مولانا مودودی صاحب کا چیلنج منظور ہے


مولانا مودودی صاحب ۹؍مارچ کو جمعہ کے دِن تشریف لائے تھے اور انہوں نے باغ عام خاص میں تقریر کی تھی۔ بعض احباب سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ مودودی صاحب نے "مکالمہ کاظمی و مودودی" کا ذِکر کرتے ہوئے اور اپنے ہی من گھڑت سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس مکالمہ کے مضامین پر میں کاظمی صاحب سے پھر گفتگو کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اس کے جواب میں میری طرف سے مودودی صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگر واقعی آپ نے یہ فرمایا ہے تو میں تعمیل ارشاد کے لئے بہ دل و جان حاضر ہوں۔ مگر مناسب ہے کہ جس طرح آپ نے یہ اعلان مجمع عام میں فرمایا ہے اسی طرح ہماری آپ کی گفتگو بھی مجمع عام میں ہو تاکہ اس دفعہ آپ کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ یہ سوالات و جوابات گھر میں بیٹھ کر مرتب کرلئے گئے ہیں۔
مکالمہ مذکورہ کے متعلق مودودی صاحب نے فرمایا کہ اس میں جو گفتگو درج ہے وہ ایک شخص نے مجھ سے تبادلہ خیالات کے بعد گھر میں بیٹھ کر مرتب کرلی اور اس کا نام مکالمہ رکھ دیا، میں اس کا ذمہ دار نہیں۔
یعنی یہ تمام گفتگو محض فرضی اور بے اصل ہے۔ میں عرض کروں گا کہ یہ مکالمہ میرے ہمراہیوں کی تصدیق اور ان کے اصل دستخطوں کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اگر اس کے باوجود بھی یہ آپ کے نزدیک خلاف واقع اور بے اصل تھا تو آپ نے وہ اصلی گفتگو شائع کردی ہوتی جو آپ کے نزدیک صحیح اور درست تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ معلوم ہوا کہ آپ نے محض دفع الوقتی اور عوام کو مبتلائے فریب رکھنے کے لئے یہ کہہ د یا ورنہ آپ جانتے ہیں کہ مکالمہ میں آپ کے جوابات کی جو ترجمانی کی گئی ہے وہ بالکل صحیح ہے، جس کی صحت پر آپ کی کتابوں کی عبارات منقولہ بھی مہر تصدیق ثبت کر رہی ہیں جو ہم نے بحوالہ ٔ صفحات وہاں نقل کی ہیں۔ اس سلسلہ میں مودودی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ گفتگو کی اشاعت میں مجھ سے اجازت نہیں لی گئی نہ اس مکالمہ پر میری تصدیق ہے۔ گویا مودودی شریعت میں یہ بھی ناجائز ہے کہ مسائل شرعیہ میں کسی سے گفتگو ہو تو اسے دوسرے کی اجازت اور تصدیق کے بغیر شائع کردیا جائے۔ مودودی صاحب سے میں دریافت کرتا ہوں کہ اگر یہ صحیح ہے تو آپ کے ۹؍جنوری۱ ۱۹۵ء کے سہ روزہ اخبار کوثر میں مدیر کوثر اور ضلع ملتان کے ایک ڈاکٹر صاحب کی جو طویل گفتگو ڈاکٹر موصوف کی اجازت اور تصدیق کے بغیر شائع ہوئی ہے (جس کا عنوان "پہلی منزل"
مَنْ قَالَ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللہُ کی بحث ہے) اس کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ مدیر کوثر نے اسے پوری رنگ آمیزی کے ساتھ بڑے طمطراق سے اپنے اخبار میں شائع کیا ہے اور ڈاکٹر صاحب موصوف کی اجازت اور ان کی تصدیق کے اظہار کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جس سے ظاہر ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے مدیر کوثر کو اپنی گفتگو شائع کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی نہ اس کی تصدیق کی ہے اور اگر مدیر کوثر کے پاس اس قسم کی کوئی اجازت اور تصدیق موجود ہے تو وہ اسے اب شائع کردیں۔ مگر وہ بیچارے شائع کہاں سے کریں گے۔ اگر ان کے پاس کچھ ہوتا تو وہ اسی وقت گفتگو کے ساتھ اسے شائع کردیتے، کیونکہ ایسی اجازت و تصدیق کا حاصل کرنا اسی غرض سے ہوسکتا تھا کہ گفتگو کے ساتھ اسے شائع کردیا جائے تاکہ پڑھنے والے مطمئن ہوجائیں۔
