احکام عید الاضحی و قربانی


(۱) نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرھویں کی عصر تک ہر فرض و باجماعت کے بعد تکبیر تشریف بآواز کہنا واجب ہے۔
(۲) جس شخص پر قربانی واجب ہو اُس کو چاہئے کہ نمازِ عید تک نہ سرمنڈائے، نہ خط بنوائے، نہ ناخن ترشوائے۔ عید الاضحی کے دِن نمازِ عید سے پہلے کچھ نہ کھائے۔ غسل کرکے اچھے ستھرے نئے یا دُھلے ہوئے کپڑے پہنے۔ خوشبو لگائے اور ایک راہ سے بآواز بلند تکبیر تشریق پڑتا ہوا عید گاہ جائے۔
تکبیر:
اَللہُ اَکْبَر اَللہُ اَکْبَر لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَر اَللہُ اَکْبَر وَلِلہِ الْحَمْدُ


ترکیب نماز
نیت: نیت کرتا ہوں میں دو رکعت نماز واجب عید الاضحی معہ چھ تکبیروں کے واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ میرا طرف کعبہ شریف کے، پیچھے اس امام کے۔ پھر امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ (اللہ اکبر) کہہ کر ہاتھ باندھ لے اور سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ پڑھ کر امام کی تکبیر کے ساتھ کانوں تک ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہے اور ہاتھ چھوڑ دے۔ اسی طرح دوسری اور تیسری تکبیر کہے ہر دو تکبیروں کے درمیان ہاتھ چھوڑ دے۔ پھر امام صرف
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ؁ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ؁ آہستہ اور الحمد و سورۃ بالجہر پڑھے۔ پھر رکوع اور سجود کرے۔ پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوکر پہلے الحمد و سورۃ پڑھے۔ پھر رکوع سے پہلے رکعت اولیٰ کی طرح تین بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہے اور ہاتھ نہ باندھے۔ چوتھی بار بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے۔ دونوں رکعتوں میں تین تین تکبیریں کہنا واجب ہے۔ جو شخص امام کے تکبیریں کہہ لینے کے بعد شامل ہو تو وہ تکبیر تحریمہ کہہ کر تکبیر رکوع کہتا ہوا رکوع میں جائے اور بحالت رکوع تین تکبیرات واجبہ کہہ لے (تسبیحات رکوع چھوڑ دے) رفع یدین کی ضرورت نہیں۔ اگر اس نے رکوع میں ایک یا دو تکبیریں کہی تھیں کہ امام نے رکوع سے سر اٹھالیا تو باقی تکبیریں ساقط ہوجائیں گی اور اگر کوئی شخص دوسری رکعت میں ایسے وقت شامل ہوا کہ امام بعض تکبیریں کہہ چکا ہے تو یہ شخص صرف بقیہ تکبیریں امام کے ساتھ کہے۔ جب فوت شدہ رکعت پڑھنے کھڑا ہو تو پہلے قرأت کرے اور بعد میں تکبیریں کہے۔ سلام کے بعد مذکورہ بالا تکبیر تشریق سب نمازی بلند آواز سے کہیں۔ بعد نماز امام خطبہ پڑھے اور سب لوگ اپنی جگہ پر خاموش بیٹھے خطبے سنیں۔ بعد خطبہ و دعا باہمی معانقہ جائز ہے۔ مگر بد مذہب اور امرد محل فتنہ سے بچیں۔


