ہفتہ کی عید


اخبارات میں بعض علماء کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ ۲۹؍رمضان المبارک کے بعد ہفتہ کے دِن جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا اور عیدالفطر منائی وہ سخت گناہ گار ہیں۔ اس بیان کی اشاعت پر اکثر مسلمان جنہو ںنے ہفتہ کے دِن عید منائی بہت پریشان ہیں اور دریافت کرتے ہیں کہ اس بیان کی روشنی میں ہمارا عیدالفطر منانا شرعاً گناہ ہے یا نہیں؟ اور ہم پر قضا یا کفارہ لازم ہے یا نہیں؟
مسلمانوں کے اطمینان اور مسئلہ کی وضاحت کے لئے گزارش ہے کہ علماء کا یہ بیان صرف اُن لوگوں کے لئے ہے جن علاقوں میں نہ چاند دیکھا گیا نہ اس پر کوئی شرعی شہادت قائم ہوئی اور نہ ہی کوئی اور شرعی ثبوت انہیں بہم پہنچا بلکہ ان لوگوں نے محض ریڈیو یا ٹیلیفون وغیرہ کی اطلاعات یا عام افواہوں پر ہفتہ کے دِن عید منائی۔ ایسے لوگوں کے لئے شرعاً ضروری تھا کہ وہ تیس روزے پورے کرکے عید مناتے، شرعی ثبوت کے بغیر ان کا عید منانا کسی صورت میں جائز نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ ان کے حق میں رمضان شریف کا مہینہ پورے تیس دِن کا تھا۔ جب انہو ں نے تیس روزے پورے نہیں کئے تو ان پر ایک روزے کی قضا واجب ہے اور اکثر غیر شرعی اطلاعات اور عام افواہوں کی بناء پر محض اپنے خیال سے انہوں نے روزہ توڑ دیا تو قضا کے علاوہ کفارہ بھی واجب ہے۔
البتہ اگر کسی معتمد عالمِ دین کے فتوے پر روزہ توڑا تو صرف قضا واجب ہوگی، کفارہ نہیں، اگرچہ وہ فتویٰ صحیح نہ ہو۔ کیونکہ اس کی وجہ سے اس دِن کے ایام رمضان سے ہونے میں ایک ایسا شبہ پیدا ہوگیا جو کفارہ ساقط ہونے میں شرعاً معتبر ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ غلط فتوے کا وبال مفتی کے ذمہ رہے گا اور وہ سخت گناہ گار ہوگا تاوقتیکہ سچے دِل سے شرعی توبہ نہ کرے۔
لیکن جن علاقوں میں چاند دیکھا گیا اور اس پر شرعی شہادتیں قائم ہوگئیں یا اس کے علاوہ کسی دوسرے شرعی ثبوت کی بناء پر انہوں نے عید منائی ان کے لئے علماء کا یہ بیان نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ ہفتہ کے دِن عید منائیں، کیونکہ شرعی ثبوت بہم پہنچ جانے کے بعد اُسے قبول نہ کرنا اور اس کے خلاف عمل کرنا بھی موجب ِ گناہ ہے۔
الحمدللہ! علمائے مدرسہ انوارالعلوم نے کسی ٹیلیفون یا ریڈیو وغیرہ کی اطلاع پر نہیں بلکہ رویت ہلال عید پر ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت لینے کے بعد ہفتہ کے دِن عید منانے کا اعلان کیا تھا جو بالاتفاق صحیح اور حق ہے اور اس میں کسی تردد کی گنجائش نہیں۔

(ماہنامہ السعید ملتان ماہ مارچ/ اپریل ۱۹۶۱ء جلد ۲، ۳، شمارہ ۱۲،۱ ص ۵۸)