پاک سُنّی تنظیم


سُنّی آج تک ایسے سُنّ رہے کہ اپنے کسی چھوٹے بڑے خیر خواہ کے جھنجھوڑنے سے حرکت میں نہ آئے، دوستوں اور بہی خواہوں نے ہر چند محبت و پیار سے تنظیم کی طرف بلایا مگر کسی نے پرواہ نہ کی، بالآخر قدرتِ ایزدی نے حکمتِ عملی سے ایک بدترین بازاری فحاش، فاسق فاجر، عدوّ مبین کو ہمارے سروں پر مصائب و آلام کے پہاڑوں سے چٹانیں گرانے پر مسلط کر دیا جس نے گندی گالیاں بکنی شروع کیں، اہلسنّت پر بے بنیاد الزامات تراشے، اکابر و اسلاف کے حق میں بے پناہ سب و شتم کے طورمار باندھے اور پاکبازوں کی شان میں غلیظ ترین بے ہودہ بکواس کی۔
غیور افراد حرکت میں آئے اور ان کے دِل و دِماغ کے گوشوں میں غیرتِ مذہبی کے دبے ہوئے جذبات و احساسات اُبھرنے لگے۔ اہلِ بصیرت نے سمجھ لیا کہ یہ سب کچھ ہمارے جمود و خمود اور سستی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔ ناسمجھ لوگ گھبرا کر چیخ اُٹھے کہ شور و شر کا یہ سیلاب ہمیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا مگر رحمتِ خداوندی نے پکارا کہ
"لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْ بَلْ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ" خدا کے بندو! تم اسے اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ تمہارے لئے خیر ہے۔
ظاہر و باہر، فتنہ و شر کو خیر سمجھنا، سمجھانے والے کے سمجھائے بغیر سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ غفلت کی گہری نیند سونے والوں میں چند افراد جب اس ہربونگ سے گھبرا اُٹھے اور انہیں ہوش آیا کہ ہم کروڑوں کی اکثریت میں ہونے کے باوجود اس غفلت کی وجہ سے اقلیتوں سے بھی گئے گزرے ہیں، اس بے حسی اور بد نظمی کے حال میں مصیبت سے کوئی اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتا، چہ جائیکہ دوسرے کی مدد کرے۔ کچھ ہوش و حواس درست ہونے پر دِل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی بیدار کریں جو اَب تک غفلت کی نیند سوئے پڑے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دُشمن کے اِس بھرپور حملے نے بروقت وہ کام کیا جو دوستوں، خیرخواہوں کی عرصہ دراز کی جدوجہد سے نہ ہو سکا۔ کسی نے سچ کہا ہے۔ ع


عدو شر سے بر انگیزد کہ خیرے مادراں باشد


الحمد للہ! سُنّی بیدار ہونے لگے۔ بفضلہ تعالیٰ ۱۷؍ ستمبر سے لے کر آج ۱۷؍ نومبر ۱۹۶۲ء تک دو ماہ کے قلیل عرصہ میں تقریباً پچیس ہزار کی تعداد اہلسنّت کے افراد "پاک سُنّی تنظیم" کے رِشتہ سے منسلک ہو چکے ہیں۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز کی ذاتِ گرامی سے عقیدت کا دم بھرنے والے اہلسنّت جو اپنی اپنی جگہ انفرادی طور پر مستقل بالذات اور دوسروں سے مستغنی ہو بیٹھے ہیں باوجود ہزار کوششوں کے اتحاد اور تنظیم کی طرف نہیں آئے۔ اگر اس وقت بھی انہوں نے پاک سُنّی تنظیم کی دعوتِ اتحاد کو قبول نہ کیا تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ ان کے دِل مذہبی غیرت سے قطعاً ناآشنا ہو چکے ہیں۔
مندرجہ ذیل سطور "پاک سُنّی تنظیم" کا ایک جامع پیغام سارے ملک کے تمام سنیوں کے نام جاری کر رہا ہوں۔ گوشِ ہوش کے ساتھ اس پیغام کو سنئیے اور گھر گھر اس کی آواز ایک ایک فرد کو پہنچائیے۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک بھر میں ہر مسلک خیال کے لوگ اپنے اپنے مسلک کی حفاظت کے لئے پوری طرح منظم ہیں اور وہ اپنے مسلک اور مکتبِ فکر کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی قربانی دے رہے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ جمود و خمود، سستی و غفلت، انتشار و افتراق کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں، نہ اپنے مسلک و مذہب کو محفوظ رکھنے کی قوت رکھتے ہیں نہ اپنے ملک و ملت کی کوئی ٹھوس خدمت انجام دینے کے قابل ہیں۔ خدارا ہوش میں آئیے اور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ ہماری اجتماعی قوت اور مستحکم تنظیم ہمارے تحفظ و بقا اور عزت و وقار کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا حکم رکھتی ہے۔ یقین کیجئے ہم آپ کو فلاح و نجات کی طرف بلا رہے ہیں۔ ہمارا درد بھرا پیغام سنئیے اور ملک کے گوشے گوشے میں پہنچا دیجئے۔


