اگر پاكستان میں اہل سنَّت كی امارتِ شرعیہ موجود ہوتی تو اِس اِیمان افروز بیان كو اہل حق كے چیف جسٹس كا فیصلہ قرار دِیا جاتا اور مسلم ممالك كی عدالتوں میں بطورِ حجت اِسے پیش كیا جاتا


گستاخِ رسول كی سزا.... قتل
پر حضرت حكیم محمد موسیٰ امرتسری كا وقیع تبصرہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


حمد بے حد مر رسول پاك ﷺ را
آں كہ ایماں داد مُشتِ خاك را


دولتِ خدادادِ پاكستان كے معرضِ وجود میں آنے كے وقت تك برصغیر كے قریے قریے میں جید علمائے موجود تھے اور اپنے اپنے علاقے كے لوگوں كو فیض یاب كرتے رہے، مگر اہلِ سُنَّت كی شومی قسمت كہ وہ علمائے حق یكے بعد دیگرے عازمِ خُلدِ بریں ہوتے چلے گئے۔ اُن میں سے بہت سے حضرات بجا طور پر علم كے ھمالہ تھے، مگر شہرت اُن پر فریفتہ نہیں تھی، لہٰذا اُن كا تعارف صرف حلقہ علماء تك محدود رہا۔
مفتی اعظم پاكستان حضرتِ علامہ ابو البركات سید احمد قادری، چشتی، اشرفی،امیر حزب الاحناف لاہور (رحمة اللّٰہ علیہ) اور غزالی زماں، رازئ دوراں علامہ سید احمد سعید كاظمی امروہوی چشتی صابری قادری بانی انوار العلوم ملتان (رحمة اللّٰہ علیہ) اُن بزرگوں میں سے ہیں جو علم و فضل كے بحر ذخّار اور دریائے معرفت كے شناور تھے۔ شہرت اُن پر ایسی عاشق و شیدا تھی كہ ہر وقت اُن كے دروازوں پر دربانی كے فرائض سرانجام دیتی تھی۔ یہ دونوں بزرگ قیام پاكستان سے بہت پہلے پورے برصغیر (پاك و ہند) میں اپنی فضیلتِ علمی اور شرافت نفسی كا لوہا منوا چكے تھے۔ امرتسر میں سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ عنہ كا عرسِ مبارك نہایت تزك و احتشام سے منعقد ہوا كرتا تھا۔ اِس مقدس و بابركت محفل میں سربرآوردہ مشائخ عظام اور جید علمائے كرام شركت كرنا باعث فخر و مباہات جانتے تھے چنانچہ مذكورة الصدر دونوں بزرگ بھی اِس سہ روزہ محفل (اجلاس) میں شركت فرماتے اور اہالیانِ امرتسر كو اپنے مواعظِ حسنہ و علمیہ سے بہرہ ور فرماتے تھے۔ لہٰذا احقر اُس زمانے سے اِن بزرگوں كے مداحین میں شامل تھا۔پاكستان میں ہجرت كے بعد اِن بزرگوں كو بہت قریب سے دیكھنے كا بھی موقع میسر آیا اور یہ ہر دو بزرگ فقیر حقیر پر بے حد شفقت فرماتے تھے۔
۱۹۷۳؁ء میں جب راقم السطور كو مدینہ منورہ میں حاضری كی سعادت عظمیٰ نصیب ہوئی تو وہاں قطب مدینہ شیخ العرب والعجم حضرت شاہ ضیاء الدین احمد قادری مہاجر مدنی، خلیفہ خاص اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی (قدس سرہما) كے آستانہ عالیہ پر ہر روز حاضری سے مشرف ہوتا رہا اور متعدد مرتبہ حضرت قطب مدینہ نے اپنی زبانِ فیض ترجمان سے یہ ارشاد فرمایا اِس وقت پاكستان میں صرف دو ہی معتبر اور قابل اعتماد عالم دِین ہیں، ایك حضرت ابو البركات سید صاحب اور دُوسرے علامہ سید احمد سعید كاظمی شاہ صاحب۱ (بلفظہٖ بقدرِ حافظہ)۔
حضرت قطب مدینہ كی لسان فیض ترجمان سے ان بزرگوں كی عظمت كے اعلان سے مجھے بے حد خوشی محسوس ہوئی كہ ان كے بارے میں میرا فیصلہ بالكل صحیح تھا۔ ۲۰ شوال المكرم ۱۳۹۸؁ھ جو حضرت ابو البركات واصل بحق ہو گئے اور اُن كے بعد لاہور میں مسند افتاء بے وُقعت ہو كر رہ گئی۔ ۲۵ رمضان المبارك ۱۴۰۶؁ھ كو حضرتِ غزالی دوراں مكین خلد بریں ہو گئے تو عوام اہل سُنَّت بالكل بے سہارا ہو گئے۔
اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ حضرت قبلہ كاظمی شاہ صاحب اَعْلَی اللہُ مَقَامَہٗ كی ذاتِ گرامی فی الحقیقت مستغنی عن الخطاب ہے۔جب اُن كا نامِ نامی آجائے تو خطابات و القابات اُن كی قد آور شخصیت سے بہت چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔ بلاشبہ وہ نابغہ روزگار علماء میں سے تھے جو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔


سال ہا با ید كہ تا یك فردِ حق پیدا شوَد
با یزید اندر خراساں یا اویس اندر قرن


تحریكِ پاكستان كے مبلغ اعظم حضرت ابو المحامد سید محمد محدث چشتی اشرفی كچھوچھوی رحمة اللّٰہ علیہ كے خطبہ آل انڈیا سنی كانفرنس منعقدہ بنارس (۱۹۴۶؁ء) كے آخر میں درج ہدایات و تجاویز كی روشنی میں اگر پاكستان كے اندر متفقہ طور پر مركزی دار الافتاء قائم كیا ہوتا یا كم از كم اہل سُنَّت كو درپیش نت نئے مسائل علمیہ كے حل كے لیے امارتِ شرعیہ قائم كی ہوتی تو یقیناً كاظمی شاہ صاحب اُس كے متفقہ طور پر صدر الصدور قرار پاتے اور چھوٹے چھوٹے مولوی اور خود ساختہ مفتی، جو عجیب و غریب باتیں كرتے رہتے ہیں، اُنہیں اپنی پناہ گاہوں سے باہر جھانكنے كی بھی جرأت نہ ہوتی، مگر وائے افسوس كہ یہاں اُلٹی گنگا بہنے لگی۔
حضرت قطب مدینہ قدس سرہ العزیز كے ارشاد كے مطابق قبلہ كاظمی شاہ صاحب آخری اہل حق سربرآوردہ عالم دِین ثابت ہوئے جس كی تصدیق درپیش حالات نے كر دِی ہے۔ مثلاً بعض حنفی سنی علماء نے شریعت آرڈی نینس كو قبول كر لیا ہے جس كا تعلق صرف سعودیہ كی شریعت سے ہے اور ولایتِ ابو حنیفہ (پاكستان) میں اُن نام نہاد حنفی علماء كے دستخطوں سے سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ كے نام اور كام كو حرفِ غلط كی طرح محو كر دِیا گیا اور غائبانہ نمازِ جنازہ كی "بدعت" اپنا لی گئی ہے۔ پاكستان جن حنفی اولیاء اللّٰہ كا فیضان ہے، اُن كی ارواحِ مقدسہ اِن نام نہاد حنفیوں سے ناراض ہیں اور اِن سب كا انجام قوم ضرور دیكھے گی اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ! اَب یہی نام نہاد عاشقان مصطفیٰ نظام مصطفیٰ كو بالكل بھول گئے ہیں اور ضیاء اِزم، ضیاء اِزم كا وظیفہ جپنے لگے ہیں۔
ضیاء اِزم كیا ہے؟مولوی اشرف علی تھانوی كے افكار و تعلیمات كی نشر و اشاعت یا یوں كہیے كہ سعودیہ كے قوانین كی ترویج!
اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
اہل السنت و جماعت كو اِن نام نہاد علماء كو جو فی الحقیقت بندگانِ سیم و زر ہیں، اپنے سے دُور رَكھنا چاہیے تاكہ اِن كے منحوس اثرات سے اِیمان محفوظ رہ سكے۔
پیشِ نظر رِسالہ حضرت علامہ كاظمی شاہ صاحب كا ایك تحریری بیان ہے جو اُنہوں نے جناب چیف جسٹس صاحب وفاقی شرعی عدالت كے استفسار پر تحریر كیا تھا جس میں اِھانت رسالت مآب اور تنقیص نبی كریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم كی سزا كے بارے میں بتایا گیا ہے كہ كتاب و سنَّت، اِجماعِ اُمت اور تصریحاتِ علمائے اُمت سے واضح ہے كہ ہر شاتم رسول كی سزا قتل ہے اور اِس مسئلے میں اہل حق میں سے كبھی كسی نے اختلاف نہیں كیا۔ اگر پاكستان میں اہل سنَّت كی امارتِ شرعیہ موجود ہوتی تو اِس اِیمان افروز بیان كو اہل حق كے چیف جسٹس كا فیصلہ قرار دِیا جاتا
اور مسلم ممالك كی عدالتوں میں بطورِ حجت اِسے پیش كیا جاتا، مگر ع


