الادلۃ الشرعیہ
کتاب، سنت، اجماع، قیاس

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
یٰٓا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذَالِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَأْوِیْلًا؁ (النساء: ۵۹
حکام اور والیانِ امور کو ادائے امانت اور عدل فی الحکومت کا امر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کے ضمن میں عامۃ المؤمنین کو حکام اور والیانِ امور کی اطاعت کا حکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلو، نیز جو رسول احکامِ خداوندی کی تبلیغ کے لئے تمہاری طرف مبعوث ہوا ہے اس کے ہر امر و نہی میں اس کی فرمانبرداری اختیار کرو۔ کلبی فرماتے ہیں کہ فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور سنن میں رسول اللہ ﷺ کی۔ لیکن پہلے معنی اولیٰ ہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے ساتھ کلیۃً مقترن ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی
اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ اللہ کی اطاعت فرماکر فعل اَطِیْعُوْا کا اعادہ فرمایا، جس کی وجہ اعتنا بشان النبی ﷺ ہے اور اس وہم کو قطع کرنا مقصود ہے کہ جو چیز قرآن میں نہ ہو اس کا امتثال واجب نہیں اور اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ نبی ﷺکے لئے وہ استقلال بالطاعت ثابت ہے جو حضور کے غیر کے لئے ثابت نہیں۔ اس لئے وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں اس کا اعادہ نہیں فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُولِی الْاَمْرِ کے لئے وہ استقلال بالطاعت قطعاً حاصل نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے لئے حاصل ہے۔

اولی الامر سے کیا مراد ہے؟

علماء نے کہا کہ اُولِی الْاَمْرِ سے امراء مسلمین مراد ہیں، جن میں خلفاء، سلاطین اور قضاۃ سب شامل ہیں۔ سباق آیت اسی قول کا مُؤیِّد ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے لشکروں کے امیر مراد ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ اور میمون بن مہران سے مروی ہے اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدّی سے اخراج کیا اور اسی کا اخراج ابن عساکر نے بروایت ابی صالح ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا۔ اس میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سب لوگ منزلِ مقصود کی طرف چلے۔ مہاجرین کا یہ لشکر کفار کی جس قوم کی طرف جا رہا تھا، اُسے کسی جاسوس نے اس لشکر کی خبر دی۔ وہ سب لوگ راتوں رات بھاگ گئے۔ صرف ایک آدمی ایسا تھا کہ وہ رات کی تاریکی میں حضرت خالد کے لشکر میں پہنچا اور لوگوں سے پوچھتا ہوا عمار بن یاسر کے پاس گیا اور اُن سے کہا اے ابو الیقظان! میں مسلمان ہوگیا ہوں اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے عبد ِ مقدس اور اس کے رسول برحق ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ میری قوم نے جب آپ لوگوں کے آنے کی خبر سنی تو پوری قوم بھاگ گئی۔ صرف میں بارقی رہا تو کیا میرا اسلام کل مجھے کچھ نفع دے گا۔ اگر نہیں تو میں بھی بھاگ جاؤں۔ حضرت عمار نے فرمایا کہ تیرا اِسلام تجھے ضرور نفع دے گا۔ تو جا اور اپنی بستی میں ٹھہرا رہ، وہ چلا گیا اور اپنے گھر ٹھہر گیا۔ جب صبح کے وقت خالد بن ولید نے اُن پر حملہ کیا تو سوائے اُس ایک آدمی کے کسی کو بھی وہاں نہ پایا۔ اُسی کو پکڑ لیا اور اس کا مال بھی لے لیا۔ یہ خبر حضرت عمار کو ہوئی تو وہ خالد بن ولید کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ آپ اس آدمی کو چھوڑ دیں، یہ اسلام لے آیا ہے اور میری امان میں ہے۔ خالد بن ولید کہنے لگے آپ کون ہوتے ہیں امان دینے والے۔ دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہوئی اور ان کا مقدمہ بارگاہِ نبوت میں پیش ہوا۔ حضور ﷺ نے حضرت عمار کی امان کو برقرار رکھا اور اُنہیں اس بات سے منع فرمادیا کہ آئندہ وہ منشائِ امیر کے خلاف کسی کو امان نہ دیں۔ حضور ﷺ کی موجودگی میں بھی اُن کی آپس میں کچھ سخت کلامی ہوئی۔ خالد بن ولید نے عرض کیا کہ حضور آپ نے اس عبد ِ رجدع کو مجھے گالیاں دینے کے لئے چھوڑ رکھا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے خالد! خبردار، عمار کے حق میں سخت کلامی نہ کرو، کیونکہ جس نے عمار کو بُرا کہا (گویا) اس نے اللہ تعالیٰ کے حق میں بُرے کلمے استعمال کئے۔ جو عمار سے بغض رکھتا ہے وہ اللہ کے نزدیک مبغوض ہے۔ جس نے عمار پرلعنت کی، اللہ تعالیٰ اُس پر لعنت فرماتا ہے۔ حضرت عمار خالد بن ولید سے ناراض ہوکر چلے دیئے، خالد بن ولید اُن کے پیچھے دوڑے۔ یہاں تک کہ ان کا دامن پکڑ لیا اور ان کی طرف معذرت کی اور معافی چاہی، جس کے بعد حضرت عمار اُن سے راضی ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ روایت دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ
اولی الامر سے اہل علم مراد ہیں، اس قول کو اکثر مفسرین نے عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ مجاہد، حسن بصری اور عطا رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، اور ان کے علاوہ ایک جماعت سے روایت کیا۔
حضرت ابوالعالیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تیسرے قول کی صحت پر اللہ تعالیٰ کے قول
وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ سے استدلال کیا۔ کیونکہ احکامِ شرعیہ کا استنباط و استخراج کرنے والے صرف علماء ہیں۔
چوتھا قول جو بعید عن الصواب نہیں وہ ہے جسے کثیر علماء نے اختیار کیا کہ اولی الامر حکام اور علماء سب کو شامل ہونے کی وجہ سے سب کے لئے عام ہے۔ امراء کو اس لئے کہ ان کے لئے جیش و قتال کی تدبیر کا امر ثابت ہے اور علماء کو اس لئے کہ ان کے لئے حفظِ شریعت اور تحفظِ حرام و حلال کا امر ثابت ہے، لہٰذا سب اولی الامر ٹھہرے۔
البتہ علماء کو مراد لینے کی تقدیر پر
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ سے ضرور اشکال پیدا ہوگا۔ کیونکہ مخاطبین مطلقاً عام مومنین ہیں اور الشیء امر دین کے ساتھ خاص ہے اور معنی یہ ہیں کہ اے ایمان والو! اگر تم اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کے ساتھ امورِ دین میں سے کسی امر میں تنازعہ کرو تو اسے لوٹا دو اللہ اور اس کے رسول کی طرف اور ظاہر ہے کہ یہ معنی اس بات کو چاہتے ہیں کہ اولی الامر کا حمل علماء کی بجائے امراء پر کیا جائے کیونکہ عامۃ المسلمین کامنازعہ امراء کے ساتھ بعض امور میں سکتا ہے۔ لیکن علماء کے ساتھ عوام کا منازعہ متصور نہیں۔ کیونکہ علماء سے مراد یہاں مجتہد ہیں اور عام لوگ ان کے احکامِ مستنبطہ میں اُن سے منازعہ نہیں کرسکتے۔ ہاں مجتہدین آپس میں دلیل و حجت کے ساتھ باہمی اختلاف کرنے کے مجاز ہیں۔ اسی لئے بعض مفسرین نے تَنَازَعْتُمْ کا مخاطب علی سبیل الالتفات اولی الامر کو قرار دیا ہے تاکہ اشکال لازم نہ آئے۔