پاک سُنّی تنظیم کا پیغام اپنے سُنّی بھائیوں کے نام
برادرانِ اہلسنّت! دو مہینے میں مصائب و آلام کی جو چٹانیں آپ پر گری ہیں اُن سے آپ کو ہوش آ گیا ہو گا کہ غفلت اور جمود و خمود کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ خدا کے لئے اُٹھئیے اور پوری قوت کے ساتھ منظم ہو کر باطل کی چٹانوں کو پاش پاش کر دیجئے۔


تنظیم اِسلام کی رُوح ہے
آپ مسلمان ہیں۔ تنظیم اِسلام کی رُوح ہے۔ دِین کی بنیادیں تنظیمی اُصول پر اُستوار کی گئی ہیں۔ اِسلام تمام بنی نوع اِنسان کو ایک رِشتہ وحدت و اخوت میں منسلک کر دینے والا نظام ہے۔ اخوت و مساوات، تنظیم و اتحاد اس کی وہ خصوصیات ہیں جس کی وجہ سے وہ تمام ادیانِ عالَم میں ممتاز ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ہم اپنی غفلت اور سستی کے باعث ان نعمتوں سے محروم ہیں۔ کیا ہمارا کلمۂ شہادت، نماز باجماعت، فریضۂ زکوٰۃ، رمضان کے روزے، حج و زیارت، ہماری بنیادی تنظیم کے بہترین مظاہر جمیلہ نہیں۔


تنظیم کی ضرورت
حیاتِ ملّی کا بکھرا ہوا شیرازہ تنظیم کے بغیر مجتمع نہیں ہو سکتا۔ ظاہری و باطنی دُشمن ہمیں مٹا دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ مذہب و مسلک کو برقرار رکھتے ہوئے ہماری بقاء کے امکانات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ دینی مقاصد سب ناتمام پڑے ہیں۔ حیاتِ ملّی کی شیرازہ بندی، دُشمن کی مدافعت، تحفظ دِین و ملت اور قومی بقا کے لئے ہماری تنظیم نہایت ضروری ہے۔


تنظیم کی نوعیت کیا ہو گی؟
یہ ایک اہم ترین سوال ہے جس کا مکمل اور صحیح جواب علمائے دِین و زعمائے قوم ہی دے سکتے ہیں مگر اس اندیشہ کے پیشِ نظر کہ جواب کے انتظار میں کہیں اصل سوال ہی نسیاً منسیاً ہو کر نہ رہ جائے نوعیت تنظیم کا ایک مجمل اور دھندلا سا خاکہ پیش کرنے کی جرأت کرتا ہوں اور اپنی اس جسارت کے لئے اربابِ بصیرت زعمائے قوم سے معافی کا خواستگار ہوں۔


ایک تلخ حقیقت
قبل اس کے کہ نوعیت تنظیم کا اجمالی خاکہ پیش کروں، نہایت ادب سے گزارش کروں گا کہ ہمارے ملجا و ماویٰ ہمارے علماء کرام و مشائخ عظام ہیں۔ یہ دونوں طبقے ساری قوم کے لئے دِل و دِماغ ٹھیک نہ ہو، وہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔


علماء کرام
اس میں شک نہیں کہ دِین کی رہنمائی کے لئے ایسے علماء کرام ابھی تک موجود ہیں جو صحیح معنوں میں ورثۃ الانبیاء کہلانے کے مستحق ہیں۔ اگرچہ وہ بہت کم ہیں مگر معدوم نہیں۔ مگر ساتھ ہی عالم کہلانے والے اُن جہلاء کی بہتات بھی ہمارے پیشِ نظر ہے جو دِین کے نام پر شکم پروری کر رہے ہیں۔ جن کو چند ٹکے دے کر جو چاہو کہلوا لو۔ متاعِ قلیل پر بِک جانے والے پیشہ ور لوگ دِین و مذہب کے دامن پر اِنتہائی بدنما دھبہ ہیں جن کے ناپاک وجود سے ملت کے دامن کو پاک کرنا اشد ضروری ہے۔