اِس گھر كو آگ لگ گئی گھر كے چراغ سے!


قبلہ كاظمی شاہ صاحب نے اِس تحریر میں گستاخانِ رسول كی اِسلامی سزا بتائی ہے۔ میں اس موقع پر امرتسر میں رونما ہونے والا تقریباً نوے (۹۰) سال پہلے كا ایك واقعہ لكھنا ضروری سمجھتا ہوں جو بے حد اِیمان افروز اور عبرت انگیز ہے۔ یہ واقعہ حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب قبلہ علی پوری قدس سرہٗ نے امام الائمہ سیدنا حضرت امام ابو حنیفہ كوفی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ كے عرس سراپا قدس منعقدہ مسجد جان محمد امرتسر كے اجتماعِ عظیم میں بیان فرمایا تھا۔
امرتسر كے گرجا گھر كے سامنے كھڑا ہو كر ایك پادری حضرت عیسیٰ علیہ السلام كے فضائل اور عیسائی مذہب كی خوبیاں بیان كر رہا تھا اور وہ (پادری) دورانِ تقریر حضور پر نور نبی كریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم كا اِسمِ گرامی ادب و احترام سے نہیں لیتا تھا۔سامعین میں ایك بھنگڑ اِس حالت میں كھڑا تھا كہ بھنگ گھوٹنے والا ڈنڈا اُس كے كاندھے پر تھا۔ اُس خوش بخت نے كہا:
"پادری! ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) كو برحق نبی مانتے ہیں اور اُن كا نام ادب سے لیتے ہیں، تو بھی ہماری سچی سركار (ﷺ) كا نام ادب سے لے۔"
مگر پادری پر اِس كا كچھ اثر نہ ہوا تو اِس عالی ہمم نے پھر ٹوكا۔ جب پادری نے تیسری بار بھی اُسی طرح نام لیا تو اُس پاك نہاد نے اپنا وہ ڈنڈا جس سے بھنگ گھوٹتا تھا، اِس زور سے پادری كے سر پر دے مارا كہ پادری كا سر پھٹ كر بھیجا باہر آ گیا اور وہ مردود بیان دئیے بغیر واصل جہنم ہو گیا۔ یہ عاشقِ صادق پكڑا گیا۔ موت كی سزا ہوئی۔ اپیل ہوئی۔ انگریز جج نے یہ لكھ كر بری كر دِیا كہ:
"پادری كا قاتل تكیہ نشین بھنگڑ ہے۔ كوئی مولوی نہیں۔ مولوی اور پادری كی كوئی باہمی رنجش ہو سكتی ہے۔ بھنگڑ سے پادری كی دیرینہ یا تازہ رنجش كا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے كہ پادری نے ضرور اِس كے جذبات كو مجروح كیا ہے، لہٰذا میں اِسے بری كرتا ہوں۔" (بتغییر یسیر بقدرِ حافظہ)
اللّٰہ تعالیٰ اس مكین تكیہ كے مرقد منور پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور اُس جیسا اِیمان ہر مكین مسجد اور ہر مسلمان كو نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین! بجاہِ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم۔
اِس واقعے كے نقل كرنے كا ایك مقصد یہ بھی ہے كہ وہ پادری حضور پر نور سید الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم كی شانِ اقدس میں كوئی گستاخی كا كلمہ نہیں كہہ رہا تھا، صرف حضور پاك ﷺ كا اِسم پاك اِسلامی آداب سے نہیں لیتا تھا یعنی مولوی اسمٰعیل دہلوی كی طرح "جس كا نام محمد یا علی ہے، وہ كسی چیز كا مختار نہیں"۱ (نقل كفر كفر نباشد)
یعنی پادری صرف "محمد صاحب" كہہ رہا تھا اور اُس تكیہ والے عاشقِ صادق كو یہ بات بھی ناگوار گزری اور اُس نے اپنے "مذہب عشق" كا جھنڈا بلند كر دِكھایا۔ ع