مجھے افسوس ہے کہ مودودی صاحب دوسروں کو وعظ سنانا خوب جانتے ہیں مگر اپنے گھر کی خبر نہیں لیتے۔
مودودی صاحب نے اپنی تقریر میں یہ بھی فرمایا کہ اس مکالمہ میں جو مجھ پر ادعائے مہدویت کا الزام لگایا گیا ہے وہ بھی غلط ہے۔ میں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ اس کے متعلق گزارش ہے کہ ایک مکالمہ کیا آپ ہماری کسی تحریر سے بھی یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ہم نے آپ کو زبان سے مہدویت کادعویٰ کرنے والا قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ یہ ہے کہ مودودی صاحب نے ابھی تک اپنے مہدی ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ مگر ان کی تحریرات سے (جنہیں ہم مکالمہ میں تفصیل سے نقل کرچکے ہیں) یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قوم کے ذہن میں اپنی مہدویت کا تصور جمانے میں کوشاں ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے کارناموں کو بالکل اسی رنگ میں قوم کے سامنے پیش کر رہے ہیں جس رنگ میں انہو ں نے امام مہدی کے کارناموں کو اپنی کتاب تجدید و احیاء دین میں ظاہر کیا ہے۔
مہدی کے دعویٰ نہ کرنے کے متعلق مودودی صاحب نے کسی جگہ بھی وثوق کے ساتھ نہیں لکھا کہ وہ یقینا دعویٰ نہیں کریںگے صرف اتنا لکھ گئے ہیں کہ
نہ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا اعلان کرے گا۔" (تجدید واحیاء دین ص ۳۲)
اس عبارت میں مودودی صاحب نے امام مہدی کے دعویٰ نہ کرنے پر وثوق کا اظہار نہیں کیا صرف اسے خلافِ توقع بتایا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ بہت سے امور خلافِ توقع بھی ظاہر ہوجاتے ہیں۔ مودودی صاحب کو قیامِ پاکستان ہی کی کونسی توقع تھی۔ پھر وہ آج خدا کے فضل سے ایک عظیم الشان حقیقت بن کر ان کے سامنے آیا یا نہیں؟
دور کیوں جائیے! اسی موجودہ دور کو دیکھ لیجئے۔ مودودی صاحب کن توقعات کو لیکر میدان انتخاب میں اترے تھے اور اب ان کے صالح نمائندوں کا کیسا عبرتناک حشر ہورہا ہے، جسے دیکھ کر مودودی صاحب بے ساختہ بول اٹھتے ہوں گے کہ ع

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

اسی طرح اگر امام مہدی بھی مودودی صاحب کی توقع کے خلاف اپنی مہدویت کا اعلان کردیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔
تجدید و احیاء دین میں دو عبارتیں ایسی ہیں جن سے بظاہر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ مودودی صاحب اس بات کے قائل نہیں کہ امام مہدی اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ پہلی عبارت یہ ہے۔
نبی کے سوا کسی کا یہ منصب ہی نہیں کہ دعویٰ سے اپنے کام کا آغاز کرے۔ (تجدید و احیاء دین ص ۳۲)
