معاشرہ کی خرابی اور علماء کا فرض


ناظرین کرام آپ نے میرے اس مضمون کا عنوان ملاحظہ فرمالیا، میں سب سے پہلے معاشرہ کی تعریف اور ان امور کی ترتیب طبعی بیان کروں گا جن کے ساتھ انسانی معاشرہ کی کڑیاں ملتی ہیں۔ پھر ان کی ضروری تفصیلات عرض کرکے فساد معاشرہ کے اسباب و علل پر کلام کروں گا۔ اس کے بعد معاشرہ کی اصل خرابیاں بتا کر علماء کے فرائض منصبیہ بیان کروں گا۔ امید ہے آپ حضرات غور سے ملاحظہ فرمائیں گے۔

افرادِ انسانی کا مل جل کر زندگی بسر کرنا معاشرہ کہلاتا ہے۔ زندگی کے کچھ اغراض و مقاصد ہیں اور ان اغراض و مقاصد کے تحت ضروریات کی تکمیل مقاصد میں جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی طریق کار ہوتا ہے اور ہر طریق کے لئے کچھ اصول و ضوابط جن کی قدروں پر مقاصد کی اقدار قائم ہوتی ہیں، یہی اقدار، معاشرہ کے حسن و قبح کا معیار اور اس کی برائی بھلائی کا مناط و مدار کہلاتی ہیں۔


تخلیق و ایجاد کے ا غراض ومقاصد
کوئی موجد جب کسی چیز كو ایجاد کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں مقصد ایجاد ہوتا ہے۔ اپنے علم و ارادہ کے مطابق اس کا متعین کرنا اسی کا کام ہے۔ کسی دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کی صنعت و ایجاد کی غرض و غایت کے بارے میں دخل اندازی کرے، جب مقصد ایجاد میں غیر موجد کا دخل نہیں تو ضروریات و طریق کا اور اس کے اصول و ضوابط میں شرکت ِ غیر کا تصور کیونکر پیدا ہوسکتا ہے اور اگر اس کے برخلاف غیر موجد نے مقصد ایجاد اور اس کے ماتحت ضروریات اور ان کے طرق کار کے قواعد و ضوابط میں دخل دیا تو ان کی اقدار میں خلل واقع ہوگا، جو انسانی ایجاد کی تقدیر پر معاشرہ کا اصل معیار ہیں۔


تخلیق اِنسانی کا مقصد عظیم
چونکہ انسان کا خالق و موجد اللہ تعالیٰ ہے اس لئے اس کا مقصد تخلیق بھی صرف اللہ تعالیٰ کے علم و ارادہ میں ہونا چاہئے جس کی تعیین کا حق اسی کے لئے محفوظ ہونا ضروری ہے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ انسان کی پیدائش اور اس کی حیات و بقا کے مقصد کی تعیین میں دخیل ہو یا اس کی ضروریات کے طریق کار اور اس کے قواعد و ضوابط میں خدا تعالیٰ کے خلاف اپنے علم و ارادہ کو دخل دے۔
اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی کا مقصد متعین فرمادیا (کہ میں نے انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے) اس کی انسانی ضرورتوں کے تمام طریق کار اور ان کے جملہ اصول و ضوابط انبیاء علیہم السلام اور شرائع و احکام کے ذریعے واضح فرما دیئے، اُن میں خلل اندازی یقینا انسانی معاشرہ کی تباہی کا موجب ہوگی۔


انسانی معاشرہ کا قوام
اس میں شک نہیں کہ خالقِ کائنات نے ہر چیز کے مقصد تخلیق کی جھلک اس کے حالات و کیفیات اور اوصاف و خصوصیات میں پیدا کردی ہے، لیکن اس کو بالکل صحیح طور پر سمجھ لینا عقل سلیم کا محتاج ہے جس کا سرچشمہ صرف نبوت و رسالت ہے۔ لہٰذا انسانی معاشرہ کا قوام اس کے فطری تقاضوں کی بنیاد پر صرف تعلیمات نبوت کی روشنی میں ہی ہوسکتا ہے، اس کے بغیر اس کی صحیح تشکیل بالکل ناممکن ہے۔
