ہجرت کا فلسفہ


ہجرت کے معنی ہیں دارالکفر سے دار المؤمنین کی طرف انتقال کرنا۔ یا یوں کہئے کہ جس جگہ مسلمانوں پر اہل کفر و طغیان کا ظلم و ستم حد سے گزر جائے اس جگہ سے مسلمانوں کے منتقل ہونے کو ہجرت کہتے ہیں۔
ہجرت کا ظاہری پہلو تو یہ ہے کہ مظلوم مسلمان بظاہر مغلوب و مقہور ہوکر انتہائی بے بسی اور تباہ حالی میں اپنے وطن سے نکلتے ہیں لیکن بقول شخصے ع

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پِس جانے کے بعد

مسلمان کا ترک وطن بے نتیجہ نہیں ہوتا۔ ہجرت مسلم کا باطنی پہلو لازمی طور پر یہ ہوتا ہے کہ جس مقام سے وہ مصائب و آلام کا شکار ہوکر نکلا تھا۔ ایک وقت نہایت عزت و وقار کے ساتھ اُس مقام پر واپس آتا ہے۔
ظاہر میں لوگ عموماً ہر چیز کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی قوتِ فکریہ اس سے آگے متجاوز نہیں ہوتی اور وہی ظاہری پہلو اِن کے قوائے عملیہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ لیکن مسلمان کو چاہئے کہ حقائق اشیاء کو اسلامی بصیرت سے دیکھئے تاکہ اس کی نظر غلطی سے محفوظ رہے۔
اب اس مسئلہ کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھئے۔
اسلامی تعلیمات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی مقام پر مسلمان کا دشمن مسلمان کو ایسی تکلیف پہنچائے جن کی مدافعت اس سے نہ ہوسکے تو وہ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق اپنے نیک بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے مقام پر چلے جاؤ۔ ان کے چلے جانے پر دشمن خوش ہوتا ہے اور طبعی سرکشی کی بناء پر متکبرانہ انداز میں کہتا ہے کہ دیکھو! میں نے اپنے حریف کو کس طرح ذلیل و خوار کرکے نکالا لیکن وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اللہ والے ذلیل نہیں ہوا کرتے۔ عزت صرف اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے۔ اللہ والوں کا دشمن کے ساتھ مقابلہ میدان میں ترک وطن کا اقدام اس لئے نہیں ہوتا کہ کمزور اور مغلوب ہوکر بھاگ گئے! بلکہ مسلمان کا ترک وطن کی صورت میں ایک قدم پیچھے ہٹنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک قابل و ماہر پہلوان ٹوٹے ہوئے اپنے مقابل کو پوری طرح اپنی گرفت میں لینے کے لئے ایک دو قدم پیچھے ہٹ کر آگے آتا ہے اور آن کی آن میں اپنے حریف کو گرا کر چار خانے چت کردیتا ہے۔ اسپرنگ جب دبتا ہے تو ابھرنے کے لئے دبتا ہے۔ مسلمان جب وطن سے نکلتا ہے تو واپس آنے کے لئے نکلتا ہے۔

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبادو گے

ہمارے مہاجر بھائیوں کو اس حقیقت پر گہری نظر کرنی چاہئے کہ مسلمان کی ہجرت اس لئے نہیں کہ مسلمان کافروں کے ہاتھوں ذلیل ہوکر نکلا ہے۔ مسلمان ذلیل ہوکر نہیں بلکہ اپنے دشمن کو ذلیل کرنے کے لئے نکلتا ہے۔
یوں سمجھئے کہ جس طرح کُشتی کے میدان میں کامیاب پہلوان اپنے مدِ مقابل کے سامنے ایک دو قدم اس لئے نہیں ہٹتا کہ مقابلہ سے بھاگ رہا ہے بلکہ اُس کا پیچھے ہٹنا صرف اس لئے ہوتا ہے کہ پیچھے ہٹے بغیر اپنے حریف کو گرانے کے لئے موقع نہیں پاتا۔ ایک دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنے داؤ پیچ اور قوت کے مظاہرے کے لئے ماحول پیدا کرتا ہے تاکہ اپنے مقابل کو پوری طاقت کے ساتھ زیر کرلے۔ غور سے دیکھا جائے تو مسلمان کا ہجرت کرنا بھی اسی لئے ہوتا ہے کہ اپنے وطن میں وہ اتنا موقع نہیں پاتا کہ اپنی تمام مخفی قوتوں کو بروئے کار لاکر دشمن کو مغلوب کرے۔ اس لئے ترک وطن کرکے ایسی جگہ جاتا ہے جہاں دشمن کو ذلیل کرنے کا پورا پورا سامان آسانی سے مہیا کرسکے اور پوری طرح تیاری کرکے دشمن پر ایسی جست لگائے کہ اس کا خاتمہ کرکے رکھ دے۔
بے شک اللہ اس بات پر قادر ہے کہ مسلمان کو وطن میں رہتے ہوئے اتنی قوت دے دے کہ وہ ہجرت کئے بغیر اپنے دشمن کو مغلوب کردے۔ اللہ تو اس بات پر بھی قادر ہے کہ مسلمان ہاتھ بھی نہ ہلائے اور اُس کا دشمن خدا کی قدرت سے فنا ہوجائے! لیکن خدا کا یہ قانون نہیں ہے، کیونکہ وہ حکیم مطلق ہے اور ایسی باتیں جو حکمت سے خالی ہوں اس کی شان کے لائق نہیں۔
اس بیان کو ذہن نشین کرنے کیلئے ایک نظر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہجرت پر ڈالئے کہ آپ نے اور آپ کے ماننے والوں نے کس حالت میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور پھر کس شان و شوکت کے ساتھ مکہ معظمہ واپس آئے۔
الغرض مہاجرین کو چاہئے کہ اپنی ذہنیت میں یہ تبدیلی پیدا کریں کہ ہم ذلیل ہوکر نہیں نکلے بلکہ دشمن کو ذلیل کرنے کا سامان مہیا کرنے کے لئے پاکستان آئے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ انسان پہلے ایک مقصد اور ارادہ دِل میں پیدا کرتا ہے۔ پھر اس کی تکمیل کے ذرائع مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
مہاجرین و انصار کو باہمی تعاون کے ساتھ اس مقصد وحید کو پایۂ تکمل تک پہنچانے کے لئے ہمہ تن مصروف کار ہوجانے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے کام مہاجرین و انصار کے شایانِ شان ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اصلاح حال کی طرف متوجہ ہونے کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے بعد دولت خداداد پاکستان کی بقاء و ترقی کے لئے جدو جہد اور اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کی کوشش میں جان و مال سے دریغ نہ کرنا چاہئے۔
آزاد قوموں کا احساس اپنے اندر پیدا کرنے اور اپنی اسلامی شان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم صحیح معنی میں انصار و مہاجرین بن گئے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم تو آسمانوں سے واپس آکر دوبارہ وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ ہمارا وطن ہم سے کتنی دور ہے؟


سید احمد سعید کاظمی امرہوی مدیر
(ماہنامہ قائد ملتان ماہ جون ۱۹۵۰ء جلد ۲ شمارہ ۵ ص ۲۶/۲۷)