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کے سوا کسی (مجدد یا مہدی) کو کسی وقت بھی دعویٰ کرنے کا منصب حاصل نہیں بلکہ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ اپنے کام کو دعویٰ سے شروع کرنا سوائے نبی کے کسی کا منصب نہیں اور کسی مجدد و مہدی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ نبی کی طرح اپنے کام کا آغاز دعویٰ سے کرے۔ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی غیر نبی (مجدد و مہدی) بغیر دعویٰ کئے اپنا کام شروع کردے پھر آگے چل کر اپنے مجدد و مہدی ہونے کا اعلان کرے تو اس کی نفی اس عبارت سے نہیں ہوتی، ورنہ اس عبارت میں "آغاز" کی قید بالکل بے معنی او رمہمل قرار پائے گی۔ دوسری عبارت یہ ہے کہ
مہدویت دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، کرکے دکھائے جانے کی چیز ہے۔ اس قسم کے دعوے جو لوگ کرتے ہیں اور جو ان پر ایمان لاتے ہیں میرے نزدیک دونوں اپنے علم کی کمی اور اپنے ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔ (تجدید و احیاء دین ص ۳۲)
اس سے بھی یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ مودودی صاحب امام مہدی کے دعویٰ کی نفی فرمارہے ہیں، صحیح نہیں۔ اس عبارت کا صاف اور صریح مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ مہدویت وغیرہ کے دعوے کرتے ہیں اور لوگ ان پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ انہوں نے صرف دعوے ہی کئے ہیں، کرکے کچھ نہیں دکھایا، ایسے لوگ میرے نزدیک اپنے علم کی کمی اور اپنے ذہن کی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔ مودودی صاحب نے صرف دعویٰ کرنے کو علم و ذہن کی پستی پر مبنی نہیں فرمایا بلکہ وہ لمبے چوڑے دعوے کرنے کے باوجود کچھ کرکے نہ دکھانے والوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو کم علم اور پست ذہن فرمارہے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ ایک شخص دعوے تو بڑے کرتا ہے مگر کرکے کچھ نہیں دکھاتا تو اسے ایک معمولی سمجھ والا انسان بھی نکما اور بے وقوف کہے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص دعوے کے ساتھ کام بھی کرکے دکھائے تو اسے کوئی بھی کم علم اور پست ذہن نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے اگر امام مہدی اپنے عظیم الشان کارناموں کے ساتھ اپنے مہدی ہونے کا اعلان بھی کردیں تو ازروئے عقل و شرع اس میں کوئی استبعاد نہیں، نہ مودودی صاحب کی یہ عبارت اس کی نفی کرتی ہے۔
آج جو لوگ کسی مصلحت کے پیش نظر مودودی صاحب کے پندار مہدویت پر پردہ ڈالنے کے لئے مذکورہ بالا عبارات سے مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں، میں انہیں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ مودودی صاحب کی ایک عبارت ایسی پیش کریں جس میں انہوں نے وثوق کامل کے ساتھ امام مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام  کے دعوے کی نفی کی ہو۔ لیکن میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ مودودی صاحب نے کسی جگہ بھی مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام  کے دعوے کی نفی نہیں کی اور عبارات مذکورہ بالا میں انہوں نے اپنے حریفوں پر طنز و تعریض کے باوجود بھی (کسی وقت) اپنے دعوے کے لئے خاصی گنجائش رکھ چھوڑی ہے۔ میری اور مودودی صاحب کی جو گفتگو مکالمہ میں شائع ہوئی ہے جس نے مودودی صاحب اور ان کے مشن کو بڑی حد تک عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ہے اس کی اشاعت سے ایوانِ مودودیت میں کہرام مچا ہوا ہے اور مودودیوں کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارۂ کار نظر نہیں آتا کہ وہ میری گفتگو کو بگاڑ کر پبلک کے سامنے پیش کریں۔