انسان دست قدرت کا وہ شاہکار ہے جس کے دامن میں حقائقِ کائنات کی تمام لطافتیں پائی جاتی ہیں وہ خلافت ربانی کا حقدار عزت و کرامت کا تاجدار اور احسن تقویم کا علمبردار ہے۔ انسان ہونے کی حیثیت سے اس کا سب سے پہلا فطری تقاضا اُنس ہے جو اجتماع کو چاہتا ہے اور اجتماعیت ہی معاشرہ کا سنگ بنیاد ہے۔ گویا معاشرتی یا تمدنی زندگی انسانی فطرت کا اولین تقاضا ہے جس کی بنیاد پر اس کی حیات و بقا کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ اگر اس کی حدود میں انسان کی عزت و کرامت محفوظ نہ رہے تو اسے حیوانی خواہشات کے پورا ہونے کا طریقہ تو کہہ سکتے ہیں لیکن انسانی معاشرہ وہ کسی صورت میں نہیں کہلا سکتا۔
اجتماع بر بنائے ضرورت ہوتا ہے اور ہر ضرورت مند کی ضرورتیں اس کے حسب حال پیش آتی ہیں۔ انسان کی جامعیت کے پیش نظر اس کے دامن خواہشات کی وسعتوں کا حال ظاہر ہے اور اس کی ضرورتوں کے میدان کا وسیع تر ہونا بھی اظہر من الشمس ہے، ضرورت کی بنا پر اجتماع کا ترتب اور اجتماع کی وسعتوں کے پیش نظر معاشرہ کا پھیلاؤ ایک لازمی اور بدیہی امر ہے۔
معاشرہ کی ابتدا گھریلو زندگی سے ہوتی ہے، ایک گھر میں ماں، باپ، میاں، بیوی، بہنیں، بھائی، بیٹا، بیٹی، خادم، خادمہ کارہنا اور ہر ایک کے ساتھ اس کے حسب حال تعلقات قائم ہونا، ہر ایک کے حقوق کی نگہداشت اور ایک دوسرے کے اجتماع سے ہر فرد کی متعلقہ ضرورتوں کا پورا کرنا اور پھر ان تمام ضرورتوں کا اس مقصد تخلیق کے ماتحت ہونا نہایت ضروری ہے جس کا تذکرہ ابتداء ً کیا جاچکا ہے اور قرآنی اصطلاح میں اس کا نام عبادت ہے۔ اس مقصد تخلیق کے بغیر ضرورتوں کا انقضاء باطل ایسا ہوگا جیسے سر کے بغیر جسم اور اصل کے بغیر فرع کا وجود ہو۔
انسانی زندگی کے اجتماع کا دوسرا مرحلہ گھریلو زندگی اور تدبیر منزل سے نکل کر ہمسایہ تعلقات سے شروع ہوتا ہے اور ہمسائیگی کے قرب و بعد سے اس کے مراتب میں تفاوت نمایاں ہونے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ شہر کی پوری آبادی کو اپنے احاطہ میں لینے کے بعد دوسرے مرحلہ سیاست مدنیہ سے تیسری منزل (سیاست ملکی) تک جا پہنچتا ہے اور پھر ملک سے آگے چل کر علی الترتیب اقوامِ عالم سے جا ملتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔
یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ اس وسیع اجتماع کی بنیاد انسانی ضرورتیں ہیں اور چونکہ انسان خلیفۃ اللہ ہونے کی حیثیت سے اپنی ضرورتیں اپنے شایانِ شان رکھتا ہے اس لئے اس کی عظیم ضرورتوں کی بنیاد پر جب اس کے وسیع تعلقات کا پھیلاؤ ہوگا تو اس کے نظامِ زندگی میں انسانی طبقات کی تشکیل ان کے مختلف کارناموں کی تجدید اور ان کے مطابق انسانی طبقات کی ذہنیت اس کے تاثرات اور اس کے ماتحت انسانی اخلاق و اعمال تہذیب و تمدن کا ایک وسیع ترین نظام برپا ہوگا۔
