مسائل و احکام ماہِ صیام
اور
مسائل نماز عید الفطر و صدقۃ الفطر وغیرہ


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ مَنَّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ بِشَہْرِ رَمَضَانَ وَکَتَبَ عَلَیْہِمُ الصِّیَامَ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدِنِ الَّذِیْ سَنَّ لَّنَا التَّرَاوِیْحَ وَالصِّیَامَ وَرَضِیْنَا فِیْہَا وَعَلَّمَنَا الْاَحْکَامَ وَعَلٰی اٰلِہٖ الْکِرَامِ وَاَصْحَابِہِ الْعُظَّامِ۔ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ؁
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے ان لوگوں پر فرض کئے گئے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم گناہوں سے بچو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
(رواہ الشیخان فی صحیحہما عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ)
سرورِ عالم ﷺ نے شعبان کے آخری دِن میں خطبہ فرمایا: -
اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا اور برکت والا مہینہ آیا ہے۔ وہ مہینہ کہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کئے اور اسکی رات میں قیام (نماز پڑھنا) تطوع (سنت) قرار د یا۔ جو مسلمان اس ماہ میں نیکی کا کوئی کام کرے تو وہ ایسا ہے کہ اور کسی مہینہ میں فرض ادا کیا اور اس مہینہ میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے کہ اور مہینوں میں ستر فرض ادا کئے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مواسات (مومنین کے ساتھ ہمدردی و غمخواری) کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے تو اس میں گناہوں کی مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کردی جائے گی اور افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میںکمی ہو۔ ہم (صحابہ) نے عرض کی۔ یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہم میں ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہ ثواب ہر اس مسلمان کو دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک خرما یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کرائے، اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے سیراب کرے گا۔ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول رحمت ہے اور اوسط مغفرت اور آخر جہنم سے آزادی ہے۔ جو شخص اپنے غلام (خادم) پر اس مہینہ میں تخفیف کرے اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن سلمان الفارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
مسائل فقہیّہ:
روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیت عبادت صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک اپنے آپ کو کھانے پینے و جماع سے روکنا ہے۔ عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا روزہ کے لئے شرط ہے۔ (عامہ کتب فقہ)
روزہ کے تین درجہ ہیں۔ ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی کھانے پینے اور جماع سے رکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ اس کے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں اور تمام اعضاء کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسویٰ اللہ سے اپنے آپ کو بالکلیہ جدا کرکے صرف اسی اللہ واحد قیوم کی طرف متوجہ رہنا۔ (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ: ادائے روزہ رمضان و نذر معین و نفل کے روزوں کے لئے نیت کا وقت غروب آفتاب سے ضحوہ کبریٰ تک ہے۔ (درمختار رد المحتار) ضحوہ کبریٰ سے کچھ پہلے نیت کا وقت ہے۔ (در مختار)
مسئلہ: نیت دِل کے ارادہ کو کہتے ہیں۔ البتہ زبان سے کہنا مستحب ہے۔
مسئلہ: رات میں روزہ کی نیت کی پھر اس کے بعد کھایا پیا تو نیت باطل نہیں ہوئی۔ اگر رجوع نہیں کیا تو وہی نیت باقی ہے۔ (جوہرہ) روزہ کے لئے سحری کھانا بھی نیت ہے۔ مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح روزہ نہیں ہوگا تو سحری کھانا نیت نہیں۔ (جوہر و رد المحتار)