دوران گفتگو میں مودودی صاحب سے مَیں نے یہ کہا تھا کہ آپ کی تجدید و احیاء دین کی عبارات سے لوگوں کے دِلوں میں یہ شبہات پیدا ہورہے ہیں کہ آپ اپنے متعلق مجدد کامل اور امام مہدی ہونے کا گمان رکھتے ہیں۔ اس الجھن کے دُور ہونے کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ آپ اپنی زندگی میں اپنے مہدی ہونے کا انکار فرمادیں تاکہ آپ کے بعد کوئی آپ کو مہدی نہ کہے۔
کتنا صاف اور سیدھا مطالبہ تھا۔ اگر مودودی صاحب اپنی مہدویت کا گمان نہیں رکھتے اور یہ نہیں چاہتے کہ لوگ میرے بعد مجھے مہدی کہیں تو انہیں واضح طور پریہ کہنا چاہئے تھا کہ میں اپنی مہدویت کا گمان نہیں رکھتا لیکن اس کے جواب میں وہ یہی فرماتے رہے کہ ان شاء اللہ میں بغیر کسی دعوے کے اپنے رب کے سامنے پیش ہوجاؤں گا۔ جس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ مہدی کی شان یہ ہے کہ وہ باوجود مہدی ہونے کے د عویٰ نہ کرے اور بغیر دعویٰ کئے اپنے رب کے سامنے پیش ہوجائے۔ مگر یہاں بھی ان شاء اللہ کہہ کر دعویٰ کیلئے گنجائش رکھ لی۔ جب میں نے اس بات پر زور دیا کہ آپ اپنی زندگی میں اپنے مہدی ہونے کا انکار فرمائیں تو ارشاد فرمایا کہ میں اس بات کا ذمہ دار نہیں کہ میرے بعد مجھے مہدی کہا جائے۔ مرنے والوں کے حق میں بہت کچھ کہہ دیا جاتا ہے۔ کوئی کسی کو خدا کہہ دیتا ہے، کوئی کسی کو ولی بنادیتا ہے،کوئی کسی کو کافر کہہ دیتا ہے۔ میں نے عرض کیا جناب یہ فرمائیے کہ مرنے کے بعد کسی بندہ کو خدا کہنا یا کسی مسلمان کو کافر کہنا شرعاً ناجائز ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ ایسا کہنا قطعاً ناجائز ہے۔ اسی طرح اگر آپ مہدی نہیں اور آپ کے بعد آپ کو مہدی کہا گیا تو یہ بھی ناجائز ہوگا۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی زندگی ہی میں اپنی مہدویت کا انکار فرمادیں تاکہ آپ کے بعد آپ کے حق میں اس قسم کی ناجائز بات نہ کہی جائے۔ اس موقع پر یہ بھی عرض کردوں کہ میں نے یہ مطالبہ صرف اس لئے کیا تھا کہ مودودی صاحب نے اپنی کتاب تجدید و احیاء دین میں لکھا ہے کہ
شاید اسے خود بھی اپنے مہدی موعود ہونے کی خبر نہ ہوگی اور اس کی موت کے بعد اس کے کارناموں سے دنیا کو معلوم ہوگا کہ یہی تھا وہ خلافت کا منہاج النبوۃ پر قائم کرنے والا جس کی آمد کا مژدہ سنایا گیا تھا۔ (تجدید و احیاء دین ص۳۲)
اس عبارت میں مودودی صاحب نے واضح طور پر اس امر کی تصریح فرمادی ہے کہ مہدی کو اس کی موت کے بعد لوگ جانیں گے کہ یہ مہدی تھا۔ لہٰذا مودودی صاحب کے کارناموں کے پیش نظر اگر ان کے بعد لوگ انہیں مہدی کہنے لگیں تو اس عبارت کی رو سے ان کا یہ قول بالکل جائز اور درست ہوگا۔