مشائخ کرام
علیٰ ہٰذا القیاس مشائخِ کرام اور سجادہ نشینان میں بھی اب تک ایسی ہستیاں نظر آتی ہیں جو واقعی بندگانِ سلف کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں۔ ان کے دم قدم سے اولیاء کرام کی یاد تازہ ہے اور وہ فی الحقیقت مسند ارشاد کے اہل ہیں لیکن اس میدان میں بھی جاہل پیروں کی بھرمار ملتِ اِسلامیہ کے لئے ایک مصیبت ہے۔ لاکھوں کروڑوں روپے ان لوگوں کے عیش و نشاط پر صرف ہوتے ہیں۔ تزکیۂ نفس اور معرفتِ اِلٰہی تو درکنار، نماز روزہ بھی ان لوگوں کے قریب نہیں آیا۔ عوام ان کے دام تزویر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان مفت خوروں سے بھی اُمتِ مسلمہ کو نجات دلانا
وقت کا اہم تقاضا ہے۔
اس قسم کے تمام علماء اور مشائخ کہلانے والوں سے قطع نظر کر کے صحیح المزاج علماء اور مشائخ کی تنظیم عوامی تنظیم کا سنگِ بنیاد ہے۔ اِسی لئے پاک سُنّی تنظیم کو جمعیۃ العلماء پاکستان کا شعبہ قرار دِیا گیا ہے۔


نوعیت تنظیم کا اجمالی خاکہ
سُنّی علماء و مشائخ کے معمولی اور فروعی اختلافات کو ختم کر کے سب کو ایک مضبوط مرکز پر متحد کیا جائے تاکہ عوامی تنظیم کی پشت پناہی ہو سکے۔
عوامی مسائل کو حل کرنا علمائِ دِین و اکابر قوم ہی کا کام ہے جب تک ان حضرات کی مستحکم تنظیم نہ ہو گی، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔


اسلامی نظام اور تنظیم علماء و مشائخ
ملکی دستور و قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور پاکستان میں نظامِ اِسلام کو رائج کرنے کا عظیم کام بھی اکابر قوم و علمائِ دِین ہی کر سکتے ہیں۔ دِین پسند حضرات اِس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے کہ ہماری آزادی اور بقا کا سنگِ بنیاد پاکستان میں اِسلامی دستور کا نفاذ ہے۔
آج ہم اپنی بے مائیگی پر جس قدر آنسو بہائیں، بجا ہے۔ جن لوگوں کے بارے میں ہمیں پورا وثوق ہے کہ وہ ساری اُمتِ مسلمہ کے دِینی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنے اجتہادی اُصول کے مطابق نظامِ اِسلام کو رائج کرنے کے در پے ہیں ہم نے اپنے ہاتھوں یہ میدان اُن کے حوالے کر دِیا۔ جب صحیح کام کرنے والے آگے نہ آئے تو موقع پا کر غلط کاروں نے اِس میدان کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اَب وہ اِس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہم پچاس برس کی تگ و دو کے بعد بھی اُن کے دوش بدوش نہیں آ سکتے۔
تاہم نااُمید ہونا ٹھیک نہیں۔ اِس وقت ہمیں اپنی طاقت پر بھروسہ کرنے کی بجائے خدا کی قدرت پر اعتماد کر کے اِس دِینی نظام کو بروئے کار لانے کی سرتوڑ کوشش کرنی چاہئے جس پر سلف صالحین کاربند رہے۔ مختصر یہ کہ سلف صالحین کے مسلک کے مطابق صحیح دینی نظام برپا کرنے کے لئے اکابرِ قوم و علمائِ دِین کی تنظیم نہایت ضروری ہے۔