یوم الشک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفل خالص کی نیت سے وہ لوگ روزہ رکھ سکتے ہیں جو بلا تردد نفل خالص کی نیت کرنے پر قادر ہوں۔ نفل کے سوا کوئی اور روزہ اس دِن مکروہ ہے۔ (مراقی الفلاح و در المختار) بھول کر کھانا پینا روزہ، فرض و نفل میں معاف ہے۔ روزہ نہیں گیا۔ مسئلہ: بہت کمزور آدمی جو روزہ میں بھول کر کھاپی رہا ہو اسے دیکھ کر خاموش رہنے اور یاد نہ دلانے میںکوئی حرج نہیں۔ اگر آدمی قوی ہے تو اس کو یاد دلانا واجب ہے۔ (رد المحتار)
مسئلہ: مکھی یا غبار یا دھواں حلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگرچہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔ اگر خود قصداً دھواں پہنچایا تو روزہ فاسد ہوگیا۔ اگر روزہ دار ہونا یاد ہو خواہ کسی چیز کا دھواں ہو۔
مسئلہ: بھری سنگھی لگوائی یا سرمہ یا تیل لگوایا تو روزہ نہ گیا۔ اگر تیل یا سرمہ کا مزہ حلق میںمحسوس ہوتا ہو یا تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو جب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (جوہرہ ردالمحتار)
تل یا تل کے برابر کوئی چیز چبائی اور تھوک کے ساتھ حلق سے اتر گئی تو روزہ نہ گیا۔ مگر جبکہ اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو تو روزہ جاتا رہا۔ (فتح القدیر)
مسئلہ: حقہ، سگریٹ، سگار، چرٹ پینے سے روزہ جاتا رہتا ہے۔ اگرچہ پینے والا اپنے خیال میں حلق میں دھواں نہ پہنچاتا ہو بلکہ صرف نسوار استعمال کرنے یا صرف تمباکو پان کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا۔ اگرچہ پیک تھوک دی ہو۔ اس لئے کہ باریک اجزاء ضرور حلق میں پہنچتے ہیں۔
مسئلہ: جو زخم دِماغ یا شکم کی جھلی تک پہنچتا ہو اس میں دوا ڈالی۔ اگر دوا دِماغ یا شکم تک پہنچ گئی تو روزہ جاتا رہا۔ (عالمگیر)
مسئلہ: حقہ پیا یا نتھنوں سے دوا چڑھائی یا کان میں تیل ڈالا یا چلا گیا تو روزہ نہیں گیا۔ (عالمگیری)
کلی کر رہا تھا، بلا قصد پانی حلق سے اتر گیا یا ناک میں پانی چڑھا رہا تھا اور دِماغ کو چڑھ گیا، اگر روزہ دار ہونا یاد ہے تو روزہ جاتا رہا ورنہ نہیں۔ (عالمگیری)
مسئلہ: روزہ دار کو استنجا میں مبالغہ نہیں کرنا چاہئے۔ اگر استنجا کرتے وقت حقنہ رکھنے کی جگہ تک پانی پہنچ گیا تو روزہ جاتا رہا۔ (رد المحتار)
مسئلہ: قصداً منہ بھر کر قے کی اور روزہ دار ہونا یاد ہے تو مطلقاً روزہ جاتا رہا۔ اگر اس سے کم کی تو نہیں۔ اگر بے اختیار قے ہوگئی خواہ تھوڑی یا منہ بھر کر روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (در مختار)
مسئلہ: جو شخص رمضان المبارک کو معمولی اور بے وقعت سمجھتے ہوئے بغیر عذر شرعی کے علانیہ دِن میں کھائے پئے یا ایسی بات بولے جس سے رمضان المبارک کی تحقیر ظاہر ہوتی ہو تو وہ شخص مرتد کے حکم میں ہے۔ ایسے بدبخت کو قید کرکے اس کے شبہات کا ازالہ کیا جائے گا۔ اگر اصلاح پذیر نہ ہو اور اسی طرح مصر رہے تو شرعاً واجب القتل ہے۔
مسائل سحری
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کا لقمہ ہے۔ (رو اہ مسلم و ابو داؤد والترمذی والنسائی و ابن خزیمہ عن عمر و بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سحری کھانا سنت ہے اور اس میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔ مگر نہ اس قدر کہ صبح ہونے کا شک ہوجائے۔ (عالمگیری) سحری میں اس قدر زیادہ نہ کھائے کہ سحری اور روزہ کے فوائد اور اس کی حکمتوں سے محروم ہوجائے۔ (مراقی الفلاح) افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے مگر افطار اس وقت کرے کہ غروب آفتاب کا گمان غالب ہوجائے۔ ابر کے دِن افطار تاخیر سے کرے۔ رسول اللہ ﷺ افطار کے وقت یہ دُعا پڑھتے تھے۔
اللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ (رواہ ابوداؤد)
مسائل رخصت
سفر شرعی، عورت کا حاملہ ہونا، بچے کو دودھ پلانا، مرض، بوڑھاپا، اکراہ، خوف ہلاکت، خوف نقصان عقل اور جہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے لئے عذر شرعی ہیں اور ان وجوہ کی بناء پر اگر کوئی شخص رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھے تو گنہگار نہیں۔ (در مختار)
