تتمہ


از: سید احمد سعید کاظمی غفرلہٗ مدیر مسئول ماہنامہ "قائد" ملتان
حضرت ناظم اعلیٰ مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوارالعلوم نے جس انداز سے رجوع الی الحق فرمایا ہے وہ اس امر کی بین دلیل ہے کہ ان کا دِل خوف و خشیت الٰہی سے معمور ہے اور وہ صحیح معنی میں علماء ربانیین کے متبع ہیں۔ ممدوح نے اس پُر آشوب دور میں سلف صالحین کی سنت کو زندہ کردیا اور جس طرح سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ و دیگر آئمہ دین و اکابر ملت رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے خوف خداوندی کے پیش نظر رجوع الی الحق کو اپنے لئے موجب عار نہیں سمجھا بالکل اسی طرح حضرت ناظم صاحب قبلہ مدظلہ العالی نے بھی امر حق کو واضح فرمانے سے دریغ نہیں فرمایا۔ حالانکہ جس جارحانہ انداز میں موصوف پر نکتہ چینی کی گئی تھی وہ حد درجہ دلآزار تھا۔ اس نفسانیت کے دور میں یہی انداز اگر کسی دوسرے شخص کے ساتھ اختیار کیا جاتا تو وہ بمقتضائے نفسانیت اپنی ضد پر اڑ جاتا، مگر ممدوح موصوف نے ایسا نہیں کیا بلکہ ضد اور نفسانیت سے بالا تر ہوکر مسئلہ کے ہر پہلو پر پوری طرح غور و خوض فرمانے کے بعد جو امر حق آپ پر ظاہر ہوا اسے بلا تامل و تردد قبول فرماکر اپنے رجوع کا اعلان فرمادیا۔
فجزاہ اللہ احسن الجزاء
اس کے بعد مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ مولوی ابو داؤد محمد صادق صاحب کوٹلوی نے اپنے دس سوالوں کے ضمن میں جو تیسرا سوال قائم کیا ہے کہ  انفرادی رائے سے کسی کو امیر و خلیفہ منتخب کرنا اگر مطلقاً ناجائز ہے تو یہ بات قابل استفسار ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف اپنی ذاتی رائے سے خلیفہ مقرر فرمایا یا نہیں۔ بعد انتخاب سب اہل ایمان کا اتفاق کرنا اور بات ہے۔
اس میں اس امر کی تصریح ہے کہ مولوی ابوداؤد محمد صادق صاحب استخلاف فاروقی کے مسئلہ میں اس بات کے قائل ہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف اپنی ذاتی اور انفرادی رائے سے خلیفہ منتخب فرمایا۔ یعنی انہوں نے دیگر صحابہ کرام، مہاجرین و انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے کوئی مشورہ نہیں فرمایا اور کسی کی رائے معلوم نہیں کی۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر صریح اتہام ہے۔ جیسا کہ جواب استفسار کے ضمن میں حضرت ناظم صاحب نے تاریخ الخلفاء اور نبراس کی عبارات نقل فرمائی ہیں۔
مولوی محمد صادق صاحب کی اس غلط فہمی کا ایک منشا تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہو ںنے کتب علم کلام وغیرہ میں یہ دیکھ کر کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنایا۔ یہ سمجھ لیا کہ انہوں نے بغیر مشورہ کئے صرف اپنی ذاتی اور انفرادی رائے سے خلیفہ بنادیا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ یہ صحیح ہے کہ جملہ استخلف ابوبکر۔ مشورہ کے ثبوت و عدم ثبوت سے ساکت ہے اور ثبوت مشاورت کی عبارات و روایات سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کا حمل اثبات و نفی دونوں پر ہوسکتا ہے لیکن جب کتب عقائد و تاریخ میں ثبوت مشاورت پر صاف اور صریح روایات منقول ہوچکیں تو اب اس کو نفی مشورہ پر حمل کرکے یہ کہنا کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اپنی ذاتی اور انفرادی رائے سے فاروق اعظم کو خلیفہ منتخب فرمادیا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟
دوسرا منشاء ان کی غلطی کا یہ ہوسکتا ہے کہ انہو ں نے کتب کلام وغیرہ میں یہ دیکھ کر کہ شرعاً ثبوت امامت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک امام دوسرے کو اپنا خلیفہ بنادے۔ یہ خیال کرلیا کہ استخلاف فاروقی صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صرف ذاتی اور انفرادی رائے سے عمل میں آیا او رکسی سے مشورہ نہیں ہوا۔