خدا رحمت كند اِیں عاشقانِ پاك طینت را


عاشقانِ سید ابرار (صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم) كسی عالم و مفتی سے پوچھے بغیر ہی ادب نہ كرنے والوں كو جہنم رسید كر دیتے ہیں تو كوئی گستاخ اُن كے خنجرِ بُرّاں سے كیونكر بچ سكتا ہے۔ اُن كا مفتی اُن كا وِجْدان ہوتا ہے۔ اُن كا پیر و مرشد اُن كا جذبہ عشق ہوتا ہے۔لہٰذا ایسے "اَن پڑھ" غازیوں كا یہ كام ہمیشہ لائق تقلید ہوتا ہے۔كفار كی حكومت میں تو اِسی طرح ہونا چاہیے اور ہوتا رہا، مسلمانوں كی حكومت میں یہ عدالت كی ذِمہ داری ہے كہ وہ سچی شہادتوں كے بعد گستاخِ رسول كے قتل كا حكم صادر كرے تاكہ مزید اُلجھنیں اور پیچیدگیاں پیدا نہ ہو سكیں۔
داتا كی نگری
۶ صفر المظفر ۱۴۰۹؁ھ

خاكِ راہِ درد منداں
محمد موسیٰ عفی عنہ


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بسلسلہ شریعت پیٹیشن
دَر توھین رِسالت