خطبات کی تنظیم
پیش آمدہ مسائل اور ان سے متعلق ضروری معلومات ساری قوم تک پہنچانے کے لئے وحدت خطبہ ملک و ملت کی بنیادی ضرورت ہے جو اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہے کہ وقتی تقاضوں کے پیشِ نظر مرکز سے ایک خطبہ تمام خطباء کے پاس پہنچے اور وہ اسے قوم کے سامنے پیش کریں۔ اگر خطبات کی یہ تنظیم عملی صورت اختیار کر لے تو بیک وقت تمام ملک میں ایک خطبہ کی آواز پوری قوم کے اذہان کو ایک مرکزِ فکر پر مجتمع کر سکتی ہے اور ساری قوم کا دائرئہ عمل، وحدت مرکز کا آئینہ دار بن سکتا ہے اور یہ اِتنی بڑی قوت ہے جس کے ذریعے بڑے سے بڑے قومی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔


مدارسِ اِسلامیہ کی تنظیم
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر ایک جامع نصاب تعلیم تمام مدارسِ اِسلامیہ میں رائج کرنے کے لئے مرتب کیا جائے اور اسے تمام مدارس میں جاری کر کے اِسلامی تعلیم کو بلند سطح پر لایا جائے۔ آج ہمارے مدارس جس ناگفتہ بہ حالت میں کام کر رہے ہیں، اِنتہائی قابلِ رحم ہے۔ اے کاش! دِینی علم کا ذوق رکھنے والے اربابِ بصیرت دِینی تعلیمات کے ان گہواروں کی حالتِ زار پر توجہ فرماتے۔ ہمارے نزدیک مقاصدِ تنظیم میں مدارسِ دینیّہ کی تنظیم ایک مقصد عظیم کی حیثیت رکھتی ہے۔


تنظیم اعراس
یہ صحیح ہے کہ اکثر مقامات پر بزرگوں کے عرس اسلافِ کرام کے طریقوں پر ہوتے ہیں لیکن بے شمار مجالسِ عرس ایسی بھی ہیں جن میں فحاشی کے عبرتناک مناظر علی الاعلان دیکھے جاتے ہیں۔ میلوں کی صورت میں بے شمار لغویات پائی جاتی ہیں اور ان کی سرپرستی مزاروں کے سجادہ نشین کرتے ہیں۔ اشد ضرورت ہے کہ اولیائے کرام کے مقدس مزاروں اور پاکیزہ خانقاہوں کو اپنی تنظیمی طاقت کے ذریعے ہر قسم کی برائی سے پاک کیا جائے۔


تعلیماتِ نسواں
عورتوں میں دینی تعلیم کا فقدان ایسے نقصانِ عظیم کا موجب ہے جس کی تلافی آئندہ نسلوں تک نہیں ہو سکتی۔ ہماری تنظیم کے بنیادی مقاصد میں تعلیمِ نسواں کا مسئلہ بھی ایک عظیم مقصد ہے۔


تعلیمِ بالغاں
ہماری تنظیم کے بنیادی مقاصد میں تعلیمِ بالغاں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ مناسب اوقات میں ہر جگہ اس کے مراکز کا قیام نہایت ضروری ہے۔ عوام کو دینی مسائل سے باخبر کرنا قوم کی بنیادی خدمت ہے جو تنظیم کے بغیر نہیں ہو سکتی۔


اصلاحِ معاشرہ
مسلمانوں کی زِندگی کے مختلف شعبوں میں جس قدر خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کا صحیح جائزہ لے کر ان کی اصلاح کا مکمل پروگرام بنایا جائے اور اس کو رائج کرنے کی اجتماعی کوشش کی جائے جس کی تکمیل مستحکم تنظیم کے بغیر ممکن نہیں۔


بداخلاقیاں اور جرائم
خلق حسن اِنسانیت کی رُوح رواں ہے۔ آج مسلمانوں کے اخلاق اس قدر گرتے جا رہے ہیں کہ خوفناک جرائم کے ارتکاب کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اس کی روک تھام بغیر تنظیم کے نہیں ہو سکتی۔
جب تک مناسب طریقوں سے قوم کی ذہنیت میں تبدیلی نہ کی جائے اور ان کے دِل خوفِ خدا سے آشنا نہ ہوں ان کا جرائم سے باز آنا اور نیکی کی طرف متوجہ ہونا دُشوار ہے۔ جہالت کو دُور کرنا بھی اس سلسلے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مختصر یہ کہ علمی وعملی تدبیروں سے انسدادِ جرائم ممکن ہے بشرطیکہ ان تدبیروں کو کسی تنظیم اور اجتماعی قوت کے تحت کام میں لایا جائے۔