بعض علماء نے اس اشکال کا یہ جواب دیا ہے کہ
تَنَازَعْتُمْ کے مخاطب عامۃ المؤمنین ہیں اور منازعہ سے مومنین اور امراء کا باہمی منازعہ مراد ہے۔ اس اعتبار سے کہ امراء بھی عام مؤمنین کے بعض افراد ہیں۔ اس صورت میں اولی الامر كے حکم سے علماء مجتہدین مراد لئے جائیں تو کوئی محذور لازم نہیں آتا۔ پھر یہ امر قابل فراموش نہیں کہ امراء کی اطاعت کا وجوب اسی صورت میں ہے جبکہ وہ حق پر ہوں۔
خلافِ شرع امور میں ان کی اطاعت واجب نہیں۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ سے روایت کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا
لا طاعۃ لبشر فی معصیۃ اللہ تعالٰی۔ نیز شیخین (بخاری و مسلم) امام احمد، ابو داؤد، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ حضرت علی نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری ۱؎ کو امیر بنایا اور تمام لشکریوں کو امر فرمایا کہ اس کا حکم مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ اتفاقاً امیر کسی وجہ سے لشکریوں پر غضب ناک ہوگیا۔ غصہ کی حالت میں اس نے حکم دیا کہ لکڑیاں جمع کرو اور اُنہیں آگ لگا دو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ لکڑیاں جمع کیں او رانہیں آگ لگادی۔ پھر امیر نے لشکریوں سے کہا کہ حضور ﷺ نے تمہیں اس بات کا حکم نہیں فرمایا کہ تم میرا حکم سُن کر میری اطاعت کرو؟ سب نے کہا کیوں نہیں، ضرور فرمایا ہے۔ امیر نے کہا کہ تم سب اس آگ میں داخل ہوجاؤ! لشکری ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور سوچ کر اُنہوں نے کہا کہ ہم لوگ تو آگ ہی سے بچنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھاگ کر آئے تھے۔ اسی غور و فکر اور گفت و شنید میں آگ بجھ گئی اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوگیا۔ جب یہ سب لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں واپس آئے اور حضور ﷺ کے سامنے یہ واقعہ پیش ہوا تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اگر لشکری اس آگ میں داخل ہوجاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔ طاعت صرف معروف میں ہے۔

امر مباح میں وجوب طاعت کا حکم

رہا یہ سوال کہ امر مباح میں اولی الامر کی طاعت واجب ہے یا نہیں، تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ واجب نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال کرنے کا حق حاصل نہیں۔ نہ اللہ کے حرام کو حلال کرنا کسی کے لئے جائز ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ واجب ہے۔ جیسا کہ علامہ حصكفی وغیرہ نے فرمایا ہے اور بعض محققینِ شافعیہ نے کہا کہ امام کی اطاعت اس کی ہر نہی اور ا س کے ہر امر میں واجب ہے، جب تک کہ وہ کسی حرام کا امر نہ کرے۔
(روح المعانی پ ۵، ص ۵۹، ۶۰، ملخصاً)
آیت مبارکہ
اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ سے جس طرح کتاب اللہ کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے اُسی طرح سنت ِ نبی کریم ﷺ کا حجت ِ شرعیہ ہونا بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہے کیونکہ اَطِیْعُوا اللہ کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ کتاب اللہ کو حجتِ شرعیہ مان کر اس پر عمل کیا جائے۔ علیٰ ہذا القیاس اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ
کا مفہوم بھی بجز اس کے کچھ نہیں ہوسکتا کہ سنت ِ نبوی کو حجت ِ شرعیہ تسلیم کرکے اس کو معمول بہانہ بنایا جائے۔ نہ صرف یہ بلکہ ذرا غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ آیت مقدسہ اجماع اُمت اور قیاس آئمہ مجتہدین کے شرعی حجت ہونے پر بھی روشن دلالت کر رہی ہے۔
روح المعانی میں ہے
الحق ان الایۃ دلیل علی اثبات القیاس بل ہی متضمنۃ لجمیع الادلۃ الشرعیۃ فان المراد باطاعۃ اللّٰہ تعالٰی العمل بالکتاب وباطاعۃ الرسول العمل بالسنۃ وبا الرد الیہما القیاس لان رد المختلف فیہ الغیر المعلوم من النص الی المنصوص الیہ انما یکون بالتمثیل والبناء علیہ ولیس القیاس شیئا وراء ذالک وقد علم من قولہ سبحانہٗ ان تنازعتم انہ عند عدم النزاع یعمل بما اتفق علیہ وہو الاجماع۔ انتہٰی (ص ۶۰ پ ۵
منکرینِ قیاس اِس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قیاس کی طرف نہیں، بلکہ کتاب و سنت کی طرف رجوع کو واجب قرار دیا۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ یہ آیت اثباتِ قیاس کی دلیل ہے بلکہ تمام ادلۃ شرعیہ کو متضمن ہے۔ اس لئے کہ اطاعت اللہ تعالیٰ سے عمل بالکتاب مراد ہے اور اطاعت الرسول سے عمل بالسنۃ مراد ہے اور بالرد الیہما سے قیاس مراد ہے۔ اِس لئے کہ جو اختلافی مسئلہ نص سے معلوم نہ ہو اس کو منصوص علیہ کی طرف پھیرنا اسی طرح ممکن ہے کہ غیر منصوص کو منصوص پر قیاس کیا جائے اور غیر منصوص کی منصوص پر بنا کی جائے۔ ظاہر ہے کہ قیاس اس کے سوا کچھ نہیں۔ معلوم ہوا کہ آیت قیاس کی مثبت ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب کسی امر غیر منصوص میں جھگڑا نہ ہوا ہو۔ یعنی تمام اہل حل و عقد اس پر متفق ہوں تو پھر اس مسئلہ کو کتاب و سنت کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا (یعنی قیاس کی ضرورت نہ ہوگی) بلکہ اس وقت متفق علیہ بات پر عمل کیا جائے گا اور یہ اجماع ہے۔ سبحان اللہ، قرآن کریم کی شانِ اعجاز ملاحظہ فرمایئے۔ ایک چھوٹی سی آیت میں شریعت کے چاروں اصول نہایت حسن و خوبی اور کمال جامعیت کے ساتھ بیان کردیئے اور ساتھ ہی علامہ سید محمود الوسی حنفی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی قابلیت بھی قابلِ داد ہے کہ مختصر کلام میں ادلۂ اربعہ کا اثبات آیت قرآنیہ سے فرمایا۔ امید ہے کہ اہل علم حضرات علامہ کے اس اندازِ بیان سے ضرور محظوظ ہوں گے۔ اس کے بعد امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف آئیے اور دیکھئے کہ انہوں نے کس بہترین علمی پیرایہ میں اسی مضمون کو ادا کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آیت مبارکہ میں غور و تدبر کے بعد معلوم ہوگا کہ منکرینِ قیاس کا استدلال اس آیت سے درست نہیں بلکہ یہ آیت شریفہ تمام ادلہ شرعیہ کو متضمن ہے۔ اطیعوا اللہ سے کتاب اللہ مراد ہے اور اطیعوا الرسول سے سنت رسول اللہ ﷺ مراد ہے۔ دونوں جملوں کے درمیان واؤ عاطفہ لانے کی حکمت یہی ہے کہ دونوں دلالتوں کا بیان ہوجائے۔ کتاب کی دلالت امر اللہ پر ہے اور سنت کی دلالت امر رسول ﷺ پر۔ کتاب سے امر اللہ کا علم ہونے کے بعد امر رسول معلوم ہوگا۔ اسی طرح ہم سنت ِ رسول سے امر رسول کو جان کر امر اللہ کو جانیں گے۔ اِن دونوں دلالتوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اَطِیْعُوا اللہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ کتاب و سنت کی متابعت کے وجوب پر دال ہے۔
وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ اجماع کے حجت ہونے کی دلیل ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کا امر جزم و قطع کے ساتھ فرمایا ہے اور جس کی اطاعت کا حکم اللہ تعالیٰ جزم و قطع کے طور پر فرمائے اس کا خطاء سے معصوم ۱؎ ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ جس کام کا امر ہو وہ مامور بہ (واجب) ہوتا ہے اور خطا شرعاً منہی عنہ (وممنوع ) ہے۔ تو جس کام میں امر اور خطا دونوں جمع ہوجائیں، وہ کام امر کی وجہ سے مامور بہ (واجب) اور خطا کی وجہ سے منہی عنہ (ناجائز) ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کا امر فرمایا، تو اُن کی اطاعت کا واجب ہونا ثابت ہوگیا۔ اب اگر انہیں معصوم عن الخطاء نہ مانا جائے تو ان کے اقدام علی الخطاء کی صورت میں خطاء کی وجہ سے ان کی اطاعت ناجائز ہوگی اور یہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ ایک کام کا ایک ہی اعتبار سے بیک وقت جائز و ناجائز ہونا محال ہے۔
معلوم ہوا کہ اولی الامر کا معصوم عن الخطا ہونا واجب ہے۔ اس کے بعد ہم دریافت کرتے ہیں کہ یہ معصوم مجموع اُمت ہے یا بعض امت! بعض امت کا مراد ہونا تو کسی طرح جائز نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کو واجب کیا ہے (کسی گروہ یا بعض کی اطاعت کا حکم نہیں دیا) اور ان کی اطاعت کا واجب ہونا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ہم ان اولی الامر کے عارف ہوں اور ان تک پہنچنے اور استفادہ پر قادر ہوں۔ یہ امر بدیہی ہے کہ اس زمانہ میں ہم امام معصوم کے پہچاننے اور اس تک پہنچنے اور اس سے علمِ دین کے استفادہ سے بالکل عاجز ہیں۔ ایسی حالت میں ہمیں بخوبی معلوم ہوگیا کہ جس معصوم کی اطاعت کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہ ابعاض امت میں سے بعض نہیں اور نہ ان کی جماعتوں میں سے کوئی جماعت ہے۔ بلکہ اولی الامر سے مراد مجموع ۱؎ امت ہے اور وہ امت ِ محمدیہ کے اہل حل و عقد حضرات ہیں۔ اِس بیان سے قطعاً ثابت ہوگیا کہ اجماع اُمت حجت ِ شرعیہ ہے۔

قیاس

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُ دُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ سے قیاس کا دلیل شرعی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ امور متنازعہ فیہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ امور جن کا حکم کتاب، سنت یا اجماع امت میں منصوص علیہ ہے۔ دوسرے وہ جن کا حکم منصوص علیہ نہیں۔ اب بتائیں کہ آیت مبارکہ میں کن امور میں تنازعہ مراد ہے۔ قسم اول کا مراد لینا باطل ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں اللہ اور رسول ﷺ اور اولی الامر کی اطاعت واجب ہے اور یہ بیشک اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں داخل ہے۔ اس کو الگ بیان کرنا بے فائدہ اور تکرار عبث ہے۔ (تعالی اللہ عن ذالک علوا کبیرا) جب قسم اول کا بطلان واضح ہوگیا تو قسم ثانی متعین ہوگئی۔ اس تقدیر پر فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ جس بات میں تم جھگڑے اس کا حکم نصوص کتاب و سنت یا اجماع سے طلب کرو، بلکہ یہ معنی ہوں گے کہ شئ متنازعہ فیہ کا حکم ان احکام کی طرف لوٹاؤ، جو اس شئ سے مشابہت رکھنے والے واقعات میں نص کئے ہوئے ہیں اور یہی قیاس ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ آیت امر بالقیاس پر دلالت کرتی ہے۔ تتمہ کلام میں اللہ تعالیٰ نے اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذَالِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَأْوِیْلًافرماکر اس حقیقت کو واضح فرمادیا کہ ایمان کا مقتضی یہی ہے اور حسن مآل کا دارو مدار بھی اسی پر ہے۔
(ماہنامہ السعید ملتان، ستمبر ۱۹۶۴ء، چھٹا سال شمارہ ۴، ص ۵ یا ۱۰)

 

1: معصوم سے یہاں وہ معنی مراد ہیں، جن کی تشریح حاشیۃ انضری علی التلویح میں ہے (قولہ ان اشترط عصمة من صدر) لیس المراد بہ عصمۃ المجتہدین عن المناہی اذلا یلزم ذالک فی الاجماع بل عصمتہم عن الخطاء فی ہذا الصادر وہذا متحقق فی الاجماع لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لا تجتمع اُمتی علی الضلالۃ ویحتمل ان یرید بہ عصمتہم مما یسقط العدالۃ من فسق او بدعۃ (حاشیۃ انضری علی التلویح جلد اول مصری ص ۱۰۸، ۱۰۹)
اگر کہا جائے کہ اولی الامر سے مراد معصوم عن الخطا ہے اور معصوم عن الخطا سے مراد ہیں اہل حل و عقد اور ظاہر ہے کہ اہل حل و عقد جمیع امت کا بعض ہیں۔ پھر یہ کہنا کہ یہ معصوم مجموع امت ہے۔ بعض امت یا طائفۃ من طوائفہم نہیں۔ کیونکر صحیح ہوگا تو ہم کہیں گے کہ اس میں شک نہیں کہ ارباب حل و عقد انفرادی طور پر باعتبار اپنے اشخاص و ذوات کے بعض اُمت ہیں لیکن اپنے مخصوص کمالات اور درجہ اجتہاد و استنباط پر فائز ہونے کی وجہ سے اُمت کے لئے بمنزلہ روح رواں ہوتے ہیں۔ پھر جب کسی امر پر ان کا اجماع ہوجاتا ہے تو وہ اپنی اس اجماعی حیثیت کی بناء پر مجموع اُمت کے حکم میں ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان کا اجماع صرف انہی کی طرف منسوب نہیں ہوتا بلکہ اجماع اُمت کہلاتا ہے۔ جیساکہ حدیث شریف میں وارد ہے۔
لا تجمتع امتی علی الضلالۃ میری اُمت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی۔ امور منصوصہ میں اجماع کی حاجت نہیں، اور غیر منصوصہ میں جمیع افراد امت کا اجماع متصور نہیں۔ اس لئے کہ افرادِ امت کا امصار و دیار میں انتشار اس اجماع کے منافی ہے۔ لہٰذا حدیث مذکور میں اُمتی سے مراد وہی ارباب حل و عقد ہیں جو اپنی انفرادی حیثیت سے بعض امت ہونے کے باوجود ارباب حل و عقد ہونے کے باعث اپنی اجماعی حیثیت سے مجموع اُمت ہونے کا حکم رکھتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ان کو معصوم عن الخطاء کے لفظ سے تعبیر کرنا ان کی مجموعی شان اور اجماعی حیثیت پر مبنی ہے یعنی ان کا کوئی فرد انفرادی حیثیت سے معصوم نہیں، بلکہ وہ اجماع جو اُن کے مجموعہ سے صادر ہے اس میں معصوم ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح ان کا مجموع ہونا جہت اجماع سے ہے اسی طرح معصوم ہونا بھی اسی جہت اجماع سے ہے، اگر یہ جہت ملحوظ نہ ہو تو محض انفرادی حیثیت سے نہ وہ مجموع ہیں نہ معصوم۔
۱۲