ناظرین کرام! غور فرمائیں کہ جب مودودی صاحب اور ان کے ہواخواہوں سے میری اس گفتگو اور جائز مطالبہ کا کوئی معقول جواب نہ ہوسکا تو انہوں نے میری اس بات کو بگاڑ کر پبلک کے سامنے پیش کیا کہ کاظمی صاحب نے ہم سے یہ سوال کیا کہ اگر آپ کے مرنے کے بعد آپ کو مہدی کہا جائے تو آپ کیا کریں گے؟ ہم نے جواب دیا کہ مرنے کے بعد اگر کوئی ہمارے حق میں جو کچھ کہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ بکثرت مرنے والوں کے حق میں بہت کچھ کہا گیا۔ پھر انہوں نے کیا کیا۔
سبحان اللہ! کسی کے کلام میں تحریف کی مثال اس سے بہتر نہیں مل سکتی۔ دوسروں کو خدا کے خوف کی تلقین کرنے والے ذار اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ انہو ںنے محض جواب سے عاجز ہونے کی وجہ سے میری بات کو کس طرح مسخ کرکے پیش کیا ہے۔
کوئی اَن پڑھ آدمی بھی کسی سے ایسا سوال نہیں کرسکتا۔ بھلا بتائیے کہ جب آپ مر کر مٹی میں مل گئے تو آپ کیا کرسکتے ہیں؟ اور اس کے متعلق آپ سے کیا سوال ہوسکتا ہے؟
مودودی صاحب نے جس انوکھے انداز میں اپنی مجددیت و مہدویت کا جال بچھایا ہے اس کی پوری تفصیل تو ہم نے "مکالمہ کاظمی و مودودی" اور "آئینۂ مودودیت" کے حصہ اول و دوم میں لکھی ہے۔ اس مختصر مضمون میں اس کی گنجائش نہیں۔ مگر یہاں صرف اتنا عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مودودی صاحب نے ابھی تک اپنی زبان سے اپنی مہدویت کا اعلان نہیں کیا، مگر جو نقشہ انہوں نے امام مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام  کا اپنی کتاب تجدید و احیاء دین میں کھینچا ہے بعینہٖ اسی نقشہ کی صورت میں اپنی ذاتِ گرامی کو پیش کرکے کم از کم اپنی جماعت کے مخصوص ارکان کے اذہان میں اپنی مہدویت کا تصور پوری طرح قائم کردیا ہے۔ اگر اس میں کچھ کمی ہوسکتی ہے تو صرف یہی کہ باوجود سر توڑ کوششوں کے ابھی تک وہ حکومت کا تختہ الٹنے اور اقتدار کی کنجیوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اگر خدانخواستہ وہ کبھی اس مقصد میں کامیاب ہوگئے تو اسی وقت اس نقشہ مہدویت کی تکمیل ہوجائے گی اور مودودی صاحب کے امام مہدی ہونے میں کسی مودودی کو کسی قسم کا شک و شبہ یا تردد باقی نہ رہے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس وقت دعویٰ کی وہ گنجائش جنہیں مودودی صاحب اب تک باقی رکھتے چلے آئے ہیں داشتہ آید بکار کے مطابق کام آئے۔
آخر میں اتمام حجت کے لئے میں پھر ایک دفعہ مودودی صاحب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر واقعی آپ اپنے مہدی ہونے کا گمان نہیں رکھتے تو غیر مبہم الفاظ میں اعلان فرمادیجئے کہ میں امام مہدی نہیں ہوسکتا میرے بعد کوئی شخص مجھے مہدی نہ کہے۔
مجھے سنجیدہ مودودی حضرات سے توقع ہے کہ میرے اس مطالبہ کی معنویت اور افادیت پر ٹھنڈے دِل سے غور کریں گے اور عوام کو دام تلبیس میں پھنسانے کی کوشش تر ک کرنے کے ساتھ ہی انہیں امر حق کو قبول کرنے میں دریغ نہ ہوگا۔ بالخصوص عام برادرانِ اسلام سے تو مجھے پوری امید ہے کہ وہ ان امور کو اپنی توجہ کا مرکز بناکر سلف صالحین کے مسلک پر قائم رہتے ہوئے (سرزمین متنبئین و متجددین) کے اس نئے مگر خطرناک فتنہ مودودیت سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں گے۔


وما علینا الا البلاغ المبین



سید احمد سعید کاظمی غفرلہٗ
ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان
(ماہنامہ قائد ملتان ماہ مارچ/ اپریل ۱۹۵۱ء جلد ۳ شمارہ ۲/۳ ص ۱۰ تا ۱۴)