صدقات و زکوٰۃ کی تنظیم
کوئی قومی کام سرمائے کے بغیر سرانجام نہیں پا سکتا۔ تمام جماعتیں اپنے افراد کی آمدنی کا ایک مقررہ حصہ اور ان سب کے صدقات و خیرات بیت المال کی صورت میں جمع کر کے اپنے جماعتی کاموں اور ضرورتوں پر صرف کرتی ہیں۔
ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی جماعت کا ایک بیت المال قائم کریں اور ہر فرد اپنی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو بیت المال کے لئے معین کر دے اور تمام صدقات و خیرات کی رقوم بیت المال میں جمع کی جائیں اور ہر مد کی رقم کو اس کے مصرف پر جائز طریقہ سے خرچ کیا جائے۔ یہ کام بھی تنظیم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔


معاملات کی تنظیم
پاک سُنّی تنظیم کے پیشِ نظر عوام کے معاملات بھی ہیں کہ ہر معاملہ میں اعتدال کی راہ اختیار کی جائے۔ فضول خرچی سے احتراز کیا جائے۔ آپس کے اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعہ طے کیا جائے جس کے لئے ایک خاص شعبہ قائم ہو اور اس کے لئے بھی تنظیم کی ضرورت ہے۔


امدادِ باہمی
ہماری تنظیم ایک ایسا شعبہ بھی قائم کرنا چاہتی ہے جس میں امدادِباہمی کے اُصول پر سرمایہ جمع کیا جائے اور اسی میں قوم کے غربا اور مساکین کی خصوصی امداد بھی شامل ہو۔


رضاکارانہ تنظیم
رضاکاروں کی ایک جماعت نہایت ضروری ہے جو مجاہدانہ طرز پر بوقتِ ضرورت ملک و ملت کی خدمت انجام دے سکے۔


مبلغین کی تنظیم
ایک وسیع دار التبلیغ کا قیام جس کے ذریعے مبلغین کو منظم کر کے انہیں تربیت دی جائے تاکہ وہ تبلیغ میں کسی قسم کی بے راہ روی اختیار نہ کر سکیں۔


تصنیف و تالیف
ہماری تنظیم کے اہم بنیادی مقاصد میں یہ مقصد بھی ہے کہ تصنیف و تالیف کے ذریعہ علمی و عملی خدمت انجام دی جائے۔ مفید کتب و رسائل شائع کئے جائیں۔ ضروری مسائل پر تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہو۔ تفسیر و حدیث و دیگر علومِ دینیہ اور فنون مروجہ کو ملک میں عام کرنے کے لئے اور قوم کے اذہان کو کتاب و سُنَّت اور علوم و فنون سے متاثر کرنے اور پیش آمدہ مسائل کے بارے میں اہم اور ضروری معلومات قوم کو بہم پہنچانے کے لئے تصنیف و تالیف کا کام مستحکم بنیادوں پر نہایت ضروری ہے۔ کم از کم ہفت روزہ اخبار جاری کیا جائے جو تمام ملک میں مرکزی پیغامات و ہدایات کو پہنچا دے اور ہر جگہ جماعت کے افراد کو اپنی جماعت کے احوال و کوائف سے باخبر ہونے کا موقع ملتا رہے۔
تنظیم کا یہ اجمالی خاکہ اِس لئے پیش کیا جا رہا ہے کہ سُنّی بھائی اِسے پڑھ کر اپنی آرائے گرامی اور مفید مشوروں سے ہمیں مستفید فرمائیں۔ اس میں جو کمی انہیں مناسب معلوم ہو اُس سے ہمیں مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
پاک سُنّی تنظیم کا یہ پیغام ہر سُنّی مرد و عورت، بوڑھے بچے اور جوان کے لئے دِیا گیا ہے۔ اِسے کوئی رسمی بات نہ سمجھے بلکہ یقین کر لیجئے کہ یہ پیغام کسی درد رسیدہ دِل کی گہرائیوں سے نکلا ہے جو قوم کے سامنے اِن شاء اللہ العزیز ایک ٹھوس حقیقت کی صورت میں سامنے آ جائے گا۔ جو لوگ آج اِس پر لبیک کہیں گے وہ
اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے زمرہ میں شمار ہوں گے۔ وما توفیقی الا باللّٰہ۔

سید احمد سعید کاظمی