ہر اجتماعی اور ترکیبی نظام کا حسن و قبح، صلاح و فساد اجزاء ترکیبیہ کی صحیح ترکیب پر موقوف ہے اور ترکیب صحیح دو چیزوں کے بغیر ممکن نہیں۔ سب سے پہلے اجزاء ترکیبیہ کا قابل ترکیب ہونا، دوسرے اصول ترکیب کے مطابق ایک جزو کو دوسرے جزو سے جوڑ دینا۔ یہ ترکیب ان ہی ضوابط کے تحت ہوگی جن کا ذِکر پہلے کیا گیا ہے اور جن کا وجود انقضاء ضرورت کے طریق کار کے لئے لازمی ہے۔
اس مقام پر یہ بات خوب واضح ہوجاتی ہے کہ طریق کار اور اس کے اصول میں مناسبت کا ہونا ضروری ہے اور طریق کار چونکہ انقضاء ضرورت کے لئے ہیں اس لئے ان دونو ںکا بھی ایک دوسرے کے مناسب ہونا لابدی ہے، پھر ضرورت اصل مقصد کے لئے ہوتی ہے۔ لہٰذامقصد و ضرورت کا ہم آہنگ ہونا بھی لازمی امر ہے۔
بیان سابق کا اجمال جن تفصیلات کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے اس کا خاکہ حسب ذیل ہے۔ تہذیب(۱) اخلاق۔ تدبیر(۲) منزل۔ سیاست (۳) مدنیہ۔ سیاست (۴) ملکیہ۔ بین الاقوامی (۵) تعلقات۔ ان پانچ عنوانات کے تحت انسانی معاشرہ کا پورا نظام ہے جس میں حقوق اللہ، حقوق العباد سب داخل ہیں۔ اسی کے ذیل میں تمام انسانی کردار اور اس کے جملہ متعلقات شامل ہیں۔ تجارت، زراعت، صنعت و حرفت، مزدوری، ملازمت، حکومت، سیاست کوئی چیز اس سے باہر نہیں۔ یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے کہ انسانی زندگی اور اس کا پورا اجتماعی نظام اس کے مقصد تخلیق کے ماتحت ہے، جس کی تعیین کا حق اس کے خالق و موجد کے سوا کسی دوسرے کو نہیں۔ اس کی تکمیل کے لئے تمام ضروریات اسی مقصد کے ماتحت ہوں گی۔ ضروریات کے پورا کرنے کا طریق کار اور اس کے اصول و ضوابط کی تدوین و ترتیب کا حق بھی اسی خالق و موجد کے لئے محفوظ ہوگا۔ مختصر یہ کہ انسانی معاشرہ کی بہتری کا دارو مدار اسی ترتیب پر ہے۔ انسان کے نظام حیات اور اس کے معاشرہ میں اگر یہ ترتیب باقی نہ رہے تو یقینا اس میں فساد رونما ہوگا، موجودہ معاشرہ کی تمام برائیاں اسی طبعی ترتیب کے فقدان کے باعث ہیں جس کا مختصر بیان ذیل کی سطور میں ملاحظہ کریں۔
مقصد تخلیق کا انکار یا اس سے تغافل، یا اپنی طرف سے اس کی غلط تعیین ضررتوں کو اصل مقصد سے غیر متعلق کردینا اور ان کو پورا کرنے کے طریق کار کے اصول و ضوابط سے جہالت یا اس میں ردو بدل یہی چیزیں معاشرہ کی خرابی کا موجب ہیں۔ موجودہ دور میں فساد معاشرہ کے ان تمام اسباب و علل کا سنگ بنیاد یہ امر ہے کہ مفسد اور مضر عناصر نے اپنی بداعتدالیوں سے انسانی طبقات کے فطری اعتدال میں ایسا خلل پیدا کردیا ہے جس کے اثرات سے ہر طبقہ شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر ہوا اور اس کے تاثرات لازمی طور پر فساد معاشرہ کے اسباب و علل پر منتج ہوئے۔
جہالت، رشوت، ظلم و تعدی، سود خوری، مکاری،دغا بازی، حق تلفی، کذب و افترا، چوری، شراب خوری، قمار بازی، زِنا، لوٹ کھسوٹ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص و بداخلاقیاں اسی فطری اعتدال کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔
ان تمام خرابیوں کا انسداد اور معاشرہ کو صحیح معیار پر لانا اصلاحِ افراد کے بغیر ناممکن ہے کیونکہ معاشرہ کی اصل اجتماع ہے اور اجتماع کی اصل افراد، لہٰذا افراد کی درستی کے بغیر معاشرہ درست نہیں ہوسکتا۔ اس سلسلہ میں حکومت ارباب اقتدار لیڈران قوم، امراء علماء سب کے ذمہ الگ الگ فرائض عائد ہوتے ہیں، لیکن چونکہ میرے مضمون کا تعلق صرف علماء کے فرائض سے ہے اس لئے میں بادل ناخواستہ سب سے قطع نظر کرکے صرف علماء کرام کے فرض منصبی پر کچھ عرض کرتا ہوں۔
یہ حقیقت ناقابل فراموش ہے کہ ہر طبقہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اصلاح معاشرہ میں کوشاں ہیں۔ چنانچہ علماء کے طبقہ میں بھی باخبر حضرات اپنی بساط کے موافق اپنے فرائض کی انجام دہی سے غافل نہیں، اگر ایک طرف وہ خالص دینی اور اسلامی عصبیت لئے ہوئے عقائد اسلامیہ اور مسائل مذہبیہ کے تحفظ کی خاطر دین و مذہب کے دشمنوں سے برسر پیکار ہیں تو دوسری طرف معاشرہ کی خرابیوں اور مسلمانوں کے اخلاق و اعمال کی برائیوں کے خلاف بھی وہ مصروف جہاد ہیں لیکن چونکہ اس فرض میں دوسرے گروہ بھی علماء کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اس لئے جب تک پوری مشینری کام نہ کرے اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
ہاں! اس میں بھی شک نہیں کہ غفلت شعار علماء کے گروہ نے اپنے لئے ایک محدود دائرہ عمل اختیار کرلیا ہے۔ کتاب و سنت کی تعلیمات کا ایک جزو خاص ان کے پیش نظر ہے، چند مخصوص عقائد اور مخصوص طریق ہائے عبادت اور بعض فقہی مسائل ان کے دین اور علم دین کا کل سرمایہ ہیں، انہوں نے قرآن و حدیث کو چند وقتی معلومات کا مجموعہ قرار دے کر ان ہی میں سارے دین کو منحصر سمجھ لیا جس کی وجہ سے ان میں ایک خاص قسم کا تعصب پیدا ہوگیا اور اس کی وجہ سے وہ تنگ نظری کا شکار ہوکر رہ گئے۔ نہ دین کی وسعتوں کا تصور اُن کے ذہن میں آیا نہ دنیا کے حالات سے باخبر ہوئے۔ اس کمی کے باعث وہ بصیرت نظر اور وسعتِ نگاہ سے یکسر محروم ہوکر رہ گئے۔
مذہبی عقیدت اور تنگ نظری مسلمانوں میں فسادات کا سبب ہوئی۔ مذہبی جھگڑوں کا دروازہ کھل گیا۔ مختلف الخیال لوگ مذہبی مسائل میں ایسے الجھے کہ جدال و قتال تک نوبت پہنچی اور معاشرہ بد سے بد تر ہوتا چلا گیا۔
ایسے علماء کا اولین فرض ہے کہ وہ دین کی وسعتوں کو اپنے سامنے لائیں اور مقصد تخلیق انسانی سے اپنے اذہان کو آشنا کرتے ہوئے اپنے دِل میں اس امر کا احساس پیدا کریں کہ دین چند مخصوص طرق عبادت میں منحصر نہیں بلکہ انسان کی تمام زندگی اس کے سارے حالات اور کل معاملات میں دین کا دخل ہے، کتاب و سنت کی پوری تعلیمات کو پیش نظر رکھیں، دنیا کے حالات سے باخبر ہوں، معاشرہ کی خرابیوں اور ان کے اسباب و علل کا گہری نظر سے جائزہ لیں اور اپنے دائرہ عمل کو وسیع کریں۔
پوری ہمت و بصیرت کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اسلامی معاشرہ کو اس کے اصلی خدو خال کے ساتھ نمایاں کریں اور عوام کو جن کی عقیدتوں کا دامن ان کے ساتھ وابستہ ہے اس طرف لانے کی سعی بلیغ فرمائیں، اپنے طرزِ تعلیم اور اندازِ تقریر و تحریر کو بدل دیں اور اپنی بے جا عصبیت اور تنگ نظری کو بالائے طاق رکھ کر فراخدلی اور اسلامی رواداری سے معاشرہ کی اصلاح کریں۔