اصلاحِ معاشرہ كیسے ہو


تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں جہاں بھی مذہبی طاقت کو کمزور کر کے صرف قانونی جبر سے اصلاح معاشرہ کی کوشش کی گئی سوائے ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس سلسلے میں ہمارے سامنے امریکہ کی مثال موجود ہے جہاں اس بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں شراب نوشی کے خلاف ایک عظیم مہم چلائی گئی۔ امریکہ کی اینٹی سیلون لیگ نے تحریروں، تقریروں اور تصویروں کے ذریعے بڑے وسیع پیمانے پر شراب کے نقصانات امریکی قوم کے ذہن نشین کرانے شروع کئے۔ اس سلسلے میں بے دریغ روپیہ صرف کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ۱۹۲۵ء تک اس مہم پر ساڑھے چھ کروڑ ڈالر خرچ کئے گئے اور اس اُمُّ الخبائث کے خلاف جو تحریریں شائع کی گئیں وہ تقریباً ۹؍ ارب صفحات پر مشتمل تھیں۔
۱۹۲۰ء میں امریکی حکومت بھی باقاعدہ طور پر اس مہم میں شریک ہو گئی اور پورے ملک میں قانونِ تحریم شراب نافذ کر دیا گیا۔ یہ قانون دسمبر ۱۹۳۳ء تک نافذ رہا۔ امریکی محکمہ عدل کے اعداد و شمار کے مطابق اس قانون کی تنفیذ کے سلسلے میں دو سو آدمی ہلاک ہوئے۔ پانچ لاکھ چونتیس ہزار تین سو پینتیس آدمیوں کو قید کیا گیا۔ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ پونڈ کے جرمانے کئے گئے۔ چالیس کروڑ چالیس لاکھ پونڈ کی مالیت کی جائیدادیں ضبط کی گئیں اور قومی خزانے سے اس قانون کی تنفیذ پر ۴۵ کروڑ پونڈ کے لگ بھگ اخراجات ہو گئے۔
محض قانون کے بل بوتے پر معاشرہ کی اخلاقی اصلاح کی شاید دُنیا میں یہ سب سے بڑی کوشش تھی جس میں قانونی جبر کو پوری قوت سے بروئے کار لایا گیا مگر نتیجہ اُلٹا نکلا۔ شرابیوں کی تعداد پہلے کی نسبت دس گنا بڑھ گئی۔ خفیہ بھٹیوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ آخر امریکی حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور دسمبر ۱۹۳۳ء میں قانون تحریم شراب ختم کر دیا گیا۔
یہ حال تو تھا مذہب کے بغیر صرف قانون سے اخلاقی اصلاح کی تحریک کا۔ اب سنئیے مذہب کی بنیادوں پر اخلاقی اصلاح کا حال عہدِ رسالت کے ابتدائی سالوں میں شراب حرام نہ ہوئی تھی اِس لئے مسلمان بھی شراب پیتے تھے مگر ان کے سینے اپنے مذہبِ برحق دِینِ اِسلام کے جذبے سے لبریز تھے اور ان کے قلب و نظر اِسلام کے نور سے منور تھے چنانچہ تحریم شراب کے متعلق خدا کا فرمان نازل ہوا:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَO اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَO وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُO
(المائد ة : ۹۰، ۹۱، ۹۲)
اے ایمان والو! شراب، جوا، اور پانسے گنڈا شیطان کا کام ہے اس سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دُشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آؤ گے (یا نہیں) اور خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور باز آ جاؤ۔ اگر تم نے منہ موڑا تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے تو صاف اور واضح پیغام پہنچا دینا ہی ہے۔
جب یہ آیت کریمہ اُتری اور حضور نے اس کی تلاوت فرمائی تو صحابہ کی طاعت شعاری کی یہ کیفیت تھی کہ جس کو بھی اس کی اطلاع ہوئی اس نے بے چون و چرا سرِ تسلیم خم کر دیا۔ شراب کے مٹکے توڑ دئیے گئے اور مے نوشی کی محفلیں ختم کر دی گئیں۔ حضرت انس اپنے سوتیلے والد کا واقعہ یان کرتے ہیں
"انی لقائم واسقی ابا طلحۃ وفلانًا وفلانًا اذ جاء رجل فقال وھل بلغکم الخبر فقالوا وما ذالك قال حرمت الخمر قالوا ھرق ھٰذہ القلال یا انس قال فما سالوا عنھا ولا راجعوھا۔" میں اپنے سوتیلے باپ طلحہ اور فلاں فلاں شخص کو کھڑا شراب پلا رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کیا تمہیں خبر پہنچی؟ انہوں نے کہا کیا؟ اس نے کہا شراب حرام ہو گئی۔ یہ سنتے ہیں اُنہوں نے كہا اے انس شرب كے مٹكے زمین پر اُلٹ دو۔ پھر اُنہوں نے اس كے متعلق نہ مکرر سوال کیا اور نہ دوبارہ ادھر رجوع كیا۔
(بخاری شریف کتاب التفسیر، ج ۲، ص ۶۶۴)
اس مثال سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ دین کی طاقت کس قدر عظیم ہے اور اخلاقی اصلاح میں کتنا مؤثر مقام رکھتی ہے۔
(بحوالہ رضوان ص۲۰، ۲۱، جون ۱۹۷۵ء)