اس میں شک نہیں کہ اگر ایک امام صرف اپنی ذاتی رائے سے کسی دوسرے کو خلیفہ بنادے اور کسی سے مشورہ نہ کرے تو اس دوسرے کی امامت و خلافت شرعاً صحیح و درست ہوگی۔ مگر اس صحت خلافت سے یہ لازم نہیں آتا کہ مستخلف کا بغیر مشورہ کئے صرف اپنی ذاتی رائے سے خلیفہ بنانا کسی حکم شرعی کے خلاف نہ ہو۔ دیکھئے بعض حالات میں ایقاع طلاق شرعاً جائز نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی اس کے باوجود بھی طلاق دیدے تو شرعاً اس کے ثبوت و وقوع میں بھی کوئی تردد نہیں ہوتا۔ اس قسم کے اور مسائل بکثرت ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی امام کسی کو صرف اپنی ذاتی رائے سے خلیفہ بنادے اور کسی سے مشورہ نہ کرے تو اس دوسرے کی امامت تو شرعاً ضرور ثابت ہوجائے گی مگر یہ بتائیے کہ اس مستخلف کا یہ فعل نصوص قرآنیہ
وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ اور وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ کے خلاف ہوگا یا نہیں؟
مولوی محمد صادق صاحب اس حقیقت پر ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق یہ کہہ کر کہ انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف اپنی ذاتی اور انفرادی رائے سے خلیفہ منتخب فرمایا۔ روافض کو بغلیں بجانے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ارشاد خداوندی کی خلاف ورزی کا الزام لگانے کا موقع دیا یا نہیں۔ میں عرض کروں گا کہ آپ ان آیتوں کی جو تاویل بھی کریں۔ وہ آپ ہی کے لئے قابل تسلیم ہوگی۔ مخالف تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ظاہر نصوص قرآنیہ کی خلاف ورزی کرنے والا ہی قرار دے گا۔
جب آپ کی کتابوں میں صاف اور واضح طور پر مذکور ہے کہ وروی انہ شاور جمعامن المہاجرین والانصار فی عمر رضی اللہ تعالی عنہ فقالوا لیس فینا مثلہ (نبراس شرح عقائد حنفی ص ۴۹۸)
تو پھر آپ کو کیا ضرورت ہے کہ بلا وجہ اپنی کتابوںکی تصریحات و روایات سے بھی انکار کریں اور مخالفین کو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مخالفت قرآن کا الزام عائد کرنے کا بھی موقع دیں۔
اس تفصیل و توضیح کے بعد بھی اگر مولوی محمد صادق صاحب اپنے اسی پہلے مسلک پر قائم ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اپنی ذاتی اور انفرادی رائے سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ منتخب فرمایا تو وہ اس کو دلائل سے ثابت کریں ورنہ جس طرح حضرت ناظم صاحب ممدوح نے رجوع الی الحق فرماکر اس کا اعلان فرمایا ہے، اسی طرح مولوی محمد صادق صاحب بھی اپنی غلطی کا اقرار اور اس سے رجوع کا اعلان فرمائیں اور بہتر ہو کہ جس طرح ناظم صاحب کا رجوع قائد اور رضوان میں شائع ہورہا ہے اسی طرح مولوی محمد صادق صاحب کا رجوع بھی قائد اور رضوان میں شائع ہو اور اگر انہوں نے سکوت فرمائی تو ہم یہ سمجھنے پرمجبور ہوجائیں گے کہ مولوی محمد صادق صاحب دوسروں پر ہی نکتہ چینی اور غوغا آرائی کے شائق ہیں اور خود امر حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔


اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ والباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ امین بحرمۃ سید المرسلین علیہ وعلٰی الہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم



فقیر سید احمد سعید کاظمی غفرلہٗ
مدیر مسئول ماہنامہ 146146قائد145145 ملتان
(ماہنامہ قائد ملتان ماہ مارچ، اپریل ۱۹۵۱ء، جلد ۳، شمارہ ۲/۳، ص ۱۵ تا ۱۸)