بعدالت جناب چیف جسٹس صاحب وفاقی شرعی عدالت ، پاكستان
بیان مِن جانِب:
سید احمد سعید كاظمی صدر مركزی جماعت اہلسنَّت پاكستان
و شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ اِسلامیہ انوار العلوم، ملتان
محترم محمد اسمٰعیل قریشی، سینئر ایڈووكیٹ سپریم كورٹ پاكستان، لاہور نے بنام اِسلامی جمہوریہ پاكستان، تعزیراتِ پاكستان كی دفعہ نمبر ۲۹۵ الف اور دفعہ ۲۹۸ الف كے خلاف شرعی عدالت میں ایك درخواست دائر كی ہے۔ جہاں تك اہانت رسالت اور توہین و تنقیص نبوت سے اِس درخواست كا تعلق ہے، میں اِس سے پوری طرح متفق ہوں اور دلائل شرعیہ (كتاب و سنَّت، اجماعِ اُمت اور تصریحاتِ علماءِ دِین) كے مطابق میں اِس كی مكمل تائید اور حمایت كرتا ہوں۔اِس سلسلے میں میرا تفصیلی بیان درج ذیل ہے:
كتاب و سنت، اجماعِ امت اور تصریحاتِ ائمہ دِین كے مطابق توہین رسول كی سزا صرف قتل ہے۔ رسول ﷺ كی صریح مخالفت توہین رسول ہے۔قرآن مجید نے اِس جرم كی سزا قتل بیان كی ہے۔ اِسی بناء پر كافروں سے قتال كا حكم دِیا گیا۔ قرآن مجید میں ہے:
ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ۱ یہ (یعنی كافروں كو قتل كرنے كا حكم ) اِس لیے ہے كہ اُنہوں نے اللّٰہ اور اُس كے رسول كی صریح مخالفت كر كے اُن كی توہین كا ارتكاب كیا۔توہین رسول كے كفر ہونے پر بكثرت آیاتِ قرآنیہ شاھد ہیں۔ مثلاً وَلَئِنْ سَاَ لْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ أَبِاللہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِءُ وْنَO لَا تَعْتَذِ رُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ۱ ترجمہ: اور اگر آپ اُن سے پوچھیں تو وہ ضرور كہیں گے،ہم تو صرف ہنسی مذاق كرتے تھے۔آپ (اُن سے) كہیں، كیا تم اللّٰہ اور اُس كی آیتوں اور اُس كے رسول كے ساتھ ہنسی مذاق كرتے ہو۔ كوئی عذر نہ كرو۔ بے شك اِیمان كے بعد تم نے كفر كیا۔
مسلمان كہلانے كے بعد كفر كرنے والا مرتد ہوتا ہے اور اَزرُوئے قرآن مرتد كی سزا صرف قتل ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰی قَوْمٍ اُوْلِی بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ۲ ترجمہ: اے رسول (ﷺ) پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیجیے، عنقریب تم سخت جنگ كرنے والوں كی طرف بلائے جاؤ گے۔ تم اُن سے قتال كرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ یہ آیت مرتدین اہل یمامہ كے حق میں بطورِ اخبار بالغیب نازل ہوئی۔ اگرچہ بعض علماء نے اِس مقام پر فارس و رُوم وغیرہ كا ذِكر بھی كیا ہے، لیكن حضرت رافع بن خدیج رضی اللّٰہ عنہ كی حسب ذیل روایت نے اِس آیت كو مرتدین بنی حنیفہ (اہل یمامہ) كے حق میں متعین كر دِیا:
عن رافع بن خدیج انّا كنّا نقرأ ھٰذہ الاٰیة فیما مضی ولا نعلم من ھم حتّٰی دعا ابو بكر رضی اللہ عنہ الٰی قتال بنی حنیفة فعلمنا انّھم اریدوا بھا۔۳ ترجمہ: حضرت رافع بن خدیج رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں كہ گزشتہ زمانے میں ہم اِس آیت كو پڑھا كرتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا كہ وہ كون لوگ ہیں۔ یہاں تك كہ حضرت ابو بكر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے (مرتدین) بنی حنیفہ (اہل یمامہ) كے قتال كی طرف مسلمانوں كو بلایا۔ اُس وقت ہم سمجھے كہ اِس آیتِ كریمہ میں یہ مرتدین ہی مراد ہیں۔
ثابت ہوا كہ اگر مرتد اِسلام نہ لائے تو اَز رُوئے قرآن اُس كی سزا قتل كے سوا كچھ نہیں۔ قتل مرتد كے بارے میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ اختصار كے پیشِ نظر صرف ایك حدیث پیش كی جاتی ہے۔
اتی علیّ بزنادقة فاحرقھم (وفی روایة ابی داؤد۱ انّ علیًّا احرق ناسًا ارتدوا عن الاسلام) فبلغ ذٰلك ابن عبّاس فقال لو كنت انا لم احرقھم لنھی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم لا تعذّبوا بعذاب اللہِ ولقتلتھم لقول رسول اللہِ صلّی اللہ علیہ وسلّم من بدّل دینہ فاقتلوہ۲۔ ترجمہ: حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ كے پاس (مرتد ہو جانے والے) زِندیق لوگ لائے گئے تو آپ نے اُنہیں جلا دِیا۔ اِس كی خبر حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما كو پہنچی تو اُنہوں نے فرمایا، اگر (آپ كی جگہ) میں ہوتا تو اُنہیں نہ جلاتا كیونكہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا، اللّٰہ كے عذاب كے ساتھ كسی كو عذاب نہ دو، اور میں اُنہیں قتل كرا دیتا كیونكہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا، جو (مسلمان) اپنے دِین سے پھر جائے اُسے قتل كر دو۔


قتل مرتد كے بارے میں
صحابہ رضی اللہ عنہ كا طرزِ عمل


صدیق اكبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی جس شدت كے ساتھ مرتدین كو قتل كیا، محتاجِ بیان نہیں۔ صحابہ كرام رضی اللّٰہ عنہم كے لیے مرتد كو زِندہ دیكھنا ناقابل برداشت تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہما دونوں رسول اللّٰہ ﷺ كی طرف سے یمن كے دو مختلف حصوں پر حاكم تھے۔ ایك دفعہ حضرت معاذ بن جبل حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ملاقات كے لیے آئے۔ ایك بندھے ہوئے شخص كو دیكھ كر اُنہوں نے پوچھا، یہ كون ہے؟ ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا:
كان یہودیا فاسلم ثمّ تھوّد قال اجلس قال لا اجلس حتّٰی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرّات فامر بہٖ فقتل۱۔
ترجمہ: یہ یہودی تھا۔ مسلمان ہونے كے بعد پھر یہودی (ہو كر مرتد) ہو گیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت معاذ بن جبل كو بیٹھنے كے لیے كہا۔ اُنہوں نے تین بار فرمایا: جب تك اِسے قتل نہ كر دِیا جائے، میں نہیں بیٹھوں گا۔ (قتل مرتد) اللہ اور اُس كے رسول كا فیصلہ ہے۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ كے حكم سے اُسے اُسی وقت قتل كر دِیا گیا۔