مسئلہ: روزہ توڑ نے کی وجہ سے اگر کسی شخص پر کفارہ لازم آجائے تو اس کی ادائیگی اس طرح ہونی چاہئے کہ اگر ممکن ہو تو ایک غلام آزاد کردے ورنہ دو مہینے کے روزے پے درپے رکھے۔ اگر اس سے عاجز ہو تو ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کر صبح شام کھانا کھلائے۔
تراویح
نمازِ تراویح مرد عورت کے لئے سنت موکدہ ہے۔ اس کا چھوڑنا جائز نہیں۔ (در مختار وغیرہ) جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح بیس رکعتیں ہیں۔ بیہقی نے بہ سند صحیح سائب ابن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ لوگ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیس رکعت پڑھتے تھے اور عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے عہد میں بھی تراویح اسی طرح پڑھی جاتی تھی۔ مؤطا میں یزید بن رومان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تیئیس رکعتیں پڑھتے تھے۔ بیہقی نے کہا کہ اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں۔
مسئلہ: تراویح میں ایک بار قرآن مجید ختم کرنا سنت ہے۔ دو مرتبہ فضیلت اور تین مرتبہ افضل ہے۔ (در مختار)
مسئلہ: ہر چار رکعت پر اتنی دیر بیٹھنا مستحب ہے جتنی دیر میں چار رکعت پڑھی جاتی ہیں۔ (عالمگیری وغیرہ) اس بیٹھنے میں اسے اختیار ہے کہ چپکا بیٹھے یا کلمہ طیبہ پڑھے یا تلاوت کرے یا درود شریف پڑھے یا چار رکعتیں تنہا نفل پڑھے۔ جماعت سے مکروہ ہے یا یہ تسبیح پڑھے۔
سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّۃِ۔
مسئلہ: تراویح مسجد میں با جماعت پڑھنا افضل ہے۔
مسئلہ: بالغین کی نمازِ تراویح نابالغ کے پیچھے جائز نہ ہوگی۔ یہی صحیح ہے۔
(عالمگیری)
اعتکاف
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے۔
وَلَا تُبَاشِرُوْہُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ ط
صحیحین میں حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان شریف کے آخری عشرہ کااعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
مسئلہ: مسجد میں اللہ کے لئے نیت کے ساتھ ٹھہرنا اعتکاف ہے۔ اعتکاف کے لئے مسجد جامع ہونا شرط نہیں بلکہ مسجد جماعت میں بھی ہوسکتا ہے۔ رمضان شریف میں آخر کے دس دِن میں اعتکاف کیا جائے۔ یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیت اعتکاف مسجد میں داخل ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے۔ اگر سب ترک کردیں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور اگر شہر میں ایک نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہوگئے۔
مسئلہ: معتکف کو وطی کرنا، عورت کا بوسہ، شہوت سے چھونا، گلے لگانا حرام ہے۔ جماع سے بہر حال اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ معتکف کو چاہئے کہ اعتکاف کی حالت میں لغویات سے پوری طرح پرہیز کرے۔ تلاوت قرآن مجید اذکار حسنہ اور نیک باتوں میں وقت گزارے۔ بیہودہ گوئی سے اعتکاف بے نور اور بے برکت ہوجاتا ہے
عید الفطر
رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دِن کچھ کھا کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور عید الاضحی کو نہ کھاتے جب تک نماز نہ پڑھ لیتے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ والدارمی عن بریدۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بخاری شریف میں بروایت حضرت انس وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دِن کھجوریں جو طاق ہوتیں تناول فرماکر نمازِ عید کے لئے تشریف لے جاتے۔
مسئلہ: نمازِ عیدین میں نہ اذان ہے نہ اقامت۔
مسئلہ: نماز کا وقت آفتاب بلند ہونے سے (یعنی جس وقت سورج خوب روشن ہوجائے حتیٰ کہ اس پر نظر ٹھہر نہ سکے) کچھ پہلے زوال آفتاب تک ہے۔
نمازِ عید کا طریقہ
نمازِ عید واجب ہے اور اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نمازِ عید الفطر یا عیدالاضحی کی نیت کرکے کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے۔ پھر ثناء پڑھے، پھرکانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہتا ہوا ہاتھ چھوڑ دے پھر ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ چھوڑ دے، پھر ہاتھ اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے۔ یعنی پہلی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھے اس کے بعد دو تکبیروں میں ہاتھ چھوڑے پھر چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھے۔ پھر امام اعوذ اور بسم اللہ آہستہ پڑھ کر جہر کے ساتھ الحمد اور سورۃ پڑھے۔ پھر رکوع کرے اور دوسری رکعت میں الحمد اور سورۃ کے بعد تین بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہے اور ہاتھ نہ باندھے۔ پھر چوتھی بار بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہتا ہوا رکوع میں جائے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ عیدین میں زائد تکبیریں چھ ہیں۔ تین پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے اور تکبیر تحریمہ کے بعد اور تین دوسری رکعت میں قرأت کے بعد اور تکبیر رکوع سے پہلے یہ چھ تکبیریں زائد ہیں۔ ان میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔
مسئلہ: ہر دو تکبیروں کے درمیان بقدر تین تسبیح سکتہ کریں۔ نمازِ عید کے بعد امام خطبہ مسنونہ پڑھے گا جس میں لوگوں کو احکام عید سنائے گا۔ بعض لوگ خطبہ سننے سے پہلے چلے جاتے ہیں وہ تارک سنت ہونے کی وجہ سے گنہگار ہوتے ہیں۔ جس قدر نمازی ہیں خواہ ان کو خطبہ کی آواز پہنچے یا نہ پہنچے اختتام تک بیٹھا رہنا سب کے لئے ضروری ہے۔ جو لوگ امام کے قریب ہیں ان کے لئے حق شرع یہ ہے کہ خطبہ سنیں اور جو دور ہیں ان کے لئے حق شرع یہ ہے کہ خاموش رہیں۔
مسئلہ: عید گاہ میں نماز عید سے پہلے نوافل پڑھنا مکروہ ہے۔ (درمختار)
مسئلہ: نمازِ عید ہوجانے کے بعد بعض لوگ عید گاہ میں جماعت کے ساتھ نمازِ عید پڑھتے ہیں۔ ان کا ایسا کرنا جائز نہیں۔ انہیں چاہئے کہ نمازِ عید کے وقت میں جہاں عید نماز نہ ہوئی ہو اور شرعاً وہاں نمازِ عید جائز بھی ہو امام کے ساتھ با جماعت نماز ادا کریں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو استحبابًا صلوٰۃ ضحی کی طرح چار نفل تنہا پڑھ لیں مگر یہ نفل نمازِ عید کی قضا یا اس کے قائم مقام نہ ہوں گے۔ (در مختار)
شش عید کے روزے
طبرانی اوسط میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرمایا حضور ﷺ نے جس نے رمضان کے روزے رکھے اور ان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا جیسا ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔
صدقۂ فطر
ترمذی شریف میں بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکے کے کوچوں میں اعلان کردے کہ صدقہ فطر واجب ہے۔
مسئلہ: صدقۂ فطر واجب ہے اور اس کا وقت تمام عمر ہے یعنی عمر میں جس وقت بھی دے گا شرعاً ادا مانا جائے گا نہ قضا۔
مسئلہ: صدقۂ فطر کا ادا کرنا نمازِ عید سے پہلے مسنون ہے۔
مسئلہ: عید کے دِن صبح صادق ہوتے ہی صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالک نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنی چھوٹی اولاد اور غلاموں کی طرف سے واجب ہوتا ہے۔
مسئلہ: صدقۂ فطر کی مقدار یہ ہے کہ گیہوں یا اس کا آٹا یا ستو نصف صاع یا کھجور یا منقیٰ یا جو یا اس کا آٹا یا ستو ایک صاع (در مختار)
مسئلہ: گیہوں یا جو دینے سے ان کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل ہے کہ قیمت دے دے خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جو یا کھجور کی۔ نفع فقیر کا خیال رکھنا چاہئے مگر گرانی میں ان چیزوں کا دینا قیمت سے بہتر ہے۔
مسئلہ: صدقہ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ جہاں زکوٰۃ صرف کرنا جائز نہیں وہاں صدقہ فطر صرف کرنا بھی جائز نہیں۔
(مدیر مسئول)
(ماہنامہ السعید ماہ مارچ ۱۹۶۰ء، جلد ۱، شمارہ ۱۸، ص ۱۲ تا ۱۵ /۳۴)