احکامِ قربانی:
ہر مسلم و بالغ مرد و عورت پر جو مقیم و مالک نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کا مالک ہو قربانی واجب ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس سونا چاندی دونوں ہیں مگر ہر ایک مقدار نصاب سے کم ہے لیکن دونوں کی قیمت کا حساب لگایا جائے تو ایک نصاب سونے یا چاندی کا پورا ہوجائے تو وہ شخص صاحب نصاب ہوگا اور اس پر قربانی واجب ہوگی۔ قربانی کے لئے مال پر سال گزرنا ضروری نہیں۔ قربانی کا وقت شہری کے لئے بعد نماز عید ہے اور دیہات والوں کے لئے دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے اور آخری وقت سب کے لئے بارھویں کے غروب آفتاب تک ہے۔ بارھویں کے غروب آفتاب کے بعد قربانی فوت ہوجائے گی۔ اس صور ت میں مالک نصاب پر قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے اور اگر غیرمالک نصاب نے بہ نیت قربانی جانور خریدا تھا اور وہ آخر وقت تک قربانی نہ کرسکا تو اس پر اس خریدے ہوئے جانور کا بعینہٖ صدقہ کرنا واجب ہوگا۔ قربانی کے تین دِنوں میں سب سے افضل پہلا دِن ہے۔ پھر دوسرا ، پھر تیسرا اور درمیانی دو راتوں میں بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ مگر بکراہت قربانی کے جانور اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، دُنبہ ہیں۔ (سب کے سب نر ہوں یا مادہ) ان کے سوا کسی دوسرے جانور کی قربانی درست نہیں۔ خصی کی قربانی افضل ہے۔ قربانی کا جانور تندرست سالم الاعضاء ہونا ضروری ہے۔ بیمار، لاغر جو مذبح تک نہ جاسکتا ہو۔ لنگڑا، اندھا، کانا ہو یا اس کا کان، ناک، دُم، سینگ، تھن وغیرہ کوئی عضو تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو، یا اُس کے دانت سرے سے پیدا ہی نہ ہوئے ہوں۔ یا بھیڑ، بکری کا ایک تھن اور گائے بھینس وغیرہ کے دو تھن نہ ہوں یا علاج سے ایسے خشک کردئیے گئے ہوں کہ دودھ نہ اتر سکے تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں۔ اونٹ، گائے، بھینس کی قربانی میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ مگر ان کی خریداری کے وقت شرکت کی نیت ہونی چاہئے۔ بغیر نیت شرکت مکروہ ہے۔


قربانی کے جانور کی عمر
اونٹ پورے پانچ سال کا، گائے بھینس پورے دو سال کی، بھیڑ بکری پورے ایک سال کی ہو۔ دُنبہ ایسا فربہ جو یک سالہ عمر والے دُنبوں میںمل جانے پر دور سے ایک سالہ معلوم ہو۔ چھ ماہ کی عمر تک کا جائز ہے۔ اس سے کم عمر کی قربانی جائز نہیں۔ قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا افضل ہے۔ خود بخوبی نہ کرسکے تو دوسرا کر سکتا ہے۔ مگر اجازت ضروری ہے اور سنت یہ ہے کہ اپنے سامنے قربانی کرائے۔ جانور کو بھوکا پیاسا نہ رکھا جائے، نہ ایسے کو ذبح کیا جائے۔ جانور کے سامنے چھری تیز نہ کریں۔ نہ اسے ایک دوسرے کے سامنے ذبح کریں۔ جب تک سرد نہ ہوجائے کھال نہ اُتاریں۔ ذبح کرتے وقت بہتر ہے کہ یہ دُعا پڑھیں۔
ا
ِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ جانور کو قبلہ رو بائیں پہلو پر لٹائیں، اور اپنا داہنا پاؤں اُس کے شانہ پر رکھ کر اَللّٰہُمَّ لَکَ وَ مِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَر کہہ کر تیز چھری سے ذبح کریں۔ ایسا گہرا ذبح نہ کریں کہ چھری گردن کے مہرے تک اتر جائے۔ اگر کوئی دوسرا شخص جانور کو پکڑے رہے تو بہتر ہے وہ بھی تکبیر کہے۔ اپنا جانور ذبح کرنے والا یہ دُعا پڑھے۔ اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاہِیْمَ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ﷺ۔ دوسرے کا جانور ہو تو مِنِّیْ کی بجائے مِنْ کے بعد اس کا نام لے۔ چرم قربانی یا اس کی قیمت کا کوئی جزو اجرتِ قصاب میں دینا یا قربانی کے جانور کی قیمت میں مُجرا (مِنہا) کرنا حرام ہے۔ گوشت کے تین حصے برابر کرنا بہتر ہے۔ ایک اپنا، ایک اعزا و احباب کا، ایک فقراء و مساکین کا، فقراء و مساکین کا حصہ پورا تہائی تول کر علیحدہ کرلیں تو بہتر ہے۔ قربانی کے لئے اگر دودھ والا جانور خریدا ہے تو اس کا دودھ خود استعمال کرنا جائز نہیں۔ اگر مالک نے خود پیا ہے تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ اسی طرح مینڈھے و دُنبہ کے اون کو قربانی کرنے سے پہلے اپنے کام میں لانا بھی ناجائز ہے۔ اُون کٹوائی ہو تو اس کا یا اُس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے۔
(نوٹ:) جس بکری، بھیڑ اور دُنبے کے پیدائشی دُم نہیں ہوتی اس کی قربانی جائز ہے۔
(ماہنامہ السعید ماہ جون ۱۹۶۰ء، جلد ۲، شمارہ ۳، ص ۴۱/۴۲)