اجتہاد کا حجت شرعیہ ہونا


مبادی! مقاصد کا موقوف علیہ ہوتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مبادی مقاصد سے افضل ہوجائیں۔ دیکھئے! وضو نماز کا موقوف علیہ ہے، لیکن نماز سے افضل نہیں۔ اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ جس کی فضیلت پر کتاب و سنت شاہد ہے ذِکر الٰہی سے افضل نہیں۔ جامع ترمذی کی حدیث میں ہے۔
عن ابی الدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ قال قال النبی ﷺ الا انبئكم بخیر اعمالکم واز کہا عند ملیککم وارفعہا فی درجاتکم وخیر لکم من انفاق الذہب والورق وخیر لکم من ان تلقوا عدوکم فتضربوا اعناقہم ویضربوا اعناقکم قالوا بلٰی قال ذکر اللّٰہ (ترمذی جلد ثانی ص ۱۷۳)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا "کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتادوں جو تمہارے شہنشاہ حقیقی کے نزدیک تمہارے اعمال سے بہتر اور پاکیزہ ہو اور تمہارے مدارج بہ نسبت تمام اعمال کے زیادہ بلند کرنے والا اور راہِ خدا میں سونا چاندی خرچ کرنے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بھی بہتر ہو کہ تم اپنے دشمنوں (کفار) کے مد مقابل ہو کر ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں (یعنی جہاد)" صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ کا ذِکر" (جامع ترمذی)
ذِکر الٰہی کا جہاد فی سبیل اللہ سے افضل ہونا اسی لئے ہے کہ جہاد ذریعہ اور آلہ ہے۔ ذِکر الٰہی اور کلمۃ اللہ کے بلند ہونے کا جہاد کا مقصد اصلی صرف ذِکر الٰہی اور اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ سلف صالحین نے جو دینی خدمات انجام دی ہیں ان سب میں بہتر و افضل دو چیزیں ہیں۔ مسائل شرعیہ کا تحمل و تحفظ اور ان میں تفقہ و تدبر۔ حضرات محدثین کرام اور ان کے ہم ذوق علماء اعلام نے کتاب و سنت کے تحمل و تحفظ کی خدمت انجام دی اور حضرات مجتہدین عظام نے کتاب و سنت میں تفقہ و تدبر کا فرض ادا کیا۔ تحمل و تحفظ ذریعہ اور موقوف علیہ ہے تفقہ و تدبر کا۔ اصل مقصود تفقہ ہے نہ کہ تحمل و تحفظ کیونکہ کتاب وسنت کا اصل مقصد حق سبحانہٗ وتعالیٰ کے اوامر و نواہی کو سمجھنا ہے اور اسی کا نام تفقہ ہے تو بلا شبہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تفقہ کو محض تحمل و تحفظ پر فوقیت حاصل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تفقہ فی الدین حاصل کرکے احکام و مسائل مستنبطہ کی تبلیغ و اشاعت کو فی الجملہ فرض قرار د یا۔
قال اللہ تعالٰی فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْآ اِلَیْھِمْ۔ (التوبة : ۱۲۲)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر قبیلہ سے کیوں نہیں چند لوگ نکل آتے تاکہ وہ تفقہ فی الدین حاصل کریں اور جب واپس آئیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں۔
یہ لوگ جو کامل تفقہ فی الدین رکھنے والے ہیں شریعت مطہرہ کی اصلاح میں اہل ذِکر مجتہد اور اولوا الامر کہلاتے ہیں۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر کبیر جلد ثالث ص ۲۴۵ میں آیت
وَاَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کے تحت ارشاد فرمایا۔
مذہبنا ان الاجماع لا ینعقد الا بقول العلماء الذین یمکنہم استنباط احکام اللہ من نصوص الکتاب والسنۃ وہؤ لاء ہم المسمون باہل الحل والعقد فی کتب اصول الفقہ نقول الآیۃ دالۃ علیہ لانہ تعالٰی اوجب طاعۃ اولی الامر والذین لہم الامر والنہی فی الشرع لیس الاہذا الصنف من العلما لان المتکلم الذی لا معرفۃ لہ بکیفیۃ استنباط الاحکام من النصوص لا اعتبار بامرہ ونہیہ وکذالک المفسر والمحد ث الذی لا قدرۃ لہ علی استنباط الاحکام من القرآن والحدیث
یہ وہی اجتہاد و استنباط ہے جس کا ذکر حدیث ۱؎ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں موجود ہے۔
قال رسول اللہ ﷺ لمعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حین بعثہ الی الیمن بم تقضی یا معاذ قال بکتاب اللّٰہ تعالٰی قال فان لم تجد قال بسنۃ رسول اللہ ﷺ قال فان لم تجد قال اجتہد برائی فقال رسول اللہ ﷺ الحمد للہ الذی وفق رسول رسول اللہ لما یحب ویرضاہ
حضور سید عالم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کا قاضی بناکر بھیجا تو اُن سے دریافت فرمایا کہ اے معاذ! مقدمات کا فیصلہ کس طرح کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا، کتاب اللہ سے! فرمایا۔ اگر تم اُس میں کوئی مسئلہ نہ پاؤ تو کیا کرو گے؟ عرض کیا سنت رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کروں گا! ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی بات تمہیں سنت میں نہ ملے تو اس وقت کیا کرو گے۔ عرض کیا حضور میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا! جس پر رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا فرمایا کہ تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ثابت ہیں جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اپنی محبوب اور پسندیدہ چیز کی توفیق عطا فرمائی!
معلوم ہوا کہ جب کوئی مسئلہ کتاب و سنت میں منصوص نہ ہو اور قیاس و اجتہاد کی ضرورت واقع ہو تو اہل اجتہاد کو اپنی رائے سے اجتہاد کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ ہے۔

(سید احمد سعید کاظمی مدیر)
(ماہنامہ قائد ملتان ماہ مارچ ۱۹۵۰ء جلد ۲، شمارہ ۲، ص ۱۰، ۱۱)