کا چڑھانا شرعاً ممنوع ہے تو پھر کم از کم وہ ہر جگہ متشرع ہونے کا ثبوت دیں۔ اگر قائد اعظم کے مزار پر پھول چڑھائے جاسکتے ہیں تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبر مبارک پر کونسی چیز مانع آسکتی ہے۔ ؎


آپ ہی اپنے ذرا طرزِ عمل کو دیکھیں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی


محاکمہ
لیکن میں نے یہ کہاں لکھا ہے کہ قبروں پر شاندار مقبرے بنوائے جائیں۔ اگر شبیلی صاحب نے میرے مضمون کو غور سے پڑھا ہے تو انہیں یہ سطریں صاف نظر آتی ہوں گی۔
اگر سعودی حکومت کو قبروں سے چِڑ ہے تو قبریں نہ سہی لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ جہاں رسول اللہ ﷺ کے اجداد دفن ہوں اسے صاف بھی نہ رکھا جائے۔ زیادہ نہ سہی زمین کو ہموار کرکے ان پر سفیدی سے یا اینٹوں سے قبر کا نشان بناکر سرہانے نام کی تختی لگادی جائے۔
فرمایئے! اس بیان سے کہاں ظاہر ہوتا ہے کہ میں مقبروں کی تعمیر کے لئے سلطان کو متوجہ کر رہا ہوں۔ میرا مقصود صرف یہ ہے کہ جہاں خاندانِ نبوت دفن ہے اسے بے ادبی سے بچایا جائے۔ حج کے موقع پر جب اکنافِ عالم سے لاکھوں آدمی یہاں آکر جمع ہوتے ہیں تو ایسے مقامات کا جب تک ان پر کوئی امتیازی نشان نہ ہو خرابی سے بچنا محال ہے۔ ایسے مردانِ کامل کی پاکیزہ ہڈیوں کو جنہوں نے اسلام کی بے بہا خدمات انجام دی ہیں بے ادبی سے بچانا ضروری ہے۔ حکومت سعودی نے مکہ مکرمہ کے اور بھی بہت سے مقدس مقامات کو غیر محفوظ کردیا ہے۔ جیسے مولد النبی ﷺ اور مولد فاطمہ رضی اللہ عنہا۔ جس کے بارے میں تاریخ الخمیس میں لکھا ہے۔
وہو افضل الموضع بمكة بعد المسجد الحرام
جس جگہ کو مسجد الحرام کے بعد افضل ترین بتایا جارہا ہے اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ غلاظت اور گندگی کے انبار لگے ہیں۔


شبیلی صاحب کی اور غلط بیانی:
شبیلی صاحب لکھتے ہیں۔
حاجی صاحب کو سخت افسوس ہے کہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مکہ میں کیوں وفات پائی۔ ہندوستان میں وفات پاتیں۔ تو ان کا مزار رشک تاج محل بناتے اور ان کی پوجا کرتے۔
اب میری عبارت کا ملاحظہ ہو۔
میرے سامنے بمبئی کے سیٹھوں نے ام المؤمنین خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبر پر گریہ کیا اور روتے ہوئے کہا کہ اے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدۂ محترمہ، اے آقائے دو جہاں کی ملکہ، اگر تیری قبر ہندوستان میں ہوتی تو ہم تیرا مقبرہ ایسا خوبصورت بناتے کہ تاج محل بھی رشک کھاتا۔
محولہ بالا بیان میرا کہاں ہے کہ شبیلی صاحب لٹھ لے کر میرے پیچھے دوڑ پڑے ہیں۔ اگر اس صراحت کے بعد بھی وہ مجھے کوستے رہیں تو ان کی قوتِ فیصلہ کا خدا حافظ۔
اگرچہ بمبئی کے سیٹھوں کی موجودہ سیاسی حالت حجاز کے مقابلہ میں بھی قابل رحم ہے۔ تاہم یہ فقرات ان کے جذبات کے ترجمان ہیں۔ ان میں انہوں نے صرف یہ ظاہر کیا کہ یہاں ہماری سنی نہیں جاتی۔ اگر تیری قبر ایسی جگہ ہوتی جہاں ہمیں اس کی تعمیر کا پورا اختیار ہوتا تو تاج محل سے بھی زیادہ حسین مقبرہ بنا کھڑا کرتے۔
(ماہنامہ 146146قائد145145 ملتان ماہ اپریل ۱۹۵۰ء، جلد ۲، شمارہ ۳، ص ۲